بچوں جیسا مان… بڑوں کو بھی نصیب ہو
میرے چھوٹے بیٹے کی عمر پانچ، چھ سال ہے۔ عام طور پر جو کچھ مل جائے کھا لیتا ہے، کبھی ضد نہیں کرتا۔ مگر کل ہم ایک ایسی جگہ کھانے گئے جہاں طرح طرح کے لذیذ کھانے موجود تھے۔ اچانک اس نے ایک خاص چیز کھانے پر اصرار شروع کر دیا۔
میں نے نرمی سے سمجھایا کہ شاید یہاں یہ نہ ملے، لیکن وہ ماننے کو تیار ہی نہ تھا۔ پورے اعتماد کے ساتھ بولا: “آپ ڈھونڈ سکتے ہیں!”
ہم چھ سات ریسٹورنٹس پھر آئے، مگر وہ چیز کہیں نہ ملی۔ میں مسلسل اسے سمجھاتا رہا کہ فی الحال ممکن نہیں، لیکن اس کے چہرے سے یقین کی روشنی ماند نہ ہوئی اور خواہش برقرار رہی۔
میں سوچ میں پڑ گیا… یہ اتنا پُراعتماد کیوں ہے کہ میری بات سمجھ ہی نہیں پا رہا؟
تب اچانک دل میں خیال آیا کہ اس کا یہ اعتماد دراصل اس کے تصورِ باپ پر ہے۔ اس کے لیے تو اس کا باپ ہی پوری کائنات ہے — تمام تر طاقتیں، صلاحیتیں اور اختیار اسی کے پاس ہیں، وہی اس کا پالن ہار ہے۔
اس کے ذہن میں یہ بات جیسے اٹل ہو چکی ہے کہ جو چیز اسے چاہیے، اس کا باپ ضرور لے آئے گا۔ وہ سمجھتا ہے کہ یہ شخص اس کی خواہش پوری کیے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔
اسی لمحے مجھے احساس ہوا کہ شاید یہی سبق اللہ نے ہمیں سکھانے کے لیے بچوں کی فطرت میں رکھا ہے — کہ ہم اپنے رب پر بھی ایسا ہی کامل بھروسہ کریں۔
اگر ہم بھی بچے کی طرح اپنے اللہ پر یقین کر لیں کہ “وہ تو میرا رب ہے، وہ مجھے ضرور دے گا”… تو ہمارا ایمان کتنا مضبوط ہو جائے۔
وہ رب جو ہمیں ہماری ضرورت سے پہلے جانتا ہے، جو ہماری خاموش آہوں کو بھی سنتا ہے، جو سمندروں کی گہرائی میں مچھلی کو رزق دیتا ہے اور صحرا کے ریت کے ذرے کو بھی بھولتا نہیں — بھلا وہ اپنے بندے کی پکار کو کیسے ان سنی کرے گا؟
یقین کی یہ کیفیت اگر دل میں اتر جائے تو دعا محض الفاظ نہیں رہتی، بلکہ وہ دروازے کھول دیتی ہے جو تقدیر کے اوراق پر پہلے بند تھے۔ اور جب بندہ اپنے رب پر یوں مان کر بیٹھتا ہے… تو اس کی دنیا بھی بدلتی ہے اور دل کا سکون بھی لوٹ آتا ہے۔
اور ہاں… اس کے اس اصرار اور اعتماد کا نتیجہ یہ نکلا کہ میں بھی ڈھونڈنے پر مجبور ہو گیا، اور بالآخر وہ چیز مل ہی گئی۔
گویا ممکن ہے ہماری تقدیر میں کچھ نہ لکھا ہو، لیکن خدا پر اتنا مان بنا لیں کہ وہ ہماری خواہش پوری کر دے، ہماری دعا سن لے۔
شاید رسول اللہ ﷺ نے ایسے ہی لوگوں کے بارے میں فرمایا تھا:
“لو أقسم على الله لأبره”
“اگر وہ یقین و اعتماد کے ساتھ اللہ پر قسم کھا لے، تو اللہ اس کو ضرور پورا کر دے گا۔”
(صحیح مسلم: 1675)