Skip to content Skip to footer

گلبدین حکمت یار صاحب سے ملاقات

افغانستان کی گزشتہ پانچ دہائیوں کی سیاست اور تاریخ میں گلبدین حکمتیار نمایاں ترین سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ دو مرتبہ وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز رہے، سوویت دور کی افغان مزاحمت کے اہم قائدین میں شامل تھے، اور بعد کے عشروں میں بھی افغانستان کی سیاسی و عسکری تاریخ میں ایک اہم کردار ادا کرتے رہے۔

ان دنوں وہ ملائیشیا کے وزیرِ اعظم کی دعوت پر علاج کے سلسلے میں افغانستان سے ملائیشیا کے سفر پر آئے ہوئے ہیں۔ میری خواہش تھی کہ اس موقع پر ان سے ملاقات ہو تو غامدی صاحب کے مکتبِ فکر کا تعارف ان کے سامنے پیش کیا جائے، اور بالخصوص جہاد و قتال، ریاست، اقتدار اور اجتماعی دینی احکام کے باب میں ہماری تعبیر اور اس ضمن میں ہونے والی فکری پیش رفت سے انھیں آگاہ کیا جائے۔

اسی مقصد سے ہم حاضر ہوئے۔ تقریباً تین گھنٹے تک ایک طویل، نہایت بے تکلف اور علمی نشست جاری رہی۔ پختون روایت کی مخصوص مہمان نوازی اور گرم جوشی کے ماحول میں دین، سیاست، افغانستان کی تاریخ، جہاد و قتال، اور مسلم دنیا کے بعض اہم فکری و سیاسی تجربات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

میرے لیے خوش گوار حیرت کی بات یہ تھی کہ حکمتیار صاحب فراہی مکتبِ فکر سے پہلے ہی واقف تھے۔ مولانا حمید الدین فراہی کے علمی کام سے وہ آشنا تھے، فراہی صاحب کی متعدد تفسیری آرا کا ذکر کیا، اور بتایا کہ مولانا امین احسن اصلاحی کی تدبرِ قرآن پوری، سبقاً سبقاً، پڑھ چکے ہیں۔ جاوید احمد غامدی صاحب کی علمی شخصیت سے بھی ان کا تعارف تھا۔ اس لیے گفتگو محض رسمی تعارف تک محدود نہیں رہی، بلکہ بعض بنیادی اور اصولی مباحث پر بھی طالب علمانہ انداز میں تبادلۂ خیال ہوا۔

حکمتیار صاحب کی شخصیت کا ایک علمی پہلو بھی ہے جو ان کی سیاسی شناخت کے باعث عموماً پس منظر میں رہا ہے۔ انھوں نے آٹھ مجلدات میں قرآن مجید کی تفسیر لکھی ہے، صحیح بخاری کی شرح پر کام کیا ہے، اور متعدد دوسرے دینی و علمی موضوعات پر بھی تصنیفات کی ہیں۔ گفتگو کے دوران ان کا یہ علمی ذوق کئی مقامات پر نمایاں ہوا۔

اس نوعیت کی مجالس بہرحال امانت ہوتی ہیں، اس لیے نجی گفتگو کی تفصیلات بیان کرنا مناسب نہیں۔ تاہم ایسے شخص سے ملاقات، جو گزشتہ نصف صدی کی عالمی سیاست کے کئی اہم ادوار کا براہِ راست حصہ رہا ہو، اقتدار کے ایوانوں سے لے کر جنگ کے میدانوں تک سرگرم رہا ہو، اور بڑی عالمی و علاقائی قوتوں کے ساتھ معاملات، مذاکرات اور کشمکش کے مختلف مراحل سے گزرا ہو، محض ایک شخصی ملاقات نہیں رہتی۔ اس سے تاریخ اور سیاست کے بہت سے واقعات کو اُن لوگوں کی نگاہ سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے جو خود ان واقعات کے اندر موجود رہے ہوں۔ اس نشست نے بھی بعض بڑے فکری، سیاسی اور تاریخی سوالات کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع دیا۔ ان میں سے چند تاثرات عرض کرتا ہوں۔

