“قادیانیت، ختمِ نبوت، امامت اور نماز میں شرکت”
(غامدی صاحب کا موقف:چند ضروری توضیحات)
جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے موقف کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ عقیدۂ ختمِ نبوت، قادیانیت، نماز کی امامت، اور قائم نماز میں شرکت کے اصول کو الگ الگ دائرے میں رکھا جائے۔ اِن میں سے ہر پہلو کی اپنی نوعیت، اپنا محل اور اپنا دائرۂ اطلاق ہے۔
بالعموم غلط فہمی اُس وقت پیدا ہوتی ہے جب اِن مختلف اصولی، فقہی، دعوتی اور عملی پہلوؤں کو ایک دوسرے سے خلط ملط کر دیا جائے، یا کسی اطلاقی گفتگو کے چند اجزا کو اُن کے اصل سیاق سے الگ کر کے مستقل موقف کے طور پر پیش کیا جائے۔
غامدی صاحب کے ہاں ختمِ نبوت دینِ اسلام کا قطعی عقیدہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی معنی میں نبوت کے اجرا کی کوئی گنجائش باقی نہیں۔ اسی طرح نماز کی امامت کے لیے امام کا مسلمان ہونا ایک بنیادی شرط ہے۔ البتہ کسی قائم نماز میں شرکت کا معاملہ امام کے انتخاب سے مختلف ہے۔ اِس فرق کو سامنے رکھا جائے تو اُن کے موقف کی اصل نوعیت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے۔
اس سلسلے میں تکفیر سے متعلق غامدی صاحب کا اصولی موقف جاننے کے لیے اُن کا مضمون ”مسلم اور غیر مسلم“ دیکھا جا سکتا ہے۔ اِس مضمون میں وہ واضح کرتے ہیں کہ کسی عقیدے کو غلط، ضلالت یا گمراہی کہا جا سکتا ہے، لیکن جو لوگ اسلام کا اقرار کرتے ہیں، اُنھیں غیر مسلم یا کافر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دنیا میں وہ اپنے اقرار کے مطابق مسلمان سمجھے جائیں گے، اور اُن کے ساتھ معاملات بھی مسلمانوں ہی کے طریقے پر کیے جائیں گے۔
اسی طرح ”میزان“ میں نمازِ باجماعت کے باب میں اُن کی عبارت سے واضح ہے کہ امامت کے لیے امام کا مسلمان ہونا بنیادی شرط ہے، اور مسلمانوں ہی میں سے اُس شخص کو ترجیح دی جائے گی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے معیار کے مطابق امامت کے لیے زیادہ موزوں ہو۔
اُن کا موقف درج ذیل نکات میں سمجھا جا سکتا ہے:
1۔ امام کے انتخاب کا اصول
کسی بھی مقام پر جب نماز کے لیے امام کا انتخاب کیا جائے تو سب سے پہلے یہ بات ملحوظ رہنی چاہیے کہ امام محض صف کے آگے کھڑا ہونے والا شخص نہیں ہوتا، بلکہ مسلمانوں کی مشروع عبادت کا قائد اور نمائندہ ہوتا ہے۔ اس لیے امامت کی حقیقت ہی یہ تقاضا کرتی ہے کہ امام خود اس عبادت کا اہل ہو۔
غامدی صاحب نے ”میزان“ میں نمازِ باجماعت کے باب میں اسی دائرے کو اِن الفاظ میں بیان کیا ہے:
”نماز ہر نیک وبد مسلمان کے پیچھے پڑھی جائے گی۔ تاہم اِس کی امامت کے لیے کسی کا انتخاب پیش نظر ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت فرمائی ہے کہ یہ ذمہ داری اُس شخص کو دی جائے جو لوگوں میں زیادہ قرآن پڑھنے والا ہو۔ پھر اگر وہ قرآن پڑھنے میں برابر ہوں تو جو اُن میں سنت کا زیادہ جاننے والا ہو، اگر سنت کے جاننے میں برابر ہوں تو جس نے پہلے ہجرت کی ہو، اور اگر اُس میں بھی برابر ہوں تو جو عمر میں بڑا ہو۔ نیز فرمایا کہ کوئی شخص کسی کے دائرۂ اختیار میں امامت نہ کرے، بلکہ جس کے ہاں جائے اُس کی امامت میں نماز پڑھے۔“
