Skip to content Skip to sidebar Skip to footer
شریعت میں تبدیلی

شریعت میں تبدیلی

شریعت میں تبدیلی" مصنف : جاوید احمد غامدی اسلامی شریعت اللہ کا قانون ہے، جو اُس نے اپنے بندوں کو راہ راست پر رکھنے کے لیے نازل فرمایا ہے۔ اِس قانون سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ اِس میں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ خود اِس کے نازل کرنے والے کی طرف سے تبدیلی ہو…

Read More

الخراج بالضمان کا صحیح تصور

الخراج بالضمان کا صحیح تصور

’الخراج بالضمان‘ کا صحیح تصور (محمد حسن الیاس) خرید و فروخت کے ایک معاملے میں نزا ع پیدا ہوا تو فریقین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ فیصلہ ہو سکے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: أن رجلًا ابتاع غلامًا فأقام عنده ما شاء اللّٰه أن يقيم، ثم وجد به…

Read More

نکاح نامہ, مشترکہ جائیداد, بیوی کا حق, شادی اثاثے, اسلامی قانون, طلاق مالی حق, مشترکہ ملکیت

مشترکہ ملکیت اور اسلامی خاندانی قانون

ہماری طالبعلمانہ رائے میں نکاح نامے میں یہ شرط شامل کرنا کہ شادی کے بعد بننے والی جائیداد یا مال میں طلاق یا شوہر کے انتقال کی صورت میں بیوی کو 50 فیصد حصہ دیا جائے، شریعت کے خلاف نہیں بلکہ اصولِ انصاف اور معاشرتی ضرورت کے عین مطابق ہے۔ بعض لوگ اسے قرآن کے قانونِ…

Read More

مشرقی عرب کی شعری روایت

مشرقی عرب کی شعری روایت

نوٹ:مدیر ماہانہ انذار: ابویحییٰ [ذیل میں محمد حسن الیاس صاحب کا ایک مضمون نقل کیا جارہا ہے جس میں نزول قرآن مجید کے وقت رائج عربی کا دیگر زبانوں اور بعد کے زمانے کی عربی زبان سے ایک تقابل کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے فرزدوق جو عہد خلافت راشدہ میں پیدا ہونے والے ایک…

