علامہ سید سلیمان ندویؒ کا مسلک اور علمی مزاج
حضرت علامہؒ نے ’ تراجمِ علماے حدیثِ ہند ‘ (مؤلف: ابو یحییٰ امام خاں نوشہری) پر جو مقدمہ تحریر فرمایا ہے، اس میں اپنی بابت رقم طراز ہیں:
” میں سنت کا پیرو ہوں اور توحیدِ خالص کا معتقد ہوں۔ سنت کو دلیلِ راہ مانتا ہوں، اور علماء کے لیے اجتہاد کا دروازہ ہمیشہ کے لیے کھلا جانتا ہوں، اور حق کو ائمۂ سلف میں سے کسی ایک میں منحصر نہیں جانتا۔ اس پر آپ مجھے جو چاہیں سمجھیں۔‘‘
حضرت سید صاحبؒ تحریر فرماتے ہیں:
” مذہبی مسائل کی تحقیقات میں میرا یہ عمل رہا ہے کہ عقائد میں سلفِ صالحین رحمہم اللہ تعالیٰ کے مسلک سے علیحدگی نہ ہو۔ البتہ فقہیات میں کسی ایک مجتہد کی تقلید بتمامہ نہیں ہو سکی، بلکہ اپنی بساط بھر دلائل کی تنقید کے بعد فقہاء کے کسی ایک مسلک کو ترجیح دی ہے، لیکن کبھی کوئی ایسی رائے اختیار نہیں کی جس کی تائید ائمۂ حق میں سے کسی ایک نے بھی نہ کی ہو۔ خصوصیت کے ساتھ مسائل کی تشریح میں حافظ ابن تیمیہؒ، حافظ ابن قیمؒ اور شاہ ولی اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہم کی تحقیقات پر اکثر اعتماد کیا ہے۔‘‘ ¹؎
حضرت سید صاحبؒ مزید لکھتے ہیں:
” میں نے اعتزال سے لے کر سلفیت تک بمدارج ترقی کی ہے۔ عقائد میں امام مالکؒ کے اس اصول کا پیرو ہوں:
’الاستواء معلوم، والکیفیۃ مجہول، والایمان بہ واجب، والسؤال عنہ بدعۃ‘۔
فقہ میں متأخرین کا متبع نہیں، مگر اہلِ حدیث بالمعنی المتعارف بھی نہیں ہوں۔ ائمۂ رحمہم اللہ تعالیٰ کا دل سے ادب کرتا ہوں اور کسی رائے میں کلیتاً ان سے عدول کو حق نہیں سمجھتا۔‘‘ ²؎
مزید فرماتے ہیں:
” میں نے ’نیل الاوطار‘، ’زاد المعاد‘ اور مصنفاتِ ابن تیمیہؒ، ابن قیمؒ، شوکانیؒ اور نواب صدیق حسن خاں سب پڑھیں، پھر دوسرے پہلو کو بھی دیکھا تو معلوم ہوا کہ حق صرف ایک فرقہ میں منحصر نہیں ہے۔
ابن ہمام کی کتابیں اور ابن الترکمانی علی البیہقی بھی دیکھئے، ’فتح الباری‘ اور ’عینی‘ میں غور کیجیے۔ ابن حجر میں بے شبہ وسعت ہے، مگر عمق نہیں؛ اور عینی میں عمق ہے۔‘‘ ³؎
نیز تحریر فرماتے ہیں:
” امام ربانی مجدد الفِ ثانیؒ اور شاہ ولی اللہؒ اور ان کے سلسلے سے عقیدتِ تامہ رکھتا ہوں، اور خرافات و طاماتِ صوفیہ کا دل سے منکر ہوں۔“ ⁴؎
حوالہ جات
1. معارف، جنوری 1943ء
2. تذکرۂ سلیمان، صـ 103
3. مکاتیبِ سید سلیمان، صـ 227، 229
4. تذکرۂ سلیمان، صـ 100