Skip to content Skip to footer

“فانصرنا علی القوم الکافرین”

“فانصرنا علی القوم الکافرین”
(جمعے سے متعلق دو غلط فہمیاں)
اسلام میں نمازِ جمعہ کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ قرآن مجید نے اہلِ ایمان کو حکم دیا ہے کہ جب جمعے کے دن نماز کے لیے پکارا جائے تو وہ خرید و فروخت اور دوسری مصروفیات چھوڑ کر اللہ کے ذکر کی طرف متوجہ ہوجائیں، اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد ہی دوبارہ اپنے کاروبار اور معاشی سرگرمیوں میں مشغول ہوں۔

اِس حکم سے واضح ہے کہ جمعہ محض ظہر کی نماز کا بدل نہیں، بلکہ مسلمانوں کی ایک ممتاز اجتماعی عبادت ہے۔ یہ فرد کی تنہا عبادت نہیں، بلکہ امت کے ایک منظم مجموعے کی حیثیت سے اللہ کے حضور حاضری ہے، اور اِسی اجتماعی شان میں اِس کا اصل امتیاز پوشیدہ ہے۔

اِس عبادت کا طریقہ امتِ مسلمہ کے اجماع اور عملی تواتر سے ہم تک پہنچا ہے، اور اِس کی بنیاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم کردہ سنت پر ہے۔

اِس سنت کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ جمعے کی خطابت اور امامت مسلمانوں کے اجتماعی نظم کے ذمہ داروں کا منصب ہے۔ وہ خود خطاب کریں یا اپنی طرف سے کسی نمایندے کو یہ خدمت سونپیں، جمعہ بہرحال اُنھی مقامات پر قائم کیا جائے جو اجتماعی نظم کی طرف سے متعین ہوں۔

چنانچہ جمعہ چند افراد کے محض جمع ہوکر نماز پڑھ لینے کا نام نہیں؛ خطاب، امامت، متعین مقام اور اجتماعی نظم سے وابستگی بھی اِس کی بنیادی شرائط ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی اسلامی ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے خود جمعے کی امامت فرماتے، خطبہ دیتے اور اہلِ ایمان کو اُن کی دینی و اجتماعی ذمہ داریاں یاد دلاتے تھے۔

آپ اللہ کے پیغمبر بھی تھے اور مسلمانوں کے حکمران بھی، اور جمعے کا منبر آپ کی اِنھی دونوں حیثیتوں کا مظہر تھا۔

آپ کے بعد خلفاے راشدین نے بھی یہی طریقہ جاری رکھا۔ یوں جمعے کا اجتماع عبادت کے ساتھ حکمران اور قوم کے درمیان ہفتہ وار رابطے کی ایک مستقل صورت اختیار کرگیا، جس میں اہلِ ایمان اپنی اجتماعی حیثیت کا شعور تازہ کرتے اور دین کی روشنی میں اپنے قومی اور اخلاقی فرائض کی یاد دہانی حاصل کرتے تھے۔

اِسی اصولی صورت کو سامنے رکھ کر آج کی دو عام غلط فہمیوں کو سمجھا جاسکتا ہے۔

پہلی: ہر مسجد اور ہر عالم کو اپنے طور پر جمعہ قائم کرنے کا حق حاصل ہے۔

دوسری: خطبے میں قرآن کی بعض دعاؤں کو اُن کے تاریخی سیاق سے کاٹ کر تمام غیر مسلموں کے خلاف مستقل بددعا کے طور پر پڑھا جاسکتا ہے۔

یہ دونوں تصورات جمعے کی اصل اجتماعی حیثیت کو مجروح کرتے ہیں۔

پہلی غلط فہمی جمعے کے انعقاد کے حق سے متعلق ہے۔

عموماً یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ مسجد کی تعمیر یا کسی عالم کو خطابت کی ذمہ داری سونپ دینے سے جمعے کی امامت کا اختیار بھی ازخود حاصل ہوجاتا ہے۔

