Skip to content Skip to footer

دلیل حدوثِ عالم:علم کلام کی بنیاد!

علم کلام کے نظامِ فکر میں دلیل حدوثِ عالم محض ایک نظری مقدمہ نہیں، بلکہ وہ بنیادی ستون ہے، جس پر متکلمین نے اپنے استدلالی قصر کی تعمیر کی ہے۔ یہی اُن کی فکری کاوشوں کا نقطۂ آغاز بھی ہے اور وہ مرکزی برہان بھی، جسے اُنھوں نے وجودِ باری تعالیٰ کے اثبات کے لیے سب سے زیادہ موثر، معقول اور فیصلہ کن سمجھا ہے۔ اُن کے نزدیک یہ ایسی عقلی حجت تھی، جس کے ذریعے سے منکرین خدا کو بھی، وحی سے قطع نظر، محض عقل کی بنیاد پر قائل کیا جا سکتا تھا۔ اِسی لیے علم کلام کو ایک ایسے فکری منہج کے طور پر پیش کیا گیا، جو عقل و برہان کے ذریعے سے مذہب کی ترجمانی کرتا اور الحاد و انکارِ وحی کے مقابل میں ایک مضبوط استدلالی دفاع فراہم کرتا ہے۔

اِس دلیل کی صورت بہ ظاہر نہایت سادہ ہے۔ کائنات حادث ہے، ہر حادث کے لیے ایک محدث ضروری ہے، لہٰذا کائنات کا بھی ایک محدث ہے اور وہی خدا ہے۔ پہلی نظر میں یہ استدلال مربوط، معقول اور منطقی محسوس ہوتا ہے۔ اِسی بنا پر متکلمین نے اِسے خدا کے وجود کے حق میں عقل کا ایک نمایاں استدلال قرار دیا اور یہ دعویٰ کیا کہ حقیقتِ مطلقہ تک رسائی صرف وحی سے نہیں، خالص عقل سے بھی ممکن ہے۔ چنانچہ اِس استدلال کو ایک منطقی قیاس کی صورت میں مرتب کیا گیا، جس کا صغریٰ یہ تھا کہ عالم حادث ہے اور کبریٰ یہ کہ ہر حادث کا کوئی محدث ہوتا ہے۔ لیکن ہر قیاس کی اصل قوت اُس کے مقدمات کی قطعیت پر منحصر ہوتی ہے، بالخصوص اُس کے پہلے مقدمے پر۔

یہاں اصل سوال یہی ہے کہ آیا یہ دعویٰ کہ کائنات حادث ہے، واقعی ایسا قطعی، بدیہی اور غیر متنازع مقدمہ ہے، جس پر ایک لازمی نتیجہ استوار کیا جا سکے؟ اگر یہی مقدمہ محل نزاع ہو یا محض ایک ظنی مفروضہ ہو تو پھر اِس پر قائم پورا استدلال اپنی حیثیت کھو بیٹھتا ہے۔ ایسے میں نتیجہ ایک حتمی حجت نہیں رہتا، بلکہ ایک ممکنہ تعبیر یا مفروضہ استدلال بن کر رہ جاتا ہے۔

یہ دعویٰ، یعنی عالم کا حادث ہونا، علم کلام میں کسی سادہ وجدانی مشاہدے کے طور پر داخل نہیں ہوا، بلکہ ایک خاص فلسفیانہ پس منظر کے ساتھ آیا۔ ارسطو نے موجودات کو جواہر اور اَعراض میں تقسیم کیا۔ جوہر وہ ہے، جو اپنی ذات میں قائم ہو سکتا ہے اور عرض وہ کیفیت یا صفت ہے، جو کسی جوہر کے ساتھ وابستہ ہو کر سامنے آتی ہے، جیسے رنگ، حرکت، حرارت یا سکون۔ بعد میں رواقی فکر نے تغیر اور زمانی تسلسل کو اِس تقسیم کے ساتھ جوڑتے ہوئے یہ تصور پیدا کیا کہ اشیا میں پایا جانے والا تغیر اُن کے حادث ہونے کی علامت ہے۔ معتزلہ نے اِسی تصور کو اختیار کر کے یہ استدلال قائم کیا کہ چونکہ اَعراض ہر لمحہ تغیر پذیر اور اپنی نوعیت میں حادث ہیں، اِس لیے وہ جواہر بھی حادث ہوں گے، جن میں یہ اَعراض قائم ہیں اور جب عالم جواہر و اَعراض کا مجموعہ ہے تو وہ بھی حادث قرار پائے گا۔ بعدازاں، اشاعرہ نے اِسی کلامی فریم ورک کو برقرار رکھتے ہوئے یہ اضافہ کیا کہ اَعراض صرف تغیر پذیر نہیں، بلکہ ہرآن ازسرِ نو تخلیق ہوتے ہیں اور یوں کائنات میں رونما ہونے والا ہر تغیر براہِ راست فعل الٰہی کا مظہر بن جاتا ہے۔

یہاں تک کلامی استدلال کا تاریخی اور فکری پس منظر سامنے آ جاتا ہے، لیکن اصل سوال اِس کے بعد شروع ہوتا ہے۔ مسئلہ اِس کے نتیجے میں نہیں، اِس کے پہلے مقدمے میں ہے۔ سوال یہ نہیں کہ اگر عالم حادث ہو تو اُس کے لیے محدث لازم آئے گا یا نہیں؟ سوال یہ ہے کہ خود عالم کے حادث ہونے کا دعویٰ کس درجے کا دعویٰ ہے؟ کیا یہ بدیہی ہے؟کیا یہ ایسا قضیہ ہے، جس کی شہادت خود انسانی شعور میں مضمر ہے؟ کیا یہ ایسا امر ہے، جسے ہم قطعی طور پر جانتے ہیں؟یا یہ دراصل ایک نظری تعبیر ہے، جو بعض فلسفیانہ مفروضات کے بغیر قائم ہی نہیں رہ سکتی؟

حقیقت یہ ہے کہ کائنات کے حادث ہونے کا دعویٰ نہ کوئی بدیہی قضیہ ہے، نہ ایسا مشاہداتی مقدمہ، جس سے انسان بلاواسطہ یقینی علم حاصل کرتا ہو۔ انسان کائنات کے بعض مظاہر کو، وہ بھی ایک محدود زمانی اور مکانی دائرے میں، تغیرپذیر پاتا ہے۔ وہ اشیا میں حرکت، فساد، ترکیب، زوال، تجدد اور تبدیلی کا مشاہدہ کرتا ہے،لیکن اِن جزوی مشاہدات سے یہ کلی حکم صادر کر دینا کہ خود عالم بہ حیثیتِ کل حادث ہے، ایک زائد دعویٰ ہے ،جو اپنے اثبات کے لیے مستقل دلیل چاہتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، ہم تغیر کا مشاہدہ تو کرتے ہیں، مگر تغیر سے کلی حدوث کا لزوم خود بہ خود ثابت نہیں ہوتا۔ یہی اِس مقدمے کی اصل کم زوری ہے۔

متکلمین نے متغیر مظاہر کے محدود مشاہدے کو ایک کلی مابعد الطبیعیاتی نتیجے میں بدل دیا،حالاں کہ کسی شے میں تغیر کا پایا جانا یا اُس کے بعض اوصاف کا حادث ہونا، اِس بات کو لازم نہیں کرتا کہ وہ شے بہ حیثیتِ مجموعی بھی زمانی آغاز رکھتی ہو۔ ایک بات یہ ہے کہ عالم میں حوادث اور تغیرات پائے جاتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ خود عالم ایک متعین زمانی ابتدا رکھتا ہے۔ پہلی بات مشاہدے کے قریب ہے، دوسری ایک نظری تعبیر ہے۔ متکلمین نے اِن دونوں کے درمیان جو پل قائم کیا ہے، وہ بدیہی نہیں، بلکہ استدلالی ہے اور اِسی لیے محل نظر ہے۔

