مولانا ابو الاعلیٰ مودودی نے تجدید و احیاے دین میں امام غزالی کے تجدیدی کارناموں کا خلاصہ پیش کیا ہے، جو درج ذیل ہے:
اوّلًا، انھوں نے فلسفۂ یونان کا نہایت گہرا مطالعہ کرکے اس پر تنقید کی اور اتنی زبردست تنقید کی کہ اس کا وہ رعب جو مسلمانوں پر چھا گیا تھا، کم ہو گیا اور لوگ جن نظریات کو حقائق سمجھے بیٹھے تھے، جن پر قرآن و حدیث کی تعلیمات کو منطبق کرنے کے سوا دین کے بچاؤ کی کوئی صورت انھیں نظر نہ آتی تھی، ان کی اصلیت سے بڑی حد تک آگاہ ہو گئے۔ امام کی اس تنقید کا اثر مسلم ممالک ہی تک محدود نہ رہا، بلکہ یورپ تک پہنچا اور وہاں بھی اس نے فلسفۂ یونان کے تسلط کو مٹانے اور جدید دورِ تنقید و تحقیق کا باب فتح کرنے میں حصہ لیا۔
ثانیًا، انھوں نے ان غلطیوں کی اصلاح کی جو فلاسفہ اور متکلمین کی ضد میں اسلام کے وہ حمایتی کر رہے تھے جو علومِ عقلیہ میں گہری بصیرت نہ رکھتے تھے۔ یہ لوگ اسی قسم کی حماقتیں کر رہے تھے جو بعد میں یورپ کے پادریوں نے کیں، یعنی مذہبی عقائد کے عقلی ثبوت کو بعض صریح غیر معقول باتوں پر موقوف سمجھ کر خواہ مخواہ انھیں اصولِ موضوعہ قرار دے لینا، پھر ان اصولِ موضوعہ کو بھی عقائدِ دین میں داخل کرکے ہر اس شخص کی تکفیر کرنا جو ان کا قائل نہ ہو، اور ہر اس برہان یا تجربے یا مشاہدے کو دین کے لیے خطرہ سمجھنا جس سے ان خود ساختہ اصولِ موضوعہ کی غلطی ثابت ہوتی ہو۔ اسی چیز نے یورپ کو بالآخر دہریت کی طرف دھکیل دیا اور یہی مسلم ممالک میں بھی شدت کے ساتھ کارفرما تھی اور لوگوں میں بے اعتقادی پیدا کر رہی تھی۔ مگر امام غزالی نے بروقت اس کی اصلاح کی اور مسلمانوں کو بتایا کہ تمھارے عقائدِ دینی کا اثبات ان غیر معقولات کے التزام پر منحصر نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے معقول دلائل موجود ہیں، لہٰذا ان چیزوں پر اصرار فضول ہے۔
ثالثًا، انھوں نے اسلام کے عقائد اور اساسیات (fundamentals) کی ایسی معقول تعبیر پیش کی جس پر کم از کم اس زمانے کے اور بعد کی کئی صدیوں تک کے معقولات کی بنا پر کوئی اعتراض نہ ہو سکتا تھا۔ اس کے ساتھ انھوں نے احکامِ شریعت اور عبادات و مناسک کے اسرار و مصالح بھی بیان کیے اور دین کا ایک ایسا تصور لوگوں کے سامنے رکھا جس سے وہ غلط فہمیاں دور ہو گئیں جن کی بنا پر یہ گمان ہونے لگا تھا کہ اسلام عقلی امتحان کا بوجھ نہیں سہار سکتا۔
رابعًا، انھوں نے اپنے وقت کے تمام مذہبی فرقوں اور ان کے اختلافات پر نظر ڈالی اور پوری تحقیق کے ساتھ بتایا کہ اسلام اور کفر کی امتیازی سرحدیں کیا ہیں، کن حدود کے اندر انسان کے لیے رائے و تاویل کی آزادی ہے اور کن حدود سے تجاوز کرنے کے معنی اسلام سے نکل جانے کے ہیں، اسلام کے اصلی عقائد کون سے ہیں اور وہ کیا چیزیں ہیں جنھیں خواہ مخواہ عقائدِ دین میں داخل کر لیا گیا ہے۔ اس تحقیق نے ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے اور تکفیر بازی کرنے والے فرقوں کی سرنگوں میں سے بہت سی بارود نکال دی اور لوگوں کے زاویۂ نظر میں وسعت پیدا کی۔
