’’سبع مثانی‘‘
مکتبِ فراہی کی تفہیم
(محمد حسن الیاس)
قرآن مجید میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد ہوا ہے:
وَلَقَدْ اٰتَيْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِيْ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِيْمَ۔
’’اور ہم نے تمھیں سات مثانی اور قرآنِ عظیم عطا کیا ہے۔‘‘
(الحجر 15:87)
اس آیت میں ’’سبعاً من المثانی‘‘ سے کیا مراد ہے، اس بارے میں مفسرین کے ہاں مختلف اقوال نقل ہوئے ہیں۔ معروف ترین تعبیر یہ ہے کہ اس سے سورۂ فاتحہ مراد ہے۔ اس کی بنیاد ان روایات پر ہے جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ فاتحہ کو ’’السبع المثاني والقرآن العظيم‘‘ قرار دیا ہے۔ اسی بنا پر عام طور پر کہا گیا ہے کہ اسے ’’سبع‘‘ اس کی سات آیات کی وجہ سے اور ’’مثانی‘‘ بار بار پڑھے جانے کی وجہ سے کہا گیا ہے۔
یہ تعبیر اپنی جگہ معروف ہے، تاہم خود آیت کا اسلوب ایک مزید پہلو کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ یہاں ’’سبعاً من المثانی‘‘ کے فوراً بعد ’’والقرآن العظیم‘‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ پھر ایک دوسرے مقام پر قرآن نے پوری کتاب کو كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ سے تعبیر کیا ہے۔ ان دونوں مقامات کو سامنے رکھا جائے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ’’مثانی‘‘ صرف سورۂ فاتحہ کے بار بار پڑھے جانے کی خصوصیت کو بیان کرتا ہے، یا اس تعبیر میں خود قرآن کی ساخت، اس کے اجزا کے باہمی تعلق اور اس کی مجموعی ترتیب کی طرف بھی کوئی اشارہ موجود ہے۔
اس مقام پر خود لفظ ’’مثانی‘‘ کا مفہوم بھی پیش نظر رہنا چاہیے۔ ’’مَثْنَى‘‘ کے معروف لغوی معنی ’’اثنين اثنين‘‘، یعنی دو دو کرکے، کے ہیں اور اس کی جمع ’’مثانی‘‘ آتی ہے۔ اسی مادے کے استعمالات میں کسی چیز کے دوبارہ آنے، لوٹائے جانے اور دہرائے جانے کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ چنانچہ اس لفظ میں جوڑا جوڑا ہونے کے ساتھ اعادہ و تکرار کی جہت بھی موجود ہے۔
مفسرین کی معروف تعبیر میں اسی اعادہ و تکرار کی جہت کو پیش نظر رکھا گیا ہے تاہم مکتبِ فراہی نے یہاں ’’مثانی‘‘ کو اس کے معروف لغوی مفہوم، یعنی دو دو اور جوڑا جوڑا ہونے کے لحاظ سے بھی سمجھا ہے۔ اس کے نزدیک قرآن کی بیشتر سورتیں مضمون کے اعتبار سے باہم توأم ہیں اور ایک دوسری کے ساتھ جوڑا بناتی ہیں۔
اس مفہوم کی تائید، مکتبِ فراہی کے نزدیک، خود قرآن کی ترتیب سے بھی ہوتی ہے، جہاں سورتوں کے یہ باہمی جوڑے نمایاں ہو کر سامنے آتے ہیں۔ مزید یہ کہ قرآن نے ایک دوسرے مقام پر پوری کتاب ہی کو كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ سے تعبیر کیا ہے۔ اس بنا پر اس مکتب کے نزدیک ’’مثانی‘‘ یہاں محض تکرارِ تلاوت کا بیان نہیں، بلکہ قرآن کی سورتوں کے باہمی جوڑوں پر قائم ترتیب کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔
