Skip to content Skip to footer

مجدد اور متجدّد کا فرق

“تجدَّدَ یتجدَّدُ، تجدُّدًا” سے عربی زبان میں اسم فاعل بنتا ہے “مُتجدِّد”۔ اس کا مطلب ہے کسی شے کو نیا بنانا یا نئی شکل دینا۔ جب یہ لفظ دین کے ساتھ جُڑتا ہے، جیسے “متجدّدِ اسلام”، تو اس سے مراد وہ شخص ہوتا ہے جو دین کی اصل ساخت کو بدل کر، اسے زمانے کے مطابق نئی صورت میں پیش کرنا چاہتا ہے۔ یعنی وہ صرف نئی تعبیر نہیں کرتا بلکہ دین کو اپنی عقل، ضرورت یا خواہش کے مطابق بدلنے کی کوشش کرتا ہے، گویا وہ خود شارع ہے۔

ایسا نظریہ محض ایک علمی رائے نہیں بلکہ ایک سنگین فکری انحراف ہوتا ہے، کیونکہ دین اللہ کی طرف سے نازل کردہ، کامل اور ابدی ہدایت ہے۔ کسی انسان کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دین کو جدید بنانے یا نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے نام پر اس کی اصل کو مسخ کرے۔ ایسا طرزِ فکر دراصل اللہ پر جھوٹ باندھنے کے مترادف ہوتا ہے۔

قرآن مجید میں ہے:
“وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا”
اور اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے

اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، وَكُلَّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ”

ہر نئی بات دین میں بدعت ہے، ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی جہنم میں لے جاتی ہے

یہ حدیث اس اصول کو واضح کرتی ہے کہ دین میں کسی بھی نوعیت کی “نئی” بات، جو اس کو اس کی اصل سے ہٹا دے، بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی۔

لہذا جب کسی صاحبِ علم کو “متجدّد” کہا جاتا ہے تو یہ محض علمی تنقید نہیں ہوتی، بلکہ ایک اخلاقی اور دینی الزام ہوتا ہے۔ ہم یہ دعویٰ کر رہے ہوتے ہیں کہ وہ شخص شعوری طور پر دین میں ایسی باتیں داخل کر رہا ہے جو دین کا حصہ نہیں۔ یہ الزام قیامت کے دن اللہ کی عدالت میں دلیل اور نیت کے ثبوت کا مطالبہ کرے گا۔ اگر ہم یہ ثابت نہ کر سکے کہ وہ شخص محض غلطی کا شکار نہیں، بلکہ دین کو بدلنے کی خواہش رکھتا تھا، تو ہم خود ظالم ٹھہریں گے۔

اب آتے ہیں “مجدد” کی طرف۔ “جَدَّدَ، يُجَدِّدُ، تَجْدِيدًا” سے “مجدد” کا مطلب ہے: کسی چیز کو اس کی اصل حالت میں دوبارہ لانا، اس کی روح کو زندہ کرنا، اور اس میں اگر کوئی بگاڑ یا زوال آ گیا ہو تو اس کی اصلاح کرنا۔

عربی زبان میں “جَدَّدَ” کا لغوی مطلب “نیا کرنا”، “دوبارہ زندہ کرنا” یا “تازہ کرنا” ہے۔ اس فعل کی اضافت جب کسی چیز کی طرف ہو تو اس کا مفہوم بنتا ہے کہ اس چیز کو اس کی اصل یا بہتر حالت میں واپس لانا یا اس میں نئی جان ڈالنا۔ مثلاً “جَدَّدَ العَهْدَ” یعنی “عہد کو دوبارہ مضبوط کرنا”۔

اس لیے “مجدد” وہ ہوتا ہے جو دین کو اپنی اصل روح، اصولوں اور بنیادی تعلیمات کی روشنی میں زندہ کرتا ہے، نہ کہ اس کی
ہدایات میں نئی یا مستقل تبدیلی لاتا ہے۔

اس کا کام دین میں نئی باتیں شامل کرنا نہیں بلکہ بدعات کو ختم کر کے دین کی اصل روح کو اجاگر کرنا ہے۔ وہ قرآن و سنت کی روشنی میں وقت کے نئے مسائل کا اجتہادی حل پیش کرتا ہے۔ وہ دین کو جدید نہیں بناتا، بلکہ جدید حالات کو دین کے مطابق بنانے کی کوشش کرتا ہے۔
یعنی بدلتی ہوئی صورت حال میں احکام کی اصل علت کا اطلاق کرتا ہے۔جہاں علت کا فقدان رخصت کا تقاضہ کرتا ہے وہاں رخصت دیتا ہے۔
اس لیے کہ
دین کے نصوص ابدی ہیں اور ماخذ طے ہیں، مگر ان کا فہم انسانی عقل کےذریعے ہوتا ہے، اور انسانی فہم پر زمانہ، ماحول، اور علمی رجحانات اثر انداز ہوتے ہیں۔ مجدد انہی اثرات کا جائزہ لیتا ہے، ان میں چھپی خرابیوں کو پہچانتا ہے، اور اصل ہدایت کی روشنی میں دین کے فہم کی تجدید کرتا ہے۔ وہ اپنے دور کی علمی اور فکری آلودگیوں کا مقابلہ کرتا ہے اور امت کو اصل دین کی طرف واپس بلاتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“إن الله يبعث لهذه الأمة على رأس كل مائة سنة من يجدد لها دينها”
اللہ تعالیٰ ہر صدی کے آغاز میں اس امت کے لیے ایک ایسا شخص بھیجتا ہے جو اس کے دین کی تجدید کرے گا

یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ تجدید دین، اللہ کی طرف سے ایک سنت ہے۔ مجدد کا کام نئی شریعت لانا نہیں بلکہ اصل شریعت کو اس کی حقیقی شکل میں زندہ کرنا ہے۔

تاریخ میں غزالی، امام ابن تیمیہ، شیخ احمد سرہندی، اور شاہ ولی اللہ جیسے علماء کو مجددین کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ ان سب کی کوششوں کا مرکز دین کی اصل کو واپس لانا، بدعات کا رد، اور امت کی فکری و عملی اصلاح تھا۔

خلاصہ یہ ہے کہ:

متجدّد دین کی نئی تشکیل کرتا ہے، مجدد دین کی اصل کو زندہ کرتا ہے۔
متجدّد دین میں نئی باتیں شامل کرتا ہے، مجدد بدعات کو ختم کرتا ہے۔
متجدّد زمانے کو اصل مان کر دین کو اس کے مطابق ڈھالتا ہے، مجدد دین کو اصل مان کر زمانے کی اصلاح کرتا ہے۔

متجدّد دین میں تحریف کرتا ہے، مجدد دین فکر کی تطہیر کرتا ہے۔

اور یہ بھی ہمیں یاد رہے کہ جب ہم کسی ایسے شخص کو “متجدّد” کہہ دیتے ہیں جو ہمارے فہم سے مختلف بات کر رہا ہو، تو دراصل ہم اپنے فہم کو دین کی اصل اور قطعی تعبیر قرار دے کر دوسرے کے فہم کو دین سے انحراف کہہ رہے ہوتے ہیں۔
یہ رویہ خود ایک قسم کا “تجدد” ہے
کیونکہ ہم دین کی قطعیت کا مقام اپنے فہم کو دے رہے ہوتے ہیں، نہ کہ نصوصِ شریعت کو۔ یہی وہ خطرناک مقام ہے جہاں شخصی رائے، دین کے نام پر مقدس بن جاتی ہے، اور علمی اختلاف، گمراہی کا فتویٰ بن کر سامنے آتا ہے۔

Leave a comment