“”انبیاے اولیا””
(تصوف اور ختمِ نبوت)
محمد حسن الیاس
فکرِ فراہی کے نزدیک ختمِ نبوت کا واضح اور قطعی مفہوم یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد منصبِ نبوت اپنی ہر صورت، ہر نسبت اور ہر امکان کے ساتھ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے۔ آپ کے بعد اب کوئی نبی نہیں آئے گا؛ نہ شریعت کے ساتھ، نہ بغیر شریعت کے؛ نہ مستقل، نہ تابع؛ نہ ظاہری، نہ باطنی؛ نہ ظلی، نہ بروزی، نہ حکمی؛ نہ نبیِ وقتی، نہ نبیِ ولی۔
قرآن مجید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین قرار دیا، اور آپ نے فرمایا: لا نبي بعدي، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ایک دوسری روایت میں آپ نے یہ بھی واضح فرما دیا کہ نبوت میں سے اب کوئی چیز باقی نہیں رہی، سوائے مبشرات، یعنی اچھے خواب کے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ آپ کے بعد وحی، الہامِ معصوم، مشاہدۂ غیب، دینی حجیت اور منصبِ نبوت سے وابستہ ہر اختصاص ختم ہو چکا ہے۔
تصوف کی روایت اس کے برخلاف ختمِ نبوت کے اس مفہوم کو تسلیم نہیں کرتی۔ اس کے نزدیک خاتمہ صرف نبوتِ تشریعی کا ہوا ہے؛ یعنی اب کوئی شخص نئی شریعت لے کر نہیں آ سکتا۔ لیکن منصبِ نبوت کے کمالات، علوم، باطنی حجیت اور روحانی اختیارات اب بھی خاص اکابر کو حاصل ہو سکتے ہیں۔ بلکہ بعض مقامات پر ان کے علم کو شریعت لانے والے انبیا کے علم سے بھی ایک خاص جہت میں زائد اور ممتاز قرار دیا جاتا ہے۔
یہی حقیقت کبھی نبوتِ عامہ کہلاتی ہے، کبھی وحیِ باطن، کبھی امینِ الہام، کبھی کشف و مشاہدۂ غیب، کبھی عصمت و حفاظت، کبھی تصرف، اور کبھی انبیاے اولیا۔ گویا لفظ بدل جاتا ہے، مگر نبوت سے وابستہ اوصاف، علوم، حجیت اور اختیارات اپنی حقیقت میں باقی رہتے ہیں۔
اس تعبیر میں ایک شخص کے لیے غیب سے علم پانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے؛ پھر اس علم کو باطل کی آمیزش سے پاک، حق کا معیار، اور کائنات میں تصرف کا ذریعہ مانا جاتا ہے۔ یہ عام بندگی کا مقام نہیں رہتا؛ یہ منصبِ نبوت سے متعلق خصوصیات کو دوسرے ناموں سے باقی رکھنے کی تعبیر بن جاتا ہے۔
تصوف کے علما اپنی اس بات کو کیسے بیان کرتے ہیں اور اس کے لیے کیا تعبیرات اختیار کرتے ہیں، اس کا ایک نہایت نمائندہ اقتباس ابنِ عربی کی الفتوحات المکیہ سے پیش کیا جا رہا ہے۔ ذیل کا ترجمہ اصل عربی عبارت کا براہِ راست ترجمہ ہے؛ اس میں کوئی توضیحی لفظ، کوئی اضافی اصطلاح یا کوئی محذوف معنی اپنی طرف سے شامل نہیں کیا گیا۔ نبوتِ عامہ، اکابرِ رجال، اور انبیاے اولیا جیسی تعبیرات اسی عبارت کا ترجمہ ہیں، بعد کی تشریح نہیں۔
ابنِ عربی لکھتے ہیں:
’’رہی نبوت عامہ تو اِس کے اجزا لامحدود بھی ہیں اور بے شمار بھی، اِس لیے کہ یہ غیر موقت ہوتی ہے اور دنیا و آخرت میں ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ یہ وہ مسئلہ ہے جسے ہمارے اہلِ طریق نے نظر انداز کیا ہے۔ تاہم مجھے نہیں معلوم کہ اُنھوں نے یہ قصداً کیا ہے یا اللہ نے اُن کو اِسے بیان کرنے کی توفیق ہی نہیں دی یا یہ صورت ہوئی کہ اُنھوں نے اِس کا ذکر تو کیا تھا، مگر اُن کا یہ تذکرہ ہم تک پہنچ نہیں پایا۔ بہرحال اصل بات اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