البتہ یہ تصور اپنی موجودہ صورت میں ابتدا ہی سے متعین نہیں تھا، بلکہ مکتبِ فراہی میں ایک تدریجی علمی تحقیق کے نتیجے میں سامنے آیا۔ اس تحقیق کی بنیاد مولانا حمید الدین فراہی نے رکھی۔ ان کی اہم دریافت یہ تھی کہ نظم کا تعلق صرف ایک سورہ کے اندر آیات کی ترتیب سے نہیں، بلکہ خود سورتوں کے باہمی ربط سے بھی ہے۔ ان کے نزدیک قرآن کا بڑا حصہ مکہ میں نازل ہوا، جبکہ مدنی آیات اور سورتیں اپنے مناسب مقامات پر اس طرح مرتب کی گئیں کہ پوری کتاب ایک مربوط اور منظم کلام کی صورت اختیار کر گئی۔
سورتوں کے اسی مجموعی نظم کا مطالعہ کرتے ہوئے انھوں نے مصحف میں سورتوں کے نو نمایاں مجموعوں کی نشان دہی کی: فاتحہ سے مائدہ، انعام سے توبہ، یونس سے حج، مؤمنون اور نور، فرقان سے احزاب، سبا سے حجرات، ق سے واقعہ اور اس کے ساتھ حدید سے طلاق تک، ملک سے اخلاص، اور آخر میں فلق و ناس۔ معوذتین کو انھوں نے ایک مستقل مربوط مجموعہ قرار دیا اور یہ نکتہ بھی واضح کیا کہ ان کا اپنے سے پہلے کے قرآن سے وہی تعلق ہے جو سورۂ فاتحہ کا اپنے بعد آنے والے قرآن سے ہے۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے: قرآن ’’سبع‘‘ یعنی سات کہتا ہے، لیکن فراہی کے بیان میں نو مجموعے کیوں سامنے آتے ہیں؟
:اس سوال کا جواب خود مولانا فراہی کی عبارت میں موجود ہے۔ انھوں نے تصریح کی ہے
وليس ما نذكر من التقسيم مبنياً على المطالب، بل المقصود في هذا الفصل التنبيه على موقع المدنيات من المكيات۔
(دلائل النظام، للفراهي صـ 91 – 93)
یعنی اس مقام پر بیان کی جانے والی تقسیم مطالب و مضامین کی کوئی حتمی تقسیم نہیں، بلکہ مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ مکی سورتوں کے درمیان مدنی سورتوں کا محل کیا ہے۔
اس سے واضح ہے کہ مولانا فراہی نے ان نو مجموعوں کو ’’سبع مثانی‘‘ کی تفسیر کے طور پر پیش نہیں کیا تھا۔ یہاں ان کی اصل بحث عدد سات کی تعیین نہیں، بلکہ یہ دکھانا ہے کہ قرآن کی سورتیں ایک بڑے مجموعی نظم میں مربوط ہیں۔
اس فرق کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ فرض کیجیے کہ کسی بڑے اور قدیم شہر کا مطالعہ کرنے والا ایک محقق پہلی مرتبہ یہ دریافت کرتا ہے کہ اس کی آبادیاں بے ترتیب نہیں، بلکہ بڑی بڑی مربوط وحدتیں تشکیل دیتی ہیں۔ وہ قدیم و جدید آبادیوں کے محل، اتصال اور باہمی ربط کو سامنے رکھ کر ابتدا میں نو نمایاں وحدتیں نشان زد کر دیتا ہے۔ اس کا اصل اکتشاف یہ نہیں کہ شہر کی بنیادی ساختی وحدتیں لازماً نو ہی ہیں، بلکہ یہ ہے کہ شہر کی ایک منظم مجموعی ساخت موجود ہے۔
