Skip to content Skip to footer

غامدی صاحب اور مذہبی شناخت کا امتحان

“غامدی صاحب اور مذہبی شناخت کا امتحان”

 

انسان اپنی شناخت کے معاملے میں غیر معمولی طور پر حساس واقع ہوا ہے۔ وہ صرف اپنے وجود، خاندان اور معاشرتی مقام ہی کا تحفظ نہیں کرتا، بلکہ ان تصورات، نسبتوں اور روایات کی بھی حفاظت کرتا ہے جن سے اس کی شخصیت بنتی اور اس کا شعورِ ذات تشکیل پاتا ہے۔ مذہب،زبان،مکتبِ فکر، تہذیب اور علمی روایت اسی شناخت کے نمایاں مظاہر ہیں۔

 

یہ وابستگی اپنی اصل میں فطری ہے اور بڑی حد تک ناگزیر بھی۔ اسی سے انسان کو فکری استحکام ملتا، وہ اپنے ماضی سے مربوط رہتا اور ایک تاریخی و تہذیبی تسلسل میں اپنے مقام کو پہچانتا ہے۔ شناخت کسی روایت کے بنیادی تصورات کو محفوظ رکھتی اور اسے ہر نئے رجحان کے ساتھ بہہ جانے سے روکتی ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بنیادی تصورات سے وفاداری، ان کی کسی قائم شدہ تعبیر کے تحفظ میں بدل جائے۔ پھر وہی شناخت جو انحراف سے بچاتی ہے، غور و فکر، تجدید اور علمی ارتقا کی راہ بھی محدود کرنے لگتی ہے۔

 

اسی لیے کسی نئے علمی رجحان کے سامنے شناخت کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ اگر وہ اپنے مکتب، اپنے مدرسے یا مانوس اہلِ علم کے اندر سے ابھرے تو اسے سمجھنا اور قبول کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے؛ لیکن وہی رجحان کسی ایسے علمی دائرے سے سامنے آئے جسے ہم اپنی شناخت سے باہر سمجھتے ہوں تو اس کے استدلال سے پہلے اس کی اجنبیت محسوس ہونے لگتی ہے۔ بظاہر فیصلہ دلیل پر ہو رہا ہوتا ہے، مگر پس منظر میں یہ اضطراب بھی کام کر رہا ہوتا ہے کہ یہ فکر کہاں سے آئی ہے اور اسے قبول کرنے سے ہماری مانوس نسبتوں پر کیا اثر پڑے گا۔

 

مذہبی تاریخ میں یہ کیفیت نئی نہیں ہے۔ قرآن انبیا کی سرگزشتوں میں بار بار اس انسانی کمزوری کو نمایاں کرتا ہے کہ آدمی کبھی پیغام سے پہلے اس کے حامل کو دیکھنے لگتا ہے اور کہتا ہے کہ یہی شخص کیوں؟ ہمارے معروف لوگوں میں سے کوئی کیوں نہیں؟ شناخت جب حق کو پرکھنے کا معیار بن جائے تو نئی رائے تو درکنار، خدا کا پیغمبر بھی اجنبی محسوس ہو سکتا ہے۔ پھر آدمی غیر شعوری طور پر یہ چاہنے لگتا ہے کہ حق بھی اسی راستے سے آئے جس سے وہ پہلے سے مانوس ہے۔

 

میری طالبِ علمانہ رائے میں استادِ مکرم جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے علمی کام کے بارے میں ہمارے مذہبی حلقوں کے رویّے کو بھی اسی پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔ گزشتہ چند دہائیوں کے ردِعمل کو سامنے رکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف بعض آرا سے اختلاف کا نہیں رہا؛ ایک خاص مذہبی اجنبیت بھی اس میں کارفرما رہی ہے۔ استادِ مکرم کسی معروف مسلکی شناخت کے نمائندے کے طور پر سامنے نہیں آئے، چنانچہ بحث کئی مرتبہ اس سوال تک پہنچنے کے بجائے کہ ان کے مقدمے میں علمی غلطی کہاں ہے، اس طرف مڑ گئی کہ یہ تعبیر ہماری معروف مذہبی روایت کے اندر سے کیوں نہیں آئی۔

 

اسی پس منظر میں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ ان کے علمی کام کا اب تک اس اصولی سطح پر محاکمہ نسبتاً کم ہوا ہے جس کا ایک مربوط نظامِ فکر تقاضا کرتا ہے۔ اصولی نقد کسی فکر کو اس کے مبادی، منہج اور داخلی استدلال پر پرکھتا ہے۔ یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کے مقدمات مسلماتِ علم و عقل، زبان و بیان کے اصولوں اور ہماری علمی تراث کے مسلمہ ضوابط سے ہم آہنگ ہیں یا نہیں۔ پھر یہ جانچا جاتا ہے کہ ان سے نتائج کا استنباط درست ہے اور ان نتائج کا اطلاق خود انہی مقدمات کا منطقی تقاضا ہے یا نہیں۔ اس کے برعکس زیادہ نمایاں اعتراضات یہ رہے ہیں کہ اس فکر نے دین کو محدود کر دیا، اس کے پس منظر میں فلاں ’’ازم‘‘ کارفرما ہے، یا اس کا مقصود مغرب نوازی ہے۔ اس نوع کے اعتراضات فکر کے داخلی استدلال کے بجائے اس کے مفروضہ محرکات اور نسبتوں کو موضوع بناتے ہیں۔

