قرآن کی ’’حور‘‘ کیا کوئی الگ مخلوق ہے؟
(محمد حسن الیاس)
اشراق اگست 2026
قرآن مجید نے جنت کی عورتوں کی جن صفات کا ذکر کیا ہے، ان میں ایک نمایاں وصف ان کا ’’حور‘‘ ہونا ہے۔ یہ لفظ ان خواتین کے لیے استعمال ہوا ہے جو کشادہ آنکھوں اور نکھری ہوئی رنگت کی حامل ہوں۔ عربی زبان میں ’’حور‘‘ اُن عورتوں کو کہا جاتا ہے جن کی آنکھوں میں سفیدی اور سیاہی کا دل کش امتزاج ہو اور جن کا حسن نگاہوں کو بھا لینے والا ہو۔
ابن منظور ’’لسان العرب‘‘ میں لکھتے ہیں:
والحور: أن يشتد بياض العين وسواد سوادها.(4/ 219)
یعنی حور وہ عورت ہے جس کی آنکھ کی سفیدی بہت نمایاں ہو، اور سیاہی گہری ہو۔
یوں عربی زبان، تہذیب اور معاشرت میں ’’حور‘‘ کا تصور ایک صفاتی استعارے کے طور پر رائج تھا، جو گوری، آہو چشم اور دل لبھانے والی عورتوں کے لیے استعمال ہوتا تھا۔
قرآن نے ’’حور‘‘ کا ذکر اسی معروف لسانی پس منظر میں کیا ہے، اور جن خواتین کی صفات کو اس عنوان سے بیان کیا ہے، وہ کوئی اجنبی یا صرف جنت کے لیے تخلیق کی گئی مخلوق نہیں، بلکہ وہی نیک، باحیا اور صالح عورتیں ہیں جو دنیا میں ایمان و عملِ صالح کے ساتھ زندگی گزاریں گی اور اسی بنیاد پر جنت میں داخل ہوں گی۔
اسی لیے قرآن جنت کی رفاقت کو بھی ایمان و کردار کی بنیاد پر استوار کرتا ہے، نہ کہ کسی غیر متعلق یا اجنبی مخلوق پر۔
قرآن واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ جنت میں مرد و عورت، دونوں کو ان کے اعمال کے مطابق جوڑوں کی صورت میں ایک ساتھ رکھا جائے گا جیسا کہ اس کی منشا دنیا میں ہے۔ سورۂ نور میں فرمایا گیا ہے:
وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیۡنَ وَ الطَّیِّبُوۡنَ لِلطَّیِّبٰتِ. (24: 26) ’’پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہوں گی اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے۔‘‘
اور اسی حقیقت کو سورۂ یٰسین میں یوں بیان کیا گیا ہے:
ہُمۡ وَ اَزۡوَاجُہُمۡ فِیۡ ظِلٰلٍ عَلَی الۡاَرَآئِکِ مُتَّکِـُٔوۡنَ. (36: 56) ’’وہ اور ان کی بیویاں سایوں میں تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔‘‘
مزید فرمایا:
جَنّٰتُ عَدۡنٍ یَّدۡخُلُوۡنَہَا وَ مَنۡ صَلَحَ مِنۡ اٰبَآئِہِمۡ وَ اَزۡوَاجِہِمۡ وَ ذُرِّیّٰتِہِمۡ.
(الرعد 13: 23) ’’ابد کے باغ جن میں وہ داخل ہوں گے اور وہ بھی جو اُن کے آباو اجداد اور اُن کی بیویوں اور اُن کی اولاد میں سے اِس کے اہل بنیں۔‘‘
یہ تمام آیات اس حقیقت کو مکمل طور پر واضح کرتی ہیں کہ جنت میں داخلہ محض جنس یا خواہش کی بنیاد پر نہیں، بلکہ استحقاق اور نیک عمل کی بنیاد پر ہوگا۔ اسی اصول پر جنت کی رفاقت بھی استوار ہوگی، کسی اجنبی، غیر انسانی یا نئی مخلوق کے ساتھ نہیں، بلکہ انھی نیک، باحیا اور صالح خواتین کے ساتھ جو دنیا میں ایمان، تقویٰ اور طہارت کے راستے پر قائم رہیں۔
جنت کا نظام اس حکمت کے ساتھ مرتب کیا گیا ہے کہ وہاں ہر فرد کو اس کے روحانی مقام، باطنی مزاج اور اخلاقی ہم آہنگی کے مطابق ساتھی عطا کیا جائے گا۔ جنت کی رفاقت صرف جسمانی نہیں، بلکہ صفاتی، روحانی اور باطنی مطابقت پر قائم ہوگی، جو جنت کے ابدی سکون اور اطمینان کا اصل سرچشمہ ہے۔