اس کے بعد دوسرا محقق اسی دریافت کو بنیاد بنا کر شہر کی حدود، راستوں اور داخلی مناسبت کا زیادہ گہرا مطالعہ کرتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی نظر میں الگ دکھائی دینے والی بعض آبادیاں دراصل ایک ہی بڑے علاقے کے اجزا ہیں۔ چنانچہ وہ انھیں ملا کر شہر کی سات بڑی وحدتیں متعین کر دیتا ہے۔ یوں پہلے محقق کی بنیادی دریافت برقرار رہتی ہے، مگر دوسرے محقق کے کام سے اس کی صورت زیادہ دقیق اور اس کی حدود زیادہ واضح ہو جاتی ہیں۔
فراہی اور اصلاحی کے کام کا تعلق بھی کم و بیش اسی نوعیت کا ہے۔
مولانا امین احسن اصلاحی نے اپنے استاد کے نظریۂ نظم کو بنیاد بنایا، لیکن بعض سورتوں کے مکی و مدنی ہونے اور ان کے باہمی تعلق پر مزید غور کیا۔ اس کے نتیجے میں بعض وہ وحدتیں جو مولانا فراہی کے ہاں الگ دکھائی دیتی تھیں، ایک دوسرے کے ساتھ مل گئیں اور سات بڑے گروپ سامنے آئے۔ اصلاحی صاحب نے صراحت کی ہے کہ مصحف کی ترتیب میں مکی و مدنی سورتوں کے سات گروپ بنے ہوئے ہیں، اور ہر گروپ ایک یا ایک سے زیادہ مکی سورتوں سے شروع ہو کر ایک یا ایک سے زیادہ مدنی سورتوں پر ختم ہوتا ہے۔
اس تبدیلی کے دو مقامات خاص طور پر قابلِ توجہ ہیں۔ فراہی صاحب کے ہاں یونس سے انبیاء تک مکی سورتوں کے بعد سورۂ حج کو مدنی سمجھ کر ایک مجموعہ ختم ہو جاتا ہے، اور اس کے بعد مؤمنون اور نور ایک الگ مجموعہ بنتے ہیں۔ اصلاحی صاحب سورۂ حج کو مکی قرار دیتے ہیں۔ اس بنا پر یونس سے مؤمنون تک ایک مسلسل مکی سلسلہ قائم ہو جاتا ہے اور آخر میں سورۂ نور مدنی سورت کے طور پر آتی ہے۔ یوں مولانا فراہی کے دو الگ مجموعے ایک گروپ بن جاتے ہیں۔
اسی طرح فراہی صاحب کے ہاں ملک سے اخلاص ایک مجموعہ اور فلق و ناس الگ آخری مجموعہ ہیں، جبکہ اصلاحی صاحب ملک سے ناس تک اس پورے سلسلے کو ایک ہی ساتواں گروپ قرار دیتے ہیں۔
یہاں سے اس تصور کا دوسرا اور زیادہ اہم مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ اصلاحی صاحب نے ان سات گروپوں کو ’’سبع مثانی‘‘ سے مربوط کیا۔ ان کے نزدیک قرآن کی سورتیں بالعموم جوڑا جوڑا ہیں؛ ایک سورہ مضمون کے لحاظ سے دوسری کا مثنیٰ ہوتی ہے، اور یہ مثانی سات بڑے مجموعوں میں منظم ہیں۔ اسی بنا پر وہ آیت کا مفہوم یہ لیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو سات مثانی کا مجموعہ، یعنی قرآنِ عظیم عطا کیا ہے۔ ان کے نزدیک ’’مِن‘‘ اضافت کو ظاہر کرتا ہے اور ’’واؤ‘‘ تفسیر کے لیے ہے۔ اس لحاظ سے ’’سبع مثانی‘‘ اور ’’قرآن عظیم‘‘ دو الگ عطیات نہیں، بلکہ ایک ہی حقیقت کی دو تعبیریں ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سورۂ فاتحہ سے متعلق معروف روایت کا محل بھی واضح ہو جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ’’سبع مثانی‘‘ سے قرآن کے یہ سات مجموعے مراد ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ فاتحہ کو ’’سبع مثانی اور قرآن عظیم‘‘ کیوں فرمایا؟
