امام ابو حنیفہؒ کو اسلام میں جو رتبہ حاصل ہے، اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ جس کثرت سے اُن کی سوانح عمریاں لکھی گئیں، کسی کی نہیں لکھی گئیں، اور اُن ناموروں نے لکھیں جو خود اس قابل تھے کہ ان کی مستقل سوانح عمریاں لکھی جاتیں۔ عربی، فارسی، ترکی بلکہ یورپ کی زبانوں میں ان کی متعدد سوانح عمریاں موجود ہیں۔ ¹؎ امام ابو حنیفہ کے اجتہادی مسائل قریباً بارہ سو برس سے تمام ممالکِ اسلامی میں پھیلے ہوئے ہیں۔ بڑی بڑی عظیم سلطنتوں میں اُنہی کے مسائل قانونِ سلطنت رہے، اور آج بھی ہیں۔ اسلامی دنیا کا غالب حصہ اُنہی کے مسائل کا پیرو ہے۔
جو چیز امام صاحب کی قوتِ ایجاد، حدتِ طبع، دقتِ نظر، وسعتِ معلومات، غرض اُن کے تمام کمالاتِ علمی کا آئینہ ہے، وہ علمِ فقہ ہے۔ وہ فقہ کے بانی اور ہیرو ہیں۔ اس کی ترتیب و تدوین میں ان کو وہی پایہ حاصل ہے جو ارسطو کو منطق میں، اور اقلیدس کو ہندسہ میں۔
یہ فقہ اگرچہ عام طور پر فقہِ حنفی کہلاتی ہے، لیکن درحقیقت وہ چار شخصوں یعنی امام ابو حنیفہ، امام زُفَر، قاضی ابو یوسف اور امام محمد کی آرا کا مجموعہ ہے۔ امام ابو حنیفہ کی تصنیفات کی گمشدگی کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ امام صاحب کا مجموعۂ فقہ اگرچہ بجائے خود مرتب اور خوش اسلوب تھا، لیکن قاضی ابو یوسف اور امام محمد نے انہی مسائل کو اس توضیح و تفصیل سے لکھا، اور ہر مسئلے پر استدلال و برہان کے ایسے حواشی و اضافے کیے کہ انہی کتابوں کو رواجِ عام حاصل ہوگیا اور اصل ماخذ سے لوگ بے پروا ہو گئے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح متاخرین نحویوں کی تصنیفات کے بعد فرّاء، کسائی، خلیل، اخفش اور ابو عبیدہ کی کتابیں دنیا سے ناپید ہو گئیں، حالانکہ یہی لوگ فنِ نحو کے بانی اور مدوّنِ اول تھے۔ امام صاحب کے مسائل کا جو ذخیرہ آج دنیا میں موجود ہے، وہ دراصل امام محمد اور قاضی ابو یوسف کی تالیفات پر مشتمل ہے۔
یہ مسائل جو فقہِ حنفی کے نام سے موسوم ہیں، نہایت تیزی سے تمام ممالک میں پھیل گئے۔ عرب میں اگرچہ ان کے مسائل کو چنداں رواج نہ ہوا، کیونکہ مدینہ میں امام مالک اور مکہ میں دیگر ائمہ ان کے حریف و مقابل موجود تھے، لیکن عرب کے سوا تمام ممالکِ اسلامی میں، جن کی وسعت سندھ سے ایشیائے کوچک تک تھی، عموماً انہی کا طریقہ جاری ہوگیا۔ ہندوستان، سندھ، کابل، بخارا وغیرہ میں ان کے اجتہاد کے سوا کسی کا اجتہاد تسلیم ہی نہیں کیا جاتا تھا۔ دوسرے ممالک میں اگرچہ شافعی و حنبلی فقہ کا رواج ہوا، لیکن وہ بھی فقہِ حنفی کو دبا نہ سکیں۔
امام ابو حنیفہ کے زمانے میں احادیث کا جو دفتر تیار ہو چکا تھا، وہ ہزاروں موضوعات، اغالیط، ضعاف اور مدرجات سے بھرا ہوا تھا۔ اس وقت امام بخاری اور امام مسلم جیسے ناقدینِ حدیث موجود نہ تھے جو صحیح احادیث کے انتخاب کا فریضہ انجام دیتے۔ امام ابو حنیفہ اگرچہ مہماتِ فقہ کی وجہ سے اس جانب پوری طرح متوجہ نہ ہو سکے، تاہم انہوں نے روایتوں کی تنقید کی بنیاد رکھی اور اس کے اصول و ضوابط مقرر کیے۔ ان کے اصولِ تنقید سخت خیال کیے گئے، یہاں تک کہ محدثین نے انہیں متشدد فی الروایۃ کا لقب دیا۔ تمام محدثین کے مقابلے میں امام صاحب کا قلیل الروایۃ ہونا دراصل اسی سختی کا نتیجہ ہے، بلکہ تمام وجوہ میں یہی سبب سب سے زیادہ قوی ہے۔ علامہ ابن خلدون لکھتے ہیں: وَالإِمَامُ أَبُو حَنِيفَةَ إِنَّمَا قَلَّتْ رِوَايَتُهُ لِمَا شَدَّدَ فِي شُرُوطِ الرِّوَايَةِ وَالتَّحَمُّلِ، یعنی امام ابو حنیفہ کی روایتیں اس لیے کم ہیں کہ انہوں نے روایت اور تحمل کی شرطوں میں سختی اختیار کی۔
