Skip to content Skip to sidebar Skip to footer
کم سن بچیوں سے نکاح: قرآن مجید سے غلط استدلال سورۂ طلاق کی آیت 4 کا حوالہ دے کر بعض لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ چونکہ قرآن نے اُن خواتین کی بھی عدت بیان کی ہے جنہیں حیض نہیں آیا، اس لیے گویا قرآن کم سن بچیوں سے شادی کو تسلیم کرتا اور اسے جائز قرار دیتا ہے۔ استادِ مکرم جناب جاوید احمد غامدی کی رائے میں یہ نتیجہ دراصل آیت کو اس کے سیاق و سباق سے الگ کر کے پڑھنے کا حاصل ہے۔ جب اس آیت کو اس کے پورے پس منظر، اس کے اسلوب اور اس کی داخلی ترتیب کے ساتھ سمجھا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ یہاں کم سن بچیوں کے نکاح کی کوئی بات سرے سے زیر بحث ہی نہیں ہے۔ آیت کے مفہوم تک درست طور پر پہنچنے کے لیے چند بنیادی پہلوؤں کو سمجھنا ضروری ہے۔ 1۔یہ آیت نکاح کی اجازت دینے کے لیے نازل نہیں ہوئی، بلکہ طلاق کے بعد عدت کے احکام بیان کر رہی ہے۔ خطاب اُن عورتوں سے متعلق ہے جنہیں طلاق دی جا چکی ہے اور اب مختلف حیاتیاتی حالتوں میں ان کی عدت متعین کی جا رہی ہے۔ جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں ان کی عدت تین مہینے ہے، جو حاملہ ہوں ان کی عدت وضعِ حمل تک ہے، اور جنہیں حیض نہیں آیا ان کی عدت بھی تین مہینے مقرر کی گئی ہے۔ پورا بیان عدت کے تعین سے متعلق ہے، نکاح کے جواز سے نہیں۔ 2۔اصل میں آیت کے الفاظ ہیں: “وَاللّٰٓیِٔ لَمْ یَحِضْنَ”۔ یہاں “لم” عربی زبان میں نفیِ جحد کے لیے آتا ہے، یعنی وہ کسی فعل کے وقوع کی قطعی نفی کرتا ہے۔ “لم یحضن” کا مطلب ہے کہ انہیں حیض نہیں آیا۔ البتہ یہ کہ یہ نفی کن کے بارے میں بامعنی بنتی ہے، اس کا تعین سیاق سے ہوگا۔ اگر مراد وہ بچیاں ہوتیں جن کی عمر ہی ابھی حیض کی نہیں ہوئی، تو وہاں حیض کا نہ آنا ایک بالکل فطری اور بدیہی بات ہے۔ ایسی عمر میں حیض کا نہ آنا کوئی غیر معمولی امر نہیں جسے بطورِ خاص بیان کرنے کی ضرورت ہو۔ مثال کے طور پر اگر کہا جائے: “وہ لڑکیاں جنہیں ابھی تک ملازمت نہیں ملی”، تو عام فہم میں اس سے مراد وہ لڑکیاں سمجھی جاتی ہیں جو ملازمت کی عمر اور اہلیت کو پہنچ چکی ہوں مگر کسی وجہ سے انہیں ملازمت نہ ملی ہو۔ کوئی بھی اس جملے سے کم عمر بچیاں مراد نہیں لیتا، کیونکہ اس عمر میں ملازمت نہ ملنا ایک بدیہی بات ہے۔ بالکل اسی طرح “لم یحضن” کا اطلاق بھی وہیں معنی خیز بنتا ہے جہاں حیض ایک طبعی مرحلہ ہو مگر کسی وجہ سے واقع نہ ہوا ہو۔ یعنی بات اُن عورتوں کی ہو رہی ہے جو حیض کی عمر کے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہیں، نہ کہ ایسی نابالغ بچیوں کی جن میں حیض کا مرحلہ ابھی آیا ہی نہیں۔ 3۔آیت میں ایک اور اہم جملہ ہے: “اِنِ ارْتَبْتُمْ” یعنی “اگر تمہیں شک ہو”۔ترتیب پر غور کیجیے: پہلے حیض سے مایوس عورتوں کا ذکر ہے، پھر شک کی بات، پھر تین ماہ کی عدت، پھر اُن کا ذکر جنہیں حیض نہیں آیا، اور فوراً بعد حاملہ عورتوں کی عدت بیان کر دی گئی ہے۔ یہ پوری ترتیب واضح کرتی ہے کہ گفتگو حیض، حمل اور نسب کے تعین کے بارے میں ہے۔یہاں “شک” کا تعلق عمر سے نہیں بلکہ رحم کے خالی ہونے یا نہ ہونے سے ہے۔ اگر عورت کا ازدواجی تعلق قائم ہو چکا ہو تو حیض نہ آنے یا یاس کی کیفیت میں بھی یہ احتمال باقی رہتا ہے کہ کہیں حمل موجود نہ ہو۔ اسی احتمال کو ختم کرنے کے لیے تین ماہ کی عدت مقرر کی گئی ہے تاکہ نسب کے بارے میں کوئی شبہ باقی نہ رہے۔ لہذا یہ نکتہ فیصلہ کن ہے کہ جب شک حمل کے امکان میں ہے تو زیر بحث وہی عورت ہو سکتی ہے جس میں حمل کی صلاحیت موجود ہو۔ ایک نابالغ بچی جو ابھی جسمانی بلوغت تک نہیں پہنچی، اس میں حمل کا امکان سرے سے موجود ہی نہیں ہوتا۔ اگر حمل ممکن نہ ہو تو نہ شک کا کوئی مطلب بنتا ہے اور نہ عدت کی کوئی معنویت باقی رہتی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آیت نابالغ بچیوں کے بارے میں نہیں ہے۔ 4۔مزید یہ کہ قرآن نکاح کو ایک مضبوط عہد قرار دیتا ہے۔ یہ ذمہ داری کا معاہدہ ہے جس کے لیے شعور، رضامندی اور ذمہ داری کی صلاحیت ضروری ہے۔قرآن نے نکاح کے لیے کوئی عمر مقرر نہیں کی، اس لیے کہ وہ عقلی مسلمات کو انسانوں پر چھوڑ دیتا ہے اور اسے ایک مانی جانی والی حقیقت سمجھتا ہے کہ ذمہ داری اسی وقت سونپی جاتی ہے جب انسان بلوغ اور رشد دونوں کو پہنچ جائے۔ یعنی جسمانی بلوغ کے ساتھ ذہنی پختگی بھی ضروری ہے۔عقل اور علم کا تقاضا بھی یہی ہے کہ شادی اسی وقت ہو جب انسان اس ذمہ داری کو سمجھنے اور نبھانے کے قابل ہو۔ چنانچہ اس آیت سے کم سن بچیوں کی شادی کا جواز نکالنا کسی طور درست نہیں۔ آیت کا مقصد طلاق کے بعد عدت کے ذریعے نسب کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے، نہ کہ کم عمری کے نکاح کو جائز قرار دینا۔ اسی پس منظر کی رعایت سے جاوید احمد غامدی صاحب نے البیان میں اس آیت کا ترجمہ کیا ہے اور مفہوم کو واضح کر دیا ہے۔ ارشاد فرمایا: “تمھاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں، اور وہ بھی جنھیں (حیض کی عمر کو پہنچنے کے باوجود) حیض نہیں آیا، اُن کے بارے میں اگر کوئی شک ہے تو اُن کی عدت تین مہینے ہو گی۔ اور حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ وہ حمل سے فارغ ہو جائیں۔ (یہ اللہ کی ہدایات ہیں، اِن کی پیروی کرو) اور (یاد رکھو کہ) جو اللہ سے ڈرے گا، اللہ اُس کے لیے اُس کے معاملے میں سہولت پیدا کر دے گا۔ یہ اللہ کا حکم ہے جو اُس نے تمھاری طرف نازل کیا ہے اور جو اللہ سے ڈرے گا، اللہ اُس کے گناہ اُس سے دور کرے گا اور اُس (کی نیکیوں) کا اجر بڑھا دے گا۔” محمد حسن الیاس

کم سن بچیوں سے نکاح: قرآن مجید سے غلط استدلال

کم سن بچیوں سے نکاح: قرآن مجید سے غلط استدلال سورۂ طلاق کی آیت 4 کا حوالہ دے کر بعض لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ چونکہ قرآن نے اُن خواتین کی بھی عدت بیان کی ہے جنہیں حیض نہیں آیا، اس لیے گویا قرآن کم سن بچیوں سے شادی کو تسلیم کرتا اور اسے جائز…

Read More