عبد الاحد ندوی صاحب کی جانب سے ہمیں یہ دو سوالات موصول ہوئے تھے۔ ان پر ہماری طالب علمانہ گزارشات درج ذیل ہیں:
پہلا سوال
اصلاحی و غامدی مکتبِ فکر سورۂ بینہ کو مکی سورہ کیسے قرار دیتا ہے، جبکہ اس کی بعض اندرونی شہادتیں اسے مدنی سورہ قرار دینے کا تقاضا کرتی ہیں؟ مثلاً جنت کے ذکر میں ﴿خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا﴾ کے الفاظ دوسری جگہ مدنی سورتوں میں آئے ہیں۔ اسی طرح ﴿رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ﴾ کے الفاظ بھی دوسرے مقامات پر مدنی سورتوں ہی میں ملتے ہیں۔ کیا یہ بات سورۂ بینہ کے مدنی ہونے کی داخلی شہادت نہیں ہے؟
جواب
کسی سورہ کے مکی یا مدنی ہونے کا فیصلہ محض اس طرح نہیں کیا جاتا کہ اس میں کوئی تعبیر دیکھی جائے، پھر قرآن میں اس تعبیر کے دوسرے استعمالات تلاش کرکے یہ طے کر لیا جائے کہ چونکہ وہ فلاں دور کی سورتوں میں آئی ہے، اس لیے زیر بحث سورہ بھی لازماً اسی دور کی ہوگی۔
اس معاملے میں اصل رہنمائی خود سورہ کا نظم کرتا ہے۔ دیکھا جاتا ہے کہ کلام کے مخاطب کون ہیں، ان کے اعتراضات کیا ہیں، دعوت کس مرحلے میں ہے، تنبیہ اور بشارت کن لوگوں سے متعلق ہے، اور سورہ ابتدا سے انتہا تک کس صورت حال کو سامنے رکھ کر گفتگو کر رہی ہے۔
سورۂ بینہ کو اسی پہلو سے دیکھیے:
اس کا آغاز اہل کتاب اور مشرکین کے ان لوگوں کے ذکر سے ہوتا ہے جنھوں نے قرآن کا انکار کر دیا تھا:
﴿لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنْفَكِّينَ حَتّٰى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ﴾ (البینہ 98:1)
غامدی صاحب کے نزدیک یہاں المشرکین سے بالخصوص مشرکینِ قریش مراد ہیں۔ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ یہ پیغمبر اور یہ قرآن کافی نہیں؛ کوئی ایسی غیر معمولی نشانی آئے کہ خدا کا کوئی فرستادہ آسمان سے پاک اوراق لے کر اترے اور ان میں ان کے لیے احکام لکھے ہوئے ہوں۔
قرآن اس مطالبے کے جواب میں اہل کتاب ہی کی تاریخ سامنے رکھ دیتا ہے۔ فرمایا کہ جس طرح کی واضح نشانی یہ مانگ رہے ہیں، وہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے پہلے آ چکی تھی، لیکن ایسی نشانی مل جانے کے بعد بھی اہل کتاب اختلاف اور انحراف میں مبتلا ہوئے۔
اس کے بعد دین کی اصل حقیقت یاد دلائی گئی ہے: اللہ کی خالص بندگی، نماز اور زکوٰۃ۔ پھر آخر میں دونوں گروہوں کا انجام بیان کر دیا گیا ہے۔ ایک طرف وہ منکرین ہیں جنھیں ﴿شَرُّ الْبَرِيَّةِ﴾ کہا گیا، اور دوسری طرف وہ اہل ایمان ہیں جنھیں ﴿خَيْرُ الْبَرِيَّةِ﴾ قرار دیا گیا۔
غامدی صاحب نے اس مقام پر تصریح کی ہے کہ یہ ان اہل ایمان کی سرفرازی کا بیان ہے جو اس وقت قریش کی پھبتیوں اور تحقیر کا ہدف بنے ہوئے تھے۔ انہی کے بارے میں فرمایا:
