’’یاسر پیرزادہ صاحب کی خدمت میں‘‘
(محمد حسن الیاس)
جناب یاسر پیرزادہ ایک صاحبِ فہم صحافی ہیں۔ اُنھوں نے آج روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں شائع ہونے والے اپنے کالم ’’غامدی صاحب کی تعبیرِ دین‘‘ میں اختلاف کے باوجود غامدی صاحب کے علمی مقام کا اعتراف کیا ہے۔ یہ علمی مکالمے کا خوش آیند آغاز ہے۔ تاہم اُن کے کالم میں غامدی صاحب کے منہج کی جو تصویر سامنے آئی ہے، ہماری طالب علمانہ رائے میں وہ غامدی صاحب کے اپنے بیان کردہ اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔
فاضل کالم نگار کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ غامدی صاحب کسی روایت، فقہی تعبیر یا تاریخی فہم کو قرآن کے نظم سے ہم آہنگ نہ پائیں یا اُس کی صریح بنیاد متن میں نہ دیکھیں تو اُسے مسترد یا غیر متعلق قرار دے دیتے ہیں۔ اُن کے اپنے الفاظ میں، وہ دین کو ’’بنیادی متن کے اندر محصور‘‘ کر کے دیکھتے ہیں اور چودہ سو سال کی علمی و تاریخی روایت کو ’’محض ثانوی یا غیر لازمی چیز‘‘ سمجھتے ہیں۔ اِس کے مقابلے میں اُن کا استدلال ہے کہ اسلام ایک زندہ و جاری روایت ہے، جس کے فہم اور اُس پر عمل کے لیے اِس علمی و تاریخی سرمایے سے استفادہ لازم ہے۔ اسی سے اسلام کی مکمل تصویر وجود پاتی ہے۔
ہمارے نزدیک اِس بحث میں دو مختلف سوال باہم خلط ہو گئے ہیں: ایک کا تعلق دین کے ماخذ، ثبوت اور حجیت سے ہے اور دوسرے کا تعلق اُس کے فہم و تعبیر میں انسانی علمی روایت کی ضرورت، مقصد اور افادیت سے۔ اِن دونوں کی حیثیت الگ متعین کیے بغیر اصل مسئلہ واضح نہیں ہو سکتا۔ پہلے یہ طے ہونا چاہیے کہ دین کیا ہے، کس نے دیا ہے اور وہ ہمیں کس صورت میں ملا ہے؛ پھر یہ دیکھا جائے کہ اُس کے فہم و اطلاق میں علمی روایت کا کیا کردار اور مرتبہ ہے۔
غامدی صاحب کے نزدیک دین کا تنہا ماخذ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے۔ آپ نے جو کچھ دین کی حیثیت سے دیا، وہ قرآن اور سنت کی صورت میں امت کو ملا ہے۔ لہٰذا کسی عقیدے یا عمل کی دینی حیثیت کا مدار اِس پر ہے کہ اُسے آپ سے دین کی حیثیت سے ثابت کیا جا سکے۔
سنت اُن کے نزدیک دینِ ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجدید و اصلاح اور بعض اضافوں کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں دین کی حیثیت سے جاری فرمایا۔ یہ صحابہ کے اجماع اور عملی تواتر سے امت کو ملی ہے اور ثبوت کے اعتبار سے قرآن ہی کی طرح یقینی ہے۔ یوں دین کی وہ عملی روایت جو انبیا کے ہاں ہمیشہ موجود رہی ہے، مسلمان امت نے بھی نسل در نسل منتقل کی ہے۔ چنانچہ اُن کے منہج میں دین کو صرف ایک تحریری متن میں محصور سمجھنا اصلاً درست نہیں۔
