Skip to content Skip to footer

قرآن مجید اور ہماری فقہ

“قرآن مجید اور ہماری فقہ”
(محمد حسن الیاس)

 

”ہدایہ“ فقہ حنفی کی معروف کتاب ہے۔اس کتاب کے آغاز میں ”باب صفۃ الصلوٰة“ ہے،جہاں سب سے پہلے صاحبِ ”ہدایہ“ نماز کے فرائض اور قرآنِ مجید سے اُن کی فرضیت کے دلائل بیان کرتے ہیں ۔
اِس مضمون میں ہم”ہدایہ“ کے مطابق قرآنِ مجید کے اُن دلائل کا ترتیب سے جائزہ لیں گے، جن سے نماز کے مختلف اعمال کی فرضیت ثابت کی گئی ہے ۔
صاحبِ ”ہدایہ“ اِس باب کے آغاز میں لکھتے ہیں:
فرائض الصلاة ستة: التحريمة لقوله تعالى: وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ. والمراد تكبيرة الافتتاح.(الہدایۃ 1 /47)

 

”نماز کے چھ فرائض ہیں۔ پہلا تکبیر تحریمہ،اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ‘۔ اور تکبیر سے مراد نماز شروع کرنے کی نیت ہے۔“

 

صاحبِ ”ہدایہ“نے نماز کے آغاز میں تکبیر کہنے کی فرضیت کو جس آیت سے ثابت کیا ہے، وہ سورۂ مدثر کی تیسری آیت ہے ۔ہم اِس آیت کو دیکھتے ہیں کہ کیا یہ نماز میں تکبیر کی فرضیت ثابت کرنے کے لیے نازل ہوئی ہے:

 

یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُ، قُمْ فَاَنْذِرْ، وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ۔وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْ، وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ، وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ،وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْ۔ (74 : 1-7)

 

”اے اوڑھ لپیٹ کر بیٹھنے والے، اٹھو اور انذار عام کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ اپنے رب ہی کی کبریائی کا اعلان کرو، اپنے دامن دل کو پاک رکھو، شرک کی غلاظت سے دور رہو اور (دیکھو)، اپنی سعی کو زیادہ خیال کرکے منقطع نہ کر بیٹھو اور اپنے پروردگار کے فیصلے کے انتظار میں ثابت قدم رہو ۔“

 

جس آیت سے تکبیر تحریمہ کی فرضیت کا استدلال کیا گیا ہے، وہ ہے :’وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ‘۔اِس کا ترجمہ ہے :”اپنے رب ہی کی کبریائی کا اعلان کرو“۔یعنی اعلان کرو کہ وہی سب سے بڑا، سب سے یگانہ اور یکتا ہے۔ اُس کے سوا جن کی بڑائی کا دعویٰ کیا جاتا ہے، وہ سب باطل ہیں۔

 

اِس آیت میں دور دور تک بھی تکبیر تحریمہ یا اُس کی فرضیت زیرِ بحث نہیں ہے۔یہاں ’كبَّر المُصلّي‘نہیں ہے ، بلکہ’وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ‘ہے۔آیات کے اِس سلسلے میں جس مقام پر یہ آیت ہے اور جس شان کی یہ آیت ہے، وہ خدا کی کبریائی کے اعلان کا تقاضا کر رہی ہے۔اِس آیت کا نماز میں تکبیر تحریمہ کی فرضیت سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ آیت کے الفاظ اس بات کو قبول ہی نہیں کرتے ہیں۔

 

صاحب ِ ”ہدایہ“ نماز کا دوسرا فرض اور اُس کی دلیل بیان کرتےہوئے لکھتے ہیں:
والقيام لقوله تعالٰى: وَقُومُوا لِلّٰهِ قَانِتِينَ.(الہدایہ 1 /47)
”نماز کا دوسرا فرض قیام ہے۔ اِس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشادہے:’وَ قُوۡمُوۡا لِلّٰہِ قٰنِتِیۡنَ‘۔ “

 

