Skip to content Skip to footer

خدا سے مایوسی: فریبِ نفس

مَنۡ کَانَ یَظُنُّ اَنۡ لَّنۡ یَّنۡصُرَہُ اللّٰہُ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ فَلۡیَمۡدُدۡ بِسَبَبٍ اِلَی السَّمَآءِ ثُمَّ لۡیَقۡطَعۡ فَلۡیَنۡظُرۡ ہَلۡ یُذۡہِبَنَّ کَیۡدُہٗ مَا یَغِیۡظُ ﴿۱۵﴾وَ کَذٰلِکَ اَنۡزَلۡنٰہُ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ ۙ وَّ اَنَّ اللّٰہَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یُّرِیۡدُ
(سورہ حج)
(اِنھیں بتاؤ کہ)
جو یہ گمان رکھتا ہو کہ اللہ دنیا اور آخرت میں ہرگز اُس کی مدد نہ کرے گا، اُس کو چاہیے کہ (اپنے تصور میں ذرا) ایک رسی (اوپر چڑھنے کے لیے) آسمان کی طرف تانے، پھر (جب منزل کو بہت دور دیکھ کر رنجیدہ ہو تو) اُس کو کاٹ دے اور دیکھے کہ آیا اُس کی یہ تدبیر اُس کے رنج کو دور کرنے والی بنتی ہے؟ ہم نے اِس قرآن کو اِسی طرح کھلی کھلی دلیلوں کی صورت میں اتارا ہے، مگر جو توفیق سے محروم ہیں، وہ کہاں ہدایت پائیں گے کہ اللہ ہی جس کو چاہتا ہے، (اپنے قانون کے
مطابق) ہدایت دیتا ہے۔
وضاحت:
یعنی یہ تصور کرے کہ وہ آسمان کی طرف رسی تان کر اوپر چڑھ رہا ہے، لیکن جب دیکھتا ہے کہ منزل بہت دور ہے تو رنجیدہ ہو کر رسی کو کاٹ دیتا ہے۔ یہ اُنھی لوگوں کے رویے کی نہایت بلیغ تمثیل ہے جن کا ذکر اوپر ہوا ہے کہ خدا کی بندگی کنارے پر کھڑے ہوئے کرتے ہیں اور اگر کوئی آزمایش پیش آجائے تو اُس سے امیدیں توڑ کر دوسروں کے دروازے پر آ گرتے ہیں۔ اُنھیں بتایا ہے کہ خدا کی آزمایشوں میں اُس سے رحمت کی امید درحقیقت وہ رسی ہے جو انسان کو سہارا دیتی ہے اور اُسی کو پکڑ کر وہ اوپر کی طرف اٹھتا اور خدا سے قریب ہوتا ہے، لیکن دوری منزل سے گھبرا کر اگر وہ غصے میں آجائے اور رسی کو کاٹ دے تو اِس حماقت کا نتیجہ کیا ہو گا؟ آیا اُس کا رنج اور غصہ دور ہو جائے گا یا وہی صورت حال پیدا ہو جائے گی جس کو قرآن نے آگے
اِسی سورہ کی آیت ۳۱ میں بیان کیا ہے کہ گویا آسمان سے گر پڑا ہے، اب یا پرندے اُس کو اچک لے جائیں گے یا ہوائیں اُس کو کسی گہرے کھڈ میں لے جا کر پھینک دیں گی؟ خدا سے مایوس ہو کر دوسروں کے آستانے پر ماتھا رگڑنے والے بالآخر اِسی انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ اِس کے برخلاف جو خدا سے امید کی رسی تھامے رہتے ہیں، جلد یا بدیر اُن کے لیے خدا کا ہاتھ نمودار ہوتا ہے اور اوپر چڑھنے کی مشقت سے نجات دلا کر اُن کو اپنے دامن رحمت کی طرف کھینچ لیتا ہے۔ آیت میں امید کی رسی کاٹ دینے کے اِس فعل کو لفظ ’کَیْد‘ سے تعبیر کیا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہ محض فریب نفس ہے جس میں مبتلا ہو کر انسان یہ حماقت کرتا ہے۔
جاوید احمد غامدی

 

Leave a comment