“بنی اسرائیل اور ہم”
(محمد حسن الیاس)
قرآنِ مجید میں بنی اسرائیل کا ذکر محض ایک تاریخی قوم کے طور پر نہیں آیا، بلکہ ایک ایسی امت کے طور پر بھی آیا ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے زمانے میں علم، شریعت، نبوت اور ایک خاص منصبی فضیلت سے نوازا تھا۔ اُن کے پاس وحی تھی، اُن کے اندر انبیا مبعوث ہوئے، اُن کو دینی قیادت کا موقع دیا گیا اور اُن سے یہ توقع تھی کہ وہ اللہ کی ہدایت کے علم بردار بن کر انسانوں کے لیے خیر، عدل اور حق کا نمونہ بنیں گے۔
لیکن بنی اسرائیل کی تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ جس فضیلت کو ذمہ داری بننا چاہیے تھا، وہ رفتہ رفتہ اُن کے اندر استحقاقِ برتری کے احساس میں بدل گئی۔ یہی وہ بنیادی نفسیاتی انحراف تھا، جس سے اُن میں بہت سی دینی اور اخلاقی خرابیاں پیدا ہوئیں۔
قرآنِ مجید کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ اُنھوں نے اپنے آپ کو محض ایک ہدایت یافتہ قوم نہیں سمجھا، بلکہ اِس زعم میں مبتلا ہو گئے کہ وہ خدا کے مقرب، اُس کے محبوب اور اُس کے چنیدہ بندے ہیں، اِس طرح کہ گویا نجات اور قبولیت اُن کا پیدایشی حق ہے۔ جب کوئی قوم اپنے انتخاب کو ذمہ داری کے بجاے دائمی استحقاق سمجھنے لگے تو اُس کے اندر ایک خفیف سا غرور آہستہ آہستہ استکبار میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ پھر وہ اپنے آپ کو صرف دوسروں سے بہتر نہیں سمجھتی، بلکہ دوسروں کے لیے خیر کا ذریعہ بننے کے بجاے اُن پر برتری جتانے لگتی ہے۔ یوں فضیلت خدمت کے بجاے تفوق کا سرچشمہ بن جاتی ہے۔
یہی جذبۂ تفوق جب ایک اجتماعی نفسیات بن گیا تو اُن کے دینی رویے بھی اِسی رنگ میں ڈھلنے لگے۔ اُن کے اندر یہ احساس پیدا ہوا کہ چونکہ ہم اللہ کے پسندیدہ ہیں، اِس لیے ہماری بخشش بھی یقینی ہے اور اگر ہم سے کوئی خطا سرزد ہو بھی جائے تو اِس کا انجام دوسروں جیسا نہ ہو گا۔ یہ ذہنیت انسان کو محاسبۂ نفس سے دور لے جاتی ہے، کیونکہ جسے اپنی نجات پر پہلے ہی اطمینان ہو جائے، وہ اپنی اصلاح کی ضرورت کم محسوس کرتا ہے۔ اِسی لیے قرآن نے بار بار اُن کے اِس زعم کو چیلنج کیا اور واضح کیا کہ اللہ کے ہاں اصل معیار حسب و نسب، گروہی انتساب یا مذہبی دعویٰ نہیں، بلکہ ایمان، عمل اور اخلاقی صدق ہے۔
اِس اجتماعی غرور کا ایک نمایاں مظہر اُن کے اہل علم کے رویوں میں بھی سامنے آیا۔ دینی علم، جو اصل میں تواضع، امانت اور رہنمائی کا ذریعہ بننا چاہیے تھا، اُن کے علما کے ہاتھوں برتری کے احساس کا وسیلہ بن گیا۔ وہ عوام کو حقیر سمجھتے، اپنے آپ کو ایک بالاتر طبقہ محسوس کراتے اور یوں دین کے نام پر ایک ایسی امتیازی اور فاصلاتی فضا پیدا کرتے، جس میں عام لوگ ہدایت کے سادہ حق سے محروم ہو جاتے۔ علم جب خدمت کے بجاے طبقاتی فوقیت کا ذریعہ بن جائے تو وہ نور نہیں رہتا، اقتدار کی ایک شکل بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے بارہا اُن لوگوں پر تنقید کی، جو اللہ کی کتاب اٹھائے ہوئے تھے، مگر اُس کے تقاضوں کو اپنی شخصیت اور رویوں میں منعکس نہیں کرتے تھے۔