 

یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ استادِ مکرم کے ہاں قرآن فہمی کے فطری اصول، مذہب اور مذہبی فکر میں امتیاز، شریعت اور فقہ کا فرق، اصل و فرع کا تعلق، اتمامِ حجت کا صحیح محل، اور فرد اور نظمِ اجتماعی سے متعلق احکام کی تفریق ایک باہم مربوط فکری تسلسل میں ہیں، اور اسی نظام فکر سے بہت سے فقہی، سیاسی اور معاشرتی نتائج سامنے آتے ہیں۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ اس پورے اصولی نظام کو بحیثیتِ مجموعی قبول کیے بغیر بھی اس کے متعدد نتائج، اپنی اصل نسبت سے قطع نظر، ہمارے مذہبی مکالمے میں جگہ بناتے دکھائی دے رہے ہیں۔

 

جو بات کبھی ’’غامدی صاحب کی بات‘‘ ہونے کے باعث اجنبی محسوس ہوتی تھی، وہی بات آج کسی دوسرے اسلوب، اصطلاح یا مانوس علمی نسبت کے ساتھ سامنے آئے تو اس کے لیے گنجایش پیدا ہو جاتی ہے۔ اس سے کم از کم یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے رد و قبول میں صرف دلیل نہیں بلکہ نسبت بھی ایک مؤثر عامل رہی ہے۔

 

یہ صورتِ حال بہرحال خوش آیند ہے۔ کسی غیر مانوس فکر کی قبولیت اکثر اسی طرح آگے بڑھتی ہے کہ پہلے اس کے بعض نتائج مانوس ہوتے ہیں، پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ نتائج قابلِ قبول ہیں تو ان کے پیچھے موجود اصولی مقدمات کو بھی ازسرنو کیوں نہ پرکھا جائے۔ ممکن ہے وقت کے ساتھ گفتگو اسی مرحلے میں داخل ہو اور جن نتائج کے لیے جگہ بن چکی ہے، ان کی اصولی بنیاد بھی زیادہ سنجیدگی سے موضوعِ بحث بنے۔

 

اسی امکان میں شناخت کا حقیقی کردار بھی سامنے آتا ہے۔ کسی علمی روایت کی پختگی اس میں نہیں کہ وہ اپنی تاریخی تعبیرات کو جوں کا توں محفوظ رکھے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ مسلماتِ عقل و فطرت اور اپنے بنیادی دینی تصورات سے وابستہ رہتے ہوئے نئی علمی بصیرت کو بھی اپنے اندر جذب کر سکے۔ یوں شناخت کا کام تبدیلی کو روکنا نہیں، بلکہ انحراف سے بچتے ہوئے تبدیلی اور علمی ارتقا کو اپنے بنیادی تصورات اور اصولی اساس سے مربوط رکھنا ہے۔

 

اسی لیے ہر نئی تعبیر کو قبول کر لینا علمی ارتقا نہیں، لیکن کسی تعبیر کو محض اس بنا پر رد کر دینا کہ وہ ہمارے مانوس علمی دائرے سے باہر پیدا ہوئی ہے، شناخت کی حفاظت بھی نہیں۔ شناخت کے لیے اصل خطرہ علمی ارتقا نہیں، بلکہ مسلماتِ علم و عقل اور اپنے بنیادی تصورات سے انحراف ہے۔ اگر یہ اساس محفوظ رہے تو نئی تحقیق، نیا استدلال اور نئے سوالات روایت کو کمزور نہیں کرتے، بلکہ اس کے فہم میں وسعت پیدا کرتے، اسے اپنے عہد میں زیادہ بامعنی بناتے اور نئے علمی سوالات سے مؤثر مکالمے کے قابل بناتے ہیں۔

 

اس کے برعکس اگر کسی خاص زمانے کی تعبیرات ہی کو شناخت کی آخری صورت سمجھ لیا جائے تو روایت آہستہ آہستہ اپنی قوت اورمعنویت کھو دیتی ہے۔ پھر وہ ایک زندہ علمی روایت کے بجائے کسی مخصوص طبقے اور عہد کی شناخت بن کر رہ جاتی ہے، اور نئی نسلوں کے سوالات سے بامعنی مکالمے کی صلاحیت بھی بتدریج کم ہونے لگتی ہے۔چنانچہ روایت کی حقیقی بقا اسی میں ہے کہ وہ اپنی بنیادوں سے وفادار بھی رہے اور اپنے اندر نئی بصیرت کے لیے گنجایش بھی پیدا کرتی رہے۔نسبتیں ہمارے غور و فکر کی بنیاد بنیں، اس کی حد یا رکاوٹ نہ بنیں۔

 

محمد حسن الیاس

Leave a comment

Are you human? Please solve:Captcha