Skip to content Skip to footer

سؤر کی حرمت

“سؤر کی حرمت”
(محمد حسن الیاس)
خور و نوش میں حلت و حرمت کی بنیاد طیب اور خبیث کے امتیاز پر قائم ہے،چنانچہ طیبات حلال اور خبائث حرام ہیں۔دین ہر پہلو سے نفس انسانی کا تزکیہ چاہتا ہے، اِس لیے اُس کا مطالبہ ہے کہ باطن کی تطہیر کے ساتھ کھانے پینے کی چیزوں میں بھی طیب اور خبیث کا فرق ہر حال میں ملحوظ رکھا جائے۔ یہ فرق انسانی فطرت میں ودیعت فطری معیار پر مبنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خبائث کی پہچان انسان کے لیے کبھی اجنبی نہیں رہی۔ وہ اپنی فطری عادات اور جبلی میلانات کے تحت بعض چیزوں کے بارے میں طبعی کراہت محسوس کرتا ہے۔ یہ احساس بہ تدریج ایک مستقل طرزِ عمل میں ڈھلتا اوربالآخر ایک واضح اخلاقی گریز کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔ اِسی کا نتیجہ ہے کہ انسان نہ صرف فرد کی حیثیت سے ایسی چیزوں کو کھانے سے اجتناب کرتا ہے، بلکہ اجتماعی سطح پر بھی اُنھیں خوراک کے طور پر قبول کرنے سے احتراز کرتا ہے۔
تاہم بعض معاملات ایسے ہوتے ہیں، جن میں فطری رہنمائی کے باوجود عملی اطلاق پوری طرح واضح نہیں ہو پاتا۔ اِس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ کچھ جانور اپنی ظاہری ساخت اور جبلی و غذائی عادات میں مختلف طبقات کی علامتیں بیک وقت رکھتے ہیں، جس سے طیب اور خبیث کا فرق فطری سطح پر پوری قطعیت کے ساتھ متعین کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر جانوروں کے مابین پائی جانے والی یہی ظاہری اور جبلی مماثلتیں عقل انسانی کے لیے التباس اور اشتباہ پیدا کر دیتی ہیں ۔ جانوروں کے باب میں خوراک کا مسئلہ اِسی نوعیت کی ایک نمایاں مثال ہے۔ اِس فرق کو واضح کرنے کے لیے قرآنِ مجید نے طیب جانوروں کے باب میں اصولی رہنمائی کی ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:
أُحِلَّتْ لَكُم بَهِيمَةُ الْأَنْعَامِ.
(المائدۃ 5: 1)
’’تمھارے لیے مویشیوں کی قسم کے جانور حلال کر دیے گئے ہیں۔‘‘
’بہیمۃ الانعام‘ سے مراد وہ جانور ہیں، جو اپنی فطرت میں چرنے والے ہوتے ہیں، یعنی اِن کی غذا مکمل طور پر نباتات پرمشتمل ہوتی ہے۔ جدید اصطلاح میں اِنھیں herbivores کہا جاتا ہے۔اِن کی مثال گاے، بکری اور بھیڑ وغیرہ ہیں۔ اِن کی جسمانی ساخت، نظامِ ہاضمہ اور عمومی عادات، سب گھاس خوری کے لیے موزوں ہوتی ہیں اور یہ حیوانی غذا کی طرف کوئی طبعی میلان نہیں رکھتے۔ اِن جانوروں کو حلال قرار دیا ہے۔
قرآنِ مجید کی اِس رہنمائی سے یہ بات آپ سے آپ واضح ہو جاتی ہے کہ جو جانور اِس دائرے میں شامل نہیں ہیں، وہ خبائث میں شمار ہوں گے۔ چنانچہ وہ جانور جو شکار کرتے ہیں، پنجوں اور نوکیلے دانتوں سے حملہ آور ہوتے ہیں، شکار کو پھاڑتے اور چیرتے ہیں اور جن کی فطرت میں درندگی نمایاں ہوتی ہے، اِس دائرے سے خارج ہو جاتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآنِ مجید کے اِسی مدعا کو مزید واضح کرتے ہوئے درندگی کی ظاہری علامات بیان فرمائی ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ.