یہ ہرگز نہیں سمجھنا چاہیے کہ امام ابو حنیفہ معتزلیوں کی طرح احادیث کے منکر تھے یا صرف دس بیس حدیثوں کو تسلیم کرتے تھے۔ ان کے شاگردوں نے خود ان سے سیکڑوں حدیثیں روایت کی ہیں۔ موطا امام محمد، کتاب الآثار، کتاب الحجج جیسی عام طور پر متداول کتابوں میں امام صاحب سے متعدد روایتیں مروی ہیں۔ البتہ دوسرے محدثین کے مقابلے میں ان کی احادیثِ مسلمہ کی تعداد کم ہے، اور اس کی وجہ وہی شروطِ روایت کی سختی ہے۔ انہوں نے روایت کے متعلق جو شرطیں اختیار کیں، ان میں کچھ تو وہ ہیں جو محدثین کے نزدیک مسلم ہیں، اور کچھ ایسی ہیں جن میں وہ منفرد ہیں یا صرف امام مالک اور بعض دیگر مجتہدین ان کے ہم زبان ہیں۔
اعتقادی اور فقہی مسائل اکثر ایسے ہوتے ہیں جن میں نصِ قاطع موجود نہیں ہوتا، اور اگر ہوتا بھی ہے تو متعارض صورت میں۔ اسی لیے استنباط اور رفعِ تعارض کی ضرورت نے اجتہاد کو وسعت دی اور سینکڑوں آرا قائم ہوئیں۔ بے شک ان میں بہت سی آرا صحیح نہیں، لیکن یہ لازم نہیں کہ وہ سب کفر و ضلال ہوں۔ افسوس کہ سرگرم طبیعتیں، جو مذہبی جوش اور تقدس کے نشے میں سرشار تھیں، اختلافِ رائے کے صدمے کی تاب نہ لا سکیں اور نہایت بے صبری سے مخالفت پر آمادہ ہو گئیں۔ بات بات پر کفر کے فتوے صادر ہونے لگے۔ جو لوگ جس قدر زیادہ مذہبی حرارت رکھتے تھے، اسی قدر کفر کے اطلاق میں کم احتیاط برتتے تھے۔ رفتہ رفتہ یہاں تک نوبت پہنچی کہ ہر فریق نے دوسرے کی ضلالت ثابت کرنے کے لیے موضوع روایتوں سے مدد لی، اور ایسی حدیثیں ایجاد ہونے لگیں کہ میری امت میں تہتر فرقے ہوں گے، جن میں صرف ایک نجات پائے گا۔ اس فرضی تعداد کو پورا کرنے کے لیے کھینچ تان کر تہتر فرقے مقرر کیے گئے اور پھر ہر فرقے کے لیے الگ الگ روایتیں گھڑ لی گئیں، جیسے القدریۃ مجوس ہذہ الامۃ وغیرہ۔
ان تعصبات اور جھگڑوں نے اسلامی وحدت کے تمام اجزا پراگندہ کر دیے۔ مذہب، اخلاق، حکومت، تمدن اور معاشرت، سب کا نقشہ بگڑ گیا۔ اس عالمگیر آشوب میں صرف ایک امام ابو حنیفہ تھے جن کی صدا سب سے الگ تھی، اور جو پکار رہے تھے: لا نكفّر أحدًا من أهل القبلة، یعنی ہم اہلِ قبلہ میں سے کسی کو کافر نہیں کہتے۔
اس وقت اگرچہ اس صدا پر زیادہ توجہ نہ دی گئی، لیکن جوں جوں زمانہ ترقی کرتا گیا، اس جملے کی قدر بڑھتی گئی، یہاں تک کہ وہ علمِ کلام کا ایک بیش بہا اصول بن گیا۔ اگرچہ افسوس ہے کہ اس پر عمل کم ہوا اور تکفیر کے غلغلے آج تک پوری طرح خاموش نہ ہو سکے۔ امام صاحب کی یہ رائے محض جذبات کا نتیجہ نہ تھی، بلکہ غور، تحقیق اور تجربے کے بعد قائم ہوئی تھی۔
اخذ و استفادہ: سیرت النعمان (مولانا شبلی نعمانی)
حاشیہ
¹؎ اردو زبان میں امام موصوف کی حیات، ان کے عام اخلاق و عادات، علمی مجالس، مناظرات اور نکتہ آفرینیوں، ذہانت و طباعی، اور اس نوع کے دیگر تفصیلی حالات، نیز علمِ کلام اور فنِ حدیث سے متعلق ان کے اصول و مباحث، فنِ حدیث و فقہ میں ان کا پایہ، ان سب کی تفصیل مولانا شبلی نعمانی کی سیرت النعمان میں دیکھ لی جا سکتی ہے۔ (م-عبد الاحد ندوی)