(میزان، باب: نماز کی جماعت، عنوان: امام)
اس عبارت سے واضح ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک امامت کا معاملہ مسلمانوں ہی کے دائرے میں آتا ہے۔ پہلے یہ بنیادی شرط ہے کہ امام مسلمان ہو؛ اس کے بعد مسلمانوں میں سے امامت کے لیے ترجیح کا معیار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق قرآن، سنت، عمر، سابقہ دینی وابستگی اور دائرۂ اختیار جیسے امور کی بنیاد پر طے کیا جائے گا۔
اسی حقیقت کی بنا پر فقہا نے امام کے لیے مسلمان، عاقل و ہوش مند، قرأت و ارکانِ نماز کی ادائیگی پر قادر، اور نماز کی شرائط کا پابند ہونے کو بنیادی شرائط میں شمار کیا ہے۔ یہ شرائط محض صواب دیدی نہیں، بلکہ امامت کی حقیقت کے عقلی اور دینی لوازم ہیں؛ کیونکہ جو شخص خود اِس عبادت کا اہل نہ ہو، وہ مسلمانوں کی اجتماعی عبادت کا قائد اور نمائندہ امام بھی نہیں ہو سکتا۔
2۔ نماز میں شرکت کا اصول
دوسری صورت یہ ہے کہ ہم کسی مقام پر پہنچیں اور وہاں ایک شخص پہلے سے مسلمانوں کو نماز پڑھا رہا ہو۔ اس صورت میں ہم امام کا انتخاب نہیں کر رہے ہوتے، بلکہ ایک قائم جماعت میں شریک ہو رہے ہوتے ہیں۔ یہاں سوال یہ نہیں ہوتا کہ امامت کے لیے سب سے بہتر شخص کون ہے، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ جو شخص مسلمانوں کے معروف طریقے کے مطابق نماز پڑھا رہا ہے، اُس کے پیچھے نماز پڑھنے میں ہمارا رویہ کیا ہونا چاہیے۔
غامدی صاحب کے نزدیک اصول یہ ہے کہ ہر ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھی جا سکتی ہے جو نماز ہی کے اندر شرک، کفر یا ایسی بدعت کا ارتکاب نہ کر رہا ہو جو نماز کو باطل کر دے۔ دین نے ہم پر یہ پابندی عائد نہیں کی کہ کسی قائم جماعت میں شریک ہونے سے پہلے امام کے عقائد، مسلک، فقہی آرا یا باطنی حالات کی تفتیش کریں۔
اس لیے اگر کوئی شخص مسلمانوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر نماز پڑھا رہا ہے تو محض اختلافِ مسلک، کلامی تعبیرات یا اعتقادی اختلافات کی بنا پر اُس کے پیچھے نماز سے گریز درست رویہ نہیں۔ دینی معاملات میں دنیا کے اندر فیصلہ ظاہر دینی نسبت اور نماز کے مشروع طریقے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، باطن کی تفتیش کی بنیاد پر نہیں۔
3۔ قادیانی حضرات کا معاملہ:
جہاں تک قادیانی حضرات کا تعلق ہے، اُن کا معاملہ عام مسلکی یا کلامی اختلاف کا نہیں، بلکہ ختمِ نبوت سے متعلق ایک صریح کفریہ عقیدے کا ہے۔ اگرچہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، لیکن ختمِ نبوت کے باب میں اُن کا موقف اسلام کے قطعی عقیدے کے خلاف ہے۔ مسلمانوں کا دینی فریضہ یہ ہے کہ اُنھیں صحیح دین کی دعوت دی جائے۔تاہم کسی فرد کے باطن اور اخروی انجام کا فیصلہ اللہ ہی کے سپرد ہے؛ البتہ دنیا میں معاملات ظاہر اقرار کی بنیاد پر طے کیے جاتے ہیں۔
قادیانی حضرات نے اپنے عقیدۂ نبوت کی بنیاد پر عملاً ایک الگ دینی شناخت قائم کر رکھی ہے۔ اُن کے ہاں مرزا غلام احمد کو نبی نہ ماننے والے مسلمان اُن کی دینی جماعت کا حصہ نہیں سمجھے جاتے۔