اصلاحی صاحب کے نزدیک اس کی وجہ سورۂ فاتحہ کا پورے قرآن کے ساتھ خاص تعلق ہے۔ فاتحہ پورے قرآن کا دیباچہ ہے۔ وہ بنیادی مطالب جو قرآن میں تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں، اس مختصر سورت میں اجمال کے ساتھ جمع ہو گئے ہیں۔ اس لحاظ سے فاتحہ پورے قرآن کی نمائندہ ہے۔ اسی نسبت سے اسے بھی ’’سبع مثانی‘‘ اور ’’قرآن عظیم‘‘ کہا گیا ہے۔ اصلاحی صاحب کے الفاظ میں، اس نگینے کے اندر قرآن عظیم کا پورا ’’شہرستانِ معانی‘‘ بند ہے۔
یوں اس تعبیر میں روایت کا اصل محل بھی متعین ہو جاتا ہے۔
اس کے بعد جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے ہاں یہی تصور مزید منضبط صورت اختیار کرتا ہے۔ ان کے ہاں پیش رفت صرف یہ نہیں ہے کہ اصلاحی صاحب کے سات گروپوں کو سات ابواب سے تعبیر کر دیا گیا، بلکہ انھوں نے ان ابواب کو قرآن کے مجموعی موضوع کے ساتھ مربوط کرکے یہ بھی واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہر باب قرآن کی دعوت میں کس مقام پر کھڑا ہے اور اس کے اندر سورتوں کی ترتیب کس تدریج کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔
ان کے نزدیک قرآن اپنے مضمون کے لحاظ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ’’سرگذشتِ انذار‘‘ ہے۔ یعنی آپ کی دعوت، انذار، انذارِ عام، اتمامِ حجت، ہجرت و براءت اور بالآخر اپنے براہ راست مخاطبین کے لیے خدا کی جزا و سزا کے ظہور کی پوری روداد اس کتاب میں محفوظ ہوئی ہے۔ اسی بنا پر ان کے نزدیک قرآن کی ہر سورہ اسی پس منظر میں نازل ہوئی اور اس کے ابواب بھی اسی سرگذشت کے مختلف مراحل کے لحاظ سے مرتب ہوئے ہیں۔
چنانچہ ان کے ہاں سات ابواب محض سورتوں کی ظاہری تقسیم نہیں، بلکہ ہر باب کا ایک مرکزی موضوع اور قرآن کے مجموعی استدلال میں ایک متعین مقام ہے۔ پہلا باب فاتحہ سے مائدہ تک ہے اور اس کا بنیادی موضوع یہود و نصاریٰ پر اتمامِ حجت، ایک نئی امت کی تاسیس، اس کا تزکیہ و تطہیر اور اس کے ساتھ خدا کا آخری عہد و پیمان ہے۔ دوسرا باب انعام سے توبہ تک ہے، جس میں مشرکین عرب پر اتمامِ حجت، مسلمانوں کے تزکیہ و تطہیر اور خدا کی آخری دینونت کا مضمون اپنے نقطۂ کمال کو پہنچتا ہے۔ تیسرے سے چھٹے ابواب میں انذار و بشارت اور تزکیہ و تطہیر بنیادی مضامین کی حیثیت رکھتے ہیں، جبکہ ساتویں باب کا موضوع قریش کے سرداروں کو انذارِ قیامت، ان پر اتمامِ حجت، اس کے نتیجے میں عذاب کی وعید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سرزمین عرب میں غلبۂ حق کی بشارت ہے۔
ساتویں باب میں اس نظم کی داخلی ترتیب خاص طور پر نمایاں ہو جاتی ہے۔ یہ باب سورۂ ملک سے سورۂ ناس تک اڑتالیس سورتوں پر مشتمل ہے۔ ان میں پہلی چھیالیس سورتیں غامدی صاحب کے نزدیک مکی اور آخری دو، یعنی معوذتین، مدنی ہیں۔ اس باب کے اصل مخاطب قریش مکہ ہیں اور اس کا مرکزی موضوع انذارِ قیامت، ان پر اتمامِ حجت، عذاب کی وعید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غلبۂ حق کی بشارت ہے۔