پہلا تاثر عالمی سیاست کی پیچیدگی سے متعلق ہے۔

ہم اکثر تاریخ کو اس کے آخری نتائج سے پڑھتے ہیں۔ کسی واقعے کو فتح، شکست، مزاحمت یا اقتدار کی تبدیلی جیسے چند سادہ عنوانات میں سمیٹ دیتے ہیں، حالاں کہ ریاستوں اور عالمی طاقتوں کی سیاست ان عنوانات سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے۔ پسِ پردہ مذاکرات، وقتی اتحاد، مفادات، مصلحتیں اور طاقت کے بدلتے ہوئے توازن کی ایک پوری دنیا ہوتی ہے جو عمومی بیانیے میں دکھائی نہیں دیتی۔

افغانستان اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ سوویت یونین کے خلاف جنگ، اس کے بعد کی خانہ جنگی، امریکہ کی طویل موجودگی اور پھر طالبان کا دوبارہ اقتدار میں آنا، ان میں سے کسی مرحلے کو محض ’’فتح‘‘ اور ’’شکست‘‘ کے دو خانوں میں رکھ کر نہیں سمجھا جا سکتا۔

بسا اوقات ایک گروہ بظاہر کسی عالمی طاقت کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے کامیاب دکھائی دیتا ہے اور اس کامیابی کو سامراج دشمنی کی فتح قرار دے دیا جاتا ہے، لیکن بڑے منظرنامے میں دوسری عالمی اور علاقائی طاقتیں اسی تبدیلی کو اپنے تزویراتی مفادات کے لیے برت رہی ہوتی ہیں۔ آج جس قوت کو ایک طاقت کے مقابل کھڑا کیا جا رہا ہو، کل وہی کسی دوسری طاقت کو محدود کرنے یا ایک نئے علاقائی توازن کا حصہ بن سکتی ہے۔

اسی طرح جو حلقے عوامی سطح پر مکمل سامراج دشمنی کا بیانیہ اختیار کیے ہوتے ہیں، ان کے عملی تعلقات، مذاکرات اور مفاہمتوں کی نوعیت بعض اوقات اس ظاہری بیانیے سے بہت مختلف ہوتی ہے۔ عالمی سیاست میں نعرے نسبتاً مستقل رہ سکتے ہیں، لیکن مفادات، اتحاد اور دشمنیاں بدلتی رہتی ہیں۔

اس نشست کے بعد یہ احساس مزید گہرا ہوا کہ عالمی سیاست کو صرف اعلانات، نعروں اور ظاہری فتوحات سے نہیں، بلکہ مفادات، طاقت کے توازن اور بدلتی ہوئی صف بندیوں کے تناظر میں پڑھنا چاہیے۔

دوسرا تاثر مولانا مودودی کی فکر اور جدید مسلم سیاسی تجربے سے متعلق ہے۔

بیسویں صدی کی مسلم سیاسی تحریکوں کو سمجھنے کے لیے مولانا مودودی کی فکر کو محض ایک مذہبی تعبیر کے طور پر دیکھنا کافی نہیں۔ اس فکر نے دراصل مسلم دنیا کے ایک گہرے سیاسی اضطراب کو زبان دی۔ خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے، نوآبادیاتی غلبے اور مسلم سیاسی اقتدار کے زوال کے بعد یہ سوال شدت کے ساتھ سامنے آیا کہ مسلمان جدید قومی ریاست، مغربی سیاسی غلبے اور اپنی اجتماعی دینی شناخت کے تعلق کو کیسے سمجھیں۔ مولانا مودودی نے ریاست، اقتدار اور ’’اسلامی نظام‘‘ کو دینی فکر کے مرکزی مباحث میں لا کر اس سوال کا ایک منظم جواب پیش کیا۔ یوں دینی استدلال کے قالب میں سامنے آنے والی ایک تعبیر رفتہ رفتہ ایک جامع سیاسی بیانیے میں ڈھل گئی۔

