“دینی مدارس کے نظام میں ایک ناگزیر اصلاح”
(محمد حسن الیاس)
دینی مدارس پر ہونے والی تنقید بالعموم دو بڑے زاویوں سے سامنے آتی ہے۔ ایک تنقید مذہبی روایت اور جدید لبرل یا سیکولر فکر کے مابین جاری کشمکش کے پس منظر میں کی جاتی ہے۔ اِس میں مدارس کے سماجی و سیاسی اثرات، جدید ریاست سے اُن کے تعلق اور مغربی تہذیب و اقدار کے مقابل اُن کے کردار کو موضوع بنایا جاتا ہے۔
دوسری نوعیت کی تنقید خود مسلم معاشروں کے اندر سے پیدا ہوتی ہے۔ اِس میں دینی مدارس کے نصاب کی افادیت، قدیم و جدید علوم کے تناسب، فقہی و کلامی منہج، مسلکی وابستگی، طریقۂ تدریس اور فارغ التحصیل علما کے زاویئہ نگاہ پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔
ہماری گزارش اِن دونوں سے مختلف، ایک تیسری سطح پر ہے۔
میں یہاں نہ مذہب کے اجتماعی کردار کو زیر بحث لا رہا ہوں، نہ مدارس کے فقہی یا مسلکی منہج کا فیصلہ کرنا مقصود ہے اور نہ بنیادی طور پر یہ سوال اٹھا رہا ہوں کہ اُن کے نصاب میں کون سی کتابیں شامل یا خارج ہونی چاہییں۔ مدارس نے دین کو سمجھنے اور پڑھانے کے لیے جو علمی منہج اختیار کیا ہے، اُسے اختیار کرنے کا اُنھیں حق ہے۔ وہ منہج درست ہے یا غلط، یہ ایک الگ علمی بحث ہے جس کا فیصلہ دلیل، تحقیق اور مکالمے سے ہونا چاہیے۔
چنانچہ میرا سوال مدارس کے فقہی یا مسلکی منہج سے نہیں، بلکہ اُن کی ادارہ جاتی اور تعلیمی نظام ساخت سے متعلق ہے۔
دینی مدرسہ اپنی اصل کے اعتبار سے دینی علوم کے اعلیٰ ماہرین پیدا کرنے کا ادارہ ہونا چاہیے، بالکل اُسی طرح جیسے میڈیکل کالج طب اور انجینئرنگ یونیورسٹی انجینئرنگ میں تخصص پیدا کرتی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں مدرسے میں داخل ہونے والے تقریباً تمام بچوں کی تعلیم ابتدا ہی سے اِس انداز میں شروع ہو جاتی ہے کہ اُنھیں بالآخر عالم دین بننا ہے۔
مسئلہ یہ نہیں کہ مدارس میں عمومی یا دنیوی تعلیم بالکل نہیں دی جاتی۔ بہت سے مدارس میں ابتدائی درجوں پر اِس کا کچھ انتظام موجود ہے، لیکن اُس کے ساتھ ہی دینی تخصص کا سفر بھی شروع کر دیا جاتا ہے۔ بچے کی استعداد، فطری رجحان اور مستقبل کے امکانات نمایاں ہونے سے پہلے ہی اُس کا تعلیمی اور پیشہ ورانہ رخ متعین ہو جاتا ہے۔
حالاں کہ مدارس میں داخل ہونے والے تمام بچے دینی علوم کے اعلیٰ متخصص بننے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ میرا اندازہ ہے کہ اِن میں سے ستر سے اسی فیصد طلبہ کی اصل استعداد زندگی کے دوسرے شعبوں میں ہوتی ہے۔ اُن میں کوئی ڈاکٹر، انجینئر، قانون دان، استاد، ادیب، منتظم، تاجر، صحافی، سائنس دان یا کسی فنی شعبے کا ماہر بننے کی صلاحیت رکھتا ہوگا۔