اِس پوری آیت کا اپنے پس منظر میں ترجمہ یہ ہے:
حٰفِظُوۡا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوۃِ الۡوُسۡطٰی ٭ وَ قُوۡمُوۡا لِلّٰہِ قٰنِتِیۡنَ.
(البقرہ 2: 238) ”
”یہ خدا کی شریعت ہے۔ اِس پر قائم رہنا چاہتے ہو تو) اپنی نمازوں کی حفاظت کرو، خاص کر اُس نماز کی جو (دن اور رات کی نمازوں کے) بیچ میں آتی ہے)، جب تمھارے لیے اپنی مصروفیتوں سے نکلنا آسان نہیں ہوتا)، اور (سب کچھ چھوڑ کر) اللہ کے حضور میں نہایت ادب کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ۔“

 

آیت کے جس حصے سے نماز میں قیام کی فرضیت کی دلیل دی گئی ہے، وہ ’وَ قُوۡمُوۡا لِلّٰہِ قٰنِتِیۡنَ‘ ہے۔ سورۂ بقرہ کی آیت 238میں یہاں’قُوۡمُوۡا ‘نماز میں کیے جانے والے قیام کے لیے بیان ہی نہیں ہوا، بلکہ عبادت کے اُس پورے عمل میں ادب کے ساتھ پیش ہونے کے لیے استعمال ہوا ہے۔بالکل اُسی طرح، جس طرح ہم کہتے ہیں:’قد قامت الصلوٰۃ‘،یعنی نماز کھڑی ہوگئی ہے۔نماز کے اعمال میں قیام کی فرضیت سرے سے اِس آیت میں زیرِ بحث ہی نہیں۔ ’قُوۡمُوۡا ‘محض نماز کے ایک جز قیام کی فرضیت کے بیان میں نہیں ہے، بلکہ اِس سے مراد یہ ہے کہ اِس پورے عمل کے لیے جب اٹھ کھڑے ہوں تو فرماں برداری اور ادب کے ساتھ خدا کے روبرو پیش ہوا جائے۔

 

صاحبِ ”ہدایہ“ اس کے بعد لکھتے ہیں :
والقراءة لقوله تعالٰى: فَاقۡرَءُوۡا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ.(الہدایہ1 /47)

 

”تیسرا فرض قراءت ہے۔اِس کی دلیل ہے : ’فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ‘۔ “
زیرِ بحث آیت اپنے سیاق و سباق کے ساتھ یہ ہے:

 

اِنَّ رَبَّکَ یَعۡلَمُ اَنَّکَ تَقُوۡمُ اَدۡنٰی مِنۡ ثُلُثَیِ الَّیۡلِ وَ نِصۡفَہٗ وَ ثُلُثَہٗ وَ طَآئِفَۃٌ مِّنَ الَّذِیۡنَ مَعَکَ ؕ وَ اللّٰہُ یُقَدِّرُ الَّیۡلَ وَ النَّہَارَ ؕ عَلِمَ اَنۡ لَّنۡ تُحۡصُوۡہُ فَتَابَ عَلَیۡکُمۡ فَاقۡرَءُوۡا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الۡقُرۡاٰنِ ؕ عَلِمَ اَنۡ سَیَکُوۡنُ مِنۡکُمۡ مَّرۡضٰی ۙ وَ اٰخَرُوۡنَ یَضۡرِبُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ یَبۡتَغُوۡنَ مِنۡ فَضۡلِ اللّٰہِ ۙ وَ اٰخَرُوۡنَ یُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۫ۖ فَاقۡرَءُوۡا مَا تَیَسَّرَ مِنۡہُ ۙ وَ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَ اَقۡرِضُوا اللّٰہَ قَرۡضًا حَسَنًا ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوۡا لِاَنۡفُسِکُمۡ مِّنۡ خَیۡرٍ تَجِدُوۡہُ عِنۡدَ اللّٰہِ ہُوَ خَیۡرًا وَّ اَعۡظَمَ اَجۡرًا ؕ وَ اسۡتَغۡفِرُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ .(المزمل 73: 20)