اس بیانیے کی تاثیر صرف اس کے علمی استدلال کا نتیجہ نہیں تھی۔ تاریخی حالات نے بھی اسے زمین فراہم کی۔ جہاں اقتدار، قومی شناخت، سیاسی خودمختاری یا ریاست کی نظریاتی اساس پہلے ہی ایک زندہ مسئلہ تھی، وہاں مذہب کی سیاسی تعبیر زیادہ آسانی سے ایک باقاعدہ تحریک بن گئی۔

اسی لیے مختلف مسلم معاشروں میں اس کا ظہور بھی مختلف رہا۔ تقسیم کے بعد ہندوستان میں مسلمان ایک ایسی ریاست میں اقلیت بن گئے جہاں اقتدار کا سوال ان کے لیے اس معنی میں باقی نہیں رہا، اس لیے ’’اسلامی ریاست‘‘ کا بیانیہ کسی بڑی عملی سیاسی تحریک کی صورت اختیار نہ کر سکا۔ کشمیر میں صورت مختلف تھی۔ وہاں اقتدار، شناخت اور حقِ خود ارادی کا سوال پہلے ہی ایک سیاسی تصادم کی صورت اختیار کر چکا تھا، اس لیے مذہبی سیاسی فکر کو ایک مختلف میدان میسر آیا۔ پاکستان میں خود ریاست کی نظریاتی شناخت، دستور اور ’’اسلامی نظام‘‘ کا سوال ابتدا ہی سے قومی سیاست کا حصہ بن گیا، اس لیے یہ بیانیہ یہاں مسلسل سیاسی اثر رکھتا رہا۔

مصر میں اخوان المسلمون کا تجربہ ایک دوسرے تاریخی پس منظر میں سامنے آیا۔ وہاں نوآبادیاتی اثرات، بادشاہت، قومی خودمختاری اور بعد میں فوجی و آمرانہ اقتدار کے مقابل مذہب نے ایک متبادل اجتماعی اور سیاسی زبان فراہم کی۔ انڈونیشیا میں بھی آزادی کے بعد یہ سوال موجود رہا کہ نئی قومی ریاست کی نظریاتی اساس کیا ہو، اسلام اور قومیت کا باہمی تعلق کس طرح متعین کیا جائے، اور مسلم اکثریت کی مذہبی شناخت ریاست میں کس درجے میں ظاہر ہو۔ چنانچہ وہاں بھی مذہبی سیاست نے اپنے مخصوص تاریخی حالات کے مطابق الگ صورتیں اختیار کیں۔

افغانستان میں یہی اصول ایک نہایت واضح صورت میں سامنے آتا ہے۔ حکمتیار صاحب نے مولانا مودودی سے اپنی متعدد ملاقاتوں اور ان کی فکر سے اپنے گہرے تأثر کا ذکر کیا۔ افغانستان میں دین کی یہ سیاسی تعبیر محض باہر سے آنے والا ایک نظریہ نہیں رہی، بلکہ وہاں ابھرنے والے مقامی کمیونزم کے مقابل ایک متبادل فکری اور سیاسی بیانیہ بن گئی۔ یوں برصغیر میں تشکیل پانے والی ایک فکر افغانستان کے اپنے داخلی نظریاتی تصادم سے جڑ گئی اور ایک مؤثر سیاسی قوت میں تبدیل ہو گئی۔

یہی شاید اس پورے تجربے کو سمجھنے کی کلید ہے۔ نظریات محض کتابوں سے تاریخ نہیں بناتے؛ وہ اس وقت تاریخی قوت بنتے ہیں جب کسی معاشرے کے حقیقی اضطراب، اقتدار کی کشمکش اور اجتماعی شناخت کے سوال سے جا ملیں۔

لیکن ایک صدی کے تجربے کے بعد اس کا دوسرا پہلو بھی ہمارے سامنے ہے۔ سیاسی اسلام کا یہ بیانیہ بیشتر مسلم معاشروں میں وہ نتائج پیدا نہیں کر سکا جن کی توقع اس سے وابستہ کی گئی تھی۔ کہیں وہ اقتدار تک نہ پہنچ سکا، کہیں اقتدار کے قریب پہنچ کر بھی جدید ریاست اور معاشرے کے پیچیدہ مسائل کا قابلِ عمل حل پیش نہ کر سکا، اور بعض جگہ اس کی انقلابی صورتوں نے نئے تصادم پیدا کیے۔