(مسلم، رقم 4994)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی والے درندے اور پنجوں سے شکار کرنے والے پرندے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔‘‘
خور و نوش کے باب میں قرآنِ مجید کی یہ رہنمائی طیب اور خبیث کی تقسیم کو پوری طرح واضح کر دیتی ہے۔ تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس ضمن میں ایک اور نہایت اہم اصول کی طرف بھی توجہ دلائی ہے، جس کے ذریعے سے حلال، حرام اور مشتبہات کے دائرے کو واضح کیا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
الحلال بین والحرام بین وبینھما مشتبھات. (بخاری، رقم 52)
’’حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور اِن دونوں کے درمیان بعض چیزیں مشتبہ ہیں۔‘‘
یعنی حلال اور حرام اپنی اصل میں واضح ہیں، تاہم اِن کے درمیان بعض چیزیں ایسی ہو سکتی ہیں، جن میں اشتباہ ہو۔ یہی وہ مقام ہے، جہاں بعض جانوروں کے معاملے میں اطلاق کا سوال پیدا ہوتا ہے۔
اِس معاملے میں فیصلہ کن رہنمائی جانوروں کی فطری غذائی عادات سے حاصل ہوتی ہے، کیونکہ یہی عادات طیب اور خبیث کے فرق کو عملی سطح پر نمایاں کر دیتی ہیں۔چنانچہ اگر جانوروں کے باب میں اِن کی غذائی عادات کو بنیاد بنایا جائے تو صورتِ حال بڑی حد تک واضح ہو جاتی ہے۔ ایک طرف وہ جانور (herbivores) ہیں، جو خالص نباتات پر پلتے ہیں۔ یہ ’بہیمۃ الانعام‘ کے دائرے میں آتے ہیں اور حلال ہیں۔ دوسری طرف وہ جانور (carnivores) ہیں، جو شکار کرتے ہیں اور اپنی درندہ صفت فطرت کی بنا پر اِس دائرے سے خارج ہو جاتے ہیں۔ اصل سوال تیسری قسم کے جانوروں کا ہے، یعنی وہ جو نباتاتی اور حیوانی، دونوں طرح کی غذا کھاتے ہیں، جنھیں omnivorous کہا جاتا ہے۔
ہمہ خور جانوروں کا دائرہ بلاشبہ وسیع ہے، لیکن اِس کے اندر بھی واضح امتیازات پائے جاتے ہیں۔ زمینی جانوروں میں ریچھ، ببون اور بعض اقسام کے بندر اگرچہ omnivorous شمار ہوتے ہیں، مگر اِن سب میں ایک بنیادی قدرِ مشترک یہ ہے کہ یہ جانور باقاعدہ شکار کرتے ہیں، پنجوں اور دانتوں سے حملہ آور ہوتے ہیں، شکار کو پھاڑتے اور چیر کر کھاتے ہیں، اور ان کی فطرت میں درندگی نمایاں ہوتی ہے۔ یہی اوصاف اِنھیں محض ہمہ خور نہیں رہنے دیتے، بلکہ اصولی طور پر درندوں کے دائرے میں داخل کر دیتے ہیں۔ چنانچہ اِن جانوروں کے بارے میں کسی اضافی نص یا الگ ہدایت کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