 

” (ہم نے، اے پیغمبر، تم کو حکم دیا تھا کہ رات میں قیام کرو)۔ تمھارا پروردگار خوب جانتا ہے کہ تم کبھی دوتہائی رات کے قریب، کبھی آدھی رات اور کبھی ایک تہائی رات اُس کے حضور میں کھڑے رہتے ہو اور ایک گروہ تمھارے ساتھیوں میں سے بھی۔ (لوگوں کی ضرورت کے لحاظ سے) اللہ ہی رات اور دن کی تقدیر ٹھیراتا ہے۔ اُس نے جان لیا کہ تم لوگ اِسے نباہ نہ سکو گے تو اُس نے تم پر عنایت کی نظر کی۔ چنانچہ اب قرآن میں سے جتنا ممکن ہو، اِس نماز میں پڑھ لیا کرو۔ اُسے معلوم ہے کہ آگے تم میں بیمار بھی ہوں گے، اور کچھ دوسرے وہ بھی جو خدا کے فضل کی تلاش میں سفر کریں گے، اور کچھ دوسرے جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے اُٹھیں گے۔ اِس لیے جتنا ممکن ہو، اِس میں سے پڑھ لیا کرو اور (اپنے شب و روز میں) نماز کا اہتمام رکھو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور (دین و ملت کی ضرورتوں کے لیے) اللہ کو قرض دو، اچھا قرض۔ اور (یاد رکھو کہ) جو کچھ بھلائی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے، اُسے اللہ کے ہاں اُس سے بہتر اور ثواب میں برتر پاؤ گے۔ اللہ سے معافی مانگتے رہو۔ بے شک ،اللہ غفور و رحیم ہے۔“

 

اِس آیت میں جس بات کو محل استدلال قرار دیا گیا ہے،وہ’فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ‘ہے،یعنی قرآن میں سے جتنا ممکن ہو، پڑھ لیا کرو۔

 

آیت کا سیاق یہاں یقیناً یہی بیان کر رہا ہے کہ قرآن پڑھنے سے مراد یہاں نماز میں قرآن پڑھنا ہے۔لیکن یہ آیت دراصل نماز میں قرآن پڑھنے کی فرضیت میں نازل ہی نہیں ہوئی، بلکہ یہ تو ایک بالکل دوسری بات بیان کر رہی ہے۔

 

صاحبِ ”البیان“ اِس حوالے سے لکھتے ہیں:
”نمازِ تہجد کا جو حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سورہ کی ابتدا میں دیا گیا ہے، یہ عام مسلمانوں کے لیے اُس میں تخفیف کی آیت ہے جو ہجرت مدینہ سے پہلے کسی وقت نازل ہوئی اور مضمون کی مناسبت سے اِسی سورہ کا حصہ بنا دی گئی ہے۔ اِس تخفیف کی ضرورت اِس لیے پیش آئی کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے شوق میں آپ کے بعض ساتھیوں نے یہ نماز اپنے اوپر لازم کر لی تھی۔ دراں حالیکہ نماز تہجد کا یہ حکم آپ کے لیے خاص تھا اور اپنی قوم کو انذار کی جو ذمہ داری بہ حیثیت پیغمبر آپ پر ڈالی گئی تھی،اُس میں صبر و ثبات کے لیے دیا گیا تھا۔“(5 /330)

 

یعنی یہاں نماز کے اعمال میں قراء ت کی فرضیت بیان کرنا زیرِ بحث نہیں، بلکہ اِس آیت میں تہجد کی نماز میں تخفیفِ قراءت کے حوالے سے ایک ہدایت دی گئی ہے، جس سے قراءت کی فرضیت کا استدلال کر لیا گیا ہے۔

 

اِس کے بعد صاحبِ ”ہدایہ“ مزید فرائض لکھتے ہیں :
والركوع والسجود لقوله تعالٰى: ارْكَعُوْا وَاسْجُدُوْا.( 1 /47) ”رکوع اور سجدہ: اِس کی دلیل قرآن کی آیت’ارْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا‘ ہے۔“