حدیث زمانۂ رسالت کی تاریخ کا ریکارڈ ہے۔ اِس میں قرآن و سنت کی تفہیم و تبیین اور اسوۂ حسنہ سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات بھی بیان ہوئی ہیں۔ جو شخص اِس دائرے کی کسی روایت کی صحت پر مطمئن ہو کر اُسے آپ کے قول، فعل یا تقریر و تصویب کی حیثیت سے قبول کر لے، اُس پر اُس کی حجت قائم ہو جاتی ہے۔ اگر اُس میں آپ کا کوئی حکم یا فیصلہ بیان ہوا ہو تو اُس سے انحراف اُس کے لیے جائز نہیں رہتا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیا ہوا یہ دین قرآن و سنت کی صورت میں اپنی مکمل اور محفوظ شکل میں آج بھی موجود ہے۔ اِس میں نہ کسی مستقل بالذات عقیدے یا عمل کا اضافہ کیا جا سکتا ہے، نہ اِس کے کسی جز کو کم کیا جا سکتا ہے۔
اِس دین کو سمجھنا اور مختلف حالات میں اُس کا اطلاق کرنا انسانی فہم کا کام ہے۔ اِس فہم کو زبان کے علم، استدلال اور سابقہ اہلِ علم کی کوششوں سے مدد ملتی ہے۔ چنانچہ غامدی صاحب علمی روایت کا مقام اِسی عمل کے اندر متعین کرتے ہیں۔
قرآن کو سمجھنے کے لیے دیکھا جائے گا کہ اُس کے الفاظ عربی میں کس معنی میں استعمال ہوتے ہیں، جملوں کی ساخت کیا ہے اور زیرِ بحث کلام کا اُس سے پہلے اور بعد کے کلام سے کیا تعلق ہے۔ اِن اجزا کو مربوط طور پر سمجھنے ہی سے متکلم کا مدعا واضح ہوتا ہے۔ نظم کا اصول اِسی ربط کو ملحوظ رکھنے کا تقاضا کرتا ہے؛ اِس کا تعلق فہمِ قرآن سے ہے اور یہ کوئی خارجی چیز نہیں، بلکہ متن کی درست ریڈنگ کا ناگزیر اور
لازمی نتیجہ ہے۔
یہ کام علمی روایت سے الگ رہ کر نہیں ہو سکتا۔ عربی لغت، قواعد، اسالیب اور زبان کے استعمالات کا محفوظ سرمایہ ہمیں اِسی روایت سے ملا ہے۔ تفسیروں اور فقہی مباحث میں سابقہ اہلِ علم کے دلائل، تعبیرات اور احکام کے اطلاق کی کوششیں بھی محفوظ ہیں۔ غامدی صاحب کا علمی کام اِسی سرمایے سے استفادہ کرتے ہوئے وجود میں آیا ہے۔ قرآن و سنت کے باہمی تعلق اور فقہ و شریعت کے فرق جیسے بنیادی سوالات بھی اِسی علمی روایت میں زیرِ بحث آئے ہیں۔ فاضل کالم نگار نے قرآن کے گہرے لسانی اثرات کا ذکر کیا ہے؛ اِس کلام کا مدعا روایت کے محفوظ کردہ اِنھی لسانی وسائل سے سمجھنا متن پرستی نہیں، بلکہ فہمِ کلام کا بنیادی تقاضا ہے۔ یہی اُن کے منہج میں علمی روایت سے استفادے کی بنیاد ہے۔
اِس استفادے میں وسائل اور نتائج کا فرق قائم رہنا چاہیے۔ لغت و نحو کلام کو سمجھنے کے وسائل ہیں؛ کسی مفسر یا فقیہ کی رائے اِن وسائل سے اخذ کردہ نتیجہ ہے۔ سابقہ تعبیر ہمیں کسی مسئلے کا پس منظر، دلائل اور ممکنہ حل سمجھنے میں مدد دیتی ہے، لیکن وہ خود دین کے ماخذ کا مرتبہ اختیار نہیں کر لیتی۔
غامدی صاحب کے نزدیک قرآن کے الفاظ اور اسالیب اپنا مدعا متعین طور پر بیان کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ چنانچہ تعبیرات کے اختلاف میں قرآن کی متعلقہ آیات، ثابت سنت اور زبان و بیان کے مسلمہ شواہد کی روشنی میں دلائل کا تقابل کیا جائے گا۔ کسی رائے کا تاریخی تسلسل یا اُس کے قائل کی عظمت اِس تحقیق کا بدل نہیں بن سکتی۔ لہٰذا اِسی معیار پر خود غامدی صاحب کی اپنی تعبیر بھی جانچی جائے گی۔
