Skip to content Skip to footer

محترم ڈاکٹر محمد اکرم ندوی کاسوال

سوال: محترم ڈاکٹر محمد اکرم ندوی صاحب دامت برکاتہم، السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔
گزشتہ سال آپ کا غامدی سینٹر امریکہ میں دورہ ہوا تھا اور اس موقع پر جناب محترم حسن الیاس صاحب کے ساتھ آپ کا ایک انٹرویو بھی ریکارڈ ہوا۔ اس سے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ آپ سے یہ دریافت کروں کہ اس ادارے میں آپ کا مجموعی تجربہ کیسا رہا، وہاں کی علمی و دعوتی سرگرمیوں کے بارے میں آپ کا تاثر کیا ہے، اور بالخصوص جناب جاوید احمد غامدی صاحب کی دینی و علمی خدمات – خصوصاً مذہبی فکر کی تعبیرِ نو، علمی اسلوبِ استدلال، اور عصرِ حاضر کے فکری سوالات کے جواب میں ان کی کاوشوں کے حوالے سے – آپ کی رائے کیا ہے؛ آپ کی رہنمائی ہم جیسے طلبہ کے لیے یقیناً باعثِ سعادت ہوگی۔ (عبد الاحد ندوی)
جواب: وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ محترم عبد الاحد ندوی صاحب،
آپ کے سوال کے جواب میں، اور آپ کی حسنِ ظن پر شکر گزار ہوتے ہوئے، میں مناسب سمجھتا ہوں کہ پہلے ایک اصولی اور فکری تمہید عرض کروں، کیونکہ کسی بھی علمی ادارے، شخصیات اور ان کی خدمات کے بارے میں رائے قائم کرنا محض تاثرات کا نہیں بلکہ ایک طے شدہ علمی منہج کا تقاضا کرتا ہے۔
برصغیر میں مدرسۂ رحیمیہ اور مدرسۂ فرنگی محل کے بعد جو مدرسہ جاتی روایت پروان چڑھی، اس میں بتدریج تنگ نظری، مسلکی تشدد اور اکابر پرستی نے اپنی جڑیں مضبوط کیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک انتہاپسندانہ فکر وجود میں آئی جس نے ایک مخصوص تعبیر کو حق و باطل کا معیار بنا لیا۔ حالانکہ اس سے پہلے امت میں کفر و ایمان اور ہدایت و ضلالت کا واحد معیار اللہ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی سنت تھیں، مگر اس انتہا پسندانہ فکر نے اپنے خود ساختہ معیار کو فیصلہ کن بنا کر نہایت بے دردی کے ساتھ دوسرے مسالک کے علما اور عام مسلمانوں پر اسے نافذ کیا۔ جو لوگ قرآن و سنت کی رو سے مسلمان تھے، ان پر کفر اور گمراہی کے فتوے لگائے گئے، اور عوام الناس کے دلوں میں دوسرے علما و مفکرین کے خلاف بدگمانی پیدا کرنے کی منظم مہم چلائی گئی۔
اس نام نہاد معیار کے اسیر افراد کے لیے یہ تصور بھی ممکن نہیں رہا کہ ان کے علاوہ بھی کوئی حق پر ہو سکتا ہے، کوئی اور بھی متقی، مخلص اور صاحبِ خیر ہو سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ندوۃ العلماء میں تعلیم، اور مفکرِ اسلام مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ، مولانا محمد رابع حسنی ندویؒ، مولانا محمد واضح رشید ندویؒ اور مولانا شہباز اصلاحیؒ کی تربیت نے مجھے بڑی حد تک اس خود ساختہ معیار کی اسیری سے محفوظ رکھا۔ تاہم، یہ اعتراف ضروری ہے کہ اس معیار کے مدعیوں کی پروپیگنڈا مہم اس قدر ہمہ گیر تھی کہ میں بھی بعض مسلمان مفکرین کے بارے میں کسی قدر بد گمانی کا شکار رہا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے رہنمائی فرمائی اور میں نے دو بنیادی اصول مضبوطی سے تھام لیے:
