Skip to content Skip to footer

امانتِ الٰہی اور انسان کی فطرت

“ظلوما جھولا”
(البیان:جاوید احمد غامدی)

 

اطاعت کا یہ تقاضا اُس ارادہ و اختیار کی بنا پر کیا جاتا ہے جو ہم نے انسان کو عطا فرمایا ہے)۔ ہم نے یہ امانت1 زمین اور آسمانوں اور پہاڑو ں کے سامنے پیش کی تھی تو اُنھوں نے اُس کو اٹھانے سے انکار کر دیا تھا اور اُس سے ڈر گئے تھے، مگر انسان نے اُس کو اٹھا 2لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ہی ظالم اور جذبات سے مغلوب ہو جانے والا 3ہے۔ یہ اِس لیے پیش کی گئی تھی کہ اللہ (اِس کے لازمی نتیجے کے طور پر) منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اورمشرک عورتوں کو سزا دے، اور مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو اللہ اپنی عنایتوں سے نوازے۔ اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔
(سورہ احزاب 72)

 

شرح و وضاحت

 

1-اِسے امانت سے اِس لیے تعبیر فرمایا ہے کہ یہ اصلاً ایک خدائی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو دی ہے کہ اِسے وہ خدا ہی کی دی ہوئی ایک چیز سمجھ کر استعمال کرے۔ چنانچہ اُس کو دنیا میں بھیجنے سے پہلے بھی اِس کی حفاظت کا عہد لیا گیا اور بعد میں بھی صدیوں تک انبیا علیہم السلام اِسی عہد کی تجدید اور یاددہانی کے لیے بھیجے جاتے رہے۔ انسان اِس عہد کا امین ہے اور اِس کے لیے مسؤل بنایا گیا ہے۔

 

2-زمین و آسمان اور پہاڑوں کی یہ معذرت زبان قال سے بھی ہو سکتی ہے اور زبان حال سے بھی، جس طرح مثال کے طور پر ہم کہتے ہیں کہ پاؤں سے کہتا ہوں، مگر وہ اُس طرف جانے کے لیے تیار نہیں ہوتے یا ملنے تو چلا جاؤں، مگر طبیعت ابا کرتی ہے یا کھاتا تو ہوں، مگر معدہ اُسے قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ گویا مدعا یہ ہے کہ اپنے مادی وجود کے اعتبار سے انسان اگرچہ ایک مشت استخواں اور ایک حقیر سی ہستی ہے، لیکن معنوی صلاحیتوں اور باطنی کمالات کے اعتبار سے ایسا مضبوط اور توانا ہے کہ جس بار امانت کو اُس نے اٹھا لیا ہے، اُس کا تحمل زمین و آسمان اور بلند و بالا پہاڑ بھی نہیں کر سکتے۔

 

2-یہ انسان کی فطرت کا بیان ہے جس کی بنا پر اُس نے یہ بار امانت اٹھایا ہے۔ چنانچہ انسان کے سامنے اگر اُس کی کوئی محبوب چیز پیش کی جائے، جیسے علم، حسن، اقتدار، ابدیت، عزوجاہ اور مال و دولت وغیرہ تو اُس کے لیے بسا اوقات وہ ایسا ازخود رفتہ ہو جاتا ہے کہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے سے بھی گریز نہیں کرتا اور اِس طرح اپنی جان پر ظلم کرتا ہے۔ علم و تحقیق، کشف والہام، عشق و عاشقی، جرأ ت و عزیمت اور حرص و طمع کی تمام داستانیں اِس کی شہادت دیتی ہیں کہ کسی چیز کی محبت انسان کو دیوانہ بنا سکتی ہے۔ انسان کی تمام ترقی، خواہ وہ آخرت کے حوالے سے ہو یا دنیا کے، اِسی دیوانگی کی مرہون منت ہے۔ آیت میں ’ظَلُوْمًا جَہُوْلًا‘ کے الفاظ اِسی لحاظ سے استعمال ہوئے ہیں۔ امام حمید الدین فراہی کے الفاظ میں، ’فاجترأ علی أمر عظیم، فظلم نفسہ و أوردھا مھالک*‘۔ مطلب یہ ہے کہ ارادہ و اختیار جیسی چیز جو خدا کی صفات میں سے ہے، جب انسان کے سامنے پیش کی گئی تو نتائج و عواقب کی پروا کیے بغیر اُس نے لپک کر اُسے قبول کرلیا، اِس لیے کہ اُس کی فطرت میں یہ چیز ودیعت ہے کہ کسی چیز کی کشش اُسے دیوانہ بنا سکتی ہے اور اُس کو حاصل کرنے کے لیے اپنی جان پر اُس کو ظلم بھی کرنا پڑے تو وہ کر گزرتا ہے۔

 

* تعلیقات فی تفسیر القرآن الکریم ۲/ ۹۹۔

Leave a comment

Are you human? Please solve:Captcha