“روایت کے حصار میں”
(محمد حسن الیاس)
ہر علمی روایت بالعموم دو سطحوں پر تشکیل پاتی ہے۔ ایک اُس کا علمی و تخلیقی سرمایہ ہے، جس میں بڑے اہلِ علم کی مسلسل کاوشوں سے علوم، مناہج، اصطلاحات اور فکری وسائل پیدا ہوتے ہیں۔
دوسری اُس کی اجتماعی شناخت ہے، جس میں عقائد و نظریات کی حدود متعین ہوتی ہیں، وابستگی کی علامتیں قائم ہوتی ہیں اور یہ طے کیا جاتا ہے کہ کون روایت کے اندر ہے اور کون اُس سے باہر۔ یوں روایت محض افکار کا ذخیرہ نہیں رہتی، بلکہ ایک واقعی اور اجتماعی وجود بھی بن جاتی ہے۔
ہماری مذہبی روایت کی صورت بھی بنیادی طور پر یہی ہے۔ ایک طرف اُس کے دامن میں تفسیر، فقہ، اصول، علمِ کلام، تصوف، لغت، زبان و بیان اور متعدد دوسرے علوم و مناہج وجود میں آئے؛ دوسری طرف تقلید اور اجماع کو بھی ایک اصولی حیثیت حاصل ہوگئی۔ اِس کے نتیجے میں مخصوص نظریات کے گرد افراد مجتمع ہوئے، مکاتبِ فکر اور مسالک تشکیل پائے اور قبول و رد کے اجتماعی پیمانے قائم ہوگئے۔ اب کسی رائے کا فیصلہ صرف اُس کی دلیل پر نہیں ہوتا تھا، بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا تھا کہ وہ روایت کی متعین حدود اور کسی مسلمہ علمی وابستگی کے اندر ہے یا باہر۔
روایت کے علمی مزاج اور اُس کی شناخت کی حدود کے مابین یہ کشمکش دائمی ہے۔
ہم خود بھی اپنے ابتدائی زمانۂ طالب علمی میں اِس تذبذب سے گزرے۔ جب روایت کے بعض نتائج سے ہمارے اصولی اختلافات پیدا ہوئے تو یہ سوال پوری شدت کے ساتھ ہمارے سامنے آیا کہ کیا روایت اِن اختلافات کے باوجود ہمیں اپنے دائرے میں قبول کرے گی؟ اِسی سوال کو لے کر ہم نے مختلف اہلِ علم سے استفادہ کیا۔
اِنھی نشستوں میں ایک دن ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری رحمہ اللہ نے اِس سوال کا ایسا جامع جواب ایک جملے میں دیا، جو دل کے سارے اندیشوں پر گویا سکون کا مرہم بن گیا۔۔ اُنھوں نے فرمایا:
’’جب تک آپ روایت کے دائرے میں رہ کر اُس کی پیش کش میں بہتری کرتے رہیں گے، آپ قابلِ قبول رہیں گے؛ لیکن جس دن آپ روایت کی بنیاد پر سوال اٹھائیں گے، روایت آپ کو اُگل کر باہر پھینک دے گی۔‘‘
اِس جواب میں دراصل تاریخ کا ایک گہرا سبق مضمر ہے۔ روایت اپنے دائرے کے اندر تعبیر، ترتیب اور پیش کش کے اختلافات کو کسی حد تک جذب کرلیتی ہے، لیکن جب سوال اُس کے بنیادی مقدمات اور اُسے شناخت دینے والے اصولوں تک پہنچ جائے تو وہ سوال اٹھانے والے کو اپنے اندر جگہ نہیں دے پاتی۔ ایسے لوگوں کو بالآخر اپنی علمی اور اجتماعی دنیا خود تعمیر کرنا پڑتی ہے۔
اِس لیے جو لوگ روایت کے اُس مقام پر کھڑے ہیں جہاں تقلید اور اجماع کو اُس کی شناخت قائم رکھنے والے بنیادی اصولوں کی حیثیت حاصل ہے، اُن کا ردعمل قابلِ فہم بھی ہے اور ایک درجے میں قابلِ ترس بھی۔ قابلِ فہم اِس لیے کہ وہ اپنی روایت کی داخلی منطق کے پابند ہیں،
اور قابلِ ترس اِس لیے کہ جس شناخت کے تحفظ کے لیے وہ بنیادی سوالات سے گریز کرتے ہیں، یہی گریز اُسے حقیقی فکری تحفظ سے محروم کردیتا ہے۔ سوال اٹھانے والے کو روایت سے خارج کیا جاسکتا ہے، سوال کو نہیں۔ فکری سوال بالآخر اپنی جگہ بناتا ہے؛ پھر دفاعی حصار کے برج ایک ایک کرکے منہدم ہونے لگتے ہیں اور عام آدمی بھی روایت کے داخلی فکری تضادات کو بھانپ لیتا ہے۔
روایت جب شناخت کے حصار میں تبدیل ہوجائے تو وہ محض احترام، تعلق یا اصلاح پر مطمئن نہیں ہوتی، بلکہ بالآخر اپنے بنیادی تصورات کی کامل پیروی کا مطالبہ کرتی ہے۔ قرآن مجید نے، ایک دوسرے سیاق میں، اِسی نوع کی گروہی نفسیات کو نہایت بلیغ انداز میں بیان کیا ہے:
﴿وَلَنْ تَرْضَىٰ عَنْكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَىٰ حَتَّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ﴾
’’یہود و نصاریٰ تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے، جب تک تم اُن کی ملت کی مکمل پیروی نہ کرو۔‘‘