چنانچہ ایک ہی شہر میں بے شمار جمعے قائم ہوجاتے ہیں اور ہر منبر کسی خاص خطیب، جماعت یا مسلک کی مستقل آواز بن جاتا ہے، جبکہ اجتماعی نظم کی طرف سے تقرر، اجازت اور جواب دہی کا سوال عملاً پس پشت چلا جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ سنت سے سامنے آنے والی اصولی صورت اِس تصور کی تائید نہیں کرتی۔

جمعے کا منبر دراصل مسلمانوں کے اجتماعی نظم کا منبر ہے۔ ذمہ دارانِ حکومت کو اِس کے ذریعے سے قوم کے سامنے آنا چاہیے، حالات کی وضاحت کرنی چاہیے اور لوگوں کو اُن کی دینی و اجتماعی ذمہ داریاں یاد دلانی چاہییں۔

یہ منبر حکمران کو عوام کے درمیان موجود رکھنے اور مسلمانوں کو ایک مشترک نظم کے تحت جمع رکھنے کا مؤثر ذریعہ تھا، جو بہ تدریج تبدیل ہوگیا۔

مسلمانوں کی فقہی روایت میں بھی جمعے کی امامت اور خطابت کو اجتماعی نظم سے وابستہ سمجھا گیا ہے۔

امام شافعی اپنی کتاب “الام” میں اِس حد تک صراحت کرتے ہیں کہ شہر خواہ کتنا ہی وسیع ہوجائے اور اُس میں کتنی ہی مسجدیں تعمیر ہوجائیں، اصل جمعہ شہر کی جامع مسجد ہی میں قائم ہونا چاہیے۔

دوسری مسجدوں میں لوگ نمازِ ظہر پڑھ سکتے ہیں، مگر ہر مسجد میں الگ جمعہ قائم کرنا اُن کے نزدیک مطلوب نہیں، کیونکہ جمعہ کسی محلے کی مقامی عبادت نہیں، بلکہ پورے شہر کا منظم اجتماع ہے۔

اُن کی بحث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جمعے کی امامت حکمران یا اُس کے مقرر کردہ امام کا منصب سمجھی جاتی تھی، اور کسی شخص کے اپنی طرف سے کہیں اور جمعہ قائم کرلینے سے اُس جمعے کی صحت محلِ نظر قرار پاتی تھی۔

اِن فقہی جزئیات کو اگرچہ آج کے حالات پر بعینہٖ منطبق کرنا ضروری نہیں، کیونکہ موجودہ شہر آبادی اور پھیلاؤ کے اعتبار سے قدیم شہروں سے بہت مختلف ہیں، اور تمام مسلمانوں کا ایک ہی مقام پر جمع ہونا اب ممکن نہیں رہا۔

اِس لیے متعدد جمعے قائم کرنا عصرِ حاضر کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔

تاہم اِس ضرورت سے یہ اصول ختم نہیں ہوتا کہ جمعہ ایک منظم اجتماعی عبادت ہے، جس کا قیام اجتماعی نظم سے وابستہ ہونا چاہیے۔

اِس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ علما کو تعلیم و اصلاح کا حق حاصل نہیں۔

وہ دروس دے سکتے ہیں، علمی نشستیں منعقد کرسکتے ہیں اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے سے اپنا نقطۂ نظر پیش کرسکتے ہیں۔

لیکن جمعے کا منبر اپنی اجتماعی حیثیت کے باعث دوسرے پلیٹ فارموں سے مختلف ہے۔

اُسے ہر خطیب کی آزاد آواز بنادینے سے اُس کی اصل نوعیت تبدیل ہوجاتی ہے۔

نتیجہ یہ ہے کہ ایک ہی شہر کے بے شمار منبر الگ الگ مسلکی اور سیاسی تعبیرات کے ترجمان بن جاتے ہیں، مختلف گروہوں کو ہدفِ تنقید بناتے ہیں اور اختلافی مسائل کو ایمان و کفر کا معیار قرار دیتے ہیں۔

یوں وہ منبر جو قوم کو متحد کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا، گروہی تقسیم کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

Leave a comment

Are you human? Please solve:Captcha