پھر فہم کے بعد اطلاق کا مرحلہ آتا ہے۔ شریعت کا ایک متعین مقصد ہے اور اُس کا ہر حکم علت پر مبنی ہے۔ اِس علت کو دین نے متعین کیا ہے؛ اُسے سمجھنا، حکم سے اُس کا تعلق دریافت کرنا اور اُس کے اطلاق کی صورتیں طے کرنا انسان کا کام ہے۔ اِس کوشش میں بھی اختلاف اور غلطی ممکن ہے، اِس لیے اطلاق کی ہر صورت متعلقہ حکم، اُس کی علت، مقصد اور دیگر دلائل کی روشنی میں جانچی جائے گی۔
فہم و اطلاق میں علمی روایت کے اِسی کردار کو پیرزادہ صاحب کی اپنی آئین اور عدالتی نظائر کی مثال سے بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ سابقہ فیصلے قانون کو سمجھنے اور اُس کا اطلاق کرنے میں مدد دیتے ہیں، مگر اعلیٰ عدالتیں اُن پر نظرثانی بھی کرتی ہیں۔ چنانچہ سابقہ علمی سرمایے سے استفادہ اور اُس کے کسی نتیجے سے دلیل کی بنیاد پر اختلاف، دونوں ایک ساتھ ممکن ہیں۔ اور جو شخص اس سے بے نیاز ہوتا ہے، اس کی علم کی دنیا میں کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔
تاہم آئین اور عدالتی نظائر کے اِس قیاس کے حدود بھی ہیں۔ عدالتی فیصلوں کی قانونی حیثیت ایک متعین دستوری نظام سے پیدا ہوتی ہے، جو عدالتوں کے اختیارات اور اُن کے فیصلوں کی پابندی کا دائرہ طے کرتا ہے۔ مسلمانوں کی علمی تاریخ میں متعدد مکاتب اور بعض اوقات باہم متضاد تعبیرات موجود ہیں۔ اِن میں سے کسی تعبیر کو محض اُس کے تاریخی تسلسل کی بنا پر تمام مسلمانوں کے لیے لازمی حجت نہیں بنایا جا سکتا۔
اِس سے بھی زیادہ بنیادی فرق یہ ہے کہ دستور ایک انسانی دستاویز ہے، جس کے متن میں ترمیم ہو سکتی ہے۔ قرآن اللہ کا نازل کردہ قطعی الثبوت کلام ہے، جس میں کسی اضافے، کمی یا تبدیلی کی گنجایش نہیں۔ وہ خود دینی تعبیرات کو پرکھنے کی میزان ہے۔ چنانچہ قرآن کے معاملے میں تحقیق و نظرثانی کا موضوع ہمارا فہم، ہماری تعبیر اور اُس سے اخذ کردہ نتائج ہوں گے؛ قرآن خود اِس پورے عمل کا مستقل معیار رہے گا۔
چنانچہ فقہ اور دیگر علوم سے استفادے کی اہمیت پوری طرح مسلم ہے۔ یہ امت کا عظیم علمی سرمایہ ہے اور اِن علوم کے ائمہ امت کے معلم و محسن ہیں۔ اُن کی حیثیت دین کو سمجھنے اور سمجھانے والوں کی ہے، لیکن اُنھیں شارع کا مرتبہ حاصل نہیں۔ ختمِ نبوت کے بعد کسی شخص، منصب یا مکتب کو اپنی ذات میں دینی حجت کی حیثیت حاصل نہیں۔ اِسی لیے غامدی صاحب اُس صورت پر تنقید کرتے ہیں جب کسی امام یا مکتب کی تعبیر کو قرآن و سنت کے فہم کا ایسا لازمی واسطہ بنا دیا جائے کہ دلیل کی بنیاد پر بھی اُس سے مختلف فہم کی گنجایش باقی نہ رہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ابوحنیفہ و شافعی، بخاری و مسلم، اشعری و ماتریدی اور جنید و شبلی، سب پر قرآن کی حکومت قائم ہے۔
