Skip to content Skip to footer

اکابرِ امت کے ساتھ چمٹے رہنا؟

اکابرِ امت کے ساتھ چمٹے رہنا؟

 

علما کے ایک بڑے اجتماع کے موقع پر ایک بینر نظر سے گزرا۔ اس پر یہ نصیحت درج تھی:
”اپنے اکابرین کے ساتھ جڑے رہنے میں برکت ہے“

 

اس کے نیچے اس نصیحت کا ماخذ بھی لکھا گیا تھا، یعنی صحیح ابن حبان کی یہ روایت:
”البرکۃ مع أکابرکم“

 

یہ بات ہمارے مذہبی ماحول میں نئی نہیں ہے۔ اس نوع کی روایات سے بالعموم یہ مقدمہ قائم کیا جاتا ہے کہ دین کا صحیح فہم لازماً سلف اور اکابر ہی کی بصیرت سے وابستہ ہے۔ لہٰذا علمی روایت کے نتائج سے مختلف، یا اکابر کی تائید کے بغیر، کوئی دینی رائے قائم کرنا خطرے سے خالی نہیں۔ یہی مقدمہ بعض اوقات تقلید کے واجب ہونے، یا اکابر کے فہم کو دینی حجت کا درجہ دینے کے لیے بھی پیش کیا جاتا ہے۔

 

مسلمانوں کی علمی روایت میں ائمہ، فقہا، محدثین اور اکابر اہلِ علم کا احترام ہمیشہ موجود رہا ہے۔ یہ احترام دین کے اخلاقی مزاج کا حصہ ہے۔ اصل مطلوب یہ تھا کہ اہلِ علم سے سیکھا جائے، ان کے فہم سے فائدہ اٹھایا جائے، ان کی علمی محنت اور دینی خدمت کا اعتراف کیا جائے، لیکن قرآن و سنت، دلیل، تحقیق اور اجتہاد کے دروازے بند نہ کیے جائیں۔

 

وقت گزرنے کے ساتھ، خصوصاً تیسری اور چوتھی صدی ہجری کے بعد، اس احترام نے بعض حلقوں میں ایک دوسری صورت اختیار کر لی۔ اکابر کی توقیر رفتہ رفتہ ان کی آرا کی غیر مشروط پابندی میں بدلنے لگی، اور علمی روایت سے استفادہ بعض اوقات تقلیدِ جامد کا عنوان اختیار کر گیا۔ پھر بعض نصوص اور روایات کو بھی اس طرح استعمال کیا جانے لگا گویا اکابر کی رائے بجائے خود حجت ہے، اور ان سے اختلاف علم کے بجائے بے ادبی یا گمراہی کا عنوان ہے۔

 

زیرِ بحث روایت کو اسی پس منظر میں سمجھنا چاہیے۔ یہ روایت اگرچہ حدیث کی مشہور امہات میں نمایاں طور پر نقل نہیں ہوئی، بلکہ بعد کے بعض مجموعوں میں ملتی ہے، تاہم اگر اس کی سند پر اطمینان کر بھی لیا جائے تو بھی اس سے وہ بات ثابت نہیں ہوتی جو عام طور پر اس سے اخذ کی جاتی ہے۔

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر اپنے مخاطبین کو انسانی معاملات میں حفظِ مراتب کی تعلیم دی ہے۔ یہ دراصل اخلاقیات کا باب ہے۔ جو شخص عمر، علم، عمل، تجربے یا کسی انسانی رشتے میں معتبر مقام رکھتا ہے، اس کے ساتھ احترام کا معاملہ کرنا تہذیب، شرافت اور دینی اخلاق کا تقاضا ہے۔ بڑوں کا احترام، اہلِ علم کی توقیر، اصحابِ فضل کی قدر، والدین اور بزرگوں کے ساتھ حسنِ سلوک، اور مجلس و گفتگو میں مراتب کا لحاظ، یہ سب ایک مہذب معاشرے کے بنیادی آداب ہیں۔

 

