Skip to content Skip to footer

(حصہ اول) امامت، الہام اور جہاد

“امامت، الہام اور جہاد”
تحریکِ سید احمد شہید
حصہ اول:مسئلہ کی نوعیت اور بنیادی نقد
گزشتہ چند ہفتوں میں فیس بک پر ایک اہم علمی مناقشہ سامنے آیا۔ اس کا آغاز جناب محمد دین جوہر صاحب نے کیا۔ ان کی گفتگو مختلف پوسٹوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ تاہم، قارئین کی سہولت کے لیے، اپنے فہم کی حد تک، ان کے مقدمے کا خلاصہ درج ذیل نکات میں پیش کیا جا رہا ہے:
جوہر صاحب کی تمام تحریروں کو مجموعی طور پر پڑھا جائے تو ان کی تنقید کا مرکزی مقدمہ یہ سامنے آتا ہے کہ سید احمد شہید کی تحریک کے سیاسی و عسکری عمل کو مولانا شاہ اسماعیل دہلوی نے، بالخصوص اپنی کتاب “منصبِ امامت” میں، ایک ایسا دینی جواز فراہم کیا جو جوہر صاحب کے نزدیک شریعت، نبوت، امامت، جہاد اور دینی استناد کے روایتی تصورات سے بنیادی انحراف پر قائم ہے۔ ان کے خیال میں اس کے نتیجے میں ایک ایسا مذہبی و سیاسی بیانیہ وجود میں آیا جس میں دینی اختیار قرآن و سنت، فقہ، اصولِ فقہ، معقولات اور اجتماعی علمی روایت کے بجائے شخصی امامت، الہامِ تشریعی اور سیاسی اطاعت کے گرد منظم ہو گیا۔
اس ممقدمے کی مختلف جہات جوہر صاحب کی تحریروں میں یوں سامنے آتی ہیں:
1. وہ تحریکِ مجاہدین کو محض ایک احیائی یا اصلاحی تحریک نہیں سمجھتے، بلکہ اسے ایک دینی و سیاسی تحریک قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس تحریک کا مقصد صرف بیرونی استعمار کے خلاف مزاحمت نہ تھا، بلکہ مسلم معاشرے کی داخلی تشکیلِ نو بھی تھا؛ خاص طور پر ان طبقات کے مقابلے میں جنھیں شرک، بدعت یا انحرافِ عقیدہ کا حامل سمجھا گیا۔
2. جوہر صاحب کے نزدیک “منصبِ امامت” اس تحریک کا بنیادی فکری اور سیاسی منشور ہے۔ وہ اسے امامت پر ایک عام علمی رسالہ نہیں، بلکہ ایسی دستاویز سمجھتے ہیں جس میں ایک نئے امام، نئے دینی اختیار اور نئی سیاسی مابعدالطبیعات کی تشکیل کی گئی۔
3. ان کے مطابق اس کتاب میں امامت کو شریعت کے معروف اصولوں سے نہیں، بلکہ انبیا کے “کمالات” اور امام کی “مشابہتِ تامہ” کے تصور سے اخذ کیا گیا ہے۔ جوہر صاحب کے نزدیک یہی تصور آگے چل کر امام کے لیے غیر معمولی دینی اور سیاسی اختیارات کی بنیاد بنتا ہے۔
4. ان تنقید کا بنیادی ہدف “نبی حکمی”، “نبوتِ تامہ”، “نصِ حکمی” اور “سنتِ نبوی” جیسی تعبیرات پر ہے۔ ان کے خیال میں ان اصطلاحات کے ذریعے امام کو نبوت کے نہایت قریب، بلکہ بعض پہلوؤں سے پیغمبرانہ اختیار کے حامل منصب پر فائز کیا گیا ہے۔ وہ اسے ختمِ نبوت کے باب میں ایک سنگین فکری انحراف سمجھتے ہیں۔
5. جوہر صاحب “الہامِ تشریعی” کو اس پورے نظام کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک تحریک کے قائدین اپنے سیاسی اور عسکری فیصلوں کو محض عرفانی یا ذاتی الہام نہیں سمجھتے تھے، بلکہ ایسے الہام کا درجہ دیتے تھے جو عملی احکام، اطاعت اور سیاسی اقدام کی بنیاد بن سکتا تھا۔
