“تشدد سے پہلے تحفظ: “مدارس کے لیے ایک سنجیدہ تجویز
(محمد حسن الیاس)
میں یہ بات مخالفت میں نہیں، خیر خواہی میں کر رہا ہوں۔ مدارس ہمارے معاشرے کی ایک عملی حقیقت ہیں۔ یہ کسی نظری بحث کا نتیجہ نہیں، ایک دینی، معاشرتی اور فطری ضرورت سے پیدا ہونے والا نظام ہے، جو آج ہماری تہذیب کا مستقل حصہ بن چکا ہے۔ ان ہی اداروں میں لاکھوں بچے قرآن حفظ کرتے ہیں، دین کو سیکھتے ہیں، اور امت کا سرمایہ بنتے ہیں۔
لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انہی اداروں سے جب بچوں پر تشدد کی خبریں سامنے آتی ہیں، تو صرف ایک بچہ نہیں، پورا اعتماد زخمی ہو جاتا ہے۔ یہ واقعات کسی سازش کا نتیجہ نہیں، ہماری اپنی غفلت اور لاپرواہی کا عکس ہیں۔
ہم ہر واقعے پر وقتی غصہ ظاہر کرتے ہیں، ویڈیوز شیئر کرتے ہیں، سخت جملے لکھتے ہیں، اور پھر خاموش ہو جاتے ہیں۔ لیکن کیا ہم کبھی سنجیدگی سے بیٹھ کر سوچتے ہیں کہ یہ سب رک کیسے سکتا ہے؟ کیا ہم واقعی اصلاح چاہتے ہیں یا بس وقتی ردعمل سے اپنے ضمیر کو بہلا لیتے ہیں؟ اگر ہمارا ارادہ مخلص ہے، تو ہمیں باتوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدام کی طرف جانا ہوگا۔
انسانوں کی بہت کم تعداد خود اپنے وجود کی نگرانی کرتی ہے، جبکہ اکثریت صرف اس وقت سنبھلتی ہے جب کوئی نگران یا احتساب کا خوف موجود ہو۔ اسی لیے میری رائے ہے کہ مدارس کو محفوظ، شفاف اور قابلِ اعتماد بنانے کے لیے ایک واضح اور مؤثر نگرانی کا نظام قائم کیا جانا چاہیے، جس کے بنیادی نکات یہ ہو سکتے ہیں:
1. ہر حفظ کے مدرسے میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں، تاکہ تعلیمی ماحول شفاف اور محفوظ ہو۔
2. ریکارڈنگ محفوظ رکھنے کا مؤثر انتظام ہو تاکہ کسی بھی شکایت کی صورت میں شواہد دستیاب ہوں۔
3. کیمروں کو ایک مرکزی ویب سائٹ یا ایپ سے جوڑا جائے، جس سے تربیت یافتہ اور بااعتماد رضاکار نگرانی کر سکیں۔
4. ایک مؤثر رپورٹنگ سسٹم (ہاٹ لائن یا آن لائن فارم) ہو، تاکہ کسی بھی مشتبہ واقعے کی فوری اطلاع دی جا سکے۔
5. شکایات پر سنجیدہ، باوقار اور فوری کارروائی کی ضمانت ہو، تاکہ یہ نظام محض رسمی نہ رہے۔
یہ نظام اساتذہ کی توہین نہیں، ان کی عزت کا تحفظ ہے۔ یہ مدارس پر عدم اعتماد نہیں، بلکہ ان پر سے بے اعتمادی ختم کرنے کا راستہ ہے۔ بچوں کو محفوظ بنانا اور اداروں کو جوابدے ٹھیرانا اخلاقی اصول کے خلاف نہیں بلکہ ظلم کے تدارک کے لیے ہے۔
پہلے مرحلے میں کسی ایک ضلع کا انتخاب کر کے اس منصوبے کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔ چھوٹے، منظم علاقوں سے شروعات ہو تو عمل درآمد آسان ہوگا، اور نتائج جلد سامنے آئیں گے۔ اگر حکومت خاموش ہے تو ہم خاموش کیوں رہیں؟
کراچی جیسے بڑے شہر کو چھ حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، ہر حصے کا ایک نگران ہو جو اپنے علاقے کے مدارس میں یہ نظام نافذ کرے۔ اور اگر شہر کی سطح پر بھی عمل ممکن نہ ہو تو محلے کی سطح پر لوگ منظم ہو جائیں، اور یہ طے کریں کہ ان کے محلے کا کوئی مدرسہ ایسا نہ ہو جہاں بچہ غیر محفوظ ہو۔
یہ وہ کام ہے جو ہم سب کر سکتے ہیں اگر ہم واقعی چاہتے ہیں۔ اور جہاں تک این جی اوز اور سماجی تنظیموں کا تعلق ہے، تو ان کا کام صرف کسی ظلم کے بعد مظاہرے یا بیانات تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اصل خدمت یہ ہے کہ ظلم ہونے سے پہلے دروازے بند کیے جائیں۔ اصلاح صرف ردعمل کا نام نہیں یہ پیشگی منصوبہ بندی، اور بروقت اقدام کا نام ہے۔
اگر آج ہم نے قدم نہ اٹھایا، تو کل ایک اور بچہ، ایک اور سانحہ، ایک اور چیخ ہمارے سامنے ہو گی …