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حقیقت کو مختلف مواقع پر بیان فرمایا ہے۔ ایک موقع پر، جب گفتگو کا معاملہ پیش آیا، آپ نے فرمایا: ”کبّر، کبّر“، یعنی بات کا آغاز بڑے سے کیا جائے۔ اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی آپ نے یہ تعلیم دی کہ لوگوں کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے ان کے مرتبے کا لحاظ رکھا جائے۔ زیرِ بحث روایت میں بھی غالباً یہی بات بیان ہوئی ہے، اگرچہ اس کا خاص سیاق راویوں نے محفوظ نہیں کیا۔

 

اس بنا پر روایت کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ بڑوں کی بڑائی کو تسلیم کرنے، ان کا مقام پہچاننے اور ان کے حقوق ادا کرنے میں انسانوں کے لیے خیر ہے۔ یہ بڑائی صرف مذہبی یا علمی اکابر تک محدود نہیں، بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں جو لوگ عمر، علم، فضل، تجربے یا مرتبے میں بڑے ہوں، ان کے ساتھ احترام کا رویہ مطلوب ہے۔

 

اس پس منظر میں اس روایت کا زیادہ صحیح ترجمہ یوں ہونا چاہیے:
”برکت تمھارے بڑوں کے ساتھ ہے، یعنی ان کے احترام، توقیر اور حق شناسی میں خیر ہے۔“

 

اس میں کہیں یہ بات بیان نہیں ہوئی کہ بڑے ہمیشہ حق پر ہوتے ہیں۔ یہ بھی نہیں کہا گیا کہ ان سے شائستہ اختلاف ممنوع ہے۔ اس میں اکابر کے فہم پر علمی تنقید کو خلافِ دین قرار نہیں دیا گیا۔ اس سے یہ بات بھی ثابت نہیں ہوتی کہ ان کی تعبیرات سے اختلاف کرنا برکت سے محرومی کا سبب ہے، یا دین میں ہدایت کا سرچشمہ صرف یہ ہے کہ انسان ہر حال میں اکابر کے ساتھ وابستہ رہے۔

 

روایت کا تعلق علم کے باب میں تقلید سے نہیں، اخلاق کے باب میں احترام سے ہے۔ اس میں دینی تعبیرات کی حجیت بیان نہیں ہوئی، انسانی مراتب کی رعایت بیان ہوئی ہے۔ اس میں علمی اختلاف کی نفی نہیں، بزرگوں کی توقیر کی تعلیم ہے۔ اس میں فکر پر پابندی نہیں، اخلاق میں شائستگی کا حکم ہے۔

 

یہی فرق اصل میں ملحوظ رہنا چاہیے۔ اہلِ علم کا احترام دین کا تقاضا ہے، لیکن ان کی آرا کو دین کا معیار بنا دینا دین کا تقاضا نہیں۔ اکابر سے استفادہ علم کا راستہ ہے، لیکن ان کی غیر مشروط تقلید حق کی ضمانت نہیں۔ سلف کی قدر علمی دیانت ہے، لیکن سلف کے نام پر تحقیق، تنقید اور استدلال کو روک دینا علمی انحراف ہے۔

 

لہٰذا اس روایت کو اکابر کی غیر مشروط علمی اتھارٹی، تقلیدِ شخصی، یا آزاد علمی تحقیق کی نفی کے لیے پیش کرنا روایت کے محل کو بدل دینا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم یہ ہے کہ بڑوں کا احترام کیا جائے؛ یہ نہیں کہ حق و باطل کا معیار محض بڑوں کی رائے کو بنا لیا جائے۔

 

اکابر کے ساتھ رہنا اگر ان کے علم، دیانت، تجربے اور خدمتِ دین سے استفادہ کرنے کے معنی میں ہے تو یہ خیر ہے۔ لیکن اگر اس کا مطلب یہ ہے کہ دلیل کے بجائے شخصیت معیار بن جائے، تحقیق کے بجائے نسبت کافی سمجھی جائے، اور اختلاف کو بے ادبی قرار دے دیا جائے، تو یہ اس روایت کا مفہوم نہیں، بلکہ اس پر بعد کے فکری انحرافات کا بوجھ ڈال دینا ہے۔

 

محمد حسن الیاس

Leave a comment

Are you human? Please solve:Captcha