Skip to content Skip to footer

خیارِ مجلس: حدیث اور فقہی تعبیرات‘

’’خیارِ مجلس: حدیث اور فقہی تعبیرات‘‘
(محمد حسن الیاس)
بیع و شرا کے باب میں ہماری فقہی روایت کا ایک معروف مسئلہ ’’خیارِ مجلس‘‘ کے عنوان سے زیر بحث آیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب خرید و فروخت کا معاملہ ایجاب و قبول سے طے پا جائے تو کیا فریقین کو صرف اس بنا پر کہ وہ ابھی اسی مجلس میں موجود ہیں، سودا واپس لینے یا فسخ کرنے کا اختیار باقی رہتا ہے؟
اس باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک روایت نقل ہوئی ہے۔ آپ نے فرمایا:
’’البيعان بالخيار ما لم يتفرقا‘‘
(صحیح بخاری، 2079)
یعنی خریدنے اور بیچنے والے کو اختیار ہے، جب تک وہ جدا نہ ہو جائیں۔
اس روایت کے فہم میں فقہا کے ہاں دو بڑے رجحانات سامنے آئے ہیں۔
احناف اور مالکیہ کے نزدیک اس روایت میں ’’تفرق‘‘ سے مراد مجلس سے جسمانی جدائی نہیں، بلکہ قول و قرار کے مرحلے کا ختم ہو جانا ہے۔ ان کے نزدیک بیع ایجاب و قبول سے مکمل ہو جاتی ہے اور مکمل ہوتے ہی عقد لازم ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد صرف یہ امر کہ دونوں فریق ابھی ایک ہی مجلس میں موجود ہیں، فسخ کے کسی مستقل شرعی حق کو ثابت نہیں کرتا۔
ان کا استدلال یہ ہے کہ عقد اپنی حقیقت میں لزوم کا تقاضا کرتا ہے۔ قرآن مجید نے ’’اَوۡفُوۡا بِالۡعُقُوۡدِ‘‘ کہہ کر معاہدوں کی پابندی کا حکم دیا ہے، اور’’تِجَارَۃً عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡکُمۡ‘‘ کے تحت باہمی رضامندی سے ہونے والی تجارت کو جائز قرار دیا ہے۔ چنانچہ جب فریقین رضامندی سے ایجاب و قبول کر لیتے ہیں تو بیع مکمل ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد محض مجلس کے باقی رہنے کو فسخ کے حق کی بنیاد بنانا لزومِ عقد کے اصول کے خلاف ہے۔
چنانچہ وہ حدیث کو اس کے ظاہری مفہوم میں مراد نہیں لیتے، بلکہ ’’تفرق‘‘ سے مراد معاملے کی گفتگو، بھاؤ تاؤ اور قول و قرار کے مرحلے کا ختم ہو جانا سمجھتے ہیں۔
دوسری طرف شوافع، حنابلہ اور جمہور فقہا کے نزدیک حدیث کا ظاہر یہی ہے کہ خریدار اور فروخت کنندہ کو اس وقت تک اختیار حاصل رہتا ہے جب تک وہ جسمانی طور پر ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں۔ ان کے نزدیک ’’ما لم يتفرقا‘‘ کا ظاہری مفہوم یہی ہے کہ جب تک دونوں مجلس میں موجود ہیں، بیع لازم نہیں ہوتی، بلکہ دونوں میں سے ہر ایک کو رجوع کا حق حاصل رہتا ہے۔
فقہا یہ بھی کہتے ہیں کہ حدیث میں لفظ ’’المتبايعان‘‘ آیا ہے۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے درمیان بیع ہو چکی ہے، نہ کہ وہ جو ابھی صرف بھاؤ تاؤ کر رہے ہیں۔ اگر معاملہ ابھی طے ہی نہیں ہوا تو انھیں متبایعان نہیں، بلکہ متساومان، یعنی بھاؤ تاؤ کرنے والے کہا جائے گا۔
لہٰذا حدیث کا تعلق بیع کے بعد کے مرحلے سے ہے، اور اس کا مدعا یہ ہے کہ عقد ہو جانے کے باوجود مجلس کے اختتام تک دونوں فریقوں کو اختیار باقی رہتا ہے۔ اس بنا پر جمہور کے نزدیک خیارِ مجلس بیع کے باب میں ایک مستقل شرعی حق ہے۔
