ایران۔امریکہ تنازع کے حاصلات
اور پاکستان کی کامیابی کے اسباب
حالیہ ایران۔امریکہ کشمکش نے ایک بار پھر یہ حقیقت پوری طرح آشکار کر دی ہے کہ مسلم دنیا کی مذہبی قیادت سیاسی بصیرت کے بعض ایسے بنیادی مغالطوں میں گرفتار ہے جو کسی بحران کو حل کرنے کے بجائے ہر چند سال بعد ایک نئے تنازعے کو جنم دے دیتے ہیں۔ ایران کا حالیہ تجربہ اس کی نمایاں مثال ہے۔
اگر اس پورے معاملے کو جذباتی ردِ عمل سے الگ ہو کر دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مسئلہ کسی ایک واقعے، کسی ایک حملے یا کسی ایک حکومت کا نہیں، بلکہ ایک طویل ذہنی، سیاسی اور حکمت عملی کا ہے، جس میں معاملات کو ایک خاص زاویۂ نظر سے دیکھا گیا اور اسی کے مطابق فیصلے مرتب کیے گئے۔ اب اس طرزِ فکر اور طرزِ عمل کے نتائج پوری طرح سامنے آ رہے ہیں۔ دینی قیادت کے رویّے اور اس پورے تجربے کی روشنی میں اس کا خلاصہ تین بنیادی نکات میں کیا جا سکتا ہے:
1۔ سیاسی تنازعات کو مذہبی تناظر میں دیکھنا
2۔ عالمی طاقتوں سے آئیڈیلزم کی بنیاد پر معاملہ کرنا
3۔ ماضی کی عظمت کے تصور میں حال کی حقیقتوں کو نظرانداز کرنا
یہ حقیقت ناقابلِ تردید ہے کہ ایران نے اپنے علاقائی کردار کو ابتدا ہی سے ایک مذہبی اور انقلابی بیانیے کے ساتھ جوڑا۔ یوں سیاسی تنازعات محض سیاسی یا جغرافیائی نہ رہے، بلکہ ایک مقدس جدوجہد، ایک نظریاتی محاذ، اور ایک بڑے تاریخی منصوبے کا حصہ بنا دیے گئے۔ اس پورے تصور کے پس منظر میں ایک ایسا مذہبی تخیل بھی کارفرما رہا جس میں خطے بھر میں اثر و نفوذ کا دائرہ قائم کر کے بالآخر ایک ایسے عالمی نظامِ عدل کے قیام کی امید رکھی گئی جو امام مہدی کے ظہور کے بعد برپا ہونا ہے۔ اس ذہنی ساخت نے خارجہ پالیسی کو حقیقت پسندی کے بجائے نظریاتی تقدیس دے دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سیاسی فیصلے زمینی حقائق، طاقت کے توازن اور سفارتی امکانات کے بجائے ایک بڑے مذہبی خواب کے تابع ہوتے چلے گئے۔
اس تخیل میں صرف مستقبل کے ایک نظامِ عدل کی امید ہی شامل نہ تھی، بلکہ تاریخِ اسلام کے ابتدائی ادوار سے لے کر آج تک کے بعض مذہبی اور سیاسی اختلافات کو ایک ایسے شعور کے ساتھ بھی جوڑا گیا جس میں منحرفین سے ایک تاریخی تصفیے کا احساس موجود رہا۔ یوں حال کی سیاست کو ماضی کی یادداشت، عقیدت اور انتقام آمیز نفسیات کے ایک مرکب میں ڈھال دیا گیا۔
یہی وجہ ہے کہ ایران گزشتہ کئی دہائیوں میں صرف ایک ریاست نہیں رہا، بلکہ مختلف مسلح نیٹ ورکس، پراکسی گروہوں اور علاقائی تنظیموں کے ایک مرکز کے طور پر بھی سامنے آیا۔ لبنان، شام، عراق اور دیگر علاقوں میں سرگرم مسلح قوتیں، اور مختلف خطوں میں قائم کیے گئے نیٹ ورکس، اس پالیسی کا حصہ بنے۔ حماس، حوثی، حزب اللہ، فاطمیون، زینبیون اور خود پاسداران انقلاب کی وابستگیاں بھی اسی بڑے نقشے کا جزو رہیں ہیں۔ اس سے وقتی طور پر ایران کو ایک خاص قسم کا اثر و رسوخ ضرور ملا، مگر اسی کے ساتھ خطے کی دوسری ریاستوں، خاص طور پر عرب ممالک، میں شدید خوف اور عدمِ تحفظ بھی پیدا ہوا۔ ان کے لیے خطرہ صرف اسرائیل نہ رہا، بلکہ ایک ایسا ہمسایہ بھی بن گیا جو اپنے نظریاتی دائرۂ اثر کو سرحدوں سے ماورا لے جانا چاہتا تھا۔ اسی پس منظر میں کئی عرب ممالک نے بیرونی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کیے، فوجی اڈے دیے، اور اپنے تحفظ کے لیے عالمی طاقتوں کی موجودگی کو برداشت ہی نہیں بلکہ بعض اوقات ضروری سمجھا۔ اس لیے خطے میں امریکی یا مغربی موجودگی کو صرف سامراجی خواہش کہہ کر سمجھ لینا کافی نہیں؛ اس کے پیچھے علاقائی خوف کی ایک حقیقی تاریخ بھی موجود ہے۔ حج اور مکہ کے حوالے سے پیش آنے والے خونریز بحرانوں نے بھی عرب ریاستوں کے اندر یہ احساس مزید گہرا کیا کہ ایران کا انقلابی طرزِ سیاست پورے خطے کے توازن پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔
ایران کی پالیسی کا دوسرا بنیادی مسئلہ یہ رہا کہ اس نے عالمی طاقتوں کے ساتھ معاملہ زیادہ تر نظریاتی اور انقلابی زبان میں کیا، جب کہ بین الاقوامی سیاست اصولوں سے زیادہ طاقت، مفادات، نظم اور توازن سے چلتی ہے۔ پچاس سال تک “مرگ بر امریکا”، “مرگ بر اسرائیل” اور “بزرگ شیطان” کا بیانیہ قائم رکھا گیا۔ عوام کو یہ احساس دیا گیا کہ یہ ایک تاریخی مزاحمت ہے، ایک بڑی تہذیبی پیش قدمی ہے، اور بالآخر اس کا نتیجہ عالمی طاقتوں کے زوال کی صورت میں نکلے گا۔ مگر اگر نتائج کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ پالیسی اپنے بنیادی مقصد کے اعتبار سے مکمل ناکام ثابت ہوئی۔ نہ امریکا کمزور ہوا، نہ اسرائیل ختم ہوا، نہ عالمی نظام بدلا۔ اس کے برعکس ایران خود پابندیوں، معاشی دباؤ، سفارتی تنہائی اور داخلی بے چینی کا شکار ہوتا گیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر نصف صدی کے بعد بھی مخالف اپنی جگہ پہلے سے زیادہ مضبوط کھڑا ہو، اور آپ خود اندر سے زیادہ محدود اور زیادہ محصور ہو جائیں، تو پھر نعروں کی کامیابی کا معیار کیا رہ جاتا ہے؟اور وہی عالمی طاقتیں اپنی شرائط منوا کر امن کی ضمانت دیں تو یہ کس کی کامیابی ہے !
یہاں ایک اور حقیقت بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آج دنیا جن اخلاقی اصولوں، جنگی ضابطوں، مذاکرات، جنگ بندی، انسانی حقوق اور قانونی جواز کی بات کرتی ہے، ان کی ابتدا بڑی حد تک خود انہی عالمی فاتحین نے اپنے آپ پر کچھ قیود عائد کر کے کی تھی۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ جہاں ان کی برتری کو حقیقی چیلنج درپیش ہو، وہاں وہ انہی اصولوں سے انحراف بھی کرتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ بھی حقیقت ہے کہ انسانی تاریخ کے پچھلے ادوار کے مقابلے میں آج کا عالمی ماحول نسبتاً زیادہ مہذب ہے۔ اب کم از کم اتنی گنجایش موجود ہے کہ جنگ کے بجائے مذاکرات، مکمل فنا کے بجائے بقائے باہمی، اور تصادم کے بجائے سیاسی سمجھوتے کی بات ہو سکتی ہے۔ اسی لیے جدید دنیا میں تنازعات کا حل مخالف کے مکمل خاتمے کے خواب میں نہیں، بلکہ ایک قابلِ برداشت سیاسی بندوبست میں تلاش کیا جاتا ہے۔ سیاسی تنازعات کو سیاسی انداز میں حل کیا جاتا ہے، ان میں فریقِ مخالف کے مکمل خاتمے کا خواب نہیں دیکھا جاتا۔ ایران کی پالیسی یہاں بھی وقت سے پیچھے کھڑی دکھائی دیتی ہے، کیونکہ اس نے بقائے باہمی کے بجائے مکمل خاتمے کے خواب کو زندہ رکھا۔
