Skip to content Skip to footer

ابن تیمیہؒ کی اصلاحی تحریک

امام غزالیؒ کے ڈیڑھ سو برس بعد، ساتویں صدی کے نصفِ آخر میں امام ابنِ تیمیہؒ پیدا ہوئے۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ دریائے سندھ سے فرات کے کناروں تک تمام مسلمان قوموں کو تاتاری غارت گر پامال کر چکے تھے اور وہ شام کی طرف بڑھ رہے تھے۔ مسلسل پچاس برس کی ان شکستوں نے، دائمی خوف اور بدامنی کی حالت نے، اور علم و تہذیب کے تمام مرکزوں کی تباہی نے مسلمانوں کو اس مرتبۂ پستی سے بھی بہت زیادہ نیچے گرا دیا تھا جس پر امام غزالیؒ نے انھیں پایا تھا۔ نئے تاتاری حملہ آور اگرچہ اسلام قبول کرتے جا رہے تھے، مگر جاہلیت میں یہ حکم ران اپنے پیش رو ترک فرمان رواؤں سے بھی کئی قدم آگے تھے۔ ان کے زیرِ اثر آ کر عوام، علما و مشائخ اور فقہا و قضاۃ کے اخلاق اور بھی زیادہ گرنے لگے۔ تقلیدِ جامد اس حد کو پہنچ گئی کہ مختلف فقہی و کلامی مذاہب گویا مستقل دین بن گئے۔ اجتہاد معصیت بن کر رہ گیا۔ بدعات و خرافات نے شرعی حیثیت اختیار کر لی۔ کتاب و سنت کی طرف رجوع کرنا ایسا گناہ ہو گیا جسے کسی طرح معاف نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس دور میں جاہل و گم راہ عوام، دنیا پرست یا تنگ نظر علما، اور جاہل و ظالم حکم رانوں کی ایسی سنگت بن گئی تھی کہ اس اتحادِ ثلاثہ کے خلاف کسی کا اصلاح کے لیے اٹھنا اپنی گردن قصاب کی چھری کے سامنے پیش کرنے سے کم نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ اس وقت صحیح الخیال، وسیع النظر اور حقیقت شناس علما ناپید نہ تھے، اور نہ ہی ان سچے اور اصلی صوفیوں کی کمی تھی جو جادۂ حق پر گام زن تھے، مگر جس نے اس تاریک زمانے میں اصلاح کا علم اٹھانے کی جرأت کی، وہ ایک ہی اللہ کا بندہ تھا۔
ابنِ تیمیہؒ قرآن میں گہری بصیرت رکھتے تھے، حتیٰ کہ حافظ ذہبیؒ نے شہادت دی: اَمَّا التَّفْسِیْرُ فَمُسَلَّمٌ إِلَیْهِ یعنی تفسیر تو ابنِ تیمیہؒ ہی کا حصہ ہے۔ وہ حدیث کے امام تھے، یہاں تک کہا گیا: کُلُّ حَدِیْثٍ لَا یَعْرِفُهُ ابْنُ تَیْمِیَّةَ فَلَیْسَ بِحَدِیْثٍ (جس حدیث کو ابنِ تیمیہؒ نہ جانتے ہوں، وہ حدیث نہیں ہے)۔ تفقہ کی شان یہ تھی کہ بلا شبہ انھیں مجتہدِ مطلق کا مرتبہ حاصل تھا۔ علومِ عقلیہ، منطق، فلسفہ اور علمِ کلام میں ان کی نظر اتنی گہری تھی کہ ان کے معاصرین میں سے جن لوگوں کا سرمایۂ ناز یہی علوم تھے، وہ ان کے سامنے بچوں کی حیثیت رکھتے تھے۔ یہود و نصاریٰ کے لٹریچر اور ان کے مذہبی فرقوں کے اختلافات پر ان کی نظر اتنی وسیع تھی کہ گولڈ زیہر کے بقول، کوئی شخص جو تورات کی شخصیتوں سے بحث کرنا چاہے، وہ ابنِ تیمیہؒ کی تحقیقات سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔ اور ان تمام علمی کمالات کے ساتھ اس شخص کی جرأت و ہمت کا یہ حال تھا کہ اظہارِ حق میں کبھی کسی بڑی سے بڑی طاقت سے نہ ڈرا، حتیٰ کہ متعدد مرتبہ جیل بھیجا گیا اور آخرکار جیل ہی میں جان دے دی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ امام غزالیؒ کے چھوڑے ہوئے کام کو ان سے زیادہ خوبی کے ساتھ آگے بڑھانے میں کامیاب ہوئے۔
ابنِ تیمیہؒ کے تجدیدی کام کا خلاصہ
(۱) انھوں نے یونانی منطق و فلسفہ پر امام غزالیؒ سے زیادہ گہری اور زبردست تنقید کی اور اس کی کمزوریوں کو اس طرح نمایاں کر کے دکھایا کہ عقلیات کے میدان پر اس کا تسلط ہمیشہ کے لیے ڈھیلا ہو گیا۔ ان دونوں اماموں کی تنقید کے اثرات صرف مشرق ہی تک محدود نہ رہے بلکہ مغرب تک بھی پہنچے۔ چنانچہ یورپ میں ارسطو کی منطق اور مسیحی متکلمین کے یونان زدہ فلسفیانہ نظام کے خلاف پہلی تنقیدی آواز امام ابنِ تیمیہؒ کے ڈھائی سو برس بعد اٹھی۔
(۲) انھوں نے اسلام کے عقائد، احکام اور قوانین کی تائید میں ایسے زبردست دلائل قائم کیے جو امام غزالیؒ کے دلائل سے زیادہ معقول بھی تھے اور اسلام کی اصل روح کے حامل ہونے میں بھی ان سے بڑھے ہوئے تھے۔ امام غزالیؒ کے بیان و استدلال پر اصطلاحی معقولات کا اثر غالب تھا، جب کہ ابنِ تیمیہؒ نے اس راہ کو چھوڑ کر عقلِ عام (common sense) پر تفہیم و تبیین کی بنا رکھی، جو زیادہ فطری، زیادہ مؤثر اور زیادہ قرآن و سنت کے قریب تھی۔ یہ نئی راہ پچھلی راہ سے بالکل مختلف تھی۔ جو لوگ دین کے علم بردار تھے، وہ فقط احکام نقل کر دیتے تھے، تفہیم نہ کر سکتے تھے؛ اور جو علمِ کلام میں الجھ گئے تھے، وہ تفلسف اور اصطلاحی معقولات کو ذریعۂ تفہیم بنانے کی وجہ سے کتاب و سنت کی اعلیٰ اسپرٹ کو کم و بیش کھو دیتے تھے۔ ابنِ تیمیہؒ نے عقائد و احکام کو ان کی اصل اسپرٹ کے ساتھ بے کم و کاست بیان کیا، اور پھر تفہیم کا وہ سیدھا، سادہ اور فطری اسلوب اختیار کیا جس کے سامنے عقل کے لیے سر جھکا دینے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ اسی عظیم کارنامے کی تعریف امامِ حدیث علامہ ذہبیؒ نے ان الفاظ میں کی ہے: وَلَقَدْ نَصَرَ السُّنَّةَ الْمَحْضَةَ وَالطَّرِیقَةَ السَّلَفِیَّةَ، وَاحْتَجَّ لَهَا بِبَرَاهِیْنَ وَمُقَدِّمَاتٍ وَأُمُورٍ لَمْ یُسْبَقْ إِلَیْهَا یعنی ابنِ تیمیہؒ نے خالص سنت اور طریقۂ سلف کی حمایت کی اور اس کی تائید میں ایسے دلائل اور ایسے طریقے اختیار کیے جن کی طرف ان سے پہلے کسی کی نظر نہیں گئی تھی۔