خامسًا، انھوں نے دین کے فہم کو تازہ کیا۔ بے شعور مذہبیت کو فضول ٹھہرایا۔ تقلیدِ جامد کی سخت مخالفت کی۔ لوگوں کو کتاب اللہ و سنتِ رسول اللہ کے چشمۂ فیض کی طرف پھر سے توجہ دلائی، اجتہاد کی روح کو تازہ کرنے کی کوشش کی اور اپنے عہد کے تقریبًا ہر گروہ کی گمراہیوں اور کمزوریوں پر تنقید کرکے اصلاح کی طرف عام دعوت دی۔
سادسًا، انھوں نے اس نظامِ تعلیم پر تنقید کی جو بالکل فرسودہ ہو چکا تھا اور تعلیم کا ایک نیا نظام تجویز کیا۔ اس وقت تک مسلمانوں میں جو نظامِ تعلیم قائم تھا، اس میں دو قسم کی خرابیاں پائی جاتی تھیں۔ ایک یہ کہ علومِ دنیا و علومِ دین الگ الگ تھے اور اس کا نتیجہ لامحالہ تفریقِ دنیا و دین کی صورت میں ظاہر ہوتا تھا، جو اسلامی نقطۂ نظر سے بنیادی طور پر غلط ہے۔ دوسرے یہ کہ شرعی علوم کی حیثیت سے بعض ایسی چیزیں داخلِ درس تھیں جو شرعی اہمیت نہ رکھتی تھیں، اور اس کا نتیجہ یہ تھا کہ دین کے متعلق لوگوں کے تصورات غلط ہو رہے تھے اور بعض غیر جنس کی چیزوں کو اہمیت حاصل ہو جانے کی وجہ سے فرقہ بندیاں پیدا ہو رہی تھیں۔ امام غزالی نے ان خرابیوں کو دور کرکے ایک سمویا ہوا نظام بنایا جس کی ان کے ہم عصروں نے سخت مخالفت کی، مگر بالآخر تمام مسلم ممالک میں اس کے اصول تسلیم کر لیے گئے اور بعد میں جتنے نئے نظاماتِ تعلیم بنے وہ تمام تر انہی خطوط پر بنے جو امام نے کھینچ دیے تھے۔ اس وقت تک مدارسِ عربیہ میں جو نصاب پڑھایا جا رہا ہے، اس کی ابتدائی خط کشی امام غزالی ہی کی رہینِ منت ہے۔
سابعًا، انھوں نے اخلاقِ عامہ کا پورا جائزہ لیا۔ انھیں علما، مشائخ، امرا، سلاطین، عوام سب کی زندگی کا مطالعہ کرنے کے خوب مواقع ملے تھے۔ خود چل پھر کر وہ مشرقی دنیا کا ایک بڑا حصہ دیکھ چکے تھے۔ اسی مطالعے کا نتیجہ ان کی کتاب احیاء العلوم ہے جس میں انھوں نے ہر طبقے کی اخلاقی حالت پر تنقید کی ہے، ایک ایک برائی کی جڑ اور اس کے نفسیاتی اور تمدنی اسباب کا کھوج لگایا ہے اور اسلام کا صحیح اخلاقی معیار پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
ثامنًا، انھوں نے اپنے عہد کے نظامِ حکومت پر بھی پوری آزادی کے ساتھ تنقید کی۔ براہِ راست حکامِ وقت کو بھی اصلاح کی طرف توجہ دلاتے رہے اور عوام میں بھی یہ روح پھونکنے کی کوشش کرتے رہے کہ منفعلانہ انداز سے جبر و ظلم کے آگے سرِ تسلیم خم نہ کریں، بلکہ آزاد نکتہ چینی کریں۔
تجدید و احیاے دین، صـ ۴۲ – ۴۴