اِس کے برعکس، بعض omnivorous جانور ایسے بھی ہیں، جنھیں محض ہمہ خوری کی بنا پر درندہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مرغی اور بطخ جیسے پرندے اگرچہ کیڑے مکوڑے یا چھوٹے جان دار کھا لیتے ہیں، لیکن وہ نہ شکار کرتے ہیں، نہ پھاڑتے ہیں، نہ چیرتے ہیں، بلکہ جو کچھ کھاتے ہیں، اُسے نگل لیتے ہیں۔ نہ اِن کے پنجے شکار کے لیے بنے ہوتے ہیں، نہ اِن کی فطرت میں درندگی پائی جاتی ہے۔ اِس بنا پر اِن کا معاملہ محل اشتباہ میں نہیں رہتا۔یہی اصول مچھلیوں کے باب میں بھی پوری طرح منطبق ہوتا ہے۔ بہت سی مچھلیاں ایسی ہیں، جو اپنی غذا کو نگل لیتی ہیں اور جن کے دانت شکار کو پھاڑنے یا چیرنے کے لیے نہیں ہوتے، اِس لیے اِن کے بارے میں کوئی تردد پیدا نہیں ہوتا۔ اِس کے برعکس، بعض مچھلیاں، جیسے شارک، شکار کو پھاڑ کر کھاتی ہیں، اُن کے دانت اِسی مقصد کے لیے بنے ہوتے ہیں اور اُن کی فطرت واضح طور پر درندہ صفت ہوتی ہے۔ اِس بنا پر ایسی مچھلیاں بھی اصولاً اِسی دائرے میں آ جاتی ہیں۔
اِن توضیحات کے بعد سؤر کا معاملہ سامنے آتا ہے اور یہی وہ مقام ہے، جہاں اشتباہ پوری طرح نمایاں ہو جاتا ہے۔ سؤر نہ ریچھ اور ببون کی طرح ایسا جانور ہے کہ اِس کی ہیئت، قوت اور طرزِ عمل میں درندگی اِس درجے میں نمایاں ہو کہ اِسے بلا تردد گوشت خور درندوں میں شامل کر لیا جائے، اور نہ مرغی و بطخ کی طرح ایسا ہے کہ اِس کی غذائی عادات ہی اِس کے معاملے کو پوری قطعیت کے ساتھ واضح کر دیں۔
پہلی نظر میں سؤر اپنی ہیئت اور جسمانی ساخت، خصوصاً جفت کُھرکی بنا پر بکری اور گاے جیسے مویشیوں کے قریب دکھائی دیتا ہے۔ مزید یہ کہ وہ انسان کے ساتھ مانوس بھی ہو جاتا ہے اور پالتو بھی بنایا جاتا ہے اوراِس کا گوشت اپنے ذائقے میں مرغوب بھی ہے۔ یہی ظاہری مشابہت اور انسیت اِسے ’بہیمۃ الانعام‘ کے دائرے کے قریب لے آتی ہے۔ اِس کے ساتھ یہ بات بھی معلوم ہےکہ سؤر پالتو ہو یا جنگلی، اصلاً شکاری جانور نہیں ہوتا۔ وہ نہ شکار کا تعاقب کرتے ہیں، نہ منظم انداز میں جانوروں کو مار کر کھاتے ہیں اور نہ پنجوں کے ذریعے سے حملہ آور ہونے کا وہ انداز رکھتے ہیں، جو درندوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔ اِس اعتبار سے اِنھیں خالص گوشت خور درندوں کے ساتھ رکھنا بادی النظر میں درست معلوم نہیں ہوتا۔
تاہم، ظاہری مشابہت سے آگے بڑھ کر غذائی عادات کا تجزیہ سؤر کی حیوانی فطرت کا ایک مختلف پہلو نمایاں کرتا ہے۔ سؤر چونکہ ہمہ خور ہے، اِس لیے جب اِسے حیوانی غذا میسر آتی ہے تو وہ اُسے محض نگل نہیں لیتا، بلکہ دانتوں سے کاٹتا، مضبوط جبڑوں سے چباتا اور کچلتا ہے۔ اِس کے جبڑوں کی ساخت اور کچلیوں کی موجودگی اِسے کچے گوشت کو چیر کر کھانے کی صلاحیت دیتی ہے، اور یہ خصوصیت خالص نبات خور جانوروں میں نہیں پائی جاتی۔
چنانچہ اِس کے بارے میں جہاں ایک طرف انعام کی طرح مویشیوں سے مشابہ بعض ظاہری اوصاف سامنے آتے ہیں تو دوسری طرف حملہ آور ہوکر گوشت خوری سے وابستہ درندہ صفت رجحانات بھی پوری طرح موجود رہتے ہیں۔ یہی باہمی تضاد اِس جانور کی حیوانی حیثیت کے تعین میں اشتباہ پیدا کرتا ہے۔ اِس اشتباہ کو تورات میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ وہ جفت کُھررکھتا ہے، مگر جگالی نہیں کرتا۔ کتابِ احبار میں ہے:
