Skip to content Skip to footer

!بڑے لوگوں کی بڑی آزمایشیں

“سرسیّد کی اپنے اکلوتے بیٹے جسٹس سیّد محمود کے مرنے کی اجتماعی دعا”
‏مراتب جن کے اونچے اور اونچا بخت ہوتا ہے،
زمانے میں انہی کا امتحاں بھی سخت ہوتا ہے
۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کے دوران دہلی میں سرسید احمد خان کے گھر کو لوٹ لیا گیا۔ سامنے ان کے ماموں کا گھر تھا۔ انگریزوں نے گھر میں گھس کر ان کے ماموں اور ماموں زاد کو شہید کردیا۔ ان کی ماں نے جانوروں کے باڑے میں چھپ کر جا ن بچائی۔ مگر غم اتنا شدید تھا کہ اسی سال انتقال کر گئیں۔ زوجہ ۱۸۶۱ء میں چل بسیں ۔ سر سیّد، انگریزگورنر گستاخِ رسول ولیم میور کی کتاب کا جواب دینے کے لیے، لندن گئے تو پیچھے بیٹی فوت ہوگئی۔ ۱۸۹۴ء میں بڑا بیٹا سید حامد فوت ہوگیا۔ اب پیچھے ایک بیٹا سید محمود رہ گیا تھا، جسےخدا جانے کیسےشراب پینے کی لت پڑ گئی۔ سرسید کو خبر ہوئی تو انھوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ بیٹا یہ عادت چھوڑ دے مگر ہر نصیحت بے اثر رہی۔۱۸۹۷ء میں تنگ آ کر سرسید نے ایک پرائیویٹ اجتماع کیا، جس میں اپنے خاص خاص دوستوں کو بلایا۔ سید محمود بھی موجود تھے۔ مگر یہ کسی کو پتا نہ تھا کہ سرسید نے کیوں لوگوں کو جمع کیا ہے اور ہر شخص اپنی جگہ پر حیران تھا۔ جب سب لوگ آ گئے تو سرسید کھڑے ہوئے اور انتہائی رقّتِ قلب کے ساتھ انھوں نے حاضرین کو مخاطب کر کے فرمایا:
“میرے معزّز احباب!میں نے آپ صاحبان کو اس وقت یہاں تشریف لانے کی زحمت دی ہے کہ آپ سب حضرات، جو میرے ہمدرد اور بہی خواہ ہیں، میں آپ سب سے نہایت منّت اور زاری کے ساتھ اپنی ایک دعا پر آمین کہنے کی التجا کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ آپ میرے فرزندسیّد محمود کی موت کو شراب آلود زندگی پر ترجیح دیں اور میرے ساتھ اس کی موت مانگنے میں شریک ہوں۔ میں خداوندِ کریم کے حضور اس کی موت کی دعا مانگتا ہوں اور آپ میرے ساتھ آمین کہیں، کیوں کہ میرے نزدیک شرابی زندگی سے موت بدرجہا بہتر ہے۔”
یہ بڑا ہی دل دوز نظارہ تھا۔ جب سرسید نے اپنے لائق فائق بیٹے کی موت کی دعا مانگنے کے لیے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے تو تمام مجمع پر سنّاٹا چھا گیا۔ حاضرین میں سے کسی نے بھی اپنی ساری عمر میں ایسا حیرت انگیز نظارہ نہ دیکھا تھا۔ سید محمود کے دل پر اس کا بڑا اثر ہوا۔ وہ فوراً آگے بڑھے اور کہنے لگے: “میں آج سے توبہ کرتا ہوں اور جو کچھ آج تک کر چکا ہوں، اس پر پشیمان ہوں۔” مگر افسوس! یہ وقتی جوش تھا ،جو کچھ دنوں میں جھاگ کی طرح بیٹھ گیا اور پھر وہی شغل شروع ہو گیا۔ آخر سرسید نے صاحبزادہ آفتاب احمد خاں کو بلا کرپیٹرن کالج لیفٹیننٹ گورنر کو خط لکھوایا ، جس میں سید محمود کو علی گڑھ کالج میں سرسید کی جانشینی سے سبک دوش کر دیا گیا۔
مآخذ:
۱۔ “تذکرۂ سرسید” از مولوی محمد امین زبیری
۲۔ “خطباتِ سرسید”، جلد دوم ، از شیخ محمد اسماعیل پانی پتی۔منقول

Leave a comment