اُن کی ایک اور بڑی گم راہی یہ تھی کہ وہ تورات کی ایک خاص تعبیر پر اصرار کرتے تھے اور اُس کے سوا ہر فہم کو فتنہ، انحراف یا گم راہی قرار دیتے تھے۔ یہ روش دراصل اُس جمود کی علامت ہے، جس میں حق کی تلاش ختم ہو جاتی ہے اور اُس کی جگہ اپنے موروثی فہم کا دفاع اصل مقصد بن جاتا ہے۔ جب کوئی گروہ یہ سمجھنے لگے کہ ہمارے اکابر کی تعبیر ہی حق کی آخری شکل ہے تو پھر وحی کی اصل روح پر غور، دلیل کے لیے کشادگی اور اصلاح کی آمادگی، سب کم زور پڑنے لگتے ہیں۔ یہی رویہ بعد میں اِس درجے تک پہنچا کہ اگر کسی صحیح بات کی تائید دلیل سے بھی ہو، تب بھی وہ اُسے صرف اِس بنا پر قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوتے کہ اپنے بڑوں کو اُس پر نہیں پایا۔
اِس فکری جمود کے ساتھ ایک اور خطرناک انحراف بھی پیدا ہوا اور وہ شریعت میں اپنی خواہش کے مطابق تصرف تھا۔ اللہ کے حلال کو حرام کرنا اور اُس کے حرام کو حلال قرار دینا دراصل بندگی کی بنیاد کو متزلزل کر دیتا ہے، کیونکہ شریعت میں اصل حق اللہ کا ہے، نہ کہ کسی گروہ، طبقے یا عالم کا۔ لیکن جب مذہبی اختیار کو اپنی گروہی مصلحتوں کے تابع کر لیا جائے تو انسان خدا کے حکم کی تعبیر نہیں کرتا، اُس کی جگہ خود حکم ساز بن بیٹھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اِس روش کو نہایت سختی سے رد کیا، کیونکہ یہ صرف ایک فقہی خطا نہیں، ربوبیت کے حق میں مداخلت کے مترادف ہے۔
اُن کے دینی انحراف کا ایک اور پہلو یہ تھا کہ وہ لوگوں کو دنیا ہی میں بخشش، نجات یا خدا کی خاص رضا کی نوید سنانے لگتے تھے۔ اِس طرح اُنھوں نے دین کو تزکیہ اور جواب دہی کے بجاے ایک ایسی نفسیاتی آسودگی کا وسیلہ بنا دیا، جس میں انسان اپنے حال سے مطمئن رہے اور آخرت کے حقیقی تقاضوں سے غافل ہو جائے۔ مذہبی پیشوائیت کا یہ استعمال ہمیشہ خطرناک ہوتا ہے، کیونکہ اِس میں خدا کے فیصلے کو انسان اپنے قبضے میں لینے لگتا ہے اور عوام کے سامنے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ نجات کا دروازہ خدا کے اخلاقی معیار سے نہیں، ہمارے طبقاتی یا مذہبی نظام سے کھلتا ہے۔
اُن کی اجتماعی زندگی میں اِس فساد کا اظہار صرف مذہبی تعبیرات تک محدود نہیں رہا، بلکہ سیاسی اور قانونی میدان میں بھی نمایاں ہوا۔ قرآن میں اُن کے اِس طرزِ عمل کی نشان دہی ملتی ہے کہ وہ ذاتی یا گروہی مفادات کے لیے جنگیں کرتے، پھر اُنھیں خدا کی جنگ کا عنوان دے دیتے اور اُسی کے پردے میں مالی یا سیاسی فوائد حاصل کرتے۔ اِسی طرح قیدیوں سے فدیہ لینے یا معاہدات کے باب میں بھی ان کے اندر اصولی یکسانی باقی نہ رہی۔ وہ اپنے اور دوسروں کے لیے الگ الگ پیمانے اختیار کرتے، یہود اور غیر یہود کے لیے قانون کی تشریح مختلف کرتے اور انصاف کو حق کے بجاے تعلق، گروہ اور مفاد کے تابع بنا دیتے۔ قانون جب عدل کے بجاے شناخت کا تابع ہو جائے تو وہ قانون نہیں رہتا، طاقت کی توسیع بن جاتا ہے۔
اِس فساد کی ایک نہایت سنگین شکل یہ بھی تھی کہ وہ محض اختلاف یا مخالفت کی بنیاد پر ناحق قتل تک جا پہنچتے تھے۔ انبیا کی تکذیب، حق گو لوگوں کو خاموش کرانے کی کوشش اور مذہبی یا قانونی فتووں کے ذریعے سے لوگوں کو نشانہ بنانا اِسی ذہنیت کی مختلف صورتیں تھیں۔ جب مذہب انسان کے اندر خشیت، عدل اور احتیاط پیدا کرنے کے بجاے گروہی غلبے کا ہتھیار بن جائے تو پھر قتل بھی دین کے عنوان سے کیا جاتا ہے اور ظلم بھی فتویٰ کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید نے بار بار اُن کے اِس رویے کو بے نقاب کیا کہ وہ خدا کی آیات کو ذاتی مفاد کے لیے بیچتے تھے، یعنی وحی اور فتویٰ، دونوں کو اپنے اقتدار، منفعت اور جماعتی غرض کے تابع کر دیتے تھے۔