’’اور سؤر، اِس لیے کہ اس کے کُھرچِرے ہوئے تو ہیں، مگر وہ جگالی نہیں کرتا، اِس وجہ سے وہ تمھارے لیے ناپاک ہے۔ تم اُس کا گوشت نہ کھانا اور نہ اُس کے مردار کو چھونا؛ وہ تمھارے لیے ناپاک ہے۔‘‘ (احبار 11 :7-8)
یہاں جگالی محض ایک حیوانی عادت نہیں، بلکہ اِس بات کی علامت ہے کہ جانور کی فطرت اور اُس کا نظامِ ہضم مکمل طور پر نباتاتی غذا کے لیے بنا ہے۔ گاے، بکری اور بھیڑ جیسے جانور پہلے نباتاتی غذا کو نگل لیتے ہیں، پھر اُسے دوبارہ منہ میں لا کر چباتے ہیں اور یوں یہ عمل اُن کے خالص نبات خور (herbivorous)ہونے کو واضح کر دیتا ہے۔ سؤر چونکہ یہ عمل نہیں کرتا، اِس لیے جفت کُھررکھنے کے باوجود وہ حقیقی معنوں میں انعام کے قسم کے مویشیوں کے دائرے میں شامل نہیں ہو پاتا۔
اِسی اصولی فرق اور مشتبہ صورتِ حال کے پیش نظر قرآنِ مجید نے اِس باب کو انسانی قیاس اور اندازوں پر نہیں چھوڑا، بلکہ سؤر کو صراحت کے ساتھ حرام قرار دے کر معاملے کو پوری قطعیت سے واضح کر دیا ہے، مقصود یہ ہے کہ حلال و حرام کے باب میں کسی درجے کا ابہام باقی نہ رہے۔ ارشاد ہے:
اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیۡکُمُ الۡمَیۡتَۃَ وَ الدَّمَ وَ لَحۡمَ الۡخِنۡزِیۡرِ وَ مَاۤ اُہِلَّ بِہٖ لِغَیۡرِ اللّٰہِ.
(البقرۃ 2: 173)
’’اُس نے تو تمھارے لیے صرف مردار اور خون اورسؤر کا گوشت اور غیراللہ کے نام کا ذبیحہ حرام ٹھیرایا ہے۔‘‘
قرآنِ مجید کے اس فیصلے سے یہ حقیقت بھی پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ شریعت کن معاملات میں اور کس بنیاد پر قانون سازی کرتی ہے۔ دین کی ہدایت اپنی اصل میں انسانی فطرت کے اندر موجود ہے اور بیش تر امور میں انسان اِسی فطری ادراک کی بنیاد پر صحیح اور غلط کے درمیان امتیاز قائم کر لیتا ہے۔ تاہم ایک دائرہ ایسا بھی ہوتا ہے، جہاں یہ فطری رہنمائی قطعی صورت اختیار نہیں کر پاتی اور ظاہری مماثلتوں کے باعث شبہات پیدا ہو جاتے ہیں۔ یہی دراصل مشتبہات کا دائرہ ہے۔
ایسے موقعوں پر اللہ تعالیٰ محض اصولی رہنمائی پر اکتفا نہیں کرتے، بلکہ صریح قانون سازی کے ذریعے سے خود فیصلہ صادر فرما دیتے ہیں، تاکہ انسانی قیاس، اختلاف اور تردد کے تمام امکانات ختم ہو جائیں۔ سؤر کی حرمت کا صریح بیان اِسی اصول کی ایک نمایاں مثال ہے، جہاں شریعت نے اشتباہ کو باقی رکھنے کے بجاے حلال و حرام کے معاملے کو پوری قطعیت کے ساتھ متعین کر دیا ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــ
1-اِس سے واضح ہے کہ اِس جانور سے ہر طرح کی عملی وابستگی اور انسیت رکھنے سے منع کیا گیا ہے، تاکہ ملتبس فطرت اور مشتبہ درندگی کے پہلو کونظرانداز نہ کیا جائے اور حرمت اپنی اصل حکمت کے ساتھ قائم رہے۔

Leave a comment