تاہم اس بیانیے کی ناکامی کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سوالات بھی ختم ہو گئے جنہوں نے اسے جنم دیا تھا۔ دین اور ریاست کا تعلق، عدل، سیاسی خودمختاری، آمریت، قومی شناخت، بیرونی مداخلت، عالمی طاقت کے نظام میں مسلمانوں کی حیثیت اور مسلم معاشروں کی سیاسی بے اختیاری آج بھی حقیقی سوالات ہیں۔

اس لیے ضرورت صرف گزشتہ صدی کے سیاسی اسلام کی نفی کی نہیں، بلکہ ایک نئے مسلم سیاسی بیانیے کی تشکیل کی بھی ہے۔ ایسا بیانیہ جو دینی اور اخلاقی اقدار سے وابستہ ہو، لیکن اقتدار کے حصول کو دین کا بنیادی مقصد بنانے کے بجائے آئینی نظم، عوامی رضامندی، قانون کی حکمرانی، شہری مساوات اور پُرامن سیاسی عمل کو اپنی بنیاد بنائے۔

استادِ مکرم کے اسلام اور ریاست: ایک جوابی بیانیہ کو میں اسی فکری پیش رفت کی ایک اہم کوشش سمجھتا ہوں۔ گزشتہ ایک صدی کے تجربے کا حاصل شاید یہی ہے کہ مسلمانوں کے سیاسی مسائل حقیقی ہیں، لیکن ان کا جواب وہ نہیں جو گزشتہ صدی کے سیاسی اسلام نے تجویز کیا تھا۔

تیسرا تاثر افغانستان کے تجربے اور پاکستان کے لیے اس میں موجود سبق سے متعلق ہے۔

افغانستان کی گزشتہ نصف صدی یہ بتاتی ہے کہ سیاسی جدوجہد میں صرف مقصد اہم نہیں ہوتا، ذرائع بھی مستقبل کی تاریخ بناتے ہیں۔

سوویت مداخلت کے خلاف مزاحمت اپنی جگہ ایک تاریخی حقیقت تھی، لیکن اس مزاحمت کو منظم کرنے کے لیے اختیار کیے جانے والے طریقوں کے نتائج جنگ کے خاتمے کے ساتھ ختم نہیں ہوئے۔ مختلف مسلح گروہوں کو الگ الگ تقویت دینا، متعدد مراکزِ قوت پیدا کرنا اور انھیں مستقل عسکری طاقت میں تبدیل ہونے دینا بالآخر ایک ایسے انتشار کا سبب بنا جس کی قیمت افغانستان نے بھی ادا کی اور پاکستان بھی آج تک اس عہد کے اثرات سے پوری طرح باہر نہیں نکل سکا۔

میرے نزدیک پاکستان کی ریاستی پالیسی کی ناکامی کے پس منظر میں بھی یہی ایک اہم سبب تھا۔ اگر افغان مزاحمت کو منتشر مسلح جتھوں کے بجائے کسی زیادہ واضح، منظم اور جواب دہ افغان سیاسی قیادت کے تحت مجتمع کرنے کی کوشش کامیاب ہوتی، اور عسکری طاقت کو الگ الگ تنظیموں کی مستقل خودمختار قوت نہ بننے دیا جاتا، تو ممکن ہے سوویت انخلا کے بعد انھیں ایک قومی سیاسی نظم میں سمیٹنا نسبتاً آسان ہوتا۔

اصل مسئلہ کسی ایک جماعت یا شخصیت کی حمایت کا نہیں، بلکہ منظم سیاسی قیادت اور بے شمار خودمختار مسلح مراکز کے فرق کا ہے۔ سیاسی یا مذہبی قیادت، اپنی غلطیوں کے باوجود، اگر ایک تنظیمی نظم اور جواب دہی رکھتی ہو تو اس سے مذاکرات کیے جا سکتے ہیں، فیصلے بدلوائے جا سکتے ہیں اور بالآخر اسے سیاسی عمل کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن جب طاقت درجنوں خودمختار مسلح جتھوں میں تقسیم ہو جائے تو ہر گروہ اپنے مفاد، علاقائی اثر اور اسلحے کا الگ مرکز بن جاتا ہے۔ پھر ریاست بھی کمزور ہوتی ہے اور بیرونی طاقتوں کے لیے ان تقسیموں کو استعمال کرنا بھی آسان ہو جاتا ہے۔