﴿جَزَاؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ… خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ﴾ (البینہ 98:8)
اس طرح سورہ کا پورا نظم ہمارے سامنے ایک واضح منظر رکھ دیتا ہے: قریش اور اہل کتاب کا انکار، غیر معمولی نشانی کا مطالبہ، اہل کتاب کی تاریخ سے اس مطالبے کا جواب، منکرین کو تنبیہ، اور ان اہل ایمان کی سرفرازی جو قریش کے مقابلے میں ایمان پر قائم تھے۔
یہ پورا پس منظر مکی دور کی دعوتی فضا سے پوری طرح مناسبت رکھتا ہے۔
اب رہی ﴿خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا﴾ کی تعبیر، تو اسے اپنی ذات میں مدنی تعبیر کہنا بھی درست نہیں۔ یہی الفاظ مکی سورۂ جن میں آئے ہیں:
﴿فَإِنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا﴾ (الجن 72:23)
وہاں یہ جہنم کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ اس سے بہرحال یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ تعبیر مکی سورتوں میں بھی موجود ہے۔ اب اگر یہ کہا جائے کہ جنت کے ذکر میں اس کے دوسرے استعمالات مدنی سورتوں میں ہیں تو یہ ایک قابلِ لحاظ قرینہ ہو سکتا ہے، لیکن اس سے یہ لازم نہیں ہوجاتا کہ جنت کے لیے یہ تعبیر مکی دور میں آ ہی نہیں سکتی۔
یہی معاملہ ﴿رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ﴾ کا ہے۔ اس کے دوسرے استعمالات مدنی سورتوں میں ہیں، لیکن محض اس بنا پر اسے مدنی دور کے ساتھ خاص قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے لیے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس تعبیر کے مفہوم میں کوئی ایسی خصوصیت ہے جو صرف مدنی ماحول ہی میں پائی جا سکتی تھی۔ محض دوسرے مقامات پر اس کا اسی دور میں استعمال اس دعوے کے لیے کافی نہیں ہے۔
اسی طرح اگر سورہ میں زکوٰۃ کے ذکر کو مدنی ہونے کی دلیل بنایا جائے تو یہ بھی درست نہیں ہوگا، اس لیے کہ زکوٰۃ کا ذکر متعدد مکی سورتوں میں موجود ہے، مثلاً المؤمنون میں، النمل، لقمان اور فصلت میں بھی۔ لہٰذا اگر فیصلہ داخلی شہادت ہی سے کرنا ہے تو سب سے بڑی داخلی شہادت ایک یا دو تعبیرات نہیں، بلکہ خود پوری سورہ ہے۔ اس کا نظم، اس کے مخاطبین، اس کے اعتراضات اور اس کا محلِ خطاب مل کر جس دور کی تصویر پیش کرتے ہیں، اصل اور فیصلہ کن وزن اسی شہادت کو دیا جائے گا۔
دوسرا سوال
سورۂ صافات میں سیدنا الیاس علیہ السلام کے بارے میں صاف فرمایا گیا ہے: ﴿وَإِنَّ إِلْيَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ﴾ (الصافات 37:123) پھر اصلاحی و غامدی مکتب انھیں اس خاص مفہوم میں رسول کیوں نہیں مانتا جس کے ساتھ اتمامِ حجت اور دنیا میں خدا کی عدالت کا تعلق ہے؟ خصوصاً جبکہ بائبل کے مطابق ان کے زمانے میں ان کے مخاطبین پر سخت عذاب بھی آیا تھا؟
جواب
اس سوال میں اصل بات لفظ رسول اور مرسل کے استعمال کو سمجھنے کی ہے۔