اول، قرآن و سنت کا یہ واضح اصول کہ کسی مسلمان کے بارے میں بدگمانی نہ رکھی جائے، بلکہ ہر مسلمان کو اپنے سے بہتر مسلمان سمجھا جائے۔
دوم، مفکرِ اسلام مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کی وہ قیمتی نصیحت کہ یہ ممکن نہیں کہ ہر عالم سو فیصد تمہارا ہم خیال ہو؛ لہٰذا جن باتوں میں کسی عالم، مفکر یا داعی سے اتفاق ہو، ان میں تعاون کیا جائے، اور جن امور میں اختلاف ہو وہاں مخالفت اور محاذ آرائی کے بجائے خاموشی اختیار کی جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی عقلیں مختلف بنائی ہیں۔
الحمد للہ، اسی اصولی تربیت کے نتیجے میں اب میرا مزاج یہ ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے، میں اسے مسلمان ہی سمجھتا ہوں، اور کسی مسلمان کے خلاف کفر یا گمراہی کا فتویٰ دینے سے قطعی اجتناب کرتا ہوں۔ ہمارے ادارے میں فتویٰ کا ایک مستقل کورس ہے، اور میں اپنے طلبہ کو سختی سے ہدایت دیتا ہوں کہ کسی فرد کے خلاف فتویٰ جاری نہ کریں۔
اسی اصولی پس منظر میں جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے بارے میں بھی میں نے یہی منہج اختیار کیا ہے۔ سنہ 2019ء میں لندن میں ان سے میری پہلی ملاقات ہوئی، جس پر میں نے ایک مضمون بھی تحریر کیا تھا۔ اس مضمون میں میں نے واضح طور پر لکھا تھا:
“اس وقت جدید تعلیم یافتہ طبقے کی ایک جماعت غامدی صاحب کے خیالات سے مطمئن ہے، ان کے طریقۂ تشریح کی مداح ہے، اور بہت سے فقہی اور علمی مسائل میں ان کی پیروکار ہے۔ ہمارے بعض علما غامدی صاحب کے متعلق جس زبان کا استعمال کرتے ہیں، وہ ایک طرح کی بد تہذیبی ہے، جس کے نتیجے میں علماء اور عام مسلمانوں کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ اختلافی مسائل پر گفتگو کے وقت ہمیں سنجیدہ، پرسکون اور باوقار ہونا چاہیے، انداز علمی ہو اور زبان مہذب۔”
سنہ 2024ء میں غامدی سینٹر میں میری ان سے دوسری ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر غامدی سینٹر کی دعوت پر میرے دو انٹرویوز ریکارڈ کیے گئے، اور جناب حسن الیاس صاحب سے بھی متعدد بار ملاقات کا موقع ملا۔ آپ کے سوال کے براہِ راست جواب کی طرف آتے ہوئے عرض ہے کہ اس دورے کے دوران مجھے غامدی سینٹر کی علمی اور دعوتی سرگرمیوں کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔
ایک شام غامدی سینٹر نے مجھے اپنے پلیٹ فارم کے لیے انٹرویو کی دعوت دی۔ میں اور میرے رفقا شام ساڑھے پانچ بجے مرکز پہنچے، جہاں جناب حسن، جو محترم جاوید احمد غامدی صاحب کے داماد ہیں، نے ہمارا پُرتپاک استقبال کیا، مرکز کے مختلف شعبہ جات کا تعارف کرایا، اور پھر مجھ سے تفصیلی انٹرویو کیا۔ اس انٹرویو میں میری زندگی، علمی سیرت، کتاب (الوفاء بأسماء النساء) کی تالیف کے محرکات، مسلمانوں کے باہمی اختلافات اور ان سے نکلنے کے عملی راستے، نیز وہ علمی شخصیات جنہوں نے میرے فکر و منہج کو متاثر کیا، زیرِ بحث آئے۔ میں نے ان میں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ اور علامہ امام عبد الحمید الفراہیؒ کا خصوصی طور پر ذکر کیا، اور واضح کیا کہ قرآن فہمی میں ان دونوں کے مناہج کو جمع کرنا نہایت ضروری ہے: ابن تیمیہؒ قرآن کو کلامِ الٰہی سمجھ کر متکلم کے اسلوب اور عادتِ بیان پر غور کی دعوت دیتے ہیں، جبکہ فراہیؒ اسے ایک منظم اور مربوط کتاب کے طور پر دیکھتے ہوئے اس کے داخلی اور خارجی سیاق کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔
ہمیں غامدی سینٹر کے ایک اہم اور وقیع حدیثی منصوبے سے بھی آگاہ کیا گیا، جس میں احادیثِ نبویہ کو ان کے اصول و کلیات، اسبابِ ورود اور سیاق و سباق کے اعتبار سے باقاعدہ طور پر مرتب کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ جزئی اور فرعی روایات کو ان کلی اور اصولی روایات کے ساتھ مربوط کرنے کی منہجی کوشش کی گئی ہے جن سے وہ دراصل ماخوذ اور وابستہ ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان احادیث کو الگ اور واضح کیا گیا ہے جو اپنے اصل اصول سے منقطع ہو کر عمومی حکم کے طور پر رائج کر دی گئی تھیں، حالانکہ حقیقت میں وہ خاص اور مقید تھیں اور اصولی احادیث کی شرح، توضیح اور تطبیق کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ہمیں یہ بھی بتایا گیا کہ اس منصوبے میں اصولی اور کلی احادیث کی تعداد تقریباً پانچ سو کے قریب متعین کی گئی ہے، جبکہ باقی تمام احادیث کو ان کے توابع، شروح اور ملحقات کے طور پر منظم کیا جا رہا ہے۔
بعد ازاں ہم محترم جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے دولت کدہ پر حاضر ہوئے، جہاں انہوں نے نہایت خلوص، محبت اور اعلیٰ درجے کی مہمان نوازی کے ساتھ ہمارا استقبال فرمایا۔ اس علمی نشست میں ڈاکٹر یاسر قاضی بھی شریک تھے۔ علامہ حمید الدین فراہیؒ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ اور سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کی علمی خدمات اور فکری مناہج پر مفصل گفتگو ہوئی، جس میں ان کے افکار کے باہمی اشتراک، مماثلت اور اختلافات کا سنجیدہ اور تحقیقی جائزہ لیا گیا۔ اسی ضمن میں حدیث اور قرآن کریم کے باہمی تعلق، سنت کی حیثیت، اور حدیث کے تحفظ و تدوین میں محدثینِ امت کی عظیم اور ناقابلِ فراموش خدمات پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔
ہم نے مغرب اور عشاء کی نمازیں وہیں ادا کیں، جس کے بعد محترم غامدی صاحب کی دعوت پر ایک معزز پاکستانی ریستوران میں عشائیہ کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر قرآن، سنت، فقہ اور اسلامی تاریخ سے متعلق علمی، فکری اور ادبی موضوعات پر سیر حاصل اور بامعنی گفتگو رہی۔ اس نشست کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ تمام حاضرین علامہ حمید الدین فراہیؒ کی قرآنی خدمات، ان کی گہری بصیرت اور قرآن فہمی میں ان کے منفرد علمی اضافے کے اعتراف پر متفق نظر آئے۔
بعد ازاں جناب حسن الیاس صاحب نے مجھ سے رابطہ کیا، پہلے انٹرویو کی پذیرائی سے آگاہ کیا، اور دوسرے انٹرویو کی خواہش ظاہر کی۔ اگلے دن گیارہ بجے غامدی سینٹر میں دوسرا انٹرویو ریکارڈ ہوا، جس میں سوالات سنت و حدیث اور ان کے قرآن سے تعلق، مرجعیتِ دین، شریعت اور فقہ کے فرق، اور رسول اللہ ﷺ کی اتباع کی ناگزیریت سے متعلق تھے۔