اُن کی ایک اور بنیادی خرابی معاہدات کی خلاف ورزی تھی۔ اجتماعی زندگی میں عہد کی پاس داری تہذیب کی بنیاد ہے، لیکن جب ایک قوم اپنے مفادات کو اصولوں سے بڑا سمجھنے لگے تو وہ معاہدے کو بھی مستقل اخلاقی ذمہ داری کے بجاے ایک وقتی تدبیر سمجھنے لگتی ہے۔ قرآن نے بنی اسرائیل کے بارے میں واضح کیا کہ وہ بار بار عہد کرتے اور پھر اُسے توڑ دیتے تھے۔ یہ صرف سیاسی بے وفائی نہیں تھی، بلکہ اِس بات کی علامت تھی کہ اُن کے ہاں مذہبی شعور اور عملی کردار کے درمیان ایک گہری دراڑ پیدا ہو چکی تھی۔
اُن کے مذہبی انحرافات میں ظاہر پرستی بھی شامل تھی۔ دین کی روح، یعنی خشیت، توبہ، عدل، تواضع اور حق کے لیے خضوع کے بجاے اُن کی توجہ زیادہ تر رسوم، الفاظ، ظاہری تشخص اور قانونی موشگافیوں پر مرکوز ہو گئی۔ اِس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ شریعت کی اصل غایت پس منظر میں چلی گئی اور اُس کا ظاہری ڈھانچا پیش منظر میں آ گیا۔ جب ایسا ہوتا ہے تو انسان بہ ظاہر دین دار رہتا ہے، مگر اُس کے باطن میں وہ صفات پیدا نہیں ہوتیں، جو دین کا اصل مطلوب ہیں۔
اِس کے ساتھ ایک اور خرابی یہ تھی کہ جب اُنھیں اُن کے فساد، خطا یا انحراف پر متنبہ کیا جاتا تو وہ اُسے تسلیم کرنے کے بجاے اصلاح، مصلحت یا دینی خدمت کا نام دے دیتے۔ یہ خود فریبی کسی بھی مذہبی گروہ کے لیے نہایت خطرناک بیماری ہے، کیونکہ جس قوم کے اندر اپنی غلطی کو غلطی مان لینے کا اخلاقی حوصلہ ختم ہو جائے، وہ اصلاح کے دروازے خود اپنے اوپر بند کر لیتی ہے۔ قرآن نے اُن کے بارے میں یہی بتایا کہ جب اُن سے کہا جاتا کہ زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے کہ ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں گناہ صرف عمل نہیں رہتا، شعور کی خرابی بن جاتا ہے۔
الغرض، اُن کی بہت سی گم راہیوں کا خلاصہ یہ ہے کہ اُنھوں نے وحی کو اپنے لیے حاکم بنانے کے بجاے اپنے موروثی تصورات، اپنے علما، اپنے اکابر اور اپنے مفادات کو حاکم بنا لیا۔ چنانچہ اگر دلیل سامنے بھی آتی تو اُس کا جواب یہ ہوتا کہ ہم نے اپنے بڑوں کو اِس کے خلاف پایا ہے۔ یہ تقلیدی جمود دراصل ہر اُس امت کے لیے تنبیہ ہے، جو حق کو اِس لیے رد کر دے کہ وہ اُس کے مروجہ فہم، اُس کے مذہبی اقتدار یا اُس کے تاریخی وقار کے خلاف پڑتا ہے۔
قدیم یہود کی یہ صفات صرف ایک تاریخی بیان نہیں، ایک اخلاقی و دینی عبرت بھی ہیں۔ قرآن کا مقصد صرف اُن کے ماضی کی مذمت کرنا نہیں، بلکہ بعد کی امتوں کو یہ دکھانا بھی ہے کہ جب کوئی امت اپنے انتخاب کو ذمہ داری کے بجاے استحقاق سمجھے، علم کو تواضع کے بجاے تفوق کا ذریعہ بنائے، شریعت کو بندگی کے بجاے اقتدار کا آلہ بنائے اور وحی کو اپنے اکابر و مفادات کے تابع کر دے تو پھر وہ بھی اِسی طرح کے انحرافات میں مبتلا ہو سکتی ہے۔ اِس لیے بنی اسرائیل کی تاریخ دراصل دوسروں کے لیے ایک آئینہ ہے۔ اِس میں محض ایک قوم کا ماضی نہیں، ہر مذہبی معاشرے کے لیے ایک دائمی تنبیہ پوشیدہ ہے۔