Skip to content Skip to footer

مشترکہ ملکیت اور اسلامی خاندانی قانون

ہماری طالبعلمانہ رائے میں نکاح نامے میں یہ شرط شامل کرنا کہ شادی کے بعد بننے والی جائیداد یا مال میں طلاق یا شوہر کے انتقال کی صورت میں بیوی کو 50 فیصد حصہ دیا جائے، شریعت کے خلاف نہیں بلکہ اصولِ انصاف اور معاشرتی ضرورت کے عین مطابق ہے۔
بعض لوگ اسے قرآن کے قانونِ وراثت کے خلاف قرار دیتے ہیں، حالانکہ یہ بات درست نہیں۔ یہ حصہ بیوی کو بطورِ میراث نہیں ملتا بلکہ شادی کے بعد بننے والا مال میاں بیوی کی مشترکہ ملکیت قرار پاتا ہے، جسے طلاق یا وفات کی صورت میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد باقی ترکہ پر شریعت کا مقرر کردہ قانونِ وراثت نافذ ہوتا ہے۔
نکاح ایک باقاعدہ معاہدہ ہے، اور معاہدے میں باہمی رضامندی سے ایسی شرائط رکھی جا سکتی ہیں جو کسی صریح شرعی حکم کے خلاف نہ ہوں۔ بیوی کے معاشی تحفظ کی شرط شریعت کے خلاف نہیں بلکہ حق تلفی کو روکنے کے اصول کے عین مطابق ہے۔
ہماری نظر میں اس طرح کی قانون سازی سے خاص طور پر ان عورتوں کو تحفظ حاصل ہوگا جو طلاق کے بعد یا شوہر کی وفات کے بعد بالعموم بے سہارا ہو کر رہ جاتی ہیں، حالانکہ انہوں نے اپنی پوری زندگی گھر، بچوں اور شوہر کی خدمت اور معاونت میں صرف کی ہوتی ہے۔ ایسے میں انہیں معاشی تحفظ دینا انصاف کے عین مطابق ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ شادی کے بعد مرد جو کچھ کماتا ہے، اس میں عورت کی بھی شراکت ہوتی ہے، کیونکہ وہ گھر سنبھالتی ہے، بچوں کی تربیت کرتی ہے اور مرد کو یکسو ہو کر معاش کمانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس لیے شادی کے بعد بننے والا مال صرف مرد کی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ دونوں کی مشترکہ جدوجہد کا حاصل ہوتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ انسانوں نے اس ضرورت کو محسوس کیا ہے، چنانچہ دنیا کے بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں شادی کے بعد بننے والی جائیداد کو مشترکہ ملکیت سمجھا جاتا ہے اور طلاق کی صورت میں اس کی منصفانہ تقسیم کی جاتی ہے۔ وہاں اس حوالے سے باقاعدہ قانون سازی موجود ہے جس کا مقصد صرف بیوی کا تحفظ نہیں بلکہ شوہر اور بیوی دونوں کے حقوق کا تحفظ اور مالی معاملات میں انصاف کو یقینی بنانا ہوتا ہے، تاکہ طلاق یا وفات کی صورت میں کسی ایک فریق کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔ اس لیے اس قانون سازی کا مقصد خاندانی نظام کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ خاندان کو معاشی ناانصافی اور تنازعات سے بچانا ہے۔
اس حوالے سے ایک سوال یہ بھی اٹھایا جاتا ہے کہ اگر شادی کے دوران بننے والی جائیداد مشترکہ مانی جائے تو پھر شادی کے دوران بننے والی مالی ذمہ داریوں اور قرضوں کا کیا ہوگا؟ کیا طلاق کے بعد عورت بھی ان قرضوں کی ادائیگی کی پابند ہوگی؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اصولی طور پر جس طرح شادی کے بعد بننے والے اثاثے (assets) مشترکہ تصور ہوں گے، اسی طرح شادی کے دوران بننے والی ذمہ داریاں (liabilities) بھی اصولاً مشترکہ سمجھی جائیں گی، لیکن ہر معاملے کو اس کی نوعیت کے مطابق دیکھا جائے گا۔ اصل اصول یہ ہونا چاہیے کہ وہ مالی ذمہ داری یا قرض جو خاندانی ضروریات، مشترکہ رہائش، بچوں کی تعلیم، علاج، گھریلو اخراجات یا ایسے کسی معاملے کے لیے لیا گیا ہو جس سے خاندان کی مجموعی زندگی وابستہ ہے، وہ مشترکہ ذمہ داری ہوگی۔ البتہ وہ مالی ذمہ داری یا نقصان جس کا تعلق کسی ایسے کام سے ہو جو خاندانی ضروریات سے متعلق نہ ہو اور جس میں دوسرے فریق کی رضامندی، شرکت یا فائدہ شامل نہ ہو، تو اسے اسی فرد کی ذمہ داری سمجھا جائے گا جس نے وہ فیصلہ کیا تھا۔
اسی طرح اثاثوں کے بارے میں بھی اصول یہ ہونا چاہیے کہ محض کسی چیز کا کسی ایک کے نام پر ہونا اسے ذاتی ملکیت نہیں بنا دیتا، بلکہ دیکھا یہ جائے گا کہ وہ اثاثہ کن حالات میں بنا، اس میں کس کی محنت، وقت، وسائل اور قربانی شامل تھی۔ جو چیز واقعی مشترکہ زندگی کے نتیجے میں بنی ہو وہ مشترکہ سمجھی جائے گی، اور جو چیز واقعی ایک فرد کے ذاتی وسائل سے بنی ہو اور اس میں دوسرے فریق کا کوئی کردار شامل نہ ہو، اسے ذاتی ملکیت سمجھا جا سکتا ہے۔ اس طرح نہ کسی کے ساتھ ناانصافی ہوگی اور نہ ہی قانون یا معاہدے کو دھوکہ دینے کا راستہ کھلے گا۔ اس سلسلے میں مختلف ممالک میں اطلاقی قوانین بھی موجود ہیں جو طے کرتے ہیں کہ مشترکہ اثاثے کون سے ہیں؛ ہم بھی اپنے معاشرے اور حالات کی رعایت سے ایسے اصول طے کر سکتے ہیں۔
اس طرح یہ نظام حقوق اور ذمہ داریوں دونوں میں توازن پیدا کرتا ہے۔ یعنی نہ صرف جائیداد کی منصفانہ تقسیم ہوتی ہے بلکہ قرضوں اور ذمہ داریوں کی تقسیم بھی انصاف کے ساتھ کی جاتی ہے۔
بعض لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ اس طرح کی شرائط سے نکاح مشکل ہو جائے گا۔ اس سلسلے میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ نکاح محض کسی جنسی ضرورت کو قانونی شکل دینے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ اپنی ذات میں ایک سنجیدہ معاہدہ اور بہت بڑی ذمہ داری کا معاملہ ہے جس پر خاندان کے ادارے کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ اس لیے نکاح کے وقت معاشی معاملات اور ذمہ داریوں کا طے ہونا کوئی غیر فطری بات نہیں بلکہ ایک ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم نے نکاح کو صرف “آسانی” کا نام دے کر جو خاندانی زندگی کی تباہی کے مظاہر دیکھے ہیں، ان میں غیر ذمہ دارانہ شادیاں، جلد بازی میں طلاق، اور اس کے بعد پیدا ہونے والے شدید معاشی مسائل شامل ہیں۔ نکاح کو آسان بنانے کا مطلب یہ نہیں کہ ذمہ داریوں کو غیر واضح چھوڑ دیا جائے، بلکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ نکاح کو ذمہ داری کے ساتھ کیا جائے اور فریقین کے حقوق و ذمہ داریاں پہلے سے طے ہوں تاکہ بعد میں ناانصافی، تنازعات اور معاشی بحران پیدا نہ ہوں۔
آخر میں عرض یہ ہے کہ نکاح کو اگر ایک معاہدہ اور شادی کو ایک مشترکہ ذمہ داری سمجھا جائے تو پھر شادی کے بعد بننے والے اثاثوں اور ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم نہ صرف عقلاً درست ہے بلکہ معاشرتی انصاف کے بھی عین مطابق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس طرح کی شرائط کا مقصد کسی ایک فریق کو فائدہ دینا نہیں بلکہ دونوں فریقوں کے حقوق کا تحفظ اور خاندانی نظام میں انصاف قائم کرنا ہے۔
محمد حسن الیاس۔

Leave a comment