ان تمام مشاہدات اور عملی تجربات کی روشنی میں یہ بات پورے اطمینان کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ غامدی سینٹر ایک سنجیدہ، منظم اور باوقار علمی ادارہ ہے، جہاں اختلافی اور حساس نوعیت کے مسائل پر گفتگو علمی منہج، استدلال کی پختگی اور فکری وقار کے ساتھ کی جاتی ہے۔
محترم جناب حسن الیاس صاحب اور ان کے رفقائے کار جس خلوص، جذبے اور فکری نشاط کے ساتھ اس مرکز کو فعال اور مؤثر انداز میں چلا رہے ہیں، وہ بجا طور پر قابلِ تحسین ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف قرآن کریم کی علمی خدمت کا اہتمام کر رہا ہے بلکہ فکرِ شبلی اور فکرِ فراہی کی اشاعت، توضیح اور تعارف کے ذریعے اسلامی علوم کو عصرِ حاضر کے فکری اسلوب اور علمی زبان میں پیش کرنے کی ایک بامقصد اور وقیع کوشش بھی کر رہا ہے۔ ہمیں پوری امید ہے کہ یہ مرکز مستقبل میں بھی قرآن فہمی، علمی مکالمے اور اسلامی تعلیمات کی عصری تعبیر کے میدان میں گراں قدر اور دیرپا خدمات انجام دیتا رہے گا۔
جناب جاوید احمد غامدی صاحب کی دینی و علمی خدمات کے بارے میں اختصار کے ساتھ تین بنیادی نکات عرض کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے:
اول یہ کہ محترم غامدی صاحب فکرِ اسلامی کی تعبیرِ نو، استدلال کے منہج کی تشکیل، اور عصرِ حاضر کے فکری و تہذیبی سوالات کے ساتھ سنجیدہ مکالمے کے میدان میں ایک قابلِ قدر اور مؤثر علمی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ ان کاوشوں کے نتیجے میں دنیا بھر میں لاکھوں تعلیم یافتہ مسلمان ان کی تحریروں اور خطابات سے استفادہ کر رہے ہیں، اسلام پر ان کا اعتماد مستحکم ہو رہا ہے، اور دین سے متعلق پیدا ہونے والے شکوک و شبہات بڑی حد تک رفع ہو رہے ہیں۔
دوم یہ کہ غامدی صاحب مجمع علیہ اور مختلف فیہ مسائل کے درمیان فرق کو بخوبی ملحوظ رکھتے ہیں۔ جن مسائل میں امت کا اجماع ہے، وہاں وہ پوری وضاحت کے ساتھ اتحاد كا موقف اختیار کرتے ہیں، اور جن امور میں اہلِ علم کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے، وہاں اپنی رائے کو مدلل، منظم اور سنجیدہ انداز میں پیش کرتے ہیں، ساتھ ہی دوسروں کے لیے اختلاف اور علمی نقد کی گنجائش بھی باقی رکھتے ہیں۔ یہ وسعتِ نظر درحقیقت ہمارے قدیم اور معتبر علمی ورثے کا تسلسل اور امتیاز ہے۔
سوم یہ کہ محترم غامدی صاحب نے عصرِ حاضر کے تناظر میں فکرِ شبلی اور فکرِ فراہی کی معنویت اور افادیت کو سمجھا اور اسے نئے اسلوب میں آگے بڑھایا ہے۔ وہ قرآن و سنت کو بنیاد بنا کر اسی فکری روایت کی روشنی میں مسلمانوں کی نئی نسل کی فکری اور دینی تربیت کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ دین کی تفہیم عصرِ حاضر کے ذہن اور سوالات سے ہم آہنگ ہو سکے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ غامدی صاحب کا علمی و فکری کام اپنی جگہ ایک اہم اور وقیع علمی کاوش ہے، جس سے اتفاق اور اختلاف دونوں علمی حدود کے اندر رہتے ہوئے ممکن اور جائز ہیں۔ ہمارے لیے اصل رہنمائی یہی ہے کہ قرآن و سنت کو فیصلہ کن معیار بنایا جائے، اختلاف کو رحمت سمجھا جائے، اور علمی مکالمے کو تہذیب، وقار اور دیانت کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔
2/2/2026

Leave a comment