Skip to content Skip to footer

علم و فکر کے چار درخشاں نام

“علم و فکر کے چار درخشاں نام”
غامدی سینٹر میں ہماری یہ مستقل کوشش رہی ہے کہ امت مسلمہ کے علمی ورثے اور اہلِ علم کی عظمت کو ہر سطح پر نمایاں کیا جائے۔
اسی مقصد کے تحت سینٹر میں ایک Wall of Fame
قائم کی گئی ہے، جہاں امت کے اُن جلیل القدر علما اور مفکرین کی خدمات کو اجاگر کیا گیا ہے جنہوں نے فکر، دعوت، تحقیق اور دین کے فہم میں گراں قدر کردار ادا کیا۔
اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے حال ہی میں اس
میں چند مزید بزرگوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ذیل میں ان جلیل القدر شخصیات کا مختصر تعارف پیش کیا جا رہا ہے، تاکہ ان کی علمی و فکری خدمات نئی نسل تک بھی مؤثر انداز میں پہنچ سکیں۔
(1)
خرام مراد (1932-1996)فکر مودودی کے جید عالم تھے
جماعتِ اسلامی کے اُن دردمند اور صاحبِ فکر رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں جن کی زندگی دعوت ، نظم اور فکری استقامت کی روشن مثال تھی۔ وہ محض ایک تنظیمی عہدہ رکھنے والے شخص نہیں تھے بلکہ ایک سنجیدہ مفکر، شائستہ مزاج داعی اور متوازن اسلامی ذہن کے حامل انسان تھے۔ جماعتِ اسلامی کے نائب امیر کی حیثیت سے اُنہوں نے فکرِ مودودی کو عصری تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی سعی کی۔ ان کی تحریروں اور خطابات میں نرمی، وقار اور دلیل کی قوت یکجا نظر آتی ہے۔ خرام مراد کی شخصیت کا امتیاز یہ تھا کہ وہ اختلاف میں بھی شائستگی اور تنقید میں بھی خیر خواہی کو ملحوظ رکھتے تھے۔ ان کی زندگی اپنے افکار کے ساتھ وابستگی کے باوجود دوسرے کے نقطہ نظر کو اخلاص کے ساتھ سمجھنے کی دعوت دیتی یے
(2)
: ڈاکٹر اسرار احمد (1932-2010)برصغیر کے اُن نابغۂ روزگار اہلِ فکر میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے علم، دعوت اور خطابت کو ایک زندہ اور متحرک روایت بنا دیا۔ جماعت سے علیحدگی کے بعد تنظیم اسلامی کے نام سے اپنا قافلہ بنایا ۔ وہ قرآنِ حکیم کے گہرے فہم، دل نشیں اسلوبِ بیان اور اپنی خاص فکری استقامت کے باعث عوام و خواص دونوں میں یکساں مقبول رہے۔ ان کی گفتگو میں استدلال کی سختی بھی تھی اور دردِ دل کی حرارت بھی، جو سننے والے کو جھنجھوڑ دیتی تھی۔ انہوں نے اسلام کو ایک ہمہ گیر انقلابی نظامِ حیات کے طور پر پیش کیا۔ ڈاکٹر اسرار احمد کی اصل پہچان یہی ہے کہ وہ فکر کو عمل اور شعور کو دعوت میں ڈھالنے والے مفکر تھے۔ قرآن فہمی کی تحریک میں ان کی مساعی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی ۔
(3)
پروفیسر الطاف احمد اعظمی (1942-2023) ہندوستان کے اُن سنجیدہ مسلم اہلِ علم میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے دین کو محض روایت کے طور پر نہیں بلکہ ایک منظم فکری نظام کے طور پر سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی۔ وہ امام حمید الدین فراہی کے فکری منہج کے موید اور شارح تھے، خصوصاً قرآن کے نظم، داخلی ربط اور وحدتِ مضمون کے تصور کو انہوں نے اپنی تحریروں میں نئے اہنگ اور فکری ارتقا کے ساتھ اگے بڑھایا ۔ ان کا علمی امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے فراہی فکر کو محض تقلیداً نہیں اپنایا بلکہ اسے برصغیر کے فکری اور تہذیبی تناظر میں برتنے کی سعی کی۔ محقق، مترجم اور صاحبِ قلم اسکالر کی حیثیت سے ان کی تحریروں میں روایت کی گہرائی اور عصری سوالات کا فہم یکجا نظر آتا ہے، جس نے انہیں اہلِ علم کے حلقوں میں ایک معتبر مقام عطا کیا،آپ دو درجن ست زائد کتابوں کے مصنف تھے۔
(4)
: مولانا خالد مسعود (1935 -2003) مولانا امین احسن اصلاحی کے شاگرد خاص تھے۔ ان کی علمی شناخت فکرِ فراہی و اصلاحی کی تدوین، اشاعت اور فروغ سے وابستہ ہے۔ مولانا اصلاحی کی سرپرستی میں انھوں نے حلقۂ تدبرِ قرآن قائم کیا، جس کے تحت سہ ماہی مجلے ” تدبر “کا اجرا کیا ۔ مولانا کے دروس حدیث کو کتابی صورت میں مدون کیا گیا ۔ انہوں نے مولانا اصلاحی کے ترجمہ قرآنِ مجید کو اپنے مختصر حواشی کے ساتھ مرتب کیا۔
خالد مسعود کی اہم تصنیف „حیاتِ رسولِ امی ﷺ“ ہے، جو قرآنِ مجید کو بنیادی ماخذ بنا کر لکھی گئی سیرتِ نبوی ہے۔ ان کی مجموعی علمی خدمات نے مولانا اصلاحی کے فکری ورثے کو محفوظ اور نئی نسل کے لیے قابلِ استفادہ بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
یہ تصاویر کراچی کے ایک آرٹسٹ جناب سید رضا زیدی صاحب سے بنوائی گئی ہیں

 

Leave a comment