تاہم بعض لوگوں نے سورۂ رحمٰن (55) کی آیت (74) ’لَمۡ یَطۡمِثۡہُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَہُمۡ وَ لَا جَآنٌّ‘، ’’جنھیں اُن سے پہلے کسی انسان یا جن نے ہاتھ نہیں لگایا ہو گا‘‘ کو بنیاد بنا کر یہ تصور قائم کر لیا ہے کہ جنت کی ’’حوریں‘‘ کوئی الگ، غیر زمینی اور ماورائی مخلوق ہیں۔
اگرچہ قرآن مجید کا یہ بیان اپنی جگہ بالکل واضح اور بے غبار ہے، لیکن منبروں پر سنائی جانے والی ضعیف روایات، من گھڑت حکایات اور واعظانہ ذوق کی حامل تعبیرات کی روشنی میں یہ مفروضہ قائم کر لیا گیا کہ چونکہ ان پر کسی انسان یا جن نے ہاتھ نہیں رکھا، لہٰذا یہ لازماً کوئی نئی، اجنبی، ماورائی اور غیر انسانی مخلوق ہی ہوں گی۔ یوں ایک ایسا نیا تصور پیدا ہوا جو نہ صرف قرآن کے سیاق و سباق سے ہٹا ہوا ہے، بلکہ اس کی مجموعی اسکیم سے بھی مطابقت نہیں رکھتا تھا۔
لیکن یہی تو قرآن کا اعجاز ہے کہ وہ اپنی تمثیلات اور اشارات سے پیدا ہونے والی ہر امکانی غلط فہمی کی اندرونی وضاحت اس انداز سے کرتا ہے کہ کسی خارجی تعبیر، اضافی تاویل یا بیرونی وضاحت کی کوئی حاجت باقی نہیں رہتی۔
وہ جہاں کہیں کوئی اشکال پیدا ہونے کا احتمال ہو، وہاں دوسری جگہ اس کی ایسی توضیح اور رفعِ ابہام کر دیتا ہے کہ مفہوم مکمل طور پر نکھر آتا ہے، اور کسی نئے نظریے یا ماورائی مفروضے کو اس کے مدعا میں شامل کرنے کی کوئی گنجایش نہیں رہتی۔ ’لَّا یَاۡتِیۡہِ الۡبَاطِلُ مِنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَ لَا مِنۡ خَلۡفِہٖ‘۔
چنانچہ سورۂ رحمٰن کی اس آیت کو سورۂ واقعہ کی آیات کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو ’’حور‘‘ کے بارے میں قرآن کا اصل مفہوم واضح ہو جاتا ہے، اور اس سے وابستہ تمام روایتی الجھنیں خود قرآن ہی کے بیان سے ختم ہو جاتی ہیں۔
ارشاد فرمایا:
اِنَّاۤ اَنۡشَاۡنٰہُنَّ اِنۡشَآءً. فَجَعَلۡنٰہُنَّ اَبۡکَارًا. عُرُبًا اَتۡرَابًا. (56: 35-37)
’’ہم نے اُنھیں ایک خاص اٹھان پر اٹھایا ہو گا اور اُنھیں کنواری، دل ربا اور ہم سن بنا دیا ہو گا۔‘‘
یہ آیات دراصل جنت کے اُس خوش نصیب گروہ، یعنی ’أصحاب الیمین‘ (دائیں والوں) کے بارے میں نازل ہوئی ہیں، جن کے لیے قرآن جنت کی عظیم نعمتوں کے ساتھ ساتھ اُن کی بیویوں کا خصوصی ذکر کرتا ہے۔ یہاں ’’ہم نے اُنھیں ایک خاص اٹھان پر اٹھایا ہو گا‘‘ کا صاف مطلب یہی ہے کہ وہ دنیا کی وہی نیک، صالح اور باوفا خواتین ہیں جو ان مردوں کی ازواج تھیں۔ جنت میں ان عورتوں کو ایک نئی تخلیقی شان، طہارت، شباب اور ہم مزاجی کے ساتھ دوبارہ عطا کیا جائے گا۔
یہی بات آیات کے الفاظ سے پوری وضاحت کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے، جنھیں درج ذیل نکات سے سمجھا جا سکتا ہے:
1۔ ’اَنۡشَاۡنٰہُنَّ‘ میں ’هُنَّ‘ کی ضمیر ان عورتوں کی طرف لوٹ رہی ہے جو پہلے سے موجود تھیں۔ یہ صاف دلالت کرتا ہے کہ بات کسی نئی نوع کی مخلوق کی نہیں، بلکہ انھی دنیا کی مومن اور صالح خواتین کی ہو رہی ہے جنھیں جنت میں نئی تخلیقی حالت میں دوبارہ پیدا کیا جائے گا۔
2۔ ’اِنۡشَآءً‘ کا لفظ واضح کر رہا ہے کہ یہ عورتیں خلقِ جدید کے عمل سے گزریں گی — یعنی وہی پرانی ہستیاں ہوں گی، مگر نئے سانچے، نئے حسن اور نئی طہارت کے ساتھ۔
