Skip to content Skip to footer

رسول اللہ ﷺ کا اخلاق: دل نہ دکھانے کی تعلیم

“لم یات نظیرک فی نظرم”

سیرت کی ایک روایت میں آتا ہے کہ جب عکرمہ بن ابی جہل ایمان لا کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے والے تھے تو آپ ﷺ نے صحابہ کو جمع کیا اور ان فرمایا:

«يأتيكم عكرمة بن أبي جهل مؤمنًا مهاجرًا، فلا تسبوا أباه، فإن سب الميت يؤذي الحي، ولا يبلغ الميت»
’’تمہارے پاس عکرمہ بن ابی جہل مومن اور مہاجر بن کر آ رہے ہیں۔ ان کے باپ کو برا نہ کہنا، کیونکہ مردے کو برا کہنا زندہ کو اذیت دیتا ہے اور مردے تک نہیں پہنچتا۔‘‘

پھر جب عکرمہؓ پہنچے تو روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ ان کی آمد پر خوش ہوئے اور ان کے استقبال کے لیے کھڑے ہوگئے۔

قربانت شوم۔۔۔

ابو جہل کی دشمنی کسی سے پوشیدہ نہ تھی۔ اس نے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو اذیت پہنچانے اور اسلام کی مخالفت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ اس کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے یہ گوارا نہیں کیا کہ اس کے جرائم کا ذکر اس کے بیٹے کے لیے اذیت کا باعث بنے۔

یہ واقعہ ہمیں اخلاق کا ایک نہایت اہم اصول سکھاتا ہے۔ہر سچی بات ہر جگہ اور ہر موقع پر کہنا ضروری نہیں ہوتا۔ اگر کسی بات کا حاصل صرف یہ ہو کہ سامنے والے کا دل دکھے، اس کی عزت مجروح ہو اور ایک ایسی تکلیف پیدا ہو جس سے کوئی خیر وابستہ نہ ہو، تو اسے چھوڑ دینا بھی حسنِ اخلاق ہے۔

ہم اپنی ناراضی اور اختلاف میں اکثر یہ حد بھول جاتے ہیں۔ کسی شخص کے والدین، خاندان، ماضی یا تعلقات کو نشانہ بنانا شاید وقتی طور پر ہمارے غصے کو تسکین دے دے، مگر یہ انصاف بھی نہیں اور اخلاق بھی نہیں۔ ہر انسان اپنے عمل کا ذمہ دار ہے؛ اسے دوسروں کے اعمال کا طعنہ دینا زیادتی ہے۔

اور جو شخص ماضی سے نکل کر خیر کی طرف قدم بڑھائے، اسے بار بار اس کی پرانی نسبتوں سے زخمی کرنا نہیں، بلکہ اس کے لیے واپسی کا راستہ کشادہ کرنا ہی رسول اللہ ﷺ کا اسوہ ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صرف حق پر قائم رہنا نہیں سکھایا

آپ نے یہ بھی سکھایا کہ حق کہتے ہوئے انسان کی حرمت، اس کی عزت اور اس کے دل کی حفاظت کیسے کی جاتی ہے۔

Leave a comment

Are you human? Please solve:Captcha