رسول عربی زبان کا عام لفظ ہے۔ اس کے معنی فرستادہ کے ہیں، اور مرسل اس شخص کو کہتے ہیں جسے بھیجا گیا ہو۔ قرآن نے یہ لفظ اپنے عام مفہوم میں بھی استعمال کیا ہے؛ انسانوں کے لیے بھی، فرشتوں کے لیے بھی اور انبیائے بنی اسرائیل کے لیے بھی۔
اس لیے سیدنا الیاس علیہ السلام کے بارے میں:
﴿وَإِنَّ إِلْيَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ﴾
(الصافات 37:123)
اپنے مفہوم میں بالکل واضح ہے۔ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے پیغمبروں میں سے تھے۔ اس میں نہ کوئی اختلاف ہے اور نہ کسی تاویل کی ضرورت۔
البتہ نبی اور رسول کے فرق کی بحث میں جب رسول کا لفظ ایک خاص اصطلاح کے طور پر آتا ہے تو اس سے وہ پیغمبر مراد ہوتا ہے جو اپنی قوم کے لیے خدا کی عدالت بن کر آتا ہے۔ اس کے ذریعے حجت پوری ہوتی ہے، پھر اہل ایمان کو نجات دی جاتی ہے اور جان بوجھ کر انکار کرنے والوں پر دنیا ہی میں خدا کا آخری فیصلہ نافذ ہو جاتا ہے۔
قرآن بعض مقامات پر نبوت اور رسالت کی دونوں حیثیتوں کو الگ الگ نمایاں بھی کرتا ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
﴿إِنَّهُ كَانَ مُخْلَصًا وَكَانَ رَسُولًا نَبِيًّا﴾
“وہ برگزیدہ تھا اور رسول نبی تھا۔”
(مریم 19:51)
اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے متعلق فرمایا:
﴿إِنَّهُ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُولًا نَبِيًّا﴾
“وہ وعدے کا سچا تھا اور رسول نبی تھا۔”
(مریم 19:54)
اسی طرح ایک دوسرے مقام پر دونوں کو الگ الگ ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ﴾
(الحج 22:52)
اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قرآن کی تعبیر میں نبی اور رسول کی نسبتیں ہر جگہ بالکل مترادف نہیں ہیں۔ اس لیے محض کسی نبی کے لیے ارسال یا مرسل ہونے کا لفظ آ جانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہاں رسالت کی یہی خاص اصطلاحی حیثیت مراد ہو۔
سیدنا الیاس علیہ السلام کے بارے میں پیدا ہونے والے اس سوال کا جواب خود سورۂ صافات کے نظم میں بھی موجود ہے۔
اسی سورہ میں سیدنا نوح علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
﴿ثُمَّ أَغْرَقْنَا الْآخَرِينَ﴾
“پھر باقی لوگوں کو ہم نے غرق کر دیا۔”
(الصافات 37:82)
سیدنا لوط علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
﴿ثُمَّ دَمَّرْنَا الْآخَرِينَ﴾
“پھر باقی لوگوں کو ہم نے تباہ کر دیا۔”
(الصافات 37:136)
لیکن سیدنا الیاس علیہ السلام کی قوم کے بارے میں ان کی تکذیب کے بعد فرمایا:
﴿فَكَذَّبُوهُ فَإِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ﴾
“سو انھوں نے اسے جھٹلا دیا، چنانچہ وہ ضرور پیش کیے جائیں گے۔”
(الصافات 37:127)