(البقرہ 2:120)
(محمد حسن الیاس)
ہر علمی روایت بالعموم دو سطحوں پر تشکیل پاتی ہے۔ ایک اُس کا علمی و تخلیقی سرمایہ ہے، جس میں بڑے اہلِ علم کی مسلسل کاوشوں سے علوم، مناہج، اصطلاحات اور فکری وسائل پیدا ہوتے ہیں۔
دوسری اُس کی اجتماعی شناخت ہے، جس میں عقائد و نظریات کی حدود متعین ہوتی ہیں، وابستگی کی علامتیں قائم ہوتی ہیں اور یہ طے کیا جاتا ہے کہ کون روایت کے اندر ہے اور کون اُس سے باہر۔ یوں روایت محض افکار کا ذخیرہ نہیں رہتی، بلکہ ایک واقعی اور اجتماعی وجود بھی بن جاتی ہے۔
ہماری مذہبی روایت کی صورت بھی بنیادی طور پر یہی ہے۔ ایک طرف اُس کے دامن میں تفسیر، فقہ، اصول، علمِ کلام، تصوف، لغت، زبان و بیان اور متعدد دوسرے علوم و مناہج وجود میں آئے؛ دوسری طرف تقلید اور اجماع کو بھی ایک اصولی حیثیت حاصل ہوگئی۔ اِس کے نتیجے میں مخصوص نظریات کے گرد افراد مجتمع ہوئے، مکاتبِ فکر اور مسالک تشکیل پائے اور قبول و رد کے اجتماعی پیمانے قائم ہوگئے۔ اب کسی رائے کا فیصلہ صرف اُس کی دلیل پر نہیں ہوتا تھا، بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا تھا کہ وہ روایت کی متعین حدود اور کسی مسلمہ علمی وابستگی کے اندر ہے یا باہر۔
روایت کے علمی مزاج اور اُس کی شناخت کی حدود کے مابین یہ کشمکش دائمی ہے۔
ہم خود بھی اپنے ابتدائی زمانۂ طالب علمی میں اِس تذبذب سے گزرے۔ جب روایت کے بعض نتائج سے ہمارے اصولی اختلافات پیدا ہوئے تو یہ سوال پوری شدت کے ساتھ ہمارے سامنے آیا کہ کیا روایت اِن اختلافات کے باوجود ہمیں اپنے دائرے میں قبول کرے گی؟ اِسی سوال کو لے کر ہم نے مختلف اہلِ علم سے استفادہ کیا۔
اِنھی نشستوں میں ایک دن ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری رحمہ اللہ نے اِس سوال کا ایسا جامع جواب ایک جملے میں دیا، جو دل کے سارے اندیشوں پر گویا سکون کا مرہم بن گیا۔۔ اُنھوں نے فرمایا:
’’جب تک آپ روایت کے دائرے میں رہ کر اُس کی پیش کش میں بہتری کرتے رہیں گے، آپ قابلِ قبول رہیں گے؛ لیکن جس دن آپ روایت کی بنیاد پر سوال اٹھائیں گے، روایت آپ کو اُگل کر باہر پھینک دے گی۔‘‘
اِس جواب میں دراصل تاریخ کا ایک گہرا سبق مضمر ہے۔ روایت اپنے دائرے کے اندر تعبیر، ترتیب اور پیش کش کے اختلافات کو کسی حد تک جذب کرلیتی ہے، لیکن جب سوال اُس کے بنیادی مقدمات اور اُسے شناخت دینے والے اصولوں تک پہنچ جائے تو وہ سوال اٹھانے والے کو اپنے اندر جگہ نہیں دے پاتی۔ ایسے لوگوں کو بالآخر اپنی علمی اور اجتماعی دنیا خود تعمیر کرنا پڑتی ہے۔
اِس لیے جو لوگ روایت کے اُس مقام پر کھڑے ہیں جہاں تقلید اور اجماع کو اُس کی شناخت قائم رکھنے والے بنیادی اصولوں کی حیثیت حاصل ہے، اُن کا ردعمل قابلِ فہم بھی ہے اور ایک درجے میں قابلِ ترس بھی۔ قابلِ فہم اِس لیے کہ وہ اپنی روایت کی داخلی منطق کے پابند ہیں،
اور قابلِ ترس اِس لیے کہ جس شناخت کے تحفظ کے لیے وہ بنیادی سوالات سے گریز کرتے ہیں، یہی گریز اُسے حقیقی فکری تحفظ سے محروم کردیتا ہے۔ سوال اٹھانے والے کو روایت سے خارج کیا جاسکتا ہے، سوال کو نہیں۔ فکری سوال بالآخر اپنی جگہ بناتا ہے؛ پھر دفاعی حصار کے برج ایک ایک کرکے منہدم ہونے لگتے ہیں اور عام آدمی بھی روایت کے داخلی فکری تضادات کو بھانپ لیتا ہے۔
روایت جب شناخت کے حصار میں تبدیل ہوجائے تو وہ محض احترام، تعلق یا اصلاح پر مطمئن نہیں ہوتی، بلکہ بالآخر اپنے بنیادی تصورات کی کامل پیروی کا مطالبہ کرتی ہے۔ قرآن مجید نے، ایک دوسرے سیاق میں، اِسی نوع کی گروہی نفسیات کو نہایت بلیغ انداز میں بیان کیا ہے:
﴿وَلَنْ تَرْضَىٰ عَنْكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَىٰ حَتَّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ﴾
’’یہود و نصاریٰ تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے، جب تک تم اُن کی ملت کی مکمل پیروی نہ کرو۔‘‘
(البقرہ 2:120)