6. ان کے مطابق یہی وہ مقام ہے جہاں الہام ذاتی تجربہ نہیں رہتا، بلکہ دینی و سیاسی اختیار کا ماخذ بن جاتا ہے۔ جوہر صاحب اسے شریعت کے روایتی نظامِ استناد کے مقابل ایک متبادل بنیاد سمجھتے ہیں۔
7. وہ “سیاستِ ایمانی” کو “سیاستِ شرعیہ” کی نفی قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک روایتی مسلم سیاسی فکر میں نظمِ اجتماعی، عدل، خلافت، امارت اور جہاد کے مباحث شریعت و فقہ کے تابع تھے، مگر تحریکِ مجاہدین نے ان کی جگہ عقیدے، الہام اور شخصی اطاعت پر مبنی سیاسی تصور قائم کیا۔
8. جہاد کے باب میں بھی ان کی تنقید یہی ہے کہ اسے مسلم سیاسی نظم اور صاحبِ امر کے اختیار کے بجائے ایک شخصی مذہبی و سیاسی اختیار بنا دیا گیا۔ ان کے نزدیک اس سے جہاد شریعت کے منضبط سیاسی تصور کے بجائے داخلی غلبے اور نفاذِ فکر کا ذریعہ بن گیا۔
9. وہ “تقویۃ الایمان”، “عبقات” اور “منصبِ امامت” کو ایک ہی فکری سلسلے کی مختلف کڑیاں سمجھتے ہیں: “تقویۃ الایمان” کو نئی توحید، “عبقات” کو نئی دین منھج کا دستاویز ، اور “منصبِ امامت” کو نئی امامت اور مذہبی سیاست کی کتاب کے طور پر دیکھتے ہیں۔
10. جوہر صاحب اس پورے بحران کی فکری جڑ معقولات، علم الکلام اور اصولِ فقہ کی روایت کے ضعف یا ترک میں دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک جب یہ روایت کمزور ہوئی تو دینی تعبیر کا اختیار علمی و اصولی دائرے سے نکل کر شخصی تعبیر، الہام اور سیاسی طاقت کے دائرے میں منتقل ہو گیا۔
11. ان کے خیال میں تحریکِ مجاہدین کے بعد کی بہت سی مذہبی سیاسی تحریکیں اسی سانچے کی توسیع ہیں۔ وہ بعد کے دیوبندی، اہلِ حدیث، جماعتِ اسلامی، بعض تجددی رجحانات اور جدید مذہبی سیاست کے کئی مظاہر کو اسی الہامی، تعبیری اور سیاسی جڑ سے وابستہ سمجھتے ہیں۔
12. ان کے نزدیک اصل مسئلہ “استناد” کا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دینی استناد قرآن و سنت، اصولِ فقہ، معقولات اور اجتماعی علمی روایت سے ہونا چاہیے تھا، لیکن “منصبِ امامت” اور اس سے پیدا ہونے والی مذہبی سیاست نے اسے شخصی، سیاسی اور الہامی بنا دیا۔
جوہر صاحب کی تنقید کا مرکزی پوائنٹ یہ ہے کہ مولانا شاہ اسماعیل دہلوی اور تحریکِ سید احمد شہید نے مذہب کو ایک نئی سیاسی مابعدالطبیعات میں ڈھال دیا۔ ان کے نزدیک اس تعبیر میں امامت کو منصبِ نبوت کے قریب کر دیا گیا، شخصی الہام کو تشریعی حیثیت مل گئی، جہاد کو نظمِ اجتماعی کے بجائے شخصی اختیار کے تابع کر دیا گیا، اور سیاستِ شرعیہ کی جگہ ایک ایسا ایمانی تصورِ اقتدار قائم ہوا جس نے بعد کی مذہبی تحریکوں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
جوہر صاحب کے اس نقد پر جو جوابات سامنے آئے، وہ اگلی پوسٹ میں زیرِ بحث آئیں گے۔
محمد حسن الیاس
(جاری ہے)

Leave a comment