مجھ سے ابوالبدر التماشکی البغدادی نے شیخ شبیر کی روایت بیان کی، جو باب الازخ میں ہمارے بزرگوں میں سے ہیں، اُنھوں نے امام العصر شیخ عبدالقادر جیلانی سے روایت کیا۔ وہ فرماتے تھے: ’’اے گروہِ انبیا، تمھیں نبی کا لقب دیا گیا اور ہمیں وہ کچھ دیا گیا جو تمھیں نہیں دیا گیا۔‘‘
اب جہاں تک شیخ کی اِس بات کا تعلق ہے کہ ’’تمھیں نبی کا لقب دیا گیا‘‘ تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے لیے لفظ ’نبی‘ کا اطلاق ممنوع ٹھیرایا گیا ہے، اور یہ اِس کے باوجود ممنوع ہے کہ ہمارے اکابرِ رجال میں نبوت عامہ جاری ہے۔
باقی رہا شیخ کی بات کا یہ حصہ کہ ’’ہمیں وہ کچھ دیا گیا جو تمھیں نہیں دیا گیا‘‘ تو یہ ٹھیک وہی مدعا ہے جو خضر علیہ السلام کی اُس بات کا تھا جو اُنھوں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہی تھی کہ ’’اے موسیٰ، میرے پاس وہ علم ہے جو اللہ نے مجھے سکھایا ہے، تم اُس کو نہیں جانتے۔‘‘
اور یہ خضر وہ ہستی ہیں کہ جن کی عدالت اور جن کے تقدمِ علمی کی گواہی اللہ تعالیٰ نے خود دی اور اپنے کلیم، برگزیدہ و مقرب موسیٰ علیہ السلام کو اِس مشقت میں ڈالا کہ وہ اُنھیں تلاش کریں، جب کہ معلوم ہے کہ تمام علما یہی راے رکھتے ہیں کہ موسیٰ خضر سے افضل ہیں۔
ایک دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ اگر شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ نے ’’اے گروہِ انبیا‘‘ میں لفظ ’انبیا‘ سے نبوت عامہ کے حاملین، انبیاے اولیا، مراد لیے ہیں تو پھر وہ اپنے اِس قول میں اِس بات کی تصریح کر رہے ہیں کہ اللہ نے اُن کو، یعنی شیخ عبدالقادر جیلانی کو، جو علم عطا فرمایا ہے، وہ نبوت عامہ کے دوسرے حاملین کو نہیں دیا گیا۔ اِس لیے کہ اللہ نے اِن میں سے کسی کو افضل اور کسی کو مفضول تو بنایا ہی ہے۔ سو اِس طرح کی بات پر تو کسی کو بھی تعجب نہیں ہو گا۔‘‘
یہ اقتباس تین باتوں کو بالکل واضح کر دیتا ہے۔
پہلی بات یہ کہ ابنِ عربی کے نزدیک نبوتِ
ختم نہیں ہوئی۔ وہ اسے جاری، غیر موقت، دنیا و آخرت میں باقی، لامحدود اور بے شمار اجزا والی حقیقت قرار دیتے ہیں۔ یہ کشف یا کرامت کی عام بحث نہیں، بلکہ نبوت ہی کی ایک مستقل قسم کے جاری رہنے کا اثبات ہے۔
دوسری بات یہ کہ ابنِ عربی کے نزدیک یہ نبوتِ عامہ اکابرِ رجال میں جاری ہے۔ وہ تصریح کرتے ہیں کہ لفظِ “نبی” کا اطلاق ممنوع ہے، مگر یہ ممانعت اس کے باوجود ہے کہ اکابرِ رجال میں نبوتِ عامہ جاری ہے۔ یعنی حقیقت باقی ہے، احتیاط صرف لفظ کے استعمال میں ہے، تاکہ تشریعی نبوت کا اشتباہ پیدا نہ ہو۔ دوسرے لفظوں میں، نبی کا لقب مصلحتاً روک دیا جاتا ہے، مگر نبوت کی نسبت، اس کا مقام، اس کا علم اور اس کے امتیازات باقی رکھے جاتے ہیں۔