اس بنا پر اُن کی طرف سے مسلمانوں کی جماعت کی امامت کا سوال ہی خارج از امکان ہے۔ جماعت کی نماز مسلمانوں کی اجتماعی عبادت ہے، اور امام اِس عبادت میں اُن کا نمائندہ ہوتا ہے۔ جو شخص خود مسلمانوں کو اپنی دینی جماعت کا حصہ نہ سمجھتا ہو، وہ اُنھی مسلمانوں کی نمائندہ عبادت کا امام کیسے ہو سکتا ہے؟
4۔ غیر مسلم یا ملحد شخص کی امامت:
اسی طرح اگر کوئی شخص حقیقت میں الحاد کا دعوے دار ہو، یا اعلانیہ غیر مسلم ہو، اور پھر مسلمانوں کی نماز کی امامت کا خواہش مند ہو، تو اُس سے یہی کہا جائے گا کہ نماز محض چند حرکات کا نام نہیں، بلکہ ایک مشروع دینی عبادت ہے۔
اگر وہ صدقِ دل سے اسلام قبول کر کے کلمۂ شہادت کا اقرار کرتا ہے اور مسلمانوں کی جماعت کا حصہ بنتا ہے تو اصولاً امامت کا اہل ہو سکتا ہے۔ لیکن اسلام کا اقرار کیے بغیر مسلمانوں کی اجتماعی عبادت کی امامت کا مطالبہ نہ دینی طور پر قابلِ فہم ہے، نہ عقلی طور پر۔ہم صرف اس ضابطے پر انتخاب کریں جو رسالت ماب نے طے فرمادیا ہے۔
5۔ خیر اور نیکی کے کاموں میں شرکت کا اصول:
اِس کے ساتھ یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ دین نے ہمیں عمومی خیر، اخلاقی تعاون، سماجی بھلائی اور نیکی کے کاموں میں دوسروں کے ساتھ شرکت یا تعاون سے نہیں روکا۔ جہاں شرک، کفر یا کوئی صریح دینی قباحت شامل نہ ہو، وہاں خیر کے کاموں میں شرکت کی گنجائش ہے۔
اسی طرح اگر کوئی غیر مسلم یا کسی دوسری دینی شناخت رکھنے والا شخص مسلمانوں کے کسی دینی، سماجی یا اخلاقی عمل میں شریک ہونا چاہے تو اُسے اُس عمل کی حدود، آداب اور شرائط کے ساتھ شریک ہونے دیا جا سکتا ہے۔ البتہ یہ شرکت اور چیز ہے، اور مسلمانوں کی اجتماعی عبادت کی امامت اور نمائندہ قیادت بالکل دوسری چیز ہے۔ دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔
چنانچہ خلاصہ یہ ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک ختمِ نبوت دین کا قطعی عقیدہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی معنی میں نبوت کے اجرا کا تصور گمراہی ہے، اور اِس معاملے میں اُن کے موقف میں کوئی ابہام نہیں۔
امام کے انتخاب کے وقت بنیادی بات یہ ہے کہ امام مسلمان ہو اور مسلمانوں کی مشروع عبادت کی قیادت کا اہل ہو۔ البتہ جب ہم کسی جگہ قائم نماز میں شریک ہو رہے ہوں تو اصولاً اُس شخص کے پیچھے نماز پڑھی جا سکتی ہے جو بظاہر اسلامی طریقے کے مطابق نماز پڑھا رہا ہو، اور نماز میں کسی شرک، کفر یا ایسی بدعت کا ارتکاب نہ کر رہا ہو جو نماز کو باطل کر دے۔ نماز میں شرکت سے پہلے امام کے کلامی موقف، فقہی مسلک یا اعتقادی تعبیرات کی تفتیش کا ہمیں مکلف نہیں بنایا گیا۔
البتہ جو شخص خود کو مسلمان نہ کہتا ہو، یا اپنے عقیدے کی بنیاد پر مسلمانوں کو مسلمان نہ سمجھتا ہو اور مسلمانوں کی جماعت سے الگ ایک مستقل دینی شناخت رکھتا ہو، اُس کی امامت کا سوال عقلاً پیدا ہی نہیں ہوتا۔ جماعت کی نماز مسلمانوں کی اجتماعی عبادت ہے، اور امام اُس عبادت کا نمائندہ قائد ہوتا ہے۔ جو شخص خود اِس جماعت کا فرد نہیں، وہ اِس جماعت کی عبادت کا نمائندہ امام بھی نہیں ہو سکتا۔
اسی طرح خیر، نیکی، اخلاقی تعاون اور سماجی بھلائی کے کاموں میں، حدود و شرائط کے ساتھ، دوسروں کے ساتھ شرکت کا اصول اپنی جگہ باقی ہے۔ اسے امامتِ نماز کے مسئلے کے ساتھ خلط نہیں کرنا چاہیے۔
محمد حسن الیاس
8 جون 2026