تقلید اور اجماع پر بھی اُن کا اختلاف اُن صورتوں سے ہے جو کسی امام کی رائے یا اجتہادی نتیجے کو دلیل کے باوجود نظرثانی سے محفوظ کر دیں۔ تصوف میں کشف و الہام کو مستقل دینی سند ماننے پر اُن کا اعتراض بھی دینی استناد کے اِسی اصول پر مبنی ہے۔
تصوف کے حق میں فاضل کالم نگار نے خشوع، اخلاص اور حضورِ قلب کو بنیاد بنایا ہے۔ عرض یہ ہے کہ اِن اوصاف کی تعلیم خود قرآن و سنت نے دی ہے۔ چنانچہ شریعت کو صرف ظاہری اعمال اور تصوف کو اُن کی روح قرار دینے سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ دین نے محض احکام دیے ہیں اور اُن کی روح اور حکمتیں واضح کرنے کا کام کسی دوسرے نظام کے سپرد ہے۔ یہ شریعت کی نہایت ناقص تعبیر ہے۔ شریعت کے کسی ایک حکم کو قرآن مجید میں پڑھ لیا جائے تو واضح ہوجائے گا کہ خود دین اسے کیسے بیان کرتا ہے۔
اسی طرح غامدی صاحب کے نزدیک تزکیہ ایمان، اخلاق اور عمل کی اُس ہدایت کی پیروی سے حاصل ہوتا ہے جو دین نے دی ہے۔ علما اِس ہدایت کی تعلیم دیتے ہیں، اِس کے مطابق تربیت کرتے ہیں اور اُن موانع کو دور کرنے میں مدد دیتے ہیں جو اِس راہ میں حائل ہوں۔ چنانچہ غامدی صاحب کی تنقید اُن مخصوص طریقوں کو دین کا حصہ قرار دینے پر ہے، جن کی سند وہ قرآن و سنت میں نہیں پاتے۔ بیعت و ارادت کی مخصوص صورتیں، فنا فی الشیخ اور ذکرِ قلب کی متعین مشقیں اِسی بحث کا موضوع ہیں۔ اِن تنقیدات کا تعلق اُن بنیادی دینی تصورات و عقائد سے بھی ہے جو توحید، نبوت، قیامت اور شریعت کے بارے میں ایک مستقل زاویۂ نظر پیش کرتے ہیں۔ اِن تصورات کا مجموعہ اُن کے نزدیک دین کی ایک متوازی تعبیر پیش کرتا ہے۔
چنانچہ الگ دینی نظام کا سوال صرف نئے کلمے یا نئے قبلے تک محدود نہیں رہتا؛ تزکیے کا طریقہ، ذریعۂ علم اور مرجعِ استناد بھی اِس کے بنیادی اجزا ہیں۔
فاضل کالم نگار خود تسلیم کرتے ہیں کہ تصوف کے بعض فلسفیانہ دعووں کا دفاع ممکن نہیں۔ لہٰذا جن اعتقادی اور عملی تصورات پر غامدی صاحب تنقید کرتے ہیں، اُن کے حق میں اور اُن پر تنقید میں پیش کیے گئے دلائل کا قرآن و سنت کی روشنی میں براہِ راست جائزہ لینا ہوگا۔ بحث کو مزاروں کی بدعات اور پیری مریدی کے کاروبار تک محدود کرنے سے اِن بنیادی تصورات پر اٹھنے والے سوال حل نہیں ہوتے۔
بڑے صوفیہ کا علمی و اخلاقی مقام اور اُن سے استفادے کی اہمیت مسلم ہے، لیکن یہ اُن کے ہر تصور کی صحت کی دلیل نہیں۔ ہیگل اور کیمیا گری کی مثالیں بھی روایت کی علمی و تاریخی افادیت واضح کرتی ہیں۔ اِس افادیت، کسی دعوے کی صحت اور اُس کی دینی حجیت کو الگ الگ جانچنا ضروری ہے؛ پہلی بات تسلیم کر لینے سے باقی دونوں خودبخود ثابت نہیں ہو جاتیں۔