مزید یہ کہ یہ مقدمہ ایک ایسے نظری سانچے پر قائم ہے، جو خود اپنے اثبات کا محتاج ہے۔ جواہر و اَعراض کی تقسیم، اَعراض کے حدوث اور پھر اُن سے جواہر، بلکہ پورے عالم کے حدوث کا نتیجہ اخذ کرنا، یہ سب ایک خاص فلسفیانہ ترتیب کے اجزا ہیں۔ اگر یہ ترتیب پہلے سے مسلم نہ ہو تو خود مقدمہ بھی معلق رہتا ہے۔ یوں دلیل حدوث کا پہلا زینہ ہی ایک ایسے نظری نظام پر قائم ہو جاتا ہے، جو نہ عمومی عقل کے لیے بدیہی ہے، نہ فطرتِ انسانی کے لیے براہِ راست واضح ہے۔ چنانچہ اِس استدلال کی کم زوری صرف اتنی نہیں کہ اِس کا مقدمہ ظنی ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اِس کی ظنیت ایک متنازع نظری ڈھانچے سے پیدا ہوتی ہے۔ اِسی مقام پر ابن رشد کی تنقید غیر معمولی اہمیت اختیار کر لیتی ہے۔ اُن کے نزدیک متکلمین نے عالم کے حادث ہونے کو برہان سے ثابت نہیں کیا، بلکہ مشہور اور مسلمہ مقدمات سے ثابت کیا ہے اور چونکہ برہان صرف یقینی مقدمات سے قائم ہوتی ہے، اِس لیے اِس مقدمے پر قائم پورا استدلال بھی یقین پیدا نہیں کر سکتا۔ وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ علم کلام میں غالب طور پر جدلی اور خطابی قیاسات کا استعمال ہوتا ہے۔ عالم کے حادث ہونے کا دعویٰ ایک جزوی اور محدود مشاہدے کو کلی حکم میں بدل دیتا ہے، حالاں کہ انسان نہ کائنات کے کل زمانی دائرے کا احاطہ کر سکتا ہے، نہ اُس کے ہر پہلو کو ہر حال میں جانچ سکتا ہے،اِس لیے تغیرپذیر مظاہر کے محدود مشاہدے کی بنیاد پر پوری کائنات کو حادث قرار دینا، اُن کے نزدیک عقلی اور استدلالی، دونوں اعتبار سے کم زور ہے۔

ابن تیمیہ نے اِسی مقدمے پر ایک دوسرے زاویے سے تنقید کی ہے۔ اُن کے نزدیک عالم کے زمانی آغاز کا دعویٰ نہ کسی قطعی عقلی دلیل سے ثابت ہے، نہ حسی مشاہدے سے اور نہ کتاب و سنت میں اُس کی کوئی ایسی صریح بنیاد موجود ہے، جو اُسے لازماً ثابت کرتی ہو۔ ہم نے نہ کائنات کے آغاز کا مشاہدہ کیا ہے اور نہ اُس کی ابتدائی حالت تک ہماری رسائی ہے، لہٰذا عالم کے ایک متعین زمانی آغاز کو قطعی طور پر تسلیم کرنا محض ایک مفروضہ ہے۔ ابن تیمیہ کے ہاں اصل نکتہ یہ ہے کہ جب خود آغازِ عالم ہی یقینی طور پر ثابت نہیں تو اُسے وجودِباری کے اثبات میں ایک لازم مقدمے کے طور پر استعمال کرنا تجاوز ہے۔ یوں اُن کی تنقید بھی بالآخر اِسی بات پر آ کر ٹھیرتی ہے کہ صغریٰ، یعنی عالم کے حادث ہونے کا دعویٰ، اپنی نوعیت میں ظنی ہے۔ ابن قیم نے اِس بحث کو مزید آگے بڑھایا اور اس مغالطے کی نشان دہی کی کہ دوام حوادث سے یا عالم کی قدامت لازم آتی ہے یا اُس کا حدوث۔ اُن کے نزدیک حوادث کے تسلسل سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ عالم لازماً ازل سے قائم ہے اور نہ اِس سے یہ لازم آتا ہے کہ عالم کا حدوث ایک متعین زمانی نقطے سے ہوا۔ اُن کی راے میں عالم میں تجدد، تغیر اور حوادث اللہ تعالیٰ کے ازلی اور دائمی فعل تخلیق کے مظاہر بھی ہو سکتے ہیں۔ گویا وہ اِس پوری بحث کو ایک دوسرے رخ پر لے جاتے ہیں۔ اُن کے نزدیک تغیر کی حقیقت کو خود عالم کی مابعد الطبیعی حیثیت کا قطعی فیصلہ کن معیار نہیں بنایا جا سکتا۔ یہی نکتہ دلیل حدوث کے پہلے مقدمے کی کم زوری کو اور زیادہ نمایاں کرتا ہے، کیونکہ اب تغیر خود حدوثِ عالم کی قطعی دلیل نہیں رہتا، بلکہ ایک ایسی حقیقت بن جاتا ہے، جس کی مختلف توجیہات ممکن ہیں۔

