“مفتی عبدالرحیم صاحب”
ہماری قومی زندگی کی شاید سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اپنے محسنین کے ساتھ اختلاف تو کیا، بسا اوقات ایسا ذلت آمیز رویہ اختیار کرتے ہیں کہ برسوں کی خدمت، دیانت، ایثار اور کردار ایک سیاسی اختلاف یا وقتی مہم کی نذر ہو جاتے ہیں۔ کسی شخص کے فکر و عمل سے اختلاف ایک چیز ہے، لیکن اس کی نیت، کردار اور پوری زندگی کو تہمتوں کی گرد میں چھپا دینا بالکل دوسری چیز۔
مفتی عبدالرحیم صاحب کے بارے میں ان دنوں جو کچھ کہا اور لکھا جا رہا ہے، اس پس منظر میں میں ایک بات پوری ذمہ داری کے ساتھ ریکارڈ پر رکھنا چاہتا ہوں۔
میں جامعۃ الرشید میں تقریباً چار سال زیرِ تعلیم رہا۔ اس عرصے میں مجھے مفتی صاحب کو محض ایک استاد، مہتمم یا دور سے نظر آنے والی مذہبی شخصیت کی حیثیت سے نہیں، بلکہ نہایت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ان کے ساتھ شب و روز کی مناسبت رہی، ان کے ادارے کا حصہ رہا، ان کی طرف سے لوگوں کے ساتھ معاملات کیے، مختلف سطحوں کی شخصیات سے ان کی ملاقاتوں اور مجالس کو قریب سے دیکھا، ان کے فیصلوں اور عملی لائحۂ عمل سے واقف رہا، بلکہ ان کے گھر اور نجی معاملات کے اہم پہلو بھی میری نگاہ سے گزرے۔ بہت سی باتیں ایسی ہیں جن کا یہاں بیان کرنا نہ مناسب ہے، نہ ضروری؛ لیکن وہ میرے اس مشاہدے کی بنیاد ضرور ہیں جس پر میں یہ گواہی دے رہا ہوں۔
یہ کسی بزرگ کی عقیدت میں لکھی ہوئی تحریر نہیں، نہ کسی شخصیت کے گرد تقدس کا حصار قائم کرنے کی کوشش ہے۔ میں نے دین کے فہم و تدبر کے جس منہاج کا انتخاب کیا ہے، وہ مفتی صاحب کے علمی منہاج سے نمایاں طور پر مختلف ہے، اور متعدد دینی و فکری مسائل میں ہمارا اختلاف بھی اہلِ علم سے مخفی نہیں۔ اس لیے یہ گواہی کسی مسلکی موافقت کی پیداوار نہیں۔
مذہبی حلقوں میں کسی شخصیت کے دفاع کو فوراً ایسی اندھی عقیدت سمجھ لیا جاتا ہے، گویا آدمی اپنے کسی شیخ یا بزرگ کی مدح میں مبالغہ کر رہا ہو۔ میری بات اس کے بالکل برعکس ہے۔ میں اپنے ناقدانہ اور طویل ذاتی مشاہدے کی بنیاد پر یہ کہہ رہا ہوں کہ غامدی صاحب کے علاوہ جن چند انسانوں کے اخلاص، للہیت، خدا خوفی اور خیر خواہی کے بارے میں میرے دل میں غیر معمولی اعتماد پیدا ہوا، مفتی عبدالرحیم صاحب ان میں سرِفہرست ہیں۔ بلکہ اپنے تجربے کی حد تک میں یہ کہنے میں تامل نہیں کہ اس درجے کا اخلاص اور قوم و ملت کے لیے ایسا بے غرض درد بہت کم لوگوں میں دیکھا ہے۔
ان کے افکار سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ ان کے سیاسی تجزیے یا بعض عملی فیصلوں پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے، لیکن یہ کہنا کہ ان کے زاویۂ نظر میں آنے والی تبدیلی کسی منصب، مال، جاہ، عسکری قربت یا دنیاوی منفعت کی پیداوار ہے، میرے نزدیک حقیقت سے بے خبری بھی ہے اور ان کے فکری سفر کے ساتھ ناانصافی بھی۔
میں نے اس تبدیلی کو قریب سے، تدریجاً تشکیل پاتے ہوئے دیکھا ہے۔ یہ کسی ایک ملاقات، منصب یا سیاسی مصلحت کا نتیجہ نہیں تھی۔ یہ ان کے اپنے داخلی احتساب، پاکستان کی مذہبی سیاست کے تجربات، ریاست اور مذہبی طبقات کے باہمی تعلقات، اور ان نتائج پر مسلسل غور کا حاصل ہے جو کئی دہائیوں کے طرزِ عمل نے ہمارے سامنے رکھ دیے ہیں۔ بعد کے برسوں میں یہ فکر مزید واضح ہوئی، لیکن اس کی جڑیں بہت پہلے سے موجود تھیں۔
کسی ایک سیاسی یا اطلاقی اختلاف کی بنا پر پوری عمر کی اصلاحی جدوجہد کو رد کر دینا قطعا انصاف نہیں۔ جامعۃ الرشید خود اس بات کی زندہ دلیل ہے کہ مفتی صاحب نے زمانے کے بدلتے تقاضوں کو اپنے بہت سے معاصرین سے پہلے سمجھا اور دینی مدارس کو ایک نئی سمت دکھائی۔
ان کا بنیادی مقدمہ بھی نہایت واضح، سادہ اور اصولی ہے. آپ جس ملک کے شہری ہیں، اس ریاست کے ساتھ وفاداری آپ کی اخلاقی اور دینی ذمہ داری ہے۔ ریاست کی غلطیوں پر تنقید ضرور ہو، لیکن ذمہ داری کے ساتھ، صحیح موقع پر اور صحیح فورم پر۔ میں خود اس بات کا گواہ ہوں کہ ریاست کے ذمہ داران اور بااثر حلقوں کے سامنے جس صراحت اور شدت کے ساتھ تنقید کی گئی، اس کی بہت سی مثالیں عوامی مجالس میں کبھی سامنے بھی نہیں آئیں۔ اس لیے محض یہ فرض کر لینا کہ عدمِ تصادم کا مطلب خوشامد اور ریاستی وفاداری کا مطلب مفاد پرستی ہے، نہایت سطحی طرزِ فکر ہے۔
مفتی صاحب کے موقف پر تنقید کیجیے، ان کے استدلال کا جواب دیجیے، ان کے لائحۂ عمل سے اختلاف کیجیے یہ سب آپ کا علمی حق ہے۔ لیکن کسی انسان کے پورے کردار کو تہمت، تمسخر اور کردار کشی کے حوالے کر دینا ہمارے معاشرے کی اس بیماری کی علامت ہے جس میں ہم اختلاف کرتے کرتے اپنے ہی محسنین کی عزت پامال کرنے لگتے ہیں۔
محمد حسن الیاس