موجودہ نظام اِن متنوع صلاحیتوں کو دریافت کرنے اور پروان چڑھانے کے بجائے سب کو تقریباً ایک ہی راستے پر ڈال دیتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بہت سے طلبہ نہ دینی علوم کے حقیقی متخصص بن پاتے ہیں اور نہ اُنھیں زندگی کے دوسرے شعبوں میں آگے بڑھنے کے لیے مطلوبہ تعلیم اور مہارت میسر آتی ہے۔
مدارس کی علمی اور اخلاقی خدمات اپنی جگہ مسلم ہیں۔ اِنھی اداروں نے بے شمار جید علما، مخلص اساتذہ اور صاحب کردار افراد پیدا کیے ہیں۔ یہی تجربہ یہ بھی بتاتا ہے کہ اگر یہ نظام طلبہ کی مختلف صلاحیتوں کو بہتر طور پر پہچان لے اور اُن کے لیے متنوع راستے پیدا کر دے تو مدارس کی یہ قوت کہیں زیادہ وسیع اور مؤثر صورت اختیار کر سکتی ہے۔
اِس کے برعکس، جب کسی نوجوان کے اندر مذہبی جذبہ اور گروہی وابستگی تو پیدا ہو جائے، لیکن اُس کے ساتھ علمی گہرائی، وسیع سماجی شعور، اختلاف کو سمجھنے کی صلاحیت اور باعزت معاشی مستقبل نہ ہو تو اُس کے غلط استعمال کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ فرقہ وارانہ جماعتیں، طاقت کی سیاست کرنے والے گروہ اور انتہا پسند تنظیمیں ایسے مذہبی جذبے کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتی ہیں۔ یوں ایک ایسا انسانی سرمایہ، جو علم، اخلاق اور قومی تعمیر میں صرف ہونا چاہیے تھا، کشمکش اور فساد کا حصہ بن جاتا ہے۔
یہی اصل چیلنج ہے۔
اِس مسئلے کا حل یہ نہیں کہ مدارس میں زیر تعلیم لاکھوں طلبہ کو وہاں سے نکال کر تعلیم سے محروم کر دیا جائے، مدارس کو ختم کیا جائے، اُن کی علمی آزادی سلب کی جائے یا اُن پر کوئی مخصوص منہج مسلط کر دیا جائے۔ حل یہ ہے کہ اُن کے نظام میں جمع ہو جانے والے دو مختلف تعلیمی مقاصد کو واضح طور پر الگ کر دیا جائے:
ایک، معیاری عمومی تعلیم، جو تمام طلبہ کے لیے ہو؛ دوسرا، دینی علوم میں اعلیٰ تخصص، جو صرف محدود، منتخب اور اہل طلبہ کے لیے ہو۔
مدارس اپنے موجودہ انفراسٹرکچر، عمارتوں، اساتذہ، رفاہی وسائل، عوامی اعتماد اور خدمت کے جذبے کو بروئے کار لاتے ہوئے پہلی جماعت سے بارھویں جماعت تک ایک مضبوط اور معیاری عمومی تعلیمی نظام قائم کر سکتے ہیں۔ اِس میں ریاضی، سائنس، تاریخ، سماجی علوم، زبان و ادب اور جدید دنیا کی بنیادی معرفت کے ساتھ قرآن، دینی اخلاقیات اور تہذیبی تربیت بھی شامل ہو۔ مسلم معاشروں کے موجودہ نظام تعلیم میں علم اور اخلاق، جدید دنیا اور دینی روایت، اور معاشی مہارت اور تہذیبی تربیت کے درمیان جو خلیج پیدا ہو چکی ہے، مدارس اِسے پُر کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔
طلبہ کو علاقائی زبانوں کے ساتھ اردو، فارسی اور عربی بھی سکھائی جائیں۔ یہ وہ زبانیں ہیں جن کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں کا اپنی دینی، علمی اور تہذیبی روایت سے تعلق قائم ہوا ہے۔ عربی کو محض قواعد کی کتابوں تک محدود رکھنے کے بجائے قرآن فہمی کا ذریعہ بنایا جائے، فارسی کے ذریعے ہماری کلاسیکی علمی و ادبی روایت تک رسائی پیدا کی جائے، اور اردو کو فکر و اظہار کی مضبوط زبان بنایا جائے۔ اِن زبانوں سے واقفیت نئی نسل کو اپنے ماضی کے بڑے اہل علم، ادبا اور مفکرین کو براہ راست پڑھنے اور سمجھنے کے قابل بنائے گی۔
اِسی طرح تاریخ کی تعلیم میں عالمی تاریخ، مسلم تاریخ اور برصغیر کی تاریخ کا جامع مطالعہ شامل ہو، تاکہ طلبہ اپنے زمانے کے شعور سے بھی بہرہ مند ہوں اور اپنی دینی و تہذیبی روایت سے بھی اُن کا رشتہ قائم رہے۔
بارہ سالہ تعلیم کے دوران بچوں کو اپنی صلاحیت، ذوق اور فطری رجحان پہچاننے کا پورا موقع ملنا چاہیے، تاکہ وہ شعور کی عمر کو پہنچ کر اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں۔ جو طلبہ طب، انجینئرنگ، قانون، تجارت، سائنس، تدریس، انتظام، میڈیا یا کسی فنی شعبے میں جانا چاہیں، اُن کے لیے راستہ کھلا ہو؛ اور جو حقیقی استعداد اور رغبت کے ساتھ دینی علوم میں آگے بڑھنا چاہیں، وہ اعلیٰ تخصص کے مرحلے میں داخل ہوں۔
یوں مدارس کے ستر سے اسی فیصد طلبہ عمومی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنی استعداد کے مطابق زندگی کے مختلف شعبوں میں جا سکیں گے۔ مدارس سے صرف امام اور مدرس نہیں، بلکہ دیانت دار ڈاکٹر، باکردار انجینئر، ذمہ دار تاجر، اچھے استاد، قانون دان، منتظم اور باشعور شہری بھی پیدا ہوں گے۔ وہ دین کی بنیادی واقفیت، اخلاقی تربیت اور تہذیبی شعور کے ساتھ معاشرے کے مختلف میدانوں میں خدمات انجام دیں گے۔
مدارس کے پاس ملک کے شہروں، قصبوں، دیہات اور دور دراز علاقوں میں پہلے ہی ایک وسیع نیٹ ورک موجود ہے۔ اُن کے پاس عمارتیں، اساتذہ، نظم و ضبط، رفاہی وسائل، بے لوث خدمت کرنے والے افراد اور مقامی آبادی کا اعتماد ہے۔ یہ وہ سرمایہ ہے جسے حاصل کرنے کے لیے کسی نئی تنظیم کو کئی دہائیاں اور غیر معمولی وسائل درکار ہوں گے۔
اگر مختلف وفاق اور بڑے مدارس باہمی تعاون سے مشترک تعلیمی معیارات، اساتذہ کی تربیت، نصابی مواد، امتحانات، معیار کی نگرانی اور اسناد کا ایک معتبر نظام قائم کر لیں تو وہ کیمبرج، اور اکسفوڈ جیسے بین الاقوامی تعلیمی و امتحانی نظاموں کی طرح جدید تعلیم میں اپنی ایک مضبوط قومی شناخت پیدا کر سکتے ہیں۔
وہ اُن علاقوں میں معیاری اور کم خرچ تعلیم فراہم کر سکتے ہیں جہاں سرکاری اسکول ناکام ہیں یا سرے سے موجود نہیں۔ قومی معیارات کی پابندی کے ساتھ اُنھیں ریاستی تعلیمی بجٹ سے معاونت فراہم کی جائے تو وہ بہت سے علاقوں میں سرکاری اسکولوں کے ایک مؤثر متبادل کی صورت بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ اِس طرح مدارس پاکستان ہی نہیں، دوسرے ترقی پذیر مسلم ممالک میں بھی عمومی تعلیم کا ایک وسیع، منظم اور قابل اعتماد نظام قائم کر سکتے ہیں۔