3۔ ’فَجَعَلۡنٰہُنَّ اَبۡکَارًا‘ کا مفہوم یہ ہے کہ انھیں کنواریاں بنایا جائے گا۔ اگر یہ عورتیں پہلے سے ہی نئی اور علیحدہ مخلوق ہوتیں تو اس صفت کا ذکر بےمعنی ہوتا، کیونکہ نئی مخلوق لازماً کنواری ہی ہوتی۔ اس جملے کی معنویت تب ہی قائم ہوتی ہے جب مراد وہ عورتیں ہوں جو دنیا میں ازدواجی زندگی گزار چکی ہوں اور اب جنت میں انھیں نئی طہارت اور معصومیت کے ساتھ دوبارہ پیدا کیا جا رہا ہو۔
4۔ ’عُرُبًا اَتْرَابًا‘ کا مطلب ہے کہ وہ عورتیں صرف ظاہری حسن تک محدود نہیں ہوں گی، بلکہ محبت کرنے والی، جذباتی طور پر وابستہ اور ہم عمر بھی ہوں گی۔ یہ مکمل رفاقتی کیفیت کی علامت ہے، جسے جنت میں شوہر و بیوی کے تعلق کی انتہاے کمال کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
ان تمام نکات کی روشنی میں سورۂ رحمٰن کی ’لَمْ يَطْمِثْهُنَّ‘ والی آیت کو دیکھا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ وہاں ’’ہاتھ نہیں لگایا ہو گا‘‘ سے مراد یہ ہے کہ خلقِ جدید کے بعد وہ ایسی کامل طہارت میں ہوں گی کہ گویا کسی نے انھیں چھوا ہی نہ ہو، نہ جسمانی طور پر، نہ نفسیاتی یا جذباتی طور پر۔
یہ ہے واضح بیان جو خود خدا کی کتاب نے ’’حور‘‘ کے بارے میں پیش کیا ہے اور جو ہر اضافی افسانوی تصور کی نفی کرتا ہے۔
البتہ اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ جنت کے معاملات قرآن نے اکثر ’’تمثیل‘‘ اور ’’تشبیہ‘‘ کے اسلوب میں بیان کیے ہیں، اور خود قرآن واضح کرتا ہے کہ ان نعمتوں کا تعارف محض تصور کو قریب لانے کے لیے کیا گیا ہے، نہ کہ ان کی نوعیت کو قطعی طور پر متعین کرنے کے لیے اور نہ ہی ہمیں اس کی کوئی منطقی فہرست ترتیب دینی چاہیے۔
چنانچہ قرآن میں فرمایا گیا:
وَ لَکُمۡ فِیۡہَا مَا تَشۡتَہِیۡۤ اَنۡفُسُکُمۡ وَ لَکُمۡ فِیۡہَا مَا تَدَّعُوۡنَ.
(حمٰ السجدہ 41: 31) ’’اُس میں تمھارے لیے ہر وہ چیز موجود ہے جسے تمھارا دل چاہے گا اور اُس میں ہر وہ چیز حاضر ہے جو تم طلب کرو گے۔‘‘
اسی مفہوم کو سورۂ زخرف میں مزید وضاحت سے یوں بیان فرمایا:
وَ فِیۡہَا مَا تَشۡتَہِیۡہِ الۡاَنۡفُسُ وَ تَلَذُّ الۡاَعۡیُنُ ۚ وَ اَنۡتُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ.
(43: 71) ’’اور اُس میں وہ سب چیزیں ہوں گی جو دل کو بھاتی اور نگاہوں کو لذت دینے والی ہوں گی اور (اُن کو مژدہ سنایا جائے گا کہ) تم اِس میں ہمیشہ رہو گے۔‘‘
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کی نعمتیں ہر فرد کی فطری خواہشات اور انفرادی مزاج کے مطابق ہوں گی، اور اگر کسی کے ذہن میں ’’حور‘‘ کا کوئی مخصوص تصور ہو تو اس کی تسکین کے لیے بھی وہاں گنجایش ہو سکتی ہے۔
تاہم یہ بات قطعی ہے کہ قرآن نے ’’حور‘‘ کو کسی متعین، مستقل یا مافوق الفطرت مخلوق کے طور پر پیش نہیں کیا، بلکہ اسے ایک تشبیہی اور صفاتی نعمت کے طور پر بیان کیا ہے جو جنت میں بندے کی پاکیزہ خواہشات اور روحانی میلانات کی تسکین کے لیے ہوگی، نہ کہ کسی اجنبی مخلوق کی حقیقت کے طور پر۔ قرآن کا اصل زور ’’حور‘‘ کی نوعیت پر نہیں، بلکہ اس حقیقت پر ہے کہ جنت کی نعمتیں ہر فرد کی فطرت، مزاج اور روحانی توازن کے عین مطابق ہوں گی اور یہی وہ پیمانہ ہے جس پر اہلِ جنت کو ابدی اطمینان عطا کیا جائے۔