نوٹ:مدیر ماہانہ انذار: ابویحییٰ
[ذیل میں محمد حسن الیاس صاحب کا ایک مضمون نقل کیا جارہا ہے جس میں نزول قرآن مجید کے وقت رائج عربی کا دیگر زبانوں اور بعد کے زمانے کی عربی زبان سے ایک تقابل کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے فرزدوق جو عہد خلافت راشدہ میں پیدا ہونے والے ایک شاعر تھے، ان کے اشعار کا انیسویں صدی کے ایک جدید عراقی شاعر سید جعفر الحلی کی شاعری سے تقابل کیا گیا ہے۔
اس تقابل کی علمی و ادبی حیثیت اپنی جگہ ہے، مگر اس سے قرآن مجید کا یہ اعجازی پہلو بھی سامنے آتا ہے کہ تمام عرب شاعر مل کر بھی جس عربی زبان سے چند مضامین، محدود اسالیب کے ساتھ بیان کر رہے تھے، قرآن مجید نے اسی زبان کو اٹھایا اور عرب کے صحرا نشینوں کے سامنے اسالیب و مضامین کی وہ دنیا رکھ دی جو ان کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں آسکتی تھی۔
قریش اسی صحرا میں رہتے تھے جس میں محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم زندگی گزارتے تھے اور وہی زبان بولتے تھے جو آپ کی زبان تھی۔ وہی آب و ہوا، وہی ماحول، وہی سماج و معیشت، وہی مسائل و معاملات جن میں دونوں فریق موجود تھے، مگر ایک روز بغیر کسی پس منظر کے آپ علیہ السلام نے انھی کی زبان میں وہ کلام پیش کیا جس کی نظیر اس سے قبل موجود نہ تھی۔ قرآن مجید کا یہی وہ اعجازی پہلو تھا جس نے پورے عرب کو لاجواب کر دیا تھا۔ آج اعجاز قرآنی کے اس پہلو کو سمجھنے والے لوگ بہت کم رہ گئے ہیں، لیکن امید ہے کہ مولانا حسن صاحب کا یہ مضمون اور اس پر ہمارا یہ تبصرہ اہل ذوق کو قرآن مجید کے اس معجزاتی پہلو کو سمجھنے میں مدد دے گا۔ ]
“مشرقی عرب کی شعری روایت”
محمد حسن الیاس
علامہ شبلی نعمانی نے اپنے ایک مضمون میں عربی اور فارسی شاعری کا تقابل پیش کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ عربی شاعری یقینا اپنی ایک جداگانہ حیثیت رکھتی ہے لیکن فارسی شاعری بہت سے پہلوؤں سے ممتاز ہے۔ شبلی کہتے ہیں کہ مثنوی، فلسفہ، تصوف اور جدت ِ خیال، اِن میں فارسی شاعری نہ صرف منفرد ہے بلکہ عربی کا شعری ذخیرہ اِس صنف سے خالی ہے۔
اپنے اِس نقطۂ نظر کی تائید میں وہ چند مثالیں پیش کرتے ہیں۔ مثلا ً جب عرب شاعر محبوب کے جمال کو آخری انتہا تک پہنچانا چاہتا ہے تو زیادہ سے زیادہ وہ اُسے انگھوٹھی کے حلقے سے تشبیہ دے دیتا ہے۔ اِس کے برعکس، فارسی شاعری کی قوت ِتخیل اسے بندرج، گوہر، چشمہ نوش، پستہ، غنچہ، ذرۂ جوہر جیسی علامات سے ظاہر کرتا ہے، اور اس کا خزانہ تشبیہ خالی نہیں ہوتا۔
دورِ حاضر میں عربی زبان و بیان پر نظر رکھنے والے ایک بڑے عالم ڈاکٹر خورشید رضوی نے اردو اور عربی شاعری کے اسلوبِ بیان کو تقابل کی ایک اور مثال سے واضح کرتے ہوئے بتایا کہ جہاں اردو زبان میں الفت کے تعلق کو بیان کیا جائے تو اسے محبت کے ’’دھاگوں‘‘ میں بندھنے سے تشبیہ دی جاتی ہے، وہیں عربی زبان میں یہی معاملہ دھاگے کے بجائے ’’رسی‘‘ میں ڈھل جائے گا، جس سے اردو کی نزاکت اور لطافت، نیز عربی زبان میں موجود شدت و کثافت واضح ہوتی ہے۔