Read More

کم سن بچیوں سے نکاح: قرآن مجید سے غلط استدلال سورۂ طلاق کی آیت 4 کا حوالہ دے کر بعض لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ چونکہ قرآن نے اُن خواتین کی بھی عدت بیان کی ہے جنہیں حیض نہیں آیا، اس لیے گویا قرآن کم سن بچیوں سے شادی کو تسلیم کرتا اور اسے جائز قرار دیتا ہے۔ استادِ مکرم جناب جاوید احمد غامدی کی رائے میں یہ نتیجہ دراصل آیت کو اس کے سیاق و سباق سے الگ کر کے پڑھنے کا حاصل ہے۔ جب اس آیت کو اس کے پورے پس منظر، اس کے اسلوب اور اس کی داخلی ترتیب کے ساتھ سمجھا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ یہاں کم سن بچیوں کے نکاح کی کوئی بات سرے سے زیر بحث ہی نہیں ہے۔ آیت کے مفہوم تک درست طور پر پہنچنے کے لیے چند بنیادی پہلوؤں کو سمجھنا ضروری ہے۔ 1۔یہ آیت نکاح کی اجازت دینے کے لیے نازل نہیں ہوئی، بلکہ طلاق کے بعد عدت کے احکام بیان کر رہی ہے۔ خطاب اُن عورتوں سے متعلق ہے جنہیں طلاق دی جا چکی ہے اور اب مختلف حیاتیاتی حالتوں میں ان کی عدت متعین کی جا رہی ہے۔ جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں ان کی عدت تین مہینے ہے، جو حاملہ ہوں ان کی عدت وضعِ حمل تک ہے، اور جنہیں حیض نہیں آیا ان کی عدت بھی تین مہینے مقرر کی گئی ہے۔ پورا بیان عدت کے تعین سے متعلق ہے، نکاح کے جواز سے نہیں۔ 2۔اصل میں آیت کے الفاظ ہیں: “وَاللّٰٓیِٔ لَمْ یَحِضْنَ”۔ یہاں “لم” عربی زبان میں نفیِ جحد کے لیے آتا ہے، یعنی وہ کسی فعل کے وقوع کی قطعی نفی کرتا ہے۔ “لم یحضن” کا مطلب ہے کہ انہیں حیض نہیں آیا۔ البتہ یہ کہ یہ نفی کن کے بارے میں بامعنی بنتی ہے، اس کا تعین سیاق سے ہوگا۔ اگر مراد وہ بچیاں ہوتیں جن کی عمر ہی ابھی حیض کی نہیں ہوئی، تو وہاں حیض کا نہ آنا ایک بالکل فطری اور بدیہی بات ہے۔ ایسی عمر میں حیض کا نہ آنا کوئی غیر معمولی امر نہیں جسے بطورِ خاص بیان کرنے کی ضرورت ہو۔ مثال کے طور پر اگر کہا جائے: “وہ لڑکیاں جنہیں ابھی تک ملازمت نہیں ملی”، تو عام فہم میں اس سے مراد وہ لڑکیاں سمجھی جاتی ہیں جو ملازمت کی عمر اور اہلیت کو پہنچ چکی ہوں مگر کسی وجہ سے انہیں ملازمت نہ ملی ہو۔ کوئی بھی اس جملے سے کم عمر بچیاں مراد نہیں لیتا، کیونکہ اس عمر میں ملازمت نہ ملنا ایک بدیہی بات ہے۔ بالکل اسی طرح “لم یحضن” کا اطلاق بھی وہیں معنی خیز بنتا ہے جہاں حیض ایک طبعی مرحلہ ہو مگر کسی وجہ سے واقع نہ ہوا ہو۔ یعنی بات اُن عورتوں کی ہو رہی ہے جو حیض کی عمر کے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہیں، نہ کہ ایسی نابالغ بچیوں کی جن میں حیض کا مرحلہ ابھی آیا ہی نہیں۔ 3۔آیت میں ایک اور اہم جملہ ہے: “اِنِ ارْتَبْتُمْ” یعنی “اگر تمہیں شک ہو”۔