چنانچہ معاملہ صرف یہ نہیں کہ سیدنا الیاس علیہ السلام کی قوم پر دنیاوی عذاب کا ذکر نہیں ہوا۔ بات اس سے آگے ہے۔ اسی سورہ، اسی سلسلۂ بیان اور اسی اسلوب میں دوسرے رسولوں کی قوموں کا دنیاوی انجام صاف بیان کیا گیا ہے، لیکن الیاس علیہ السلام کے منکرین کے بارے میں ان کی آخرت کی پیشی کا ذکر کیا گیا ہے۔
اس سے بھی زیادہ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ چند آیات بعد سیدنا لوط علیہ السلام کے لیے بعینہٖ وہی تعبیر آئی ہے:
﴿وَإِنَّ إِلْيَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ﴾
(الصافات 37:123)
اور دوسری طرف:
﴿وَإِنَّ لُوطًا لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ﴾
(الصافات 37:133)
یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ تعبیر ایک ہے، مگر دونوں کے واقعات کا انجام ایک نہیں۔
لوط علیہ السلام کی قوم کے بارے میں فوراً دنیاوی تباہی کا فیصلہ بیان ہوا، جبکہ الیاس علیہ السلام کے منکرین کے بارے میں فرمایا گیا کہ وہ خدا کے حضور پیش کیے جائیں گے۔
یہ بات خود واضح کر دیتی ہے کہ محض ﴿مِنَ الْمُرْسَلِينَ﴾ کی تعبیر سے اس خاص اصطلاحی منصب کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا جس کے ساتھ دنیاوی اتمامِ حجت کا قانون متعلق ہے۔
اب بائبل کے حوالے کو بھی دیکھیے۔
یہ کہا گیا ہے کہ بائبل کے مطابق سیدنا الیاس علیہ السلام کی قوم پر عذاب آیا تھا، چنانچہ یہ ان کے اس خاص معنی میں رسول ہونے کا قرینہ ہے۔ ہمارے نزدیک یہ استدلال درست نہیں۔ سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ بائبل جس سزا کا ذکر کرتی ہے، وہ اپنی نوعیت میں تھی کیا۔
۱-سلاطین میں بیان ہوا ہے کہ سیدنا الیاس علیہ السلام نے بادشاہ اخاب سے کہا کہ آنے والے برسوں میں نہ اوس ہوگی اور نہ بارش، الا یہ کہ میرے کہنے سے ہو۔ چنانچہ سخت قحط پڑا۔
(۱-سلاطین 17:1)
پھر تیسرے سال خدا نے سیدنا الیاس علیہ السلام سے کہا کہ اخاب کے سامنے جاؤ، میں زمین پر بارش بھیجوں گا۔
(۱-سلاطین 18:1)
اس کے بعد کوہِ کرمل کا واقعہ پیش آتا ہے۔ سیدنا الیاس علیہ السلام اپنی قوم کے سامنے دوبارہ حق واضح کرتے ہیں۔ لوگ نشانی دیکھ کر سجدے میں گر جاتے ہیں اور اقرار کرتے ہیں کہ خداوند ہی خدا ہے۔
(۱-سلاطین 18:38-39)
اسی موقع پر بعل کے پیشواؤں کو بھی قتل کیا جاتا ہے۔
(۱-سلاطین 18:40)
پھر بارش واپس آ جاتی ہے۔
(۱-سلاطین 18:41-45)
یعنی بائبل کی اپنی سرگزشت یہ ہے:
پہلے قحط آیا، نبی کی دعوت جاری رہی، تیسرے سال مزید دعوت کا اثر قائم ہوا، لوگوں نے خدا کا اقرار کیا، بعل کے پیشواؤں کو سزا دی گئی اور پھر بارش واپس آ گئی۔
یہ صورت اس عذاب سے یکسر مختلف ہے جو رسول کی تکذیب کے بعد قوم پر خدا کا آخری اور فیصلہ کن حکم بن کر آتا ہے۔
بلکہ اس کے بعد بھی اخاب اور ایزبل موجود ہیں۔ ایزبل سیدنا الیاس علیہ السلام کو قتل کرنے کی دھمکی دیتی ہے اور وہ وہاں سے نکل جاتے ہیں۔
(۱-سلاطین 19:1-3)