 

سورۂ حج کی اِس آیت کا ترجمہ اپنے پس منظر کے لحاظ سے یہ ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا ارۡکَعُوۡا وَ اسۡجُدُوۡا وَ اعۡبُدُوۡا رَبَّکُمۡ وَ افۡعَلُوا الۡخَیۡرَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ. (22 : 77)
”ایمان والو، (اِن کا عہد تمام ہوا، اب تمھارا دور شروع ہو رہا ہے تو) رکوع و سجود کرو اور اپنے پروردگار کی بندگی کرو اور نیکی کے کام کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔“
زیرِ نظر آیت میں رکوع اور سجدہ کس معنی میں ہیں، اس حوالے سے صاحبِ ”البیان“ لکھتے ہیں:

 

”یعنی گھٹنوں پر جھک جاؤ اور اپنا سر سجدے میں ڈال دو کہ خدا کی عظمت و جلالت کے اعتراف کی اِس سے بڑھ کر کوئی صورت نہیں ہے۔ چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ انسان اگر پورے شعور کے ساتھ رکوع و سجود کرے اور اُس پر مداومت رکھے تو کبھی استکبار میں مبتلا نہیں ہوتا اور ہمیشہ تیار رہتا ہے کہ کوئی حق آئے تو بغیر کسی تردد کے اُس کے آگے سرتسلیم خم کر دے۔
اصل میں ’عبادت‘ کا لفظ آیا ہے اور یہ جامع مفہوم میں ہے۔ رکوع و سجود کی ہدایت کے بعد، ظاہر ہے کہ یہ خاص کے بعد عام کا ذکر ہے۔ چنانچہ مدعا یہ ہے کہ زندگی کے تمام معاملات میں خدا ہی کی بندگی اور اُسی کی اطاعت اختیار کرو۔“(البیان 3 / 374 -375)

 

گویا یہاں رکوع و سجود نماز کے اعمال کے طور پر سرے سے بیان ہی نہیں ہو رہے، یہاں یہ محض ’عبادت‘ کی تعبیر کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔

 

ہماری فقہی روایت میں قرآنِ مجید سے اِس نوع کے استدلال کی مثالیں محض چند ایک نہیں، بلکہ بہ کثرت مل جاتی ہیں۔ اِس منہج فہم میں دو بنیادی غلطیاں کارفرما ہیں:

 

پہلی غلطی یہ ہے کہ قرآنِ مجید سے استدلال کرتے وقت اِس بات کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے کہ خود قرآن کسی بات کو کس اسلوب، کس سیاق اور کس محل میں بیان کر رہا ہے۔ یعنی الفاظ سے وہ معنی اخذ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جو خود کلام کے نظم، اُس کے موقع و محل اور اُس کے مدعا سے ہم آہنگ نہیں ہوتے۔ قرآن کی آیت محض چند لفظوں کا مجموعہ نہیں ہوتی کہ اُن میں سے کوئی لفظ لے کر اُس سے ایک مستقل فقہی حکم کشید کر لیا جائے۔ وہ ایک زندہ کلام ہے، جس کا ہر جملہ اپنے سابق و لاحق، اپنے مخاطب اور اپنے متعین مدعا کے ساتھ جڑا ہوا ہے،اِس لیے صحیح استدلال کی پہلی شرط یہ ہے کہ دیکھا جائے کہ قرآن یہاں کیا کہہ رہا ہے؟ کس بات کے لیے کہہ رہا ہے؟ اور جس معنی کو ہم اُس سے اخذ کرنا چاہتے ہیں، کیا خود کلام اُسے قبول بھی کرتا ہے یا نہیں؟ اگر کلام کا نظم، اُس کا سیاق اور اُس کی اندرونی شہادت ہمارے اخذ کردہ مفہوم کی تائید نہیں کرتے تو محض کسی لفظی مناسبت سے اُس سے حکم برآمد کرنا درست نہیں ہوگا۔ فقہ کے مختلف ابواب میں اِس کی بے شمار مثالیں مل جاتی ہیں کہ آیت کا اصل مدعا کچھ اور ہے، مگر اُس سے ایک دوسرے باب کا جزوی حکم ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

