Skip to content Skip to footer

مولانا حمید الدین فراہیؒ کی قرآنی بصیرت

جمعیۃ علماے ہند کا ترجمان ’الجمعیۃ‘ ۱۴ جولائی ۱۹۳۶ء کی اشاعت میں لکھتا ہے:

”مولانا حمید الدین فراہی مرحوم و مغفور اُن مخصوص بزرگوں اور کتابِ الٰہی کے عاشقوں میں سے ایک تھے، جن پر جنابِ الٰہی سے فہمِ قرآن کی راہیں کشادہ ہوئیں اور سعادتِ ازلی نے جن کو قرآن کریم کے اسرار و حِکم کا عارفِ کامل بنایا۔

مرحوم نہ صرف اللہ کی پاک اور روشن کتاب کے عاشق ہی تھے، بلکہ عربی زبان، عربی ادبیات اور عربی علوم و آداب کے ایک زبردست اور فقید المثال عالم بھی تھے۔

آپ نے قرآن کریم کا مطالعہ یونان کے ناپاک فلسفہ کی عینک لگا کر نہیں، بلکہ اُس روشنی کی مدد سے کیا جو مخصوص بندوں کو مبدأِ فیّاض سے عطا کی جاتی ہے اور جس کی مدد سے قرآن کو قرآن ہی کے ذریعے سمجھنے کا ملکہ حاصل ہو جاتا ہے۔

مرحوم کی علمی قابلیت اور معرفتِ کتابِ الٰہی کے متعلق دنیاے اسلام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ وہ اپنی فکری صلاحیت، اجتہادی بصیرت اور قرآن کی معرفت میں اپنا نظیر نہیں رکھتے تھے۔

بلاشبہ مرحوم کی بے پناہ قابلیت کا اندازہ اُن کی قرآنی تصانیف اور اجزاے تفسیر سے لگایا جا سکتا ہے، اور معلوم کیا جا سکتا ہے کہ مرحوم کی نسبت جو کہا گیا ہے، وہ شائبۂ مبالغہ سے قطعاً پاک ہے۔

مرحوم کی علمی اور قرآنی قابلیت کے جو معترف آج بقید حیات ہیں، اُن میں حضرت مولانا ابوالکلام آزاد اور علامہ سید سلیمان ندوی خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔

مرحوم علامہ شبلی اُن کی استعدادِ قرآنی سے تاحیات بہرہ‌ اندوز ہوتے رہے، اور عرب کے جید اور مفکر علما اب تک اُن کی بے نظیر تصنیف ’إمعان فی أقسام القرآن‘ کو حیرت اور استحسان کی نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ خدمتِ قرآن کی برکت سے مرحوم پر رحمت و مغفرت کے پھول برسائے اور اُن کے علوم و اجتہادات سے مسلمانوں کو بہرہ‌ ور ہونے کی توفیق دے۔“

Leave a comment

Are you human? Please solve:Captcha