ترتیب پر غور کیجیے: پہلے حیض سے مایوس عورتوں کا ذکر ہے، پھر شک کی بات، پھر تین ماہ کی عدت، پھر اُن کا ذکر جنہیں حیض نہیں آیا، اور فوراً بعد حاملہ عورتوں کی عدت بیان کر دی گئی ہے۔ یہ پوری ترتیب واضح کرتی ہے کہ گفتگو حیض، حمل اور نسب کے تعین کے بارے میں ہے۔یہاں “شک” کا تعلق عمر سے نہیں بلکہ رحم کے خالی ہونے یا نہ ہونے سے ہے۔ اگر عورت کا ازدواجی تعلق قائم ہو چکا ہو تو حیض نہ آنے یا یاس کی کیفیت میں بھی یہ احتمال باقی رہتا ہے کہ کہیں حمل موجود نہ ہو۔ اسی احتمال کو ختم کرنے کے لیے تین ماہ کی عدت مقرر کی گئی ہے تاکہ نسب کے بارے میں کوئی شبہ باقی نہ رہے۔ لہذا یہ نکتہ فیصلہ کن ہے کہ جب شک حمل کے امکان میں ہے تو زیر بحث وہی عورت ہو سکتی ہے جس میں حمل کی صلاحیت موجود ہو۔ ایک نابالغ بچی جو ابھی جسمانی بلوغت تک نہیں پہنچی، اس میں حمل کا امکان سرے سے موجود ہی نہیں ہوتا۔ اگر حمل ممکن نہ ہو تو نہ شک کا کوئی مطلب بنتا ہے اور نہ عدت کی کوئی معنویت باقی رہتی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آیت نابالغ بچیوں کے بارے میں نہیں ہے۔ 4۔مزید یہ کہ قرآن نکاح کو ایک مضبوط عہد قرار دیتا ہے۔ یہ ذمہ داری کا معاہدہ ہے جس کے لیے شعور، رضامندی اور ذمہ داری کی صلاحیت ضروری ہے۔قرآن نے نکاح کے لیے کوئی عمر مقرر نہیں کی، اس لیے کہ وہ عقلی مسلمات کو انسانوں پر چھوڑ دیتا ہے اور اسے ایک مانی جانی والی حقیقت سمجھتا ہے کہ ذمہ داری اسی وقت سونپی جاتی ہے جب انسان بلوغ اور رشد دونوں کو پہنچ جائے۔ یعنی جسمانی بلوغ کے ساتھ ذہنی پختگی بھی ضروری ہے۔عقل اور علم کا تقاضا بھی یہی ہے کہ شادی اسی وقت ہو جب انسان اس ذمہ داری کو سمجھنے اور نبھانے کے قابل ہو۔ چنانچہ اس آیت سے کم سن بچیوں کی شادی کا جواز نکالنا کسی طور درست نہیں۔ آیت کا مقصد طلاق کے بعد عدت کے ذریعے نسب کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے، نہ کہ کم عمری کے نکاح کو جائز قرار دینا۔ اسی پس منظر کی رعایت سے جاوید احمد غامدی صاحب نے البیان میں اس آیت کا ترجمہ کیا ہے اور مفہوم کو واضح کر دیا ہے۔ ارشاد فرمایا: “تمھاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں، اور وہ بھی جنھیں (حیض کی عمر کو پہنچنے کے باوجود) حیض نہیں آیا، اُن کے بارے میں اگر کوئی شک ہے تو اُن کی عدت تین مہینے ہو گی۔ اور حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ وہ حمل سے فارغ ہو جائیں۔ (یہ اللہ کی ہدایات ہیں، اِن کی پیروی کرو) اور (یاد رکھو کہ) جو اللہ سے ڈرے گا، اللہ اُس کے لیے اُس کے معاملے میں سہولت پیدا کر دے گا۔ یہ اللہ کا حکم ہے جو اُس نے تمھاری طرف نازل کیا ہے اور جو اللہ سے ڈرے گا، اللہ اُس کے گناہ اُس سے دور کرے گا اور اُس (کی نیکیوں) کا اجر بڑھا دے گا۔” محمد حسن الیاس

