کیا جمہور کا قول حجت ہے؟
بقلم: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آکسفورڈ
بعض باتیں اتنی ساقط الاعتبار ہوتی ہیں کہ کوئی بھی سنجیدہ اور مشغول انسان ان میں اپنا وقت ضائع کرنا پسند نہیں کرتا۔ اسی طرح کی ایک بات چند سالوں سے سوشل میڈیا پر گشت کر رہی ہے کہ ”جمہور کا قول حجت ہے“، ”جمہور کی مخالفت گمراہی ہے“، ”حق جمہور کی رائے میں منحصر ہے“، ”جو جمہور کے طریقے سے ہٹے گا، اس کا ایمان مسلوب ہونے کا خطرہ ہے“ وغیرہ وغیرہ۔ میں اسے ناقابلِ اعتنا سمجھ کر نظر انداز کرتا رہا، اور یہ سوچا کہ سوشل میڈیا پر خرافات کا سیلاب آتا ہی رہتا ہے، یہ بھی انہی میں سے ایک ہے۔ اتفاق سے اسی طرح کی ایک پوسٹ آج واٹس ایپ کے ایک گروپ میں شیئر کی گئی۔ حسبِ معمول میں نے چشم پوشی کی۔ اچانک ایک قابلِ احترام عالم نے مجھے اس کا مخاطب بنا دیا۔ آج کل مشغولیت اتنی زیادہ ہے کہ طبیعت اس طرح کی فضولیات سے اِبا کرتی ہے، پھر میں نے سوچا کہ اگر علماء اس طرح کے اباطیل کو قابلِ التفات سمجھنے لگے ہیں تو اس کا مداوا ضروری ہے، ورنہ دین میں ایک نئی بدعت جڑ پکڑ لے گی۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد“ یعنی جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی بات گھڑی جو اس دین کا حصہ نہیں ہے تو وہ بات ناقابلِ قبول ہے۔ اس ڈر سے کہ کہیں یہ غیر معقول بات خدا کے پاکیزہ دین کا حصہ نہ بن جائے، یہ مضمون سپردِ قلم کر رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حق کی پیروی کی توفیق دے۔
جو سوال اس مضمون کی سرخی میں ہے، اس کا مکمل جواب دینے کے لیے میں اپنی اس بحث کو تین حصوں میں تقسیم کرتا ہوں: الزامى جواب، کنفیوژن کی وجہ، اور تحقیقی جواب۔
الزامی جواب یہ ہے کہ جو لوگ اس مسئلے کو بار بار دہراتے رہتے ہیں، وہ بالعموم چار مسلکوں (حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی) میں سے کسی نہ کسی مسلک کے مقلد ہوتے ہیں۔ برصغیر میں چونکہ ان کی اکثریت حنفی ہے، اس لیے مثالیں حنفی مسلک کی دی جائیں گی۔ ان لوگوں سے پہلا سوال یہ ہے کہ اگر جمہور کا قول حجت ہے تو پھر حنفی مسلک کے اتباع کا کیا جواز ہے؟ آپ کو ہر مسئلے میں اس رائے پر عمل کرنا چاہیے جس کی طرف جمہور ہیں۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک ظہر کا وقت مثلین پر ختم ہوتا ہے، جبکہ جمہور فقہاء و محدثین کے نزدیک مثلِ اول پر ختم ہو جاتا ہے۔ اگر جمہور کا قول واقعی حجت ہے تو انصاف کی بات یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی رائے چھوڑ کر آپ جمہور کی بات پر عمل کریں۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک وتر واجب ہے، جبکہ جمہورِ امت کے نزدیک وتر سنت ہے۔ حنفی کتابوں میں ہے کہ عشاء کی نماز سے پہلے چار رکعت سنتِ غیر مؤکدہ ہے، جبکہ صحابۂ کرام، تابعین اور ائمۂ اربعہ سے ایسی کوئی بات سرے سے منقول نہیں۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک تکبیرِ تحریمہ کسی بھی ایسے جملے سے درست ہے جس میں خدا کی تعظیم ہو، جبکہ جمہورِ امت اس کے خلاف ہیں۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک وضو کی صحت کے لیے نیت شرط نہیں، جبکہ جمہورِ امت کے نزدیک نیت کے بغیر وضو درست نہیں ہوگا۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک طواف کے لیے طہارت واجب ہے، جبکہ جمہور کے نزدیک طہارت شرط ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک عورت کا نکاح بغیر ولی کے جائز ہے، اور جمہور ولی کی شرط لگاتے ہیں۔ ہر مسلک میں اس طرح کے سیکڑوں مسائل ہیں جہاں جمہور کی رائے کو ترک کر دیا گیا ہے۔ اگر جمہور کی رائے واجب الاتباع ہوتی تو یہ مسالک اپنی اپنی رائے پر کیوں مصر ہیں؟
کنفیوژن کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے روایت اور رائے کے فرق کو نہیں سمجھا۔ کوئی حدیث اگر قابلِ اعتماد راویوں کی متصل سند سے منقول ہو، اور اس کے مقابل دوسری روایت بھی صحیح سند سے منقول ہو تو اختلاف کے وقت ان دونوں روایتوں میں کسے ترجیح حاصل ہوگی؟ اہلِ علم کا متفقہ مسلک ہے کہ جس سند کے رواة صفتِ ضبط و اتقان میں بڑھے ہوں گے، ان کی روایت راجح ہوگی، اور اگر دونوں سندوں کے رواة ضبط و اتقان میں برابر درجے کے ہیں تو پھر یہ دیکھا جائے گا کہ کس سند کی متابعت موجود ہے۔ اس وقت ترجیح تعددِ طرق سے ہوگی۔ راجح روایت کو محفوظ اور مرجوح کو شاذ کہتے ہیں۔ یعنی روایت کے مسئلے میں کبھی کبھی وجہِ ترجیح راویوں کی تعداد ہو سکتی ہے۔ رائے کا معاملہ مختلف ہے۔ رائے میں ترجیح قوتِ دلیل کی بنا پر ہوتی ہے۔ جس قول کی دلیل طاقتور ہوگی، وہ قول راجح ہوگا، اور جس کی دلیل کمزور ہوگی، وہ رائے مرجوح ہوگی۔ اگر مرجوح رائے کے حق میں پوری دنیا ووٹ دے دے تب بھی وہ مرجوح رہے گی، اور اسے ہی شاذ کہیں گے۔
تحقیقی جواب یہ ہے کہ یہ دعویٰ کہ ”جمہور کا قول حجت ہے“ قرآن کے خلاف ہے، سنت کے خلاف ہے، اجماعِ امت کے خلاف ہے، عقل کے خلاف ہے، اور قرناً بعد قرن اور جیلاً إثر جیل فقہائے امت کے تعامل کے خلاف ہے۔ قرآنِ کریم کی بے شمار آیتوں میں خدا اور رسول کی بات ماننے کو فرض قرار دیا گیا ہے، مثلاً سورۂ نساء کی آیت: ”يا أيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم“۔ انہی آیات کی بنا پر امت کا اجماع ہے کہ سب سے پہلی دلیل کتاب اللہ ہے، دوسری دلیل سنتِ رسول ہے۔ اولی الامر کی اطاعت اللہ و رسول کی اطاعت کے تحت ہے۔ اس کے بعد فرمایا گیا: ”فإن تنازعتم في شيء فردوه إلى الله والرسول“ یعنی اولی الامر یا علمائے امت جب کسی مسئلے میں مختلف الآراء ہوں تو قرآن و سنت کی طرف رجوع کریں۔ جس کی بات قرآن و سنت کے مطابق ہوگی یا ان سے قریب تر ہوگی، وہ راجح ہوگی۔ قرآنِ کریم نے فیصلہ دلیل کی بنیاد پر کرنے کا حکم کیا ہے، نہ کہ تعداد کی بنیاد پر۔ بلکہ قرآنِ کریم میں قوی تر اشارے ہیں کہ اگر جمہور کی بات بے دلیل ہو تو اسے رد کر دینا واجب ہے، اور بلا دلیل جمہور کی اتباع ضلالت و گمراہی ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی کی تاکید فرمائی ہے کہ پہلے قرآن کی طرف رجوع کیا جائے، پھر سنت کی طرف۔ صحیح مسلم میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے: ”تركت فيكم ما لن تضلوا بعده إن اعتصمتم به كتاب الله“۔ یہی حدیث مستدرک حاکم میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے مروی ہے، جس میں سنتِ رسول کا بھی اضافہ ہے۔ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی حدیث فقہاء کے نزدیک مشہور ہے، جس میں ترتیب سے کتاب اللہ اور سنتِ رسول کی طرف رجوع کرنے کی ہدایت ہے۔ اس کے بعد قیاس کرنے کا حکم ہے۔ بعض روایتوں میں خلفائے راشدین کی سنت کی پیروی کا بھی حکم ہے، تاہم کسی حدیث میں وارد نہیں کہ اختلاف کی شکل میں جمہور کی رائے راجح ہوگی۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے عہد سے آخر تک تمام فقہاء، محدثین اور عام علماء کا اجماع ہے کہ دلیل قرآن و سنت ہیں۔ ظاہریہ کو چھوڑ کر عام فقہاء اجماع اور قیاس کو بھی دلیل مانتے ہیں، مگر کسی فقیہ نے جمہور کی رائے کو دلیل نہیں مانا۔ حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی وغیرہ مسالک کی اصولِ فقہ کی کتابیں سیکڑوں کی تعداد میں ہر جگہ موجود ہیں۔ ان میں اجماع کو تو دلیل شمار کیا گیا ہے، مگر اکثریت کی رائے کو کسی نے دلیل نہیں مانا ہے۔
عقل کے نزدیک وہ بات صحیح ہوگی جس کے پیچھے دلیل ہو۔ جس بات کے پیچھے دلیل نہ ہو، خواہ وہ پوری دنیا کی رائے ہو، وہ کمزور بلکہ بے وزن ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوریت کو دلیل نہیں مانا گیا ہے۔ اس بات پر مسلمان اور غیر مسلم علماء سب کا اجماع ہے۔ کتنی باتیں ہیں جو قوموں میں متفق علیہ تھیں، سائنسی تحقیقات نے انہیں باطل کر دیا۔ یہ بات اتنی واضح ہے کہ تبلیغی جماعت کا ہر فرد اسے دہراتا رہتا ہے۔ جب تبلیغی جماعت میں مشورہ ہوتا ہے تو اس کے آداب میں یہ بات ضرور کہی جاتی ہے کہ امیر کثرتِ رائے کے مطابق فیصلہ کرنے کا پابند نہیں۔
فقہاء کا تعامل یہ واضح کرتا ہے کہ جمہور کی رائے حجت نہیں۔ آپ سارے مسالک کی فقہی کتابیں اور حدیث کی شرحیں اٹھا لیں، ان میں کثرت سے یہ ملے گا کہ فلاں رائے جمہور کی رائے ہے، پھر بھی کوئی فقیہ جمہور کے اتفاق کو دلیل نہیں مانتا، بلکہ وہ لوگ جن کی رائے جمہور کے خلاف ہے، وہ اپنی بات کی دلیل پیش کرتے ہیں۔ جس کا مطلب واضح ہے کہ رائے میں اصل دلیل ہے، تعداد حجت نہیں۔ ورنہ جو لوگ جمہور کے خلاف ہیں، ان کا فرض تھا کہ اپنی رائے چھوڑ دیتے، مگر کسی نے بھی جمہور کی وجہ سے اپنی رائے نہیں چھوڑی۔ اگر احناف جمہور کی اتباع شروع کر دیں تو حنفی مسلک ہی ختم ہو جائے گا۔
حاصل یہ ہے کہ جمہور کی پیروی کی دعوت غیر علمی اور غیر معقول دعوت ہے۔ دعوت ہمیشہ دلیل کی پیروی کی ہونی چاہیے۔ اس دین میں متفق علیہ دلیل قرآن و سنت ہے، اور مختلف فیہ دلائل دوسرے بھی ہیں جن میں سرفہرست اجماع اور قیاس ہیں۔ جب بھی کوئی انسان اپنی رائے پیش کرے، اس پر فرض ہے کہ ان دلائل سے اپنی بات کو مؤید کرے۔ دلیل کے بجائے صرف ”جمہور، جمہور“ کی رٹ لگانا ضلالِ مبین ہے، اور صحابۂ کرام، تابعین، ائمۂ اربعہ اور تمام فقہاء و محدثین رضی اللہ عنہم کو غلط ٹھہرانا ہے۔