حالیہ واقعات نے طاقت کے حقیقی توازن کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ جس انداز سے جدید ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس، فضائی برتری اور منظم حملوں کے ذریعے اہداف کو نشانہ بنایا گیا، قیادت کو ختم کیا گیا، اس سے واضح ہو گیا کہ اقتصادیات، دفاع، تکنیک اور ریاستی صلاحیت کے میدان میں جو تفاوت پیدا ہو چکا ہے، وہ معمولی نہیں ہے۔ جس طرف سے حملہ ہوا، وہ اپنی سرمایہ، تکنیک، عسکری تنظیم اور عالمی پشت پناہی کے ساتھ بدستور محفوظ رہی، اور جس خطے کو اس تصادم کا میدان بنایا گیا، اس کے اندر زیادہ نقصان اردگرد کی مسلمان ریاستوں، معاشروں اور عوام کو پہنچا۔ اصل طاقت کی نہ معیشت ہلی، نہ اس کی عسکری صلاحیت میں کوئی بنیادی فرق آیا۔ دوسری طرف مذہبی حلقوں میں ایک بار پھر یہ جوش پیدا ہوا کہ جیسے ہم کسی بڑی عالمی طاقت کے خاتمے کے قریب ہیں، لیکن عملی نتیجہ وہی نکلا جو بارہا نکل چکا ہے: آخرکار اسی میز پر آنا پڑا جہاں طاقت کا اصل توازن پہلے ہی فیصلہ کن ہوتا ہے، اور انہی حدود کے اندر مطالبات ماننے پڑتے ہیں جنھیں زمینی حقیقت پہلے سے طے کر چکی ہوتی ہے۔ شور بہت اٹھتا ہے، مگر اختتام ہمیشہ طاقت کے حقیقی نقشے ہی پر ہوتا ہے۔
اس پورے تجربے کی ایک اہم قیمت خود ایرانی عوام نے بھی ادا کی ہے۔ معیشت پر پابندیاں لگیں، کرنسی دباؤ میں آئی، نوجوان نسل میں بے یقینی بڑھی، داخلی اضطراب پیدا ہوا، اور ریاستی وسائل کا بڑا حصہ بیرونی محاذوں اور نظریاتی ترجیحات پر صرف ہوتا رہا۔ یوں ایک طرف انقلاب کا جلال برقرار رکھا گیا اور دوسری طرف عوام کی عملی ضروریات، یعنی معیشت، فلاح، روزگار، داخلی استحکام اور ادارہ جاتی ترقی، پیچھے رہتی گئیں۔ یہیں آ کر ایک بنیادی فرق سمجھ میں آتا ہے: انقلاب اور ریاست ایک چیز نہیں ہیں۔ انقلاب نعروں، قربانی، تصادم اور مسلسل جوش انگیزی پر چل سکتا ہے، مگر ریاستیں معیشت، نظم، ادارہ سازی، سفارت کاری اور دیرپا توازن سے چلتی ہیں۔ جب کوئی ریاست مستقل انقلاب کے مزاج سے باہر نہیں آتی تو بالآخر اپنے ہی امکانات کو محدود کرنے لگتی ہے۔
اس پورے پس منظر میں اصل سوال یہ ہے کہ کامیابی کی تعریف کیا ہے؟ کیا کامیابی یہ ہے کہ چند مسلح نیٹ ورکس وجود میں آ جائیں، خطے میں خوف پیدا ہو جائے، اور وقتی طور پر اثر و رسوخ بڑھ جائے؟ یا کامیابی یہ ہے کہ ایک ریاست مضبوط معیشت، مستحکم اداروں، محفوظ سرحدوں، بہتر عالمی مقام، قابلِ اعتبار سفارت کاری، اور اپنے عوام کے لیے باوقار مستقبل کی ضامن بنے؟ اگر دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو پھر ایران کے پچاس سالہ تجربے کو نئے سرے سے دیکھنا پڑے گا۔ کیونکہ اصل کامیابی کا پیمانہ دشمن کے خلاف بلند نعرہ نہیں، بلکہ اپنے معاشرے کے لیے محفوظ اور باوقار زندگی پیدا کرنا ہے۔
