علمی روایت میں اختلاف اپنی اصل قدر اسی وقت پیدا کرتا ہے جب وہ سنجیدگی، تحقیق، تہذیب اور استدلال کے ساتھ سامنے آئے۔ فکر و نظر کے اختلافات اگر علمی وقار کے ساتھ زیرِ بحث آئیں تو وہ نہ صرف فہم و بصیرت کو وسعت دیتے ہیں، بلکہ مکالمے، نقد اور تحقیق کی زندہ روایت کو بھی آگے بڑھاتے ہیں۔
ہمیں یہ جان کر خوشی ہوئی کہ غامدی صاحب کے نظریۂ بیان، بالخصوص قرآن و سنت کے باہمی تعلق، پر ڈاکٹر محمد زاہد صدیق مغل صاحب اور ڈاکٹر مشرف بیگ اشرف صاحب کی کتاب “غامدی نظریۂ بیان و حدیث: اصولِ فقہ کی روشنی میں تجزیاتی مطالعہ” طباعت کے مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔
مصنفین نے اس اہم اور دقیق موضوع پر محنت، توجہ اور سنجیدہ علمی کاوش کے ساتھ اپنا نقطۂ نظر پیش کیا ہے۔ غامدی صاحب کے فکر سے اتفاق ہو یا اختلاف، اس نوعیت کے علمی کاموں کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے، کیونکہ علم کی روایت اسی وقت ثمر بار ہوتی ہے جب مختلف آرا دلیل، تحقیق، دیانت اور وقار کے ساتھ سامنے آتی ہیں۔
ہم مصنفین کو اس علمی کاوش پر مبارک باد پیش کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ یہ کتاب قرآن و سنت، حدیث، اصولِ فقہ اور نظریۂ بیان کے مباحث سے دلچسپی رکھنے والے قارئین، طلبہ اور اہلِ علم کے لیے ایک وقیع علمی اضافہ ثابت ہوگی۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کاوش کو علم، خیر، افہام و تفہیم اور مثبت علمی مکالمے کا ذریعہ بنائے۔
محمد حسن الیاس