Skip to content Skip to footer

قومی رہنماؤں کا غصہ: اصل سوال کیا ہے؟

اب تک کے تجربے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اہم قومی، آئینی یا عسکری موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے لکھی ہوئی تقریر زیادہ موزوں ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مقرر اپنے فطری اسلوب یا جذباتی تاثیر سے محروم ہو جائے۔ تحریر شدہ تقریر میں بھی موقع کی مناسبت سے برجستہ جملوں کی گنجایش باقی رہتی ہے۔ مارٹن لوتھر کنگ کی معروف تقریر بنیادی طور پر لکھی ہوئی تھی، مگر “I Have a Dream” جیسے یادگار الفاظ اسی لمحے کی فطری روانی میں اس کا حصہ بن گئے۔ اصل مقصود یہ ہے کہ اہم بات واضح ترتیب، ذمہ دارانہ زبان اور متعین مفہوم کے ساتھ سامنے آئے، اور توجہ شخصیت یا لہجے کے بجائے استدلال پر مرکوز رہے۔

ہمارے قومی رہنما بالعموم عوامی اجتماعات میں اس ضرورت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ معمول کے جلسوں اور سیاسی تقاریر میں برجستہ گفتگو کسی حد تک قابلِ فہم ہے، لیکن جب معاملہ کسی بڑی قومی پالیسی، اہم ریاستی فیصلے یا وسیع تر قومی اختلاف کا ہو تو گفتگو کو ایک خاص علمی، اخلاقی اور ذمہ دارانہ سطح پر ہونا چاہیے۔ برجستہ خطابی الفاظ اور بے ساختہ اظہار اکثر اصل مسئلے کو پس منظر میں دھکیل دیتے ہیں اور پوری بحث ایک آدھ جملے، لہجے یا تعبیر کے گرد سمٹ جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگ واقعات، دلائل اور فیصلوں کا جائزہ لینے کے بجائے الفاظ کی نزاکتوں میں الجھ جاتے ہیں۔

اسی طرح جب کوئی بڑا قومی یا سیاسی رہنما، جو بالعموم محتاط سیاسی زبان اور شائستہ لب و لہجے میں گفتگو کرتا ہو، غیر معمولی اشتعال کا اظہار کرے تو یہ سوال بھی اہم ہو جاتا ہے کہ حالات، واقعات یا رویوں کی وہ کون سی صورت تھی جس نے ایک نسبتاً متوازن شخص کو اس درجے کے ردعمل پر آمادہ کر دیا۔
کسی بڑے آدمی یا سیاسی رہنما کا غصہ ریاست کے زعما کے لیے محض ایک نامناسب ردعمل نہیں، بلکہ ایک پریشان کن علامت بھی ہونا چاہیے۔ انھیں کبھی اتنا غصہ نہیں دلانا چاہیے۔

سنجیدہ قومی مکالمہ یہی تقاضا کرتا ہے کہ ہم ردعمل کے ساتھ ساتھ اس کے پس منظر، محرکات اور اصل شکایت کو بھی دیانت داری سے سمجھنے کی کوشش کریں۔ ایک قومی رہنما کا غصہ آنے والی نسلوں میں ردعمل پیدا کر سکتا ہے، اور اگر وہ مذہبی رہنما بھی ہو تو اس کے اثرات بسا اوقات صدیوں تک پھیل جاتے ہیں۔

محمد حسن الیاس 

Leave a comment

Are you human? Please solve:Captcha