اس پورے بیان سے واضح ہے کہ قحط قوم کے بارے میں آخری عدالتی فیصلہ نہیں تھا۔ وہ ایک سخت تنبیہ اور خدائی سزا تھی، مگر دعوت کا باب اس کے بعد بھی کھلا رہا۔
یہ فرق ملحوظ رہنا چاہیے کہ ہر خدائی سزا کو اتمامِ حجت کا عذاب نہیں کہا جا سکتا۔ یہ عذاب اُس آخری فیصلے کا نام ہے جس میں رسول کی تکذیب کرنے والی قوم کی مہلت ختم کر دی جاتی ہے، رسول اور اہلِ ایمان کو نجات دی جاتی ہے اور منکرین پر خدا کا فیصلہ نافذ ہو جاتا ہے۔
لہٰذا سورۂ صافات کا نظم اور بائبل میں بیان کردہ سرگزشت، دونوں ایسی کوئی شہادت فراہم نہیں کرتے جس کی بنا پر سیدنا الیاس علیہ السلام کو لازماً اِس خاص مفہوم میں رسول قرار دیا جا سکے۔
محمد حسن الیاس
7 ستمبر 2026
عبد الاحد ندوی صاحب کی جانب سے ہمیں یہ دو سوالات موصول ہوئے تھے۔ ان پر ہماری طالب علمانہ گزارشات درج ذیل ہیں:
پہلا سوال
اصلاحی و غامدی مکتبِ فکر سورۂ بینہ کو مکی سورہ کیسے قرار دیتا ہے، جبکہ اس کی بعض اندرونی شہادتیں اسے مدنی سورہ قرار دینے کا تقاضا کرتی ہیں؟ مثلاً جنت کے ذکر میں ﴿خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا﴾ کے الفاظ دوسری جگہ مدنی سورتوں میں آئے ہیں۔ اسی طرح ﴿رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ﴾ کے الفاظ بھی دوسرے مقامات پر مدنی سورتوں ہی میں ملتے ہیں۔ کیا یہ بات سورۂ بینہ کے مدنی ہونے کی داخلی شہادت نہیں ہے؟
جواب
کسی سورہ کے مکی یا مدنی ہونے کا فیصلہ محض اس طرح نہیں کیا جاتا کہ اس میں کوئی تعبیر دیکھی جائے، پھر قرآن میں اس تعبیر کے دوسرے استعمالات تلاش کرکے یہ طے کر لیا جائے کہ چونکہ وہ فلاں دور کی سورتوں میں آئی ہے، اس لیے زیر بحث سورہ بھی لازماً اسی دور کی ہوگی۔
اس معاملے میں اصل رہنمائی خود سورہ کا نظم کرتا ہے۔ دیکھا جاتا ہے کہ کلام کے مخاطب کون ہیں، ان کے اعتراضات کیا ہیں، دعوت کس مرحلے میں ہے، تنبیہ اور بشارت کن لوگوں سے متعلق ہے، اور سورہ ابتدا سے انتہا تک کس صورت حال کو سامنے رکھ کر گفتگو کر رہی ہے۔
سورۂ بینہ کو اسی پہلو سے دیکھیے:
اس کا آغاز اہل کتاب اور مشرکین کے ان لوگوں کے ذکر سے ہوتا ہے جنھوں نے قرآن کا انکار کر دیا تھا:
﴿لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنْفَكِّينَ حَتّٰى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ﴾ (البینہ 98:1)
غامدی صاحب کے نزدیک یہاں المشرکین سے بالخصوص مشرکینِ قریش مراد ہیں۔ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ یہ پیغمبر اور یہ قرآن کافی نہیں؛ کوئی ایسی غیر معمولی نشانی آئے کہ خدا کا کوئی فرستادہ آسمان سے پاک اوراق لے کر اترے اور ان میں ان کے لیے احکام لکھے ہوئے ہوں۔
قرآن اس مطالبے کے جواب میں اہل کتاب ہی کی تاریخ سامنے رکھ دیتا ہے۔ فرمایا کہ جس طرح کی واضح نشانی یہ مانگ رہے ہیں، وہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے پہلے آ چکی تھی، لیکن ایسی نشانی مل جانے کے بعد بھی اہل کتاب اختلاف اور انحراف میں مبتلا ہوئے۔