والدین کے سامنے ایک ایسا تعلیمی انتخاب آ سکتا ہے جس میں جدید علوم، دینی اقدار، اخلاقی تربیت اور تہذیبی شعور ایک دوسرے کے مخالف نہیں، بلکہ ایک ہی مربوط نظام کے اجزا ہوں۔
بارہ سالہ عمومی تعلیم کے بعد صرف وہ طلبہ دینی علوم کے اعلیٰ تخصص میں جائیں جن میں اِس علم کا حقیقی ذوق، غیر معمولی استعداد اور شعوری رغبت موجود ہو۔ ہر طالب علم کو مفتی، محدث، مفسر، مجتہد یا خطیب بنانا نہ ممکن ہے اور نہ معاشرے کو اتنی بڑی تعداد میں اِن ماہرین کی ضرورت ہے۔ جس طرح تمام طلبہ ڈاکٹر، جج یا یونیورسٹی پروفیسر نہیں بنتے، اُسی طرح جید علما بھی محدود تعداد میں اور سخت علمی معیار کی بنیاد پر تیار ہونے چاہییں۔
دینی تخصص میں داخلے کے لیے علمی استعداد، شعوری انتخاب اور معاشرتی ضرورت کو بنیاد بنایا جائے۔ مقصد زیادہ سے زیادہ سند یافتہ افراد پیدا کرنا نہیں، بلکہ محدود تعداد میں اعلیٰ درجے کے علما، محققین، فقہا اور دینی مفکرین تیار کرنا ہو۔
اِس مرحلے میں بھی یہ پیش نظر رہنا چاہیے کہ تمام طلبہ ایک ہی درجے اور ایک ہی نوعیت کی علمی خدمت کے لیے پیدا نہیں ہوتے۔ اِن میں سے کچھ اپنے ذوق، مزاج اور صلاحیت کے لحاظ سے دعوت و ارشاد کے میدان میں نمایاں ہوں گے، کچھ تعلیم و تدریس کے لیے زیادہ موزوں ثابت ہوں گے، کچھ تحقیق و تصنیف میں اپنی جگہ بنائیں گے، اور کچھ ہی ایسے ہوں گے جو غیرمعمولی استعداد، وسعت نظر اور گہری فقہی بصیرت کے ساتھ اجتہاد و استنباط کے اعلیٰ درجوں تک پہنچ سکیں۔ چنانچہ دینی تخصص کا نظام اِس تنوع کو ملحوظ رکھے اور طلبہ کو ایک ہی سانچے میں ڈھالنے کے بجائے اُن کی فطری صلاحیتوں کے مطابق آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرے، تاکہ امت کو داعی بھی میسر آئیں، معلم بھی، محقق بھی اور وہ اہل علم بھی جو مجتہدانہ بصیرت کے ساتھ دین کی رہنمائی کر سکیں۔
اِس وقت بڑی تعداد میں فضلا پیدا ہوتے ہیں، لیکن اُن کے لیے مسجد، مدرسہ اور خطابت کے علاوہ واضح پیشہ ورانہ راستے بہت محدود ہیں۔ جب کسی تخصص میں فارغ ہونے والوں کی تعداد معاشرے کی حقیقی ضرورت اور پیشہ ورانہ گنجایش سے بڑھ جائے تو معاشی دباؤ ناگزیر طور پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر بعض فارغ التحصیل افراد کے لیے معاش کا سب سے آسان راستہ یہی رہ جاتا ہے کہ نئی مسجد، نیا مدرسہ، نئی تنظیم یا چندے پر قائم کوئی ادارہ وجود میں لایا جائے اور مزید بچوں کو اُسی نظام میں داخل کیا جائے جس سے وہ خود گزرے ہوتے ہیں۔