غامدی صاحب کا نقطۂ نظر اس بحث میں ایک تیسرا زاویہ فراہم کرتا ہے۔ان کے نزدیک اس روایت کو محض اس لفظی و منطقی بحث تک محدود کر دینا درست نہیں کہ ’’تفرق‘‘ سے مراد جسمانی جدائی ہے یا معاملے کی گفتگو اور قول و قرار کا خاتمہ؛ اور نہ اس فقہی نکتے تک کہ ایجاب و قبول کے بعد عقد مکمل ہو جاتا ہے۔ اصل سوال اس سے آگے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع و شرا کے باب میں یہ ہدایت کس مقصد کے تحت فرمائی، اور یہ دین کی کن اصولی ہدایات کا اطلاق و بیان ہے؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ معاملات کے باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کو محض ان کی ظاہری صورتوں تک محدود کر کے نہیں سمجھا جا سکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت سے مواقع پر شریعت کے عمومی اصولوں کو پیش آمدہ عملی حالات پر منطبق فرماتے ہیں۔ اس اطلاق میں اصل مقصود یہ ہوتا ہے کہ لین دین شفافیت، وضاحت، عدل اور خیر خواہی پر قائم ہو اور معاملات میں فساد، نزاع یا غیر منصفانہ نقصان کا کوئی راستہ باقی نہ رہے۔
اسی پس منظر میں آپ نے بیع و شرا، مزارعت، مخابرہ اور بٹائی کی بعض صورتوں سے منع فرمایا۔ بظاہر یہ چند متعین صورتوں کی ممانعتیں ہیں، لیکن انھیں محض تاریخی یا جزوی احکام کی فہرست کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ یہ دراصل قواعد عامہ کی روشنی میں فقہی اطلاقات ہیں۔یعنی معاملے کی نوعیت واضح ہو، فریقین کے حقوق متعین ہوں اور کوئی ایسا ابہام باقی نہ رہے جو بعد میں اختلاف یا نقصان کا سبب بنے۔
غور کیا جائے تو ان نواہی کے پس منظر میں اصل علت ضرر، غرر، ابہام، نزاع کا امکان یا کسی ایک فریق کا غیر متوازن نقصان ہے۔ اس لیے ممانعت کا تعلق محض صورت سے نہیں، بلکہ اس صورت میں پائی جانے والی خرابی سے ہے۔ جہاں حالات و شرائط کے بدلنے سے یہ علت باقی نہ رہے، وہاں ممانعت بھی باقی نہیں رہتی؛ اور جہاں کسی نئی معاشی صورت میں یہی علت پیدا ہو جائے، وہاں محض اس کے نئے ہونے سے اس کی اباحت ثابت نہیں ہوتی۔
مثال کے طور پر ایسی بیع جس میں مال ابھی تیار نہ ہوا ہو، اس وقت تک ممنوع ہے جب تک معاملہ معین ماپ، معین تول اور معین مدت کے ساتھ واضح نہ کر دیا جائے۔ اس ممانعت کا مقصد یہ ہے کہ خریدار اور فروخت کنندہ، دونوں کو معلوم ہو کہ معاملہ کس چیز پر، کس مقدار میں، کس وقت کے لیے اور کن شرائط کے تحت ہو رہا ہے۔
اسی طرح بٹائی کی وہ صورتیں ممنوع قرار پائیں جن میں زمین کے کسی خاص حصے کی پیداوار مالک کے لیے مخصوص کر دی جائے، کیونکہ اس میں یہ امکان رہتا ہے کہ پیداوار ایک حصے میں ہو اور دوسرے میں نہ ہو، اور یوں ایک فریق غیر منصفانہ نقصان اٹھائے یا نزاع پیدا ہو جائے۔
غیر منقسم جایداد کی بیع میں بھی شریکوں کے حق کو نظر انداز کرنے سے روکا گیا، الا یہ کہ حدود متعین ہو جائیں اور راستے الگ کر دیے جائیں، تاکہ حق، ملکیت اور تصرف کی صورت واضح ہو جائے۔
یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ اصل فیصلہ معاملے کے ظاہری عنوان سے نہیں، بلکہ اس کے اندر پائی جانے والی علت، اثر اور نتیجے سے متعلق ہو گا۔ یہی اصول تمدن کے ارتقا سے پیدا ہونے والی نئی معاشی صورتوں پر بھی لاگو ہو گا کہ اگر ان میں ضرر، غرر، ابہام یا نزاع کی وہی علت پائی جائے تو محض ان کا نیا ہونا انھیں جائز نہیں بنا دے گا، اور اگر کسی قدیم ممنوع صورت میں حالات کے بدلنے سے وہ علت باقی نہ رہے تو ممانعت بھی باقی نہیں رہے گی۔
اسی اصول پر حدیث ’’البيعان بالخيار ما لم يتفرقا‘‘ کو بھی سمجھنا چاہیے۔ غامدی صاحب کے نزدیک اس روایت کا مدعا یہ نہیں کہ شریعت نے ہر بیع میں، ہر حال میں، مجلس کے اختتام تک ایک مستقل قانونی خیار مقرر کر دیا ہے۔ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ اُس وقت کے عرف میں خرید و فروخت کو جلد بازی، فوری ندامت، عدم اطمینان اور بعد کے نزاع سے محفوظ رکھا جائے۔ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی نفسیات اور معاملات کے عملی تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ رہنمائی فرمائی کہ جب تک معاملہ اسی گفتگو اور مجلس کے دائرے میں ہے، فریقین ایک دوسرے کے لیے گنجایش رکھیں۔
یہی دراصل فقہ النبی ہے کہ شریعت کے عمومی اصولوں کو ایک عملی صورت پر اس طرح منطبق کرنا کہ معاملہ محض الفاظ کی قانونی گرفت نہ بن جائے، بلکہ اس میں موافقت، وضاحت، رفعِ نزاع، سدِ ذرائع اور ضرر و غرر سے تحفظ کا مقصد حاصل ہو۔ چنانچہ اگر سودا ہوتے ہی کسی فریق کو اپنی غلطی، تردد یا عدم اطمینان کا احساس ہو تو دوسرا فریق اسے فوراً پابند کر کے نزاع، ضرر اور بداعتمادی کا سبب نہ بنے، بلکہ خیر خواہی اور سہولت کا رویہ اختیار کرے۔
یہیں سے شریعت اور فقہ کا فرق بھی واضح ہوتا ہے۔ شریعت اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ مستقل احکام کا نام ہے، جب کہ فقہ ان احکام کے فہم، شرح اور عملی اطلاق سے متعلق ہے۔ حدیث کا دائرہ بھی یہی ہے کہ وہ قرآن و سنت میں محصور دین کی تفہیم و تبیین اور اس پر عمل کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کو بیان کرتی ہے۔ اس میں کہیں آپ دین کے اصولوں کی شرح فرماتے ہیں، کہیں ان کا عملی اطلاق کرتے ہیں، کہیں نزاع کا فیصلہ فرماتے ہیں اور کہیں حالات کے لحاظ سے کوئی انتظامی تدبیر اختیار فرماتے ہیں۔اس لیے روایت کو سمجھتے ہوئے صرف الفاظ کے ظاہری مفہوم پر اکتفا نہیں کیا جاتا، بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ ارشاد کس اصول کے تحت، کس موقع پر، کس علت اور کس مقصد کے لیے صادر ہوا ہے۔
چنانچہ اگر کسی معاشرے کا عرف، کوئی تحریری معاہدہ، کوئی تجارتی ضابطہ یا ریاستی قانون بیع کے لزوم، واپسی، منسوخی، ریفنڈ (refund)یا کسی مخصوص مہلت کے بارے میں واضح صورت مقرر کر دے تو معاملہ اسی کے مطابق ہو گا۔
حدیث کا مدعا تمام زمانوں اور تمام تجارتی صورتوں کو ایک ہی قالب میں بند کرنا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ مسلمان کے معاملات میں محض قانونی مطالبے کے بجائے اخلاقی مروت، تنگی کے بجائے سہولت اور خود غرضی کے بجائے خیر خواہی غالب رہے۔

Leave a comment