Skip to content Skip to footer

روایت، تجدید اور سنجیدہ علمی مزاج

مذہبی روایات کو باہر سے دیکھا جائے تو ان میں بسا اوقات جمود، مناظرانہ مزاج اور مسلکی تعصب غالب نظر آتا ہے۔ اسی بنا پر تجدید پسند حلقے روایت اور تجدید کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کر دیتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر بڑی علمی روایت کے اندر ایسے اصحابِ علم بھی موجود ہوتے ہیں جن کے ہاں غیر معمولی وسعت، علمی بلندی، ذوق، احتیاط اور اجتہادی بصیرت پائی جاتی ہے۔
دور طالب عملی کی بات ہے ایک مشہور مناظر، جو حنفیت اور دیوبندی روایت کے دفاع میں دہائیوں سے سرگرم تھے، کراچی آئے۔ انھوں نے اہلِ حدیث نقطۂ نظر کے رد میں ایک کتاب لکھی تھی اور خواہش ظاہر کی کہ میں انھیں مفتی محمد تقی عثمانی صاحب سے ملواؤں۔ غالباً توقع یہ تھی کہ مفتی صاحب اس کتاب پر تقریظ لکھ دیں گے۔
میں انھیں لے گیا۔ مفتی صاحب نے کتاب کھولی، ابتدائی صفحات پر ان کی “سرچ اور ریسرچ” دیکھی، اور نہایت شائستگی سے فرمایا کہ یہ کام آپ نے کیا ہے، ہم جیسے چھوٹے طالب علم اس پر کچھ لکھ کر اس کی وقعت کم نہیں کریں گے۔ آپ کا کام خود ہی اس کا تعارف بن جائے گا۔
یہ بظاہر تعریف تھی، مگر درحقیقت ایک نہایت مہذب علمی معذرت تھی۔
اس واقعے نے مجھے یہ سمجھایا کہ روایت کے بڑے اہلِ علم محض مسلکی جوش کے آدمی نہیں ہوتے۔ ان کے ہاں معیار، احتیاط، تہذیب اور بعض اوقات اپنے ہی حلقے کی کمزور علمی کاوشوں سے خاموش فاصلہ بھی موجود ہوتا ہے۔
اصل کشمکش روایت اور تجدید کی نہیں، سطحی مناظرانہ مزاج اور سنجیدہ علمی روایت کی ہے۔

Leave a comment

Are you human? Please solve:Captcha