غزہ کا المیہ، بقیہ المیوں کی طرح ایک بار پھر اسی انجام کو پہنچا، جس کا اندیشہ ابتدا سے تھا
بدترین انسانی بحران، قحط، اور ہزاروں بے گناہ جانوں کا خاتمہ۔
مسلمانوں کی مذہبی قیادت نے مسلح تصادم کو جس طرح رومانویت کا رنگ دیا، وہ انجام کار ہمیشہ کی طرح تباہی اور بربادی ہی نکلا۔
ابتدا سے ہمارا مؤقف یہی رہا کہ ظلم و جبر کے باوجود قومی قیادت کی اصل صلاحیت یہ نہیں کہ تصادم کر کے باقی ماندہ امکانات بھی ختم کر دیے جائیں، بلکہ یہ ہے کہ بقا، حکمت اور تدبر سے کوئی سیاسی راہ نکالی جائے۔
تصادم سےگریز ہماری ضرورت تھی۔۔۔
اس مؤقف کے جواب میں اکثر لوگ اسرائیل کے مظالم گنواتے
رہےجو ہر ظلم کی طرح یقیناً انکار سے بالاتر تھے۔
مگر تاریخ “حماس” کی اس مجرمانہ حکمت عملی کو کبھی معاف نہیں کرے گی، جس نے ایک مکمل نسل کو آگ اور خون کے نذر کر دیا۔
محمد حسن الیاس۔