افغانستان کے تجربے کا بڑا سبق یہی ہے کہ کسی سیاسی مقصد کے لیے اختیار کیے جانے والے ذرائع کو صرف ان کی فوری کامیابی سے نہیں پرکھا جا سکتا۔ ایک وقت میں کامیاب دکھائی دینے والی حکمتِ عملی کئی دہائیاں بعد پورے معاشرے کے لیے غیر معمولی قیمت پیدا کر سکتی ہے۔

حکمتیار صاحب اور ان کے عہد کی افغان سیاسی قیادت سے بنیادی اختلافات ہو سکتے ہیں، اور ان کے ماضی اور سیاسی فیصلوں پر تنقید کا پورا حق موجود ہے۔ لیکن کم از کم اس نسل میں سیاسی تنظیم، گفتگو، اختلاف، مذاکرات اور مفاہمت کا ایک تصور دکھائی دیتا ہے۔

اس کے مقابلے میں طالبان کا مسئلہ محض ان کے بعض مذہبی تصورات نہیں، بلکہ ان کے سیاسی مزاج اور سیاسی نظم کی نوعیت بھی ہے۔ وہ ایک مسلح تحریک سے اقتدار تک پہنچے ہیں، لیکن ابھی تک ایسا ہمہ گیر قومی سیاسی نظم تشکیل نہیں دے سکے جس میں افغانستان کے مختلف نسلی، علاقائی، مذہبی اور سیاسی طبقات خود کو شریکِ اقتدار محسوس کریں۔ اقتدار کا مرکز ضرور موجود ہے، مگر قومی نمائندگی، سیاسی شرکت اور ادارہ جاتی جواب دہی کا دائرہ نہایت محدود ہے۔

اس اعتبار سے حکمتیار صاحب اور ان کے عہد کی افغان سیاسی قیادت، اپنی تمام کمزوریوں اور تاریخی لغزشوں کے باوجود، مجھے نسبتاً زیادہ مفاہمت پسند اور سیاسی مکالمے کے لیے موزوں محسوس ہوئی۔ کم از کم مختلف سیاسی قوتوں سے بات کرنے، اختلاف سننے، مفاہمت پیدا کرنے اور اقتدار کے سوال کو مذاکرات کی میز پر لانے کا امکان وہاں موجود تھا۔

افغانستان کا بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ اقتدار کس کے پاس ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اقتدار کس اصول، کس قومی نمائندگی اور کس سیاسی رضامندی کے تحت قائم ہے، اور افغان عوام نے کس کو کس درجے میں یہ حق تفویض کیا ہے۔

حکمتیار صاحب کی سیاست، ان کی مسلح جدوجہد اور ان کے تاریخی کردار کے بارے میں مختلف اور بعض اوقات نہایت سخت آرا موجود رہی ہیں۔ ان سب کا تنقیدی اور تاریخی جائزہ اپنی جگہ ضروری ہے۔

میرے لیے اس نشست کی اصل اہمیت ایک دوسری سطح پر تھی۔ گہرے فکری اور سیاسی اختلاف کے باوجود مکالمہ ممکن ہے۔ سوال کیا جا سکتا ہے، جواب سنا جا سکتا ہے، اختلاف کیا جا سکتا ہے، اور اپنا نقطۂ نظر دلیل کے ساتھ دوسرے تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

شاید ہمارے خطے اور مسلم دنیا کو آج اسی روایت کو زیادہ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، اختلاف کو تشدد، تکفیر اور باہمی اخراج کے بجائے علم، دلیل، مکالمے اور پُرامن سیاسی عمل کے دائرے میں واپس لانے کی روایت۔

محمد حسن الیاس

Leave a comment

Are you human? Please solve:Captcha