(۳) انھوں نے تقلیدِ جامد کے خلاف صرف آواز ہی نہیں اٹھائی بلکہ قرونِ اولیٰ کے مجتہدین کے طریقے پر اجتہاد کر کے دکھایا۔ براہِ راست کتاب و سنت اور آثارِ صحابہؓ سے استنباط کر کے، اور مختلف فقہی مذاہب کے درمیان آزاد محاکمہ کرتے ہوئے، کثیر التعداد مسائل میں کلام کیا۔ اس سے راہِ اجتہاد ازسرِ نو کھل گئی اور قوتِ اجتہاد کے صحیح طریقِ استعمال سے لوگ آگاہ ہوئے۔ اس کے ساتھ انھوں نے، اور ان کے جلیل القدر شاگرد ابنِ قیمؒ نے، حکمتِ تشریع اور شارع کے طرزِ قانون سازی پر اتنا نفیس کام کیا جس کی مثال ان سے پہلے کے شرعی لٹریچر میں نہیں ملتی۔ یہی وہ سرمایہ ہے جس سے ان کے بعد اجتہادی کام کرنے والوں کو بہترین رہنمائی حاصل ہوئی اور آئندہ بھی ہوتی رہے گی۔
(۴) انھوں نے بدعات، مشرکانہ رسوم، اور اعتقادی و اخلاقی گم راہیوں کے خلاف سخت جہاد کیا اور اس راہ میں بڑی مصیبتیں برداشت کیں۔ اسلام کے چشمۂ صافی میں اس وقت تک جتنی آمیزشیں ہو چکی تھیں، اس اللہ کے بندے نے ان میں سے ایک کو بھی نظرانداز نہ کیا۔ ایک ایک کی نشان دہی کی اور سب سے چھانٹ کر ٹھیٹھ اسلام کے طریقے کو الگ روشن کر کے دنیا کے سامنے رکھ دیا۔ اس تنقید و تنقیح میں انھوں نے کسی کی رو رعایت نہ کی۔ بڑے بڑے لوگ، جن کے فضل و کمال اور تقدس کا سکہ پوری مسلم دنیا پر بیٹھا ہوا تھا، اور جن کے نام سن کر گردنیں جھک جاتی تھیں، ابنِ تیمیہؒ کی تنقید سے نہ بچ سکے۔ وہ طریقے اور اعمال جو صدیوں سے مذہبی حیثیت اختیار کیے ہوئے تھے، جن کے جواز بلکہ استحباب کی دلیلیں گھڑ لی گئی تھیں، اور جن سے علماے حق بھی مداہنت کر رہے تھے، ابنِ تیمیہؒ نے انھیں ٹھیٹھ اسلام کے منافی پایا اور پوری قوت کے ساتھ ان کی مخالفت کی۔ اس آزاد خیالی و صاف گوئی کی وجہ سے ایک دنیا ان کی دشمن بن گئی، اور یہ دشمنی آج تک چلی آتی ہے۔ ان کے عہد کے لوگوں نے مقدمات قائم کر کے انھیں بار بار جیل بھجوایا، اور بعد کے لوگوں نے تکفیر و تضلیل کے ذریعے اپنا دل ٹھنڈا کیا۔ مگر اسلامِ خالص و محض کے اتباع کا جو صور اس مردِ حق نے پھونکا، اس کے نتیجے میں ایک مستقل فکری و عملی تحریک دنیا میں پیدا ہو گئی، جس کی بازگشت آج تک سنائی دیتی ہے۔ اس تجدیدی کام کے ساتھ ساتھ انھوں نے تاتاری وحشت و بربریت کے مقابلے میں تلوار سے بھی جہاد کیا۔ اس وقت مصر و شام اس سیلاب سے محفوظ تھے۔ امامؒ نے وہاں کے عام مسلمانوں اور رؤسا کے دلوں میں غیرت و حمیت کی آگ بھڑکائی اور انھیں مقابلے کے لیے آمادہ کیا۔ ان کے ہم عصر گواہی دیتے ہیں کہ مسلمان تاتاریوں سے اس قدر مرعوب ہو چکے تھے کہ ان کا نام سن کر کانپ اٹھتے تھے اور ان کے مقابلے میں جاتے ہوئے یوں ڈرتے تھے: کَأَنَّمَا یُسَاقُونَ إِلَى الْمَوْتِ مگر ابنِ تیمیہؒ نے جہاد کا جوش پیدا کر کے شجاعت کی سوئی ہوئی روح کو بیدار کر دیا۔
بحوالہ: مولانا ابو الاعلیٰ مودودی، تجدید و احیاے دین، صـ ۵۶ تا ۶۰

Leave a comment