 

دوسری بنیادی غلطی یہ ہے کہ دلائل کے انتخاب میں اصل ماخذ کی تعیین کو درست طور پر نہیں سمجھا گیا۔ یہ بات کسی طرح بھی لازم نہیں کہ دین کے ہر عملی حکم کی فرضیت براہِ راست قرآنِ مجید ہی سے ثابت کی جائے۔ یہ سوال کہ دین کی کسی چیز کا ثبوت کہاں سے لیا جائے گا؟ اِس کا فیصلہ ہم اپنی پسند یا اپنے ذہنی قیاس سے نہیں کرتے۔ یہ فیصلہ بھی اُسی ہستی نے کر دیا ہے، جس نے دین دیا ہے۔ دین کا اصل اور تنہا ماخذ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ والا صفات ہے۔ آپ ہی کے ذریعے سے ہمیں قرآن ملا ہے اور آپ ہی کے ذریعے سے سنت ملی ہے۔ دونوں کا منبع ایک ہی ہے اور دونوں کی حجیت بھی اُسی نسبت سے قائم ہے۔

 

نماز اِس کی سب سے نمایاں مثال ہے۔ یہ محض کوئی ایسا عمل نہیں جو پہلی مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شروع ہوا ہو، بلکہ یہ انبیا کی سنت کے طور پر پہلے سے جاری تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسے نہ صرف خود پورے اہتمام کے ساتھ ادا کیا، بلکہ امت کو یہ تعلیم بھی دی کہ نماز اُسی طرح پڑھو ،جس طرح مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ اس کے بعد امت کے اجماع اور تواترِ عملی نے اُسے نسل در نسل پوری قطعیت کے ساتھ منتقل کیا۔ چنانچہ نماز کے اعمال، اُس کی ہیئت، اُس کے ارکان اور اس کا عملی نظم ہمیں کسی نظری استنباط سے نہیں، بلکہ امت کے مسلسل عمل سے ملا ہے۔ یہ نقل علم کا ایسا طریقہ ہے، جس میں لوگوں کی عظیم جماعت ایک ہی حقیقت کو اس طرح منتقل کر رہی ہوتی ہے کہ اُس کا کسی جھوٹ یا غلطی پر مجتمع ہو جانا عقلًا محال ہوتا ہے۔ چنانچہ نماز ہمیں اُسی درجے کے یقین کے ساتھ ملی ہے، جس درجے کے یقین کے ساتھ قرآن ملا ہے۔

 

اِس لیے نماز کے اعمال کو جاننے کے لیے قرآن کی آیات سے الگ الگ فقہی جزئیات کشید کرنے کی ضرورت سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتی۔ وہ پوری سنتِ نبوی اور امت کے تواترِ عملی کی بنا پر پہلے ہی سے معلوم اور متعین ہیں۔ قرآن کا طریقہ یہ نہیں کہ ہر سنتِ ثابتہ کو ازسرِ نو اپنے الفاظ سے ثابت کرے، البتہ وہ اُن کی تذکیر اور تائید و تصویب ضرور کرتا ہے۔ اُس سے وہی چیز لی جائے گی، جو وہ خود اپنے سیاق اور اپنے مدعا کے ساتھ دے رہا ہے۔ اور سنت سے وہی چیز لی جائے گی، جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت میں جاری کیا اور امت نے اجماع و تواتر کے ساتھ محفوظ رکھا۔ یہی صحیح منہج ہے اور اِس کو اختیار نہ کرنے سے وہ الجھنیں پیدا ہوتی ہیں، جن کی مثالیں ہمارے فقہی استدلالات میں بار بار سامنے آتی ہیں۔

 

(2015ء)

Leave a comment

Are you human? Please solve:Captcha