راقم نے چند سال پہلے شبلی کا یہ مضمون اپنے استاد دکتور محمود مصری کے سامنے رکھا تو اُنھوں نے شبلی کی اس بات کو محل نظر قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ ندرتِ خیال کا ایک اہم عنصر ماحول اور معیشت ہوتی ہے۔ عرب شاعری کا وہ حصہ جو غیر متمدن عہد کا ہے، لوگ اِس جانب زیادہ التفات کرتے ہیں۔ اِس خطے میں زندگی دشوار تھی، وسائل محدود تھے، اور طبیعتیں سخت تھیں۔
عرب جب مغرب میں پہنچے ہیں، جہاں خدا کی تخلیق کا حسن اور کائنات کی کرشمہ سازیاں جلوہ افروز تھیں، ہر جانب بچھے ہوئے سبزہ زار، نیلی ندیاں، بہتے پانی کا شور، موسم بہار، میٹھے میوے، جنگلوں کا دل چیرتے جھرمٹ، بل کھاتی چراہ گاہیں، محتشم جامہ زیبی، آباد شہر اور متمدن سلطنت ایسے ماحول میں وہاں کی شاعری کا رنگ ہی مختلف نظر آتا ہے۔ چنانچہ وہاں نہ صرف خیال کی ندرت ہے بلکہ الفاظ کی ترکیب، محاورے اور اسلوبِ بیان میں بھی ملائمت ہے۔ وہ عرب جو مغرب (اندلس) میں آباد ہوئے، ان کی شاعری سے فارسی شاعری کا موازنہ تو قابل فہم ہے، لیکن مشرقی عرب کی شعری روایت سے اِس طرح کا موازنہ کرنا درست نہیں۔
اِس پہلو سے دکتور کی یہ بات قابل غور ہے۔ عرب شاعری کی تاریخ کو بے آب و گیاہ خطہ تک محدود کر کے دیکھا جائے تو علامہ شبلی کی بات ٹھیک نظر آتی ہے لیکن اگر دورِ متوسط، خصوصاً اندلس میں عربوں کے جانے کے بعد کی ادبی روایت کا استقصا کیا جائے تو ندرتِ خیال کا شاید ہی کوئی پہلو ہو جس سے عرب شاعری محروم ہو۔ اِس بات کی تائید یوں بھی ہوتی ہے کہ جزیرہ نما کے ادب میں بیان اوصاف کے اسالیب بہت محدود ہیں، جسے شاعر شدتِ بیان اور قوتِ الفاظ سے نمایاں کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اہل عرب اِس پہلو کو بھی اپنا امتیاز بتاتے ہیں کہ لغات کا ذخیرہ اتنا وسیع ہے کہ ایک ایک چیز کے لیے سو سو نام ہیں۔ لیکن یہ بات زبان کی اِبانت نہیں ہے، کیونکہ مشرقی عرب کی بدوی زندگی میں اشیا کا ذخیرہ ہی محدود ہے، اِس لیے یہ بات فطری ہے کہ ایک چیز کے کئی کئی نام ہوں۔
یہی وجہ ہے کہ مشرقی عرب کی شعری تالیف، قافیہ بندی، الفاظ کا انتخاب اور صوتی آہنگ تو متاثر کرتا ہے، لیکن اُس کامفہوم و خیال، جنگ و جدال میں غارت گری کی داستان، اپنے مویشی کے جمال کی تحسین، محبوبہ کے مسکن و آثار کی یادیں اور اُس کے وصال کی نوحہ گری کے بیان سے طبعیت کو بوجھل کر دینے والے قصوں کے سوا اور کچھ نہیں۔ اِس زاویے سے عرب شاعری کا مطالعہ کیا جائے تو یہ پہلو مزید واضح ہوجاتا ہے۔ ہم یہاں دو مثالوں سے اِس فرق کو پیش کرتے ہیں:
پہلے، جود و سخا پر مبنی اُن چند عربی اشعار کو جمع کر کے ترجمہ کیا گیا ہے جو مشرقی عرب کی شعری روایت کے اس پہلو کو نمایاں کرتے ہیں۔
اِس کے مقابل میں، دوسری غزل معروف شاعر سید جعفر الحلی کی ہے۔ اِس کے تقابل سے زبان کی ابانت اور اسلوب کی ندرت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ ذیل میں اِس کی پہلی مثال ملاحظہ فرمائیں:
أبي أحَدُ الغَیْثَینِ صَعْصَعۃُ الّذِی
متی تُخلف الجَوْزَائُ وَالنّجمُ یُمطِر
’’میرے والد کی سخاوت کا بادل اُس بادل کی طرح نہیں جو جوزا و نجم کے موسم کے علاوہ نہ برسے۔‘‘
