Skip to content Skip to footer

دین، سیاست اور رومانوی خواب

یہ دنیا مذہبی نعروں پر نہیں، مفادات کے اصول پر چلتی ہے۔ کل جو امریکہ کے ساتھ تھا، آج روس کے ساتھ کھڑا ہو سکتا ہے؛ آج جو ایک صف میں ہیں، کل حالات بدلیں تو دوسری صف میں جا سکتے ہیں۔
انسانی معاشروں اور ریاستوں کو جوڑنے والی اصل قوتیں عموماً معاشی، دفاعی اور سیاسی مفادات ہوتے ہیں۔ اس لیے خلافت، عالمی مسلم اتحاد یا جہاد کے نام پر یہ خواب دکھانا کہ تمام مسلمان ایک جھنڈے تلے جمع ہو کر دنیا کی بڑی طاقتوں کو شکست دے دیں گے، انسانی فطرت اور انسانی تاریخ دونوں کے خلاف ہے۔
اسلام ایک مقدس ہدایت ہے۔ وہ انسان کی خواہشات کو اقدار کا پابند بنانے آیا ہے، انہیں سیاسی مقاصد کا ایندھن بنانے نہیں۔ سیاسی اتحاد کی بنیاد وہی چیز بن سکتی ہے جسے انسان اپنی جبلت، ضرورت اور مفاد میں قبول کرے۔
جو لوگ مسلمانوں کا کوئی بڑا سیاسی اتحاد چاہتے ہیں، وہ اگر اسلام، جہاد اور خلافت کے ناموں کے بجائے مشترک سیاسی، معاشی اور دفاعی مفادات کی بنیاد پر بات کریں تو شاید ان کا مقصد کسی حد تک حاصل بھی ہو جائے۔ لیکن مذہبی تقدس کی بنیاد پر ایسا اتحاد نہ کبھی قائم ہوا ہے اور نہ تاریخ میں دیرپا ثابت ہوا ہے۔
مسلمانوں کی پوری تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے۔ اموی، عباسی، فاطمی، سلجوقی، ایوبی، عثمانی، صفوی اور مغل, سب نے اپنے اپنے ریاستی اور سیاسی مفادات کے مطابق فیصلے کیے۔ جنگیں بھی ہوئیں، اتحاد بھی بنے اور ٹوٹے بھی، لیکن ان فیصلوں کا اصل محرک اقتدار، سلامتی اور مفاد رہا۔ تاریخ میں مسلمانوں نے کبھی محض “مسلمان ہونے” کی بنیاد پر اتحاد نہیں کیا، بلکہ ہمیشہ کسی نہ کسی سیاسی، معاشی یا عسکری مصلحت کی بنیاد پر کیا ہے۔
تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے: کل روس کو گرم پانیوں سے روکنا حکمتِ عملی تھی، آج اسی روس کے ساتھ تعلقات بڑھانا حکمتِ عملی ہے۔ جو امریکہ کل ہماری طرف دیکھنے کو تیار نہ تھا، آج ہماری تعریف کرتا نہیں تھکتا۔ جو عرب کل ایک صف میں تھے، آج دوسری صف میں کھڑے ہیں۔ چین ہو، روس ہو، امریکہ ہو یا عرب دنیا ریاستوں کے فیصلے عقیدت سے نہیں، مفاد سے جنم لیتے ہیں۔
اس لیے مقدس مذہبی تصورات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا صرف حقیقت سے فرار نہیں، دین پر بھی ظلم ہے۔
جب دین کو ان خوابوں کا بوجھ اٹھانے پر مجبور کیا جاتا ہے جنہیں تاریخ، فطرت اور انسانی تجربہ قبول نہیں کرتے، تو انجام یہ ہوتا ہے کہ نہ وہ خواب پورے ہوتے ہیں اور نہ دین اپنی اصل جگہ پر باقی رہتا ہے۔ اس میں دین بھی ہاتھ سے جاتا ہے اور دنیا بھی۔
لہذا جو خواب تاریخ، فطرت اور انسانی تجربے سے ثابت نہ ہوں، انہیں دین کے نام پر نوجوانوں کو بیچنا دعوت نہیں، رومانویت ہے؛ اور ایسی رومانویت کی شکست باعثِ افسوس نہیں، باعثِ عبرت ہوتی ہے۔اور جو لوگ اس تصادم کی دعوت دے رہے ہیں وہ مسلمان ملت کے محسن نہیں ہیں۔
محمد حسن الیاس

Leave a comment