کم سن بچیوں سے نکاح: قرآن مجید سے غلط استدلال

کم سن بچیوں سے نکاح: قرآن مجید سے غلط استدلال سورۂ طلاق کی آیت 4 کا حوالہ دے کر بعض لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ چونکہ قرآن نے اُن خواتین کی بھی عدت بیان کی ہے جنہیں حیض نہیں آیا، اس لیے گویا قرآن کم سن بچیوں سے شادی کو تسلیم کرتا اور اسے جائز…

Read More

فقہِ حنفی کی تدوین اور امام ابو حنیفہؒ کا کردار

فقہِ حنفی کی تدوین اور امام ابو حنیفہؒ کا کردار

امام ابو حنیفہؒ کو اسلام میں جو رتبہ حاصل ہے، اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ جس کثرت سے اُن کی سوانح عمریاں لکھی گئیں، کسی کی نہیں لکھی گئیں، اور اُن ناموروں نے لکھیں جو خود اس قابل تھے کہ ان کی مستقل سوانح عمریاں لکھی جاتیں۔ عربی، فارسی، ترکی بلکہ…

Read More

امام غزالیؒ کی تجدیدی خدمات

امام غزالیؒ کی تجدیدی خدمات

مولانا ابو الاعلیٰ مودودی نے تجدید و احیاے دین میں امام غزالی کے تجدیدی کارناموں کا خلاصہ پیش کیا ہے، جو درج ذیل ہے: اوّلًا، انھوں نے فلسفۂ یونان کا نہایت گہرا مطالعہ کرکے اس پر تنقید کی اور اتنی زبردست تنقید کی کہ اس کا وہ رعب جو مسلمانوں پر چھا گیا تھا، کم ہو…

Read More

علامہ سید سلیمان ندویؒ کا مسلک اور علمی مزاج

علامہ سید سلیمان ندویؒ کا مسلک اور علمی مزاج

علامہ سید سلیمان ندویؒ کا مسلک اور علمی مزاج حضرت علامہؒ نے ’ تراجمِ علماے حدیثِ ہند ‘ (مؤلف: ابو یحییٰ امام خاں نوشہری) پر جو مقدمہ تحریر فرمایا ہے، اس میں اپنی بابت رقم طراز ہیں: ” میں سنت کا پیرو ہوں اور توحیدِ خالص کا معتقد ہوں۔ سنت کو دلیلِ راہ مانتا ہوں، اور علماء…

Read More

ہند میں تجدیدِ دین کا آغاز

ہند میں تجدیدِ دین کا آغاز

ہندوستان کی یہ کیفیت تھی جب اسلام کا وہ اخترِ تاباں نمودار ہوا جس کو دنیا شاہ ولی اللہ دہلوی کے نام سے جانتی ہے۔ مغلیہ سلطنت کا آفتاب لبِ بام تھا، مسلمانوں میں رسوم و بدعات کا زور تھا، جھوٹے فقراء اور مشائخ جا بجا اپنے بزرگوں کی خانقاہوں میں مسندیں بچھائے اور اپنے…

Read More

شاہ ولی اللہؒ اور احیائے اسلام

شاہ ولی اللہؒ اور احیائے اسلام

شاہ ولی الله ابن تیمیہ اور ابن رشد کے بعد بل کہ خود انھیں کے زمانے میں مسلمانوں میں جو عقلی تنزل ہوا اس لحاظ سے یہ امید نہیں رہی تھی کہ پھر کبھی کوئی صاحبِ دل و دماغ پیدا ہوگا، لیکن قدرت کو اپنی نیرنگیوں کا تماشا دکھلانا تھا کہ اخیر زمانے میں جب کہ…

Read More

ابن تیمیہؒ کی اصلاحی تحریک

ابن تیمیہؒ کی اصلاحی تحریک

امام غزالیؒ کے ڈیڑھ سو برس بعد، ساتویں صدی کے نصفِ آخر میں امام ابنِ تیمیہؒ پیدا ہوئے۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ دریائے سندھ سے فرات کے کناروں تک تمام مسلمان قوموں کو تاتاری غارت گر پامال کر چکے تھے اور وہ شام کی طرف بڑھ رہے تھے۔ مسلسل پچاس برس کی ان شکستوں…

Read More

اسلام میں مجدد کا حقیقی مفہوم اور علامہ ابن تیمیہ کی مجددیت

اسلام میں مجدد کا حقیقی مفہوم اور علامہ ابن تیمیہ کی مجددیت

اسلام میں سینکڑوں، ہزاروں بلکہ لاکھوں علما، فضلا، مجتہدین، ائمۂ فن اور مدبّرین گزرے ہیں، لیکن مجدد یعنی ریفارمر بہت کم پیدا ہوئے ہیں۔ مجدد یا ریفارمر کے لیے تین شرطیں ضروری ہیں: (۱) مذہب، علم یا سیاست (پالیٹکس) میں کوئی مفید انقلاب پیدا کر دے۔ (۲) جو خیال اُس کے دل میں آیا ہو، وہ کسی…

Read More