اگر ابنِ رشد، ابنِ تیمیہ اور ابنِ قیم، تینوں کی تنقیدات کو جمع کیا جائے تو یہ بات وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہےکہ عالم کے حادث ہونے کا مقدمہ ایک ایسا مقدمہ نہیں، جسے عقل عام، بدیہی شعور یا قطعی مشاہدے کی بنیاد پر ثابت شدہ مانا جا سکے۔ اِس طرح اِن تینوں مفکرین کی تنقید یہ ہے کہ دلیل حدوث کا صغریٰ اپنی نوعیت میں قطعی نہیں، بلکہ نظری اور ظنی ہے اور محل نظر ہے۔اور جب قیاس کا پہلا مقدمہ ہی غیر قطعی ہو تو اُس پر وجودِ باری تعالیٰ جیسے قطعی مسئلے کی بنیاد رکھنا کوئی وجودی استدلال نہیں رہتا۔ زیادہ سے زیادہ یہ ایک ممکنہ فکری تعبیر ہو سکتی ہے، نہ کہ ایسی لازم اور فیصلہ کن حجت جو آپ سے آپ ثابت ہو۔ یہی وجہ ہے کہ دلیل حدوثِ عالم، اپنی تاریخی اہمیت اور فکری اثر انگیزی کے باوجود، خدا کے وجود کے اثبات میں ایک قطعی برہان کے بجاے ایک نظری اور جدلی استدلال سے آگے نہ بڑھ سکی۔ خلاصہ یہ ہے کہ دلیل حدوثِ عالم اپنے پہلے ہی مقدمے میں کم زور ہے، کیونکہ عالم کے حادث ہونے کا دعویٰ نہ بدیہی ہے، نہ غیر متنازع، بلکہ خود مستقل دلیل کا محتاج ہے،اِس لیے اِس پر قائم پورا استدلال قطعی حجت نہیں بنتا، بلکہ ظن اور احتمال کے دائرے میں رہتا ہے۔ اِسی بنا پر یہ تنقید صرف ایک جزوی اعتراض نہیں، بلکہ علم کلام کے اِس پورے منہج پر سوال ہے، جو نظری اور جدلی مقدمات کو عقلی یقین کے قائم مقام بنا دیتا ہے۔ خدا کے وجود جیسے بنیادی مسئلے میں زیادہ مضبوط استدلال وہی ہو سکتا ہے، جو فطرت، بدیہی شعور ،وجودی حقائق اور عقل عام کی غیر متنازع بنیادوں پر قائم ہو۔

Leave a comment

Are you human? Please solve:Captcha