زندگی میں انسان نہ جانے کتنی خواہشیں اپنے دل میں لیے چلتا ہے۔ وقت گزرتا رہتا ہے، کچھ خواب پورے ہو جاتے ہیں اور کچھ خواہشیں راستے ہی میں کہیں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ خدا کا بے حد شکر ہے کہ زندگی نے میرے بہت سے خواب میری توقع سے بھی بڑھ کر پورے کیے۔
مگر ایک خواہش ایسی ہے جو پچھلے پندرہ برس سے محض دل میں بسی ہوئی نہیں، بلکہ رفتہ رفتہ میرے شعور اور احساس کا حصہ بن گئی ہے، اور آج بھی اسی شدت کے ساتھ میرے اندر زندہ ہے۔
اور شاید اس خواہش کی ایک خاص نسبت یہ بھی ہے کہ یہ صرف میری خواہش نہیں۔ ہمارے استادِ مکرم جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے دل میں بھی ہندوستان جانے کی آرزو نہایت شدت کے ساتھ موجود ہے…اور شاید مجھ سے کہیں بڑھ کر۔ ان کی یہ آرزو میرے اپنے شوق اور انتظار کو بھی مسلسل زندہ رکھتی ہے۔
پچھلے پندرہ برس میں تین مرتبہ میں نے اسے پورا کرنے کی کوشش کی۔ ہر بار امید باندھی، ہر بار لگا کہ شاید اب وہ لمحہ آ گیا ہے، اور ہر بار کسی نہ کسی مقام پر راستہ بند ہو گیا۔ کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوا کہ شاید اب دوبارہ کوشش کرنے کی ہمت بھی باقی نہیں رہی۔
مگر عجیب بات یہ ہے کہ یہ خواہش پھر بھی ختم نہیں ہوئی، بلکہ وقت کے ساتھ اور بڑھتی چلی گئی۔
شاید اس لیے کہ بعض خواہشیں محض کسی جگہ تک پہنچنے کی خواہش نہیں ہوتیں، بلکہ اپنے اندر موجود کسی بہت پرانی نسبت کو چھو لینے کی آرزو ہوتی ہیں۔ ہندوستان میرے لیے شاید اسی نسبت کا نام ہے۔۔۔
ایک ایسی دنیا، جسے میں نے کبھی دیکھا نہیں، مگر جو نہ جانے کب سے میرے اندر آباد ہے۔
اب زندگی میں ایک ہی خواہش بہت شدت سے باقی ہے۔۔۔
ایک بار ہندوستان کی سرزمین پر قدم رکھوں۔
انڈیا جاؤں۔
انڈیا جاؤں۔
اس مٹی کو اپنی آنکھوں سے دیکھوں، جس سے میری تاریخ، میری تہذیبی یادیں اور میرے دل کا نہ جانے کتنا حصہ وابستہ ہے۔
نہیں معلوم یہ خواہش کب پوری ہوگی، مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ ابھی میں نے ہار نہیں مانی۔
نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی
نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی
نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی
محمد حسن الیاس