Skip to content Skip to footer

اسلام میں مجدد کا حقیقی مفہوم اور علامہ ابن تیمیہ کی مجددیت

اسلام میں سینکڑوں، ہزاروں بلکہ لاکھوں علما، فضلا، مجتہدین، ائمۂ فن اور مدبّرین گزرے ہیں، لیکن مجدد یعنی ریفارمر بہت کم پیدا ہوئے ہیں۔ مجدد یا ریفارمر کے لیے تین شرطیں ضروری ہیں:
(۱) مذہب، علم یا سیاست (پالیٹکس) میں کوئی مفید انقلاب پیدا کر دے۔
(۲) جو خیال اُس کے دل میں آیا ہو، وہ کسی کی تقلید سے نہ آیا ہو بلکہ اجتہاد ہو۔
(۳) جسمانی مصیبتیں اٹھائی ہوں، جان پر کھیلا ہو، سرفروشی کی ہو۔
یہ شرائط قدما میں بھی بہت کم پائی جاتی ہیں، اور ہمارے زمانے میں تو ریفارمر ہونے کے لیے صرف یورپ کی تقلید کافی ہے۔ تیسری شرط اگر ضروری قرار نہ دی جائے تو امام ابو حنیفہ، امام غزالی، امام رازی اور شاہ ولی اللہ صاحب اس دائرے میں آ سکتے ہیں۔ لیکن جو شخص ریفارمر (مجدد) کا اصلی مصداق ہو سکتا ہے، وہ علامہ ابن تیمیہ ہیں۔ ہم اِس بات سے واقف ہیں کہ بہت سے امور میں امام غزالی وغیرہ کو ابن تیمیہ پر ترجیح ہے، لیکن وہ امورِ مجددیت کے دائرے سے باہر ہیں۔ مجددیت کی اصلی خصوصیتیں جس قدر علامہ کی ذات میں پائی جاتی ہیں، اس کی نظیر بہت کم مل سکتی ہے۔
(مقالاتِ شبلی، جلد پنجم)

Leave a comment