تیسری بات یہ کہ ابنِ عربی شیخ عبدالقادر جیلانی کے قول “ہمیں وہ کچھ دیا گیا جو تمھیں نہیں دیا گیا” کو خضر اور موسیٰ علیہما السلام کے واقعے سے سمجھاتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام صاحبِ شریعت نبی، کلیم اللہ اور مرتبے میں افضل تھے، مگر خضر علیہ السلام کو ایک ایسا علم دیا گیا جو موسیٰ علیہ السلام کے پاس نہیں تھا۔ ابنِ عربی اسی مثال کو نبوتِ عامہ کے حامل اولیا پر منطبق کرتے ہیں۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ ان اولیا کے علم کو شریعت والے نبی کے علم سے بھی ایک خاص جہت میں زائد، ممتاز اور آگے قرار دیا جا رہا ہے۔
پھر سب سے فیصلہ کن تعبیر سامنے آتی ہے: انبیاے اولیا۔
ابنِ عربی یہ امکان بیان کرتے ہیں کہ شیخ عبدالقادر جیلانی کے قول “اے گروہِ انبیا” میں انبیا سے مراد نبوتِ عامہ کے حاملین، یعنی انبیاے اولیا، ہوں۔ یہ تعبیر پوری بحث کو نہایت واضح کر دیتی ہے۔ اب معاملہ صرف الہام، کشف یا روحانی تجربے کا نہیں رہتا؛ معاملہ یہ ہے کہ اولیا کے ایک طبقے کے لیے نبوتِ عامہ کا مقام مانا جا رہا ہے، ان پر لفظِ نبی صرف اشتباہ سے بچنے کے لیے نہیں بولا جا رہا، ان کے لیے “انبیاے اولیا” کی اصطلاح استعمال ہو رہی ہے، اور ان کے علم کو خضر علیہ السلام کے علم کی مثال سے شریعت والے نبی کے علم سے بھی ایک خاص جہت میں زائد بتایا جا رہا ہے۔
گویا ابنِ عربی کے نزدیک صوفیہ کے اپنے داخلی بیان میں نبوتِ عامہ کے حاملین کے لیے “انبیا” کی تعبیر ناقابلِ تصور نہیں رہتی۔ شیخ عبدالقادر جیلانی کے قول “اے گروہِ انبیا” کی یہی توجیہ وہ پیش کرتے ہیں کہ یہاں انبیا سے مراد شریعت والے انبیا نہیں، بلکہ نبوتِ عامہ کے حامل انبیاے اولیا ہو سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لفظِ نبی عام اطلاق میں مصلحتاً روکا جاتا ہے، مگر صوفیانہ تصور کے اندر نبوت کی نسبت اس درجے تک باقی رہتی ہے کہ اس کے حاملین کے لیے “انبیاے اولیا” کی تعبیر بھی قابلِ استعمال ہو جاتی ہے۔
لہٰذا خلاصہ یہ ہے کہ تصوف کی اس تعبیر میں ختمِ نبوت کا مطلب یہ نہیں رہتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی آنے بند ہو گئے۔ اس کا مطلب صرف یہ رہ جاتا ہے کہ اب کوئی نبی نئی شریعت نہیں لائے گا۔ وہ شریعتِ محمدی کا تابع ہو گا، نبوتِ تشریعی کا حامل نہیں ہو گا، لیکن نبوتِ عامہ کا حامل ہو گا۔ اسی حیثیت سے اسے انبیاے اولیا کہا جا سکتا ہے۔
دین کا اعلان اس کے برخلاف ہے: محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں۔ آپ کے بعد نہ شریعت والا نبی، نہ بے شریعت نبی؛ نہ مستقل، نہ تابع؛ نہ ظاہری، نہ باطنی؛ نہ ظلی، نہ بروزی، نہ حکمی؛ نہ نبیِ رسول، نہ نبیِ ولی۔ آپ کے بعد نبوت کا دروازہ ہر صورت میں بند ہے۔
جب یہ دروازہ کھلے گا اس سے انبیاے اولیاء پیدا ہوجائیں گے؟
حوالہ جات:
محی الدین ابنِ عربی، الفتوحات المکیہ، جلد سوم، صفحہ 136۔
قرآن مجید: الاحزاب 33:40۔
صحیح بخاری: رقم 3455، 3535، 6990۔