غامدی صاحب نے اس باب کے اندر سورتوں کی ترتیب کو دعوتِ رسول کے مختلف مراحل کے لحاظ سے واضح کیا ہے۔ سورۂ ملک سے سورۂ جن تک مرحلۂ انذار ہے؛ سورۂ مزمل سے سورۂ شرح تک مرحلۂ انذارِ عام؛ سورۂ تین سے سورۂ قریش تک مرحلۂ اتمامِ حجت؛ سورۂ ماعون سے سورۂ اخلاص تک مرحلۂ ہجرت و براءت؛ اور آخر میں سورۂ فلق و ناس خاتمۂ باب کی حیثیت رکھتی ہیں۔
اس طرح ساتواں باب محض سورتوں کا ایک بڑا مجموعہ نہیں رہتا، بلکہ اس کے اندر دعوتِ رسول کے مختلف مراحل بھی ایک باقاعدہ ترتیب کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ اصلاحی صاحب کی متعین کردہ قرآنی ترتیب کو غامدی صاحب نے اس پہلو سے مزید واضح کیا ہے کہ انذار، انذارِ عام، اتمامِ حجت اور ہجرت و براءت کے مراحل کو سورتوں کے محل کے ساتھ متعین کر دیا ہے۔
اس کے ساتھ انھوں نے خود ان سات ابواب کے باہمی نظم کو بھی موضوع بنایا ہے۔ پہلے باب کو الگ کرکے دیکھا جائے تو ان کے نزدیک ساتویں سے دوسرے باب تک مضامین ایک تدریجی صعودی ترتیب میں آگے بڑھتے ہیں۔ ساتویں باب میں انذار و بشارت نمایاں ہے؛ پھر چھٹے، پانچویں، چوتھے اور تیسرے ابواب میں اس کے ساتھ تزکیہ و تطہیر کا مضمون شامل ہوتا جاتا ہے؛ اور دوسرے باب میں اتمامِ حجت اور دینونت اپنے نقطۂ کمال تک پہنچ جاتے ہیں۔ دوسرا باب اس لحاظ سے گویا اس پوری ساخت کا ذروۂ سنام بن جاتا ہے۔ پہلا باب اپنی نوعیت میں الگ ہے، کیونکہ اس کے اصل مخاطب مشرکین عرب کے بجائے یہود و نصاریٰ ہیں، لیکن اتمامِ حجت، تزکیہ و تطہیر اور عہد و پیمان کے مضامین کے ذریعے سے وہ بھی اسی مجموعی ساخت کے ساتھ مربوط ہو جاتا ہے۔
یوں مکتبِ فراہی میں ’’سبع مثانی‘‘ کا تصور کسی ایک مرحلے میں اپنی مکمل صورت کے ساتھ سامنے نہیں آیا۔ مولانا فراہی نے سورتوں کے مجموعی نظم کا بنیادی اصول دریافت کیا؛ اصلاحی صاحب نے اسی تحقیق کو آگے بڑھا کر اس کی سات بڑی وحدتیں متعین کیں اور انھیں ’’سبع مثانی‘‘ سے مربوط کیا؛ جبکہ غامدی صاحب نے ان سات ابواب کے موضوعاتی ربط، داخلی ترتیب اور دعوتی مراحل کو مزید واضح صورت میں پیش کیا۔
ہماری طالب علمانہ رائے میں اس تعبیر کا ایک نمایاں علمی امتیاز یہ ہے کہ آیت کے تمام اجزا ایک ہی معنوی ربط میں آ جاتے ہیں۔ ’’مثانی‘‘ سورتوں کے باہمی جوڑوں کی طرف اشارہ کرتی ہے، ’’سبع‘‘ ان کے سات بڑے مجموعوں کو متعین کرتا ہے، اور ’’والقرآن العظیم‘‘ اسی حقیقت کی جامع تعبیر بن جاتا ہے۔
فہمِ قرآن کے باب میں مکتبِ فراہی کی اہم ترین علمی خدمات میں سے ایک یہی تصورِ نظم ہے۔ اس اصول کے ذریعے ہر سورت کا محل، مخاطب، مرکزی مدعا اور دعوتی پس منظر خود قرآن کے اندر سے زیادہ واضح صورت میں سامنے آتا ہے۔ اسی نسبت سے احکام، واقعات اور استدلال کو ان کے صحیح سیاق میں سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ یوں نظم محض قرآن کی ادبی ساخت کا بیان نہیں رہتا، بلکہ تعیینِ معنی اور فہمِ قرآن میں شاہ کلید کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