Skip to content Skip to footer

امام فراہی کی ’ جمهرة البلاغة ‘ مولانا مودودی کی نظر میں

قرآنِ مجید کے معجزہ ہونے پر سب سے پہلی دلیل اس کی بلاغت ہے۔ اگرچہ اعجازِ قرآنی کے اور بھی بہت سے پہلو ہیں، اور ہر پہلو اپنی جداگانہ اہمیت رکھتا ہے، لیکن چونکہ پڑھنے والے کو سب سے پہلے نفسِ کلام سے سابقہ پیش آتا ہے اور دوسرے پہلوؤں کی طرف بعد میں نظر جاتی ہے، اس لیے کلام کی بلاغت تمام پہلوؤں پر مقدم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علمائے اسلام نے ابتدا میں قرآنِ مجید کے وجوہِ بلاغت کو نمایاں کرنے کی طرف توجہ کی۔ اس سلسلے میں یہ ناگزیر تھا کہ نقدِ ادبی کے قواعد مدوّن کیے جاتے، محاسنِ کلام کا تتبع کیا جاتا اور یہ متعین کیا جاتا کہ کلام کا حسن کن چیزوں میں ہے اور بیان کی خوبی کا معیار کیا ہے۔ چنانچہ علما نے یہ کام بھی بہت بڑے پیمانے پر انجام دیا اور علم البلاغت ایک مستقل فن بن گیا، جس پر گزشتہ ایک ہزار سال میں دفتر کے دفتر لکھے جا چکے ہیں۔ لیکن جس طرح منطق، فلسفہ اور علم الاخلاق وغیرہ میں یونان کے اثر نے مسلمانوں کو تحقیق کی سیدھی راہ سے ہٹا دیا، اسی طرح نقدِ ادبی میں بھی وہ خصوصیت کے ساتھ ارسطو سے بہت زیادہ متاثر ہوئے، اور مزید برآں عجمی مذاق نے بھی ان پر کافی اثر ڈالا۔ اس لیے ابتدائی دور کے چند مصنفین کو چھوڑ کر بعد کے اکثر و بیشتر اہلِ علم نقدِ ادبی کے انہی قواعد کی پیروی کرتے چلے گئے جن کی بنا ارسطو نے ڈالی تھی اور جن کو عجمی تکلفات کے اثر نے اور زیادہ مسخ کر دیا تھا۔ سمجھا یہ جانے لگا کہ کلام کا حسن تشبیہ، استعارہ اور مجاز میں ہے اور صنائع و بدائع اس کی زینت ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ علمِ بلاغت کا ارتقا صحیح ذوقِ ادب سے بہت کچھ منحرف ہوگیا اور بلاغتِ قرآنی کے وجوہ نمایاں ہونے کے بجائے اور زیادہ مستور ہوتے چلے گئے۔
مولانا حمید الدین مرحوم کی خدمات میں سے یہ خدمت بھی بڑی قابلِ قدر ہے کہ انہوں نے علمِ بلاغت کو صدیوں کے یونانی و عجمی اثرات کی گرفت سے نکال کر ازسرِ نو مدوّن کرنے کی بنا ڈالی۔ ان کا زیرِ نظر رسالہ اگرچہ نہایت مختصر ہے، مگر اس میں ان کی شانِ تحقیق و اجتہاد کا کمال نظر آتا ہے۔ انہوں نے اگلوں کی دماغی غلامی سے آزاد ہو کر اُن بہت سے غلط نظریوں کی تردید کی ہے جو خواہ مخواہ علمِ بلاغت کے مسلمات میں داخل ہو گئے تھے۔ خصوصیت کے ساتھ ارسطو کے وضع کردہ اصولوں کی تو انہوں نے بڑے مضبوط دلائل کے ساتھ بیخ کنی کی ہے۔ پھر خود اپنے اجتہاد سے بلاغت کے اصول مرتب کیے ہیں، جو ذوقِ ادب اور ذوقِ عربیت سے بھی مناسبت رکھتے ہیں اور جن سے کلامُ اللہ کی ادبی خصوصیات بھی زیادہ بہتر طریقے سے سمجھی جا سکتی ہیں۔
ہمارے عربی مدارس میں عموماً فنِ بلاغت کی تعلیم مختصر المعانی اور مطوّل جیسی کتابوں کے ذریعے دی جاتی ہے، جو ایک طرف فنِ تعلیم کے نقطۂ نظر سے انتہائی ناقص کتابیں ہیں اور دوسری طرف فنِ بلاغت کے اُس دور کی تصنیف ہیں، جب کہ یہ فن عجمیت اور یونانیت کی آمیزش سے اپنے انحطاط کی آخری حد تک پہنچ چکا تھا۔ کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ اُن کتابوں میں طلبا کا وقت ضائع کرنے کے بجائے مولانا حمید الدین مرحوم کے اس رسالے کو داخلِ نصاب کیا جائے؟ یہاں یہ کہہ دینا بھی ضروری ہے کہ مولانا کے اِس رسالے کو جدید طرز پر اصولِ بلاغت کی تدوین کی راہ میں آخری چیز نہیں بلکہ ابتدائی چیز سمجھنا چاہیے۔ موجودہ دور میں نقدِ ادبی کا فن ایک بہت بڑا فن بن چکا ہے اور ترقی یافتہ زبانوں میں اس پر بہت کام کیا گیا ہے۔ اگر کوئی صاحبِ ہمت اٹھیں تو اس فن کے مطالعے سے مولانا مرحوم کی قائم کردہ بنیادوں پر بڑی عمارت تعمیر کر سکتے ہیں۔
٭ ترجمان القرآن بابت اپریل ۱۹۴۱ء (جلد ۱۸ عدد ۲) میں شائع ہوا۔

Leave a comment