“مکی سورتوں کی تعیین”
مولانا ابو الاعلیٰ مودودیؒ نے تفہیم القرآن میں سورۂ انعام کے دیباچے کے تحت مکی سورتوں کی تعیین کے مسئلے پر نہایت عمدہ اور بصیرت افروز گفتگو کی ہے۔ انھوں نے واضح کیا ہے کہ کسی سورت کے زمانۂ نزول کی تعیین کے لیے صرف روایات پر اکتفا نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے مضامین، اسلوبِ بیان، دعوت کے مراحل اور تاریخی اشارات کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ اسی پس منظر میں انھوں نے مکی دورِ دعوت کے مختلف ادوار، ان کے امتیازی موضوعات اور فکری مباحث پر روشنی ڈالی ہے۔ ذیل میں ان کی تفسیر سے ایک اہم اقتباس پیش کیا جا رہا ہے وہ لکھتے ہیں:
“۔۔۔۔یہاں چونکہ پہلی مرتبہ ناظرین کے سامنے ایک مفصل مکی سورہ آ رہی ہے، اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس مقام پر ہم مکی سورتوں کے تاریخی پس منظر کی ایک جامع تشریح کر دیں، تاکہ آئندہ تمام مکی سورتوں کو، اور ان کی تفسیر کے سلسلہ میں ہمارے اشارات کو سمجھنا آسان ہو جائے۔
جہاں تک مدنی سورتوں کا تعلق ہے، ان میں سے تو قریب قریب ہر ایک کا زمانۂ نزول معلوم ہے یا تھوڑی سی کاوش سے متعین کیا جا سکتا ہے، بلکہ ان کی تو بکثرت آیتوں کی انفرادی شانِ نزول تک معتبر روایات میں مل جاتی ہے۔ لیکن مکی سورتوں کے متعلق ہمارے پاس اتنے مفصل ذرائعِ معلومات موجود نہیں ہیں۔ بہت کم سورتیں یا آیتیں ایسی ہیں جن کے زمانۂ نزول اور موقعِ نزول کے بارے میں کوئی صحیح و معتبر روایت ملتی ہو، کیونکہ اس زمانہ کی تاریخ اس قدر جزئی تفصیلات کے ساتھ مرتب نہیں ہوئی ہے جیسی کہ مدنی دور کی تاریخ ہے۔ اس وجہ سے مکی سورتوں کے معاملہ میں ہم کو تاریخی شہادتوں کے بجائے زیادہ تر ان اندرونی شہادتوں پر اعتماد کرنا پڑتا ہے جو مختلف سورتوں کے موضوع، مضمون اور اندازِ بیان میں، اور اپنے پس منظر کی طرف ان کے جلی یا خفی اشارات میں پائی جاتی ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ اس نوعیت کی شہادتوں سے مدد لے کر ایک ایک سورۃ اور ایک ایک آیت کے متعلق یہ تعین نہیں کیا جا سکتا کہ یہ فلاں تاریخ کو، یا فلاں سنہ میں فلاں موقع پر نازل ہوئی ہے۔ زیادہ صحت کے ساتھ جو کچھ کیا جا سکتا ہے، وہ صرف یہ ہے کہ ایک طرف ہم مکی سورتوں کی اندرونی شہادتوں کو، اور دوسری طرف نبی ﷺ کی مکی زندگی کی تاریخ کو آمنے سامنے رکھیں اور پھر دونوں کا تقابل کرتے ہوئے یہ رائے قائم کریں کہ کون سی سورۃ کس دور سے تعلق رکھتی ہے۔
اس طرزِ تحقیق کو ذہن میں رکھ کر جب ہم نبی ﷺ کی مکی زندگی پر نگاہ ڈالتے ہیں تو وہ دعوتِ اسلامی کے نقطۂ نظر سے ہم کو چار بڑے بڑے نمایاں ادوار پر منقسم نظر آتی ہے:
پہلا دور، آغازِ بعثت سے لے کر اعلانِ نبوت تک، تقریباً 3 سال، جس میں دعوت خفیہ طریقے سے خاص خاص آدمیوں کو دی جا رہی تھی اور عام اہلِ مکہ کو اس کا علم نہ تھا۔
دوسرا دور، اعلانِ نبوت سے لے کر ظلم و ستم اور فتنہ (Persecution) کے آغاز تک، تقریباً 2 سال، جس میں پہلے مخالفت شروع ہوئی، پھر اس نے مزاحمت کی شکل اختیار کی، پھر تضحیک، استہزا، الزامات، سبّ و شتم، جھوٹے پروپیگنڈا اور مخالفانہ جتھہ بندی تک نوبت پہنچی، اور بالآخر ان مسلمانوں پر زیادتیاں شروع ہو گئیں جو نسبتاً زیادہ غریب، کمزور اور بے یار و مددگار تھے۔
تیسرا دور، آغازِ فتنہ (سن 5 نبوی ﷺ) سے لے کر ابوطالب اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات (سن 10 نبوی ﷺ) تک، تقریباً پانچ چھ سال۔ اس میں مخالفت انتہائی شدت اختیار کرتی چلی گئی، بہت سے مسلمان کفارِ مکہ کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر حبش کی طرف ہجرت کر گئے، نبی ﷺ اور آپ کے خاندان اور باقی ماندہ مسلمانوں کا معاشی و معاشرتی مقاطعہ کیا گیا اور آپ اپنے حامیوں اور ساتھیوں سمیت شعبِ ابی طالب میں محصور کر دیے گئے۔
چوتھا دور، سن 10 نبوی ﷺ سے لے کر سن 13 نبوی تک، تقریباً 3 سال۔ یہ نبی ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے لیے انتہائی سختی و مصیبت کا زمانہ تھا۔ مکہ میں آپ کے لیے زندگی دوبھر کر دی گئی تھی، طائف گئے تو وہاں بھی پناہ نہ ملی، حج کے موقع پر عرب کے ایک ایک قبیلہ سے آپ اپیل کرتے رہے کہ وہ آپ کی دعوت قبول کرے اور آپ کا ساتھ دے، مگر ہر طرف سے کورا جواب ہی ملتا رہا۔ اور ادھر اہلِ مکہ بار بار یہ مشورے کرتے رہے کہ آپ کو قتل کر دیں یا قید کر دیں یا اپنی بستی سے نکال دیں۔ آخرکار اللہ کے فضل سے انصار کے دل اسلام کے لیے کھل گئے اور ان کی دعوت پر آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔
ان میں سے ہر دور میں قرآنِ مجید کی جو سورتیں نازل ہوئی ہیں، وہ اپنے مضامین اور اندازِ بیان میں دوسرے دور کی سورتوں سے مختلف ہیں۔ ان میں بکثرت مقامات پر ایسے اشارات بھی پائے جاتے ہیں جن سے پس منظر کے حالات اور واقعات پر صاف روشنی پڑتی ہے۔ ہر دور کی خصوصیات کا اثر اس دور کے نازل شدہ کلام میں بہت بڑی حد تک نمایاں نظر آتا ہے۔ انہی علامات پر اعتماد کر کے ہم آئندہ ہر مکی سورہ کے دیباچہ میں یہ بتائیں گے کہ وہ مکہ کے کس دور میں نازل ہوئی ہے”.
مولانا ابو الاعلیٰ مودودی
دیباچہ سورۂ انعام، تفسیر تفہیم القرآن