اس کے مقابلے میں اگر پاکستان کے تجربے پر نظر ڈالی جائے تو کچھ خوش آیند پہلو سامنے آتے ہیں۔ پاکستان نے اگرچہ ہمیشہ ایک پیچیدہ ماحول میں اپنے مفادات کا تحفظ کیا، لیکن مجموعی طور پر اس نے اپنے سیاسی تنازعات کو مکمل مذہبی جنگ میں تبدیل نہیں ہونے دیا، عالمی طاقتوں سے مکمل ٹکراؤ کے بجائے ایک حد تک حقیقت پسندانہ تعلقات قائم رکھے، اور اپنی دفاعی ضروریات کو بتدریج مضبوط کرنے پر توجہ دی۔ اسی طرزِ عمل نے اسے ایک مہلت اور ایک عملی گنجایش دی، جس میں وہ عالمی نظام کے اندر رہتے ہوئے اپنے لیے جگہ پیدا کر سکا۔ یہاں تک کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوا۔ یہ کامیابی کسی جذباتی نعرے، کسی انقلابی خواب، یا کسی فوری مہم جوئی کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ ایک طویل، خاموش، حقیقت پسندانہ اور ریاستی مزاج کی پالیسی کا ثمر تھی۔
پاکستان کے تناظر میں ایک اور پہلو بھی خاص طور پر قابلِ غور ہے۔ یہاں کی مذہبی قوتیں اکثر ریاست کو اسی نوع کی جذباتی اور تصادمی حکمتِ عملی اختیار کرنے پر آمادہ کرتی رہی ہیں جس کی ایک نمایاں مثال ایران کے طرزِ عمل میں دیکھی جا سکتی ہے۔ وہ ریاست کو ایسے راستے پر ڈالنا چاہتی ہیں جہاں سیاسی تنازعات کو مذہبی معرکہ بنا دیا جائے، عالمی طاقتوں کے ساتھ معاملہ حقیقت پسندی کے بجائے نعروں اور جوش کی بنیاد پر ہو، اور قومی حکمتِ عملی کو ایک ایسی جذباتی فضا کے تابع کر دیا جائے جس میں وقتی ولولہ تو بہت ہو، مگر ریاستی مصالح اور طویل المدت نتائج پس منظر میں چلے جائیں۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان کے عوام نے، یہاں کی سیاسی قوت نے، اور بالخصوص پاکستان کی فوج کے اندر جو عملی سنجیدگی اور ادارہ جاتی پختگی موجود رہی ہے، اس نے اس جذباتی رَو میں بہہ جانے کا راستہ بڑی حد تک بند رکھا۔ یہی پختگی پاکستان کو بارہا اس بات سے بچاتی رہی کہ وہ نعروں، مذہبی ہیجان اور غیر حقیقت پسندانہ تصادم کے اس راستے پر پوری طرح چلا جاتا جس کے نتائج آج دوسروں کے تجربات میں ہمارے سامنے ہیں۔ اس اعتبار سے پاکستان کا تجربہ یہ سکھاتا ہے کہ قومی سلامتی، دفاعی حکمتِ عملی اور عالمی تعلقات کو جذبات کے سپرد نہیں کیا جا سکتا؛ ان کے لیے ٹھنڈا مزاج، حقیقت پسندانہ نگاہ اور ریاستی بلوغت ناگزیر ہے۔
اگر اس پورے تجربے سے کوئی بڑا سبق نکلتا ہے تو وہ یہ ہے کہ آج کی دنیا میں سیاسی تنازعات کو مذہبی تقدیس کے بجائے سیاسی عوامل سے دیکھنا ہوگا، عالمی طاقتوں سے محض اخلاقی خطابت کے بجائے عملی توازن کے ساتھ معاملہ کرنا ہوگا، اور ماضی کی عظمت کے خواب میں حال کی کمزوریوں کو چھپانے کے بجائے اپنے اصل مقام، اصل وسائل اور اصل امکانات کو سمجھنا ہوگا۔ بعض عرب ریاستوں نے بڑی حد تک اسی حقیقت پسندانہ روش کو اختیار کیا۔ یہی راستہ قوموں کو مہلت دیتا ہے، یہی راستہ انھیں سانس لینے کی جگہ دیتا ہے، اور یہی راستہ انھیں اپنے مستقبل کی تعمیر کا موقع دیتا ہے۔ اس کے بغیر جذباتی بیانیے تو زندہ رہتے ہیں، لیکن ریاستیں کمزور ہوتی چلی جاتی ہیں۔ اور جو ریاستیں وقت کے بدلتے ہوئے اصولوں کو سمجھ کر اپنے لیے مناسب راستہ نکال لیتی ہیں، وہی آخرکار بقا، وقار اور قوت کے ایک زیادہ پائیدار مقام تک پہنچتی ہیں۔
محمد حسن الیاس
17 اپریل، 2026