اِس کے نتیجے میں وسائل تقسیم ہوتے ہیں، غیر ضروری ادارہ سازی بڑھتی ہے اور مذہبی و فرقہ وارانہ مسابقت پیدا ہوتی ہے۔ چند افراد کے طرز عمل کی وجہ سے حقیقی اہل علم کا وقار بھی متاثر ہوتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر افراد کی نیت یا اخلاص کا نہیں، ناقص تعلیمی اور معاشی منصوبہ بندی کا مسئلہ ہے۔
دینی علوم کے فضلا کا میدان صرف امامت، خطابت اور مدرسے کی تدریس تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ فقہ اور اصول کا ذوق رکھنے والوں کو جدید قانون کی تعلیم دے کر خاندانی قانون، اسلامی قانون، ثالثی اور قانونی تحقیق کا ماہر بنایا جا سکتا ہے۔ تدریس کا ذوق رکھنے والے اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں عربی، دینیات، اخلاقیات، تہذیب اور تاریخ پڑھا سکتے ہیں۔ اس ضمن میں جامعہ بنوریہ العالمیہ نے درجنوں شعبہ جات کی نشادہی کی ہے جہاں یہ خدمات انجام دے سکتے ہیں
اچھے مقررین کو تحریر، پبلک اسپیکنگ، میڈیا اور ڈیجیٹل ابلاغ کی تربیت دی جا سکتی ہے۔ دنیا بھر میں کردار سازی، اخلاقی تربیت، قیادت اور عوامی ابلاغ کے میدان وسعت اختیار کر رہے ہیں۔ مناسب تربیت کے بعد دینی علوم کے فضلا اِن شعبوں میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اِسی طرح تحقیق، ترجمہ، تدوین، تقابل ادیان، تعلیمی انتظام، اوقاف اور رفاہی اداروں کے نظم میں بھی اُن کے لیے بڑے امکانات موجود ہیں۔
مدارس کی اصلاح کا مقصد دینی تعلیم کو کم کرنا نہیں، بلکہ بنیادی دینی تعلیم اور اعلیٰ دینی تخصص کے درمیان واضح فرق قائم کرنا ہے۔ معاشرے کو محض سند رکھنے والے ہزاروں افراد کے بجائے محدود تعداد میں ایسے جید علما، محققین، فقہا، اساتذہ اور اخلاقی رہنما درکار ہیں جو علم میں گہرائی اور بصیرت رکھتے ہوں، اپنے زمانے سے واقف ہوں، اختلاف کے آداب سے آشنا ہوں اور معاشی اعتبار سے باوقار اور خودمختار زندگی بسر کر سکیں۔
لہٰذا تجویز صرف یہ ہے کہ عمومی تعلیم وسیع پیمانے پر دی جائے، اور دینی مدارس اپنی موجودہ قوت، وسائل اور ملک گیر نظام کے باعث اِس میدان میں غیر معمولی خدمت انجام دے سکتے ہیں۔ اِس عمومی نظام سے الگ، خالص دینی تخصص کا دائرہ محدود مگر معیار بلند ہو، اور اُس کی ہر شاخ کو معاشرے کی حقیقی ضرورت اور طلبہ کے باعزت مستقبل سے مربوط کیا جائے۔ اِس اصلاح کے نتیجے میں مدارس قومی زندگی میں اپنی ایک واضح اور ناگزیر جگہ بھی بنا لیں گے؛ چنانچہ اُن کے وجود، جبری انضمام یا مسلسل سرکاری مداخلت کے بارے میں جو خدشات ہمیشہ قائم رہتے ہیں، وہ بھی بڑی حد تک ختم ہو جائیں گے۔ عمومی تعلیم میں مسلمہ قومی معیارات کی پابندی کے بعد دینی تخصص کے نصاب اور علمی منہج میں مدارس کی مکمل آزادی تسلیم کی جانی چاہیے۔