فاضل کالم نگار نے آخر میں اپنے مدعا کی وضاحت کے لیے فلم A Few Good Men کی ایک مثال بھی دی ہے۔ مقدمے میں فوجی ہدایات کی کتاب سامنے لا کر کہا جاتا ہے کہ اُس میں ’’کوڈ ریڈ‘‘ کا کوئی ذکر نہیں۔ جواب میں وکیلِ صفائی گواہ سے پوچھتا ہے کہ اِس کتاب میں فوجیوں کے میس کا مقام کہاں درج ہے؟ گواہ بتاتا ہے کہ اُسے میس کا مقام کتاب سے نہیں، کھانے کے وقت دوسرے سپاہیوں کے ساتھ جانے سے معلوم ہوا تھا۔ کالم نگار اِس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ کسی عمل کا متن میں مذکور نہ ہونا اُس کے وجود کی نفی نہیں کرتا۔
یہ بات تو غامدی صاحب کے پورے موقف کے حق میں ہے۔ میس کی مثال واضح کرتی ہے کہ کسی معمول کا علم تحریری کتاب کے علاوہ اجتماعی عمل سے بھی حاصل ہو سکتا ہے۔ سنت کا معاملہ بھی اِس پہلو سے سمجھا جا سکتا ہے: اُس کے ثبوت کا ذریعہ امت کا عملی تواتر ہے اور اُس کی دینی حیثیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جاری کرنے سے متعین ہوتی ہے۔
لیکن اِسی فلم میں ’’کوڈ ریڈ‘‘ بھی یونٹ میں رائج تھا اور سپاہیوں کو اُس پر عمل کرنے کا حکم بھی ملا تھا۔ اُن کا دفاع اِسی رواج اور حکم کی بنیاد پر تھا۔ عدالت نے اُنھیں قتل اور قتل کی سازش کے الزامات سے بری کیا، لیکن فوجی وقار کے منافی طرزِ عمل کا مرتکب قرار دے کر فوج سے برطرف کرنے کا حکم دیا۔ گویا کسی عمل کا رائج ہونا اور افسرِ بالا کا حکم، دونوں مل کر بھی اُس کا جواز ثابت نہیں کرتے۔
چنانچہ فیصلہ کن سوال صرف یہ نہیں کہ کوئی چیز لکھی ہوئی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اُس کی حیثیت اور سند کیا ہے؟ دین کے معاملے میں بھی کسی تصور کا مسلمانوں کی تاریخ میں موجود رہنا اُس کی دینی حجیت ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں، بلکہ اُس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت کرنا ہوگی۔
اس لیے فاضل کالم نگار کی مثال غامدی صاحب کے منہج کی تردید کے بجائے اُس کی توضیح بن جاتی ہے۔
لہٰذا غامدی صاحب کے منہج میں علمی روایت دین کے فہم و اطلاق کا سرمایہ ہے۔ اِس سرمایے سے استفادہ اور اُس کے نتائج کا تنقیدی جائزہ ساتھ ساتھ ہوں گے، اور ہر تعبیر قرآن و سنت کی میزان پر پرکھی جائے گی۔
آخر میں فاضل کالم نگار کو دوستانہ مشورہ ہے کہ امت کی علمی روایت کے نام پر دین کو ایک جاری عمل قرار دینے سے بھی وہ تعبیرات کبھی جگہ نہیں پا سکیں گی جن کی بنیاد خود روایت کے قائم کردہ مسلمہ علمی و آفاقی اصولوں سے نہیں ہے۔ چنانچہ اس مقصد کے حصول کے لیے دوسرا متبادل تلاش کرنا چاہیے۔ اس ضمن میں روایت کا سہارا نہایت کمزور وسیلے کا انتخاب ہے۔
ان انحرافات کے لیے جہاں پہلا قفل قرآن و سنت ہیں، وہیں دوسرا قفل خود ہماری امت کی شاندار علمی روایت ہے۔
پیرزادہ صاحب کے کالم کا لنک: