مذہبی خواب اور سیاسی حقائق
ہم مسلمانوں کو ایک بات اب سمجھ آ جانی چاہیے کہ ہر سیاسی جنگ دین کی جنگ نہیں ہوتی، اور ہر وہ ریاست جو امریکہ یا کسی مغربی طاقت سے ٹکرا جائے، امت کے خوابوں کی تعبیر نہیں بن جاتی۔
ایران کے معاملے میں یہی ہوا جو ہوتا رہا ہے۔ تصادم شروع ہوا تو فوراً ’’طاغوت‘‘، ’’استعمار‘‘، ’’مزاحمت‘‘ اور اسلامی غلبے کے عنوانات سامنے آ گئے، اور ایک ریاست کی علاقائی سیاست میں امت کی عظمتِ رفتہ کے خواب دیکھے جانے لگے۔
حالاں کہ ایران ایک نظریاتی ریاست ہونے کے ساتھ ساتھ ایک قومی ریاست بھی ہے۔ اس کے اپنے قومی مفادات، سلامتی کے تقاضے، معاشی ترجیحات اور علاقائی عزائم ہیں۔ شام میں اسد حکومت کے خاتمے اور لبنان میں حزب اللہ کی کمزوری کے بعد خطے میں اپنے سکڑتے ہوئے اثر و رسوخ کو محفوظ رکھنا، اپنی اسٹریٹجک پوزیشن کو مستحکم کرنا اور علاقائی سیاست میں اپنا وزن برقرار رکھنا اس کی ’’مزاحمتی‘‘ پالیسی کے اہم محرکات ہیں۔
چنانچہ کسی ریاست کا مذہبی زبان استعمال کرنا اس کی سیاست کو دینی مقصد نہیں بنا دیتا۔ نعرہ مذہبی ہو سکتا ہے، مگر ریاستی فیصلے بالآخر طاقت، بقا اور مفاد کے حساب سے ہوتے ہیں۔
افغانستان ہمارے سامنے ہے۔ بیس سال امریکہ کے خلاف جنگ کو ایسا جہاد قرار دیا گیا جس سے عالمی خلافت کے احیا کی بنیاد پڑنے کی امیدیں وابستہ تھیں۔ لیکن پھر اسی امریکہ سے مذاکرات ہوئے، دوحہ معاہدہ ہوا، اور آج طالبان اپنی ریاستی ضرورتوں کے تحت ہندوستان سمیت مختلف عالمی طاقتوں سے تعلقات استوار کر رہے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ بھی ان کے عملی معاملات جاری ہیں، اور امریکی امداد سے بھی مستفید ہو رہا ہے۔
اور اس میں کوئی حیرت بھی نہیں ہونی چاہیے۔ سیاست میں آج کا دشمن کل مذاکراتی فریق اور پرسوں شریکِ مفاد ہو سکتا ہے۔
یہ ہم ہیں جو سیاسی کشمکش پر اپنی دینی آرزوئیں چسپاں کر دیتے ہیں۔ کوئی مغرب کے مقابل کھڑا ہو تو ہمیں اس میں صلاح الدین ایوبی نظر آنے لگتا ہے، اور ’’مزاحمت‘‘ کا ہر نعرہ ہمیں امت کے احیا کی نوید محسوس ہوتا ہے۔ حالاں کہ خود صلاح الدین ایوبی نے بھی اقتدار اور سیاسی وحدت کے حصول میں مسلم حریف حکمرانوں سے جنگیں کیں اور اپنے عہد کی سیاست میں مصلحت، معاہدے اور طاقت کے تقاضوں کو ملحوظ رکھا۔
اس رومان کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ سیاسی حمایت آہستہ آہستہ مذہبی وفاداری میں بدل جاتی ہے۔ پھر اس ریاست کی کسی پالیسی یا غلطی پر تنقید بھی ہمیں دین اور امت کی مخالفت محسوس ہونے لگتی ہے۔ یوں جو لوگ جذبات کے بجائے حقائق کی طرف متوجہ کریں، سیاسی مفاد اور دینی اصول میں فرق سمجھائیں اور بروقت خطرات سے خبردار کریں، ہم انھیں ملت کا غدار اور استعمار کا ایجنٹ قرار دینے لگتے ہیں۔
دین ہمیں عدل اور اخلاق کا معیار دیتا ہے، ریاستوں کے سیاسی مفادات کو مقدس بنانے کا جواز نہیں دیتا۔ ظلم جہاں ہو، اسے ظلم کہیں؛ مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوں، مگر کسی ریاست کے سیاسی منصوبے کو دین کا منصوبہ نہ بنائیں۔ ورنہ یہی تضادات پیدا ہوں کہ مغرب سے ہماری جان چھڑانے کا نام لے کر سرزمین حرم پر حملہ آور ہوجائے گا ۔۔۔۔
لہذا ایران کی سیاست کو ایران کی سیاست سمجھیے، افغانستان کی سیاست کو افغانستان کی سیاست اوراپنی عظمتِ رفتہ کے خواب ریاستوں کے کندھوں پر مت رکھیے۔
ورنہ خواب ہمارے ہوں گے، نعرے مذہبی ہوں گے، جنگیں ریاستوں کی ہوں گی، اور قیمت عام مسلمان ادا کریں گے۔
حسن الیاس