وما یک فی من عیب فإنی
جبان الکلب مھزول الفصیل
’’مجھ میں اِس کے سوا اور کیا کمی ہے کہ مہمانوں کی آمد سے کتے بھونکتے رہتے ہیں اور اونٹنیوں کو ضیافت میں ذبح کر کے اُن کے بچے ہی ہمارا سرمایہ ہوتے ہیں۔‘‘
وصاعقۃ من نصلہ تنکفی بھا
علی أرؤس الأقران خمس سحاب
’’اُس کی انگلیاں نہیں، پانچ بادل ہیں، جو دشمنوں پر بجلیاں گراتیں اور دوستوں پر ابر کرم برساتی ہیں۔‘‘
طویل النجاد، رفیع العماد،کثیر الرماد إذا ما شتا
’’وہ اونچی نیام والا، بلند مکان والا اور کھانے پکانے سے راکھ کے ڈھیر لگانے والا ہے، جب سردی سے لوگ بھوکے ہوں۔‘‘
إن السحاب لتستحیی إذا نظرت
إلی نداک فقاستہ بما فیھا
’’بادل جب تیری سخاوت کو دیکھ کر موازنہ کرتے ہیں تو شرما جاتے ہیں کہ کیا تیری پرواز ہے اور کیا اُن کے پاس ہے۔‘‘
وکنت إذا کف أتتک عدیمۃ
ترجی نوالا من سحابک بلت
’’خالی ہاتھوں کو تیری سخاوت کے بادل تر کر دیتے ہیں۔‘‘
فما جازہ جود ولا حل دونہ
ولکن یصیر الجود حیث یصیر
’’سخاوت تیرا جز وِلا ینفک ہے۔ وہ تجھ سے دور نہیں ہوتی، بلکہ تیرا پیچھا ہی کرتی رہتی ہے۔‘‘
ذیل میں دوسری مثال ملاحظہ فرمائیں:
یا قامۃ الرشأ المہفہف میلی
بظمأی منک لموضع التقبیل
’’اے غزالِ بے پروا، نحیف ِ عشق پر متوجہ ہو! میری تڑپ کیا ہے، فقط اک بوسۂ جاناں اور!‘‘
رشاء أطلَّ دمی وفی وجناتہ
وبنانہ أثر الدم المطلول
’’تجھ غزالِ بے رحم کے فراق میں خونِ جگر ہوا۔ دیکھ لو اُس کے قاتل رخسار اور بے ر حم انگشت پر میرے بہتے لہو کے سراغ ہیں۔‘‘
یا قاتلی باللحظ أوّل مرۃ
أجہز بثانیۃ علی المقتول
’’سنو! تمھیں معلوم ہے تمھارے عشق کی پہلی نظر ہی قاتل تھی۔ مگر تمھیں کیا، غم فراق سے چور عاشقوں پر تم ہنوز قہر ڈھاتی ہو۔‘‘
فالظلم منک علیّ غیر مذمم
والصبر منی عنک غیر جمیل
’’ہمارے لیے تو تیری بے رخی کا تعلق بھی غنیمت ہے۔ اور اتنی بے اعتنائی کہ تمھیں اِس بے رخی پر ہمارا صبر تک بھی گوارہ نہیں۔‘‘
أتلو صحائف وجنتیک وأنت فی
سکر الصبا لم تدر بالإنجیل
’’دل لگانے کے بعد اب ہمارا مقصد حیات اور کچھ نہیں کہ تمھارے صفحات ِ رخسار ہی کی تلاوت کیا کریں، مگر ہماری تلاوت تم خاک سنتی؟ شبابِ حسن کے خمار میں تم تو ہائے، انجیل بھی بھلا بیٹھی۔‘‘
أفہل نظمت لئالئا من أدمعی
سمطین حول رضابک المعسول
’’پتا ہے؟ تمھارے آنسو نہیں، لڑیاں ہیں موتیوں کی۔ ایسے ہی ہیروں کو جڑ دیا گیا ہے شہد جیسے چاشنی لعاب ہونٹوں کے گرد‘‘
أشکو إلی عینیک من سقمی بہا
شکوی علیل فی الہوی لعلیل
’’شکوہ کناں ہوں، مگر تم سے نہیں، تمھارے نشیلے نینوں سے کہ ڈبو ڈالا۔ ہائے کس سے شکوہ کر بیٹھا، وہ نین توخود ہی علیل ہیں، جنھیں میری تڑپ کا احساس نہیں۔‘‘
فعلیک من لیل الصدود شباہۃ
لکنہا فی خصرک المہزول
’’ایسی بے اعتنائی روشن دن کو بھی گھٹا ٹوپ رات بنا ڈالے۔ کہنے دو مجھے،مجھ سے تعلق تمھارے پتھر جگر کی طرح نحیف ہوچکا ہے۔‘‘
لی حاجۃ عند البخیل بنیلہ
ما أصعب الحاجات عند بخیل
’’عاشق ہوں میں پر کتنا ناسمجھ کہ اندھیری رات میں ایک خود غرض پر بھروسہ ہے اور کتنا مشکل ہے عشق کا یہ سفر کہ ہم اُس خود غرض سے بھی امید قائم کیے ہوئے ہیں۔‘‘