اس کے بعد دین کی اصل حقیقت یاد دلائی گئی ہے: اللہ کی خالص بندگی، نماز اور زکوٰۃ۔ پھر آخر میں دونوں گروہوں کا انجام بیان کر دیا گیا ہے۔ ایک طرف وہ منکرین ہیں جنھیں ﴿شَرُّ الْبَرِيَّةِ﴾ کہا گیا، اور دوسری طرف وہ اہل ایمان ہیں جنھیں ﴿خَيْرُ الْبَرِيَّةِ﴾ قرار دیا گیا۔
غامدی صاحب نے اس مقام پر تصریح کی ہے کہ یہ ان اہل ایمان کی سرفرازی کا بیان ہے جو اس وقت قریش کی پھبتیوں اور تحقیر کا ہدف بنے ہوئے تھے۔ انہی کے بارے میں فرمایا:
﴿جَزَاؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ… خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ﴾ (البینہ 98:8)
اس طرح سورہ کا پورا نظم ہمارے سامنے ایک واضح منظر رکھ دیتا ہے: قریش اور اہل کتاب کا انکار، غیر معمولی نشانی کا مطالبہ، اہل کتاب کی تاریخ سے اس مطالبے کا جواب، منکرین کو تنبیہ، اور ان اہل ایمان کی سرفرازی جو قریش کے مقابلے میں ایمان پر قائم تھے۔
یہ پورا پس منظر مکی دور کی دعوتی فضا سے پوری طرح مناسبت رکھتا ہے۔
اب رہی ﴿خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا﴾ کی تعبیر، تو اسے اپنی ذات میں مدنی تعبیر کہنا بھی درست نہیں۔ یہی الفاظ مکی سورۂ جن میں آئے ہیں:
﴿فَإِنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا﴾ (الجن 72:23)
وہاں یہ جہنم کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ اس سے بہرحال یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ تعبیر مکی سورتوں میں بھی موجود ہے۔ اب اگر یہ کہا جائے کہ جنت کے ذکر میں اس کے دوسرے استعمالات مدنی سورتوں میں ہیں تو یہ ایک قابلِ لحاظ قرینہ ہو سکتا ہے، لیکن اس سے یہ لازم نہیں ہوجاتا کہ جنت کے لیے یہ تعبیر مکی دور میں آ ہی نہیں سکتی۔
یہی معاملہ ﴿رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ﴾ کا ہے۔ اس کے دوسرے استعمالات مدنی سورتوں میں ہیں، لیکن محض اس بنا پر اسے مدنی دور کے ساتھ خاص قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے لیے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس تعبیر کے مفہوم میں کوئی ایسی خصوصیت ہے جو صرف مدنی ماحول ہی میں پائی جا سکتی تھی۔ محض دوسرے مقامات پر اس کا اسی دور میں استعمال اس دعوے کے لیے کافی نہیں ہے۔
اسی طرح اگر سورہ میں زکوٰۃ کے ذکر کو مدنی ہونے کی دلیل بنایا جائے تو یہ بھی درست نہیں ہوگا، اس لیے کہ زکوٰۃ کا ذکر متعدد مکی سورتوں میں موجود ہے، مثلاً المؤمنون میں، النمل، لقمان اور فصلت میں بھی۔ لہٰذا اگر فیصلہ داخلی شہادت ہی سے کرنا ہے تو سب سے بڑی داخلی شہادت ایک یا دو تعبیرات نہیں، بلکہ خود پوری سورہ ہے۔ اس کا نظم، اس کے مخاطبین، اس کے اعتراضات اور اس کا محلِ خطاب مل کر جس دور کی تصویