ہندوستان کی یہ کیفیت تھی جب اسلام کا وہ اخترِ تاباں نمودار ہوا جس کو دنیا شاہ ولی اللہ دہلوی کے نام سے جانتی ہے۔ مغلیہ سلطنت کا آفتاب لبِ بام تھا، مسلمانوں میں رسوم و بدعات کا زور تھا، جھوٹے فقراء اور مشائخ جا بجا اپنے بزرگوں کی خانقاہوں میں مسندیں بچھائے اور اپنے بزرگوں کے مزاروں پر چراغ جلائے بیٹھے تھے۔ مدرسوں کا گوشہ گوشہ منطق و حکمت کے ہنگاموں سے پُرشور تھا۔ فقہ و فتاویٰ کی لفظی پرستش ہر مفتی کے پیشِ نظر تھی، اور مسائلِ فقہ میں تحقیق و تدقیق سب سے بڑا مذہبی جرم تھا۔ عوام تو عوام، خواص تک قرآنِ پاک کے معانی و مطالب، احادیث کے احکام و ارشادات، اور فقہ کے اسرار و مصالح سے بے خبر تھے۔ شاہ صاحب کا وجود اس عہد میں اہلِ ہند کے لیے موہبتِ عظمیٰ اور عطیۂ کبریٰ تھا۔
حضرت شاہ صاحب کے کارناموں کی تفصیل کے لیے ایک مستقل دفتر کی ضرورت ہے، لیکن ہم نہایت اختصار کے ساتھ اہلِ ہند پر اُن کے علمی و دینی احسانات کا ذکر کرتے ہیں:
(۱) مغلیہ دربار پر ہمایوں سے لے کر اب تک تشیع کا رنگ غالب تھا۔ دربار میں ایرانی امراء کی کثرت ہمیشہ رہی، اور اس کا اثر نیچے تک درجہ بدرجہ نمایاں تھا۔ اور شاہ صاحب کے عہد میں تو لکھنؤ کی نوابی کے سبب سے مسلمانوں پر اور زیادہ اثر پڑ رہا تھا۔ علماے اہلِ سنت میں اس اثر کو روکنے کی ہمت اور جرأت نہ تھی۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ جو اکبر و جہانگیر کے عہد میں تھے، اُن کے مکتوبات اس غم و ماتم سے لبریز ہیں۔ حضرت شاہ صاحب پہلے شخص ہیں جنہوں نے نہایت تحقیق، کدّ و کاوش، اور نہایت سنجیدگی و متانت سے اس کام کو انجام دیا، اور ازالۃ الخفاء عن تاریخ الخلفاء جیسی عالمانہ اور محدثانہ کتاب تالیف کی، جس میں سیکڑوں، ہزاروں حدیثوں کے ذریعے خلفاے راشدین کے مناقب و فضائل کے وہ رموز و نکات کھولے جو اب تک نہیں کھلے تھے۔
(۲) عقائد و کلام کی بے سروپا تلقینات کا، جن پر اب تک علمِ دین کا گویا مدار سمجھا جاتا تھا، بھرم کھول کر رکھ دیا، اور ان کے مقابلے میں کتاب و سنت کے اسرار و مصالح منظرِ عام پر لائے، اور ہندوستان کے علما کو ان کی سات سو برس کی غلط کاریوں پر متنبہ کیا۔
(۳) قرآنِ پاک جو اصل میں اسلام کا مرکز و محور ہے، اور جو ہندوستان میں اب تک صرف تبرکِ تلاوت کے لیے مخصوص تھا، اس کے فہم و تعلیم کی طرف لوگوں کو دعوت دی۔ تفسیر کے اصول لکھے، قرآن کا فارسی میں مختصر لغت مرتب کیا، قرآنِ پاک کے درس کا حلقہ قائم کیا، اور اسے پڑھنے اور سمجھنے کی کتاب بنایا۔
(۴) عربی زبان کی ناواقفیت قرآن و حدیث کے سمجھنے میں عام لوگوں کے لیے مانع تھی؛ اس کو دور کرنے کے لیے اپنے عہد کی علمی زبان فارسی میں قرآنِ پاک کا ترجمہ کیا، اور موطّا کی فارسی میں شرح لکھی۔
(۵) اب تک ہندوستان میں جو فقہِ حنفی مروج تھی، وہ تمام تر فتاویٰ کی نقل در نقل کورانہ تقلید پر مبنی تھی، اور ہر وہ کتاب جسے کسی حنفی عالم نے پہلے لکھ دیا ہو، استناد کے قابل سمجھی جاتی تھی، اور خاص امام ابو حنیفہؒ کا مسلک قرار پاتی تھی۔ شاہ صاحب نے اس تقلیدی فقہ کی جگہ تحقیقی فقہ کا رواج دیا۔ ہر مسئلے میں وہ ہر امام و مجتہد کی مختلف آرا، اجتہادات، ان کی دلیلوں اور سندوں سے واقف تھے، اور ان میں باہم تطبیق یا ترجیح دیتے تھے۔ مجتہدین کے اختلافات کے اسباب بتائے، اجتہاد و تقلید کی تشریح کی، اور کتاب و سنت کی اتباع و پیروی کی دعوتِ عام دی۔
(۶) شاہ عبد الحق رحمہ اللہ کی کوششوں کی تکمیل کی، اور تالیف و تحریر کے ذریعے کتبِ حدیث کو عام کیا۔ حدیث کی اولین اور صحیح ترین کتاب موطّا امام مالک کی فارسی اور عربی میں مجتہدانہ دو شرحیں لکھیں، صحیح بخاری کے تراجم کی شرح کی، اور الفضل المبین فی المسلسل من حدیث النبی الامین کے نام سے ایک رسالہ تحریر کیا۔ فقہ و اسرارِ حدیث پر حجۃ اللہ البالغہ کی جلدِ دوم لکھی۔
(۷) خود ہندوستان میں حدیث کے درس و تدریس کے باقاعدہ حلقے قائم کیے، اور ان کے بعد ان کے تلامذہ نے تمام ملک میں پھیل کر اس فیض کو عام کیا۔
(۸) اللہ تعالیٰ نے ان کی حسنِ نیت کا یہ ثمرہ عطا فرمایا کہ انہیں ایسی لائق اور نیک اولادیں عطا ہوئیں جنہوں نے اپنے والدِ بزرگوار کے ناتمام کاموں کی پوری تکمیل کی، اور ہندوستان کے گوشہ گوشہ کو پیغامِ نبوی کے آوازہ سے معمور کر دیا۔ آج ہندوستان میں جہاں بھی ” قال قال رسول اللہ ﷺ “ کی آواز سنائی دیتی ہے، وہ اسی خانوادۂ فضل و کمال کی خیر و برکت کی صدائے بازگشت ہے۔
علامہ سید سلیمان ندوی
مقالات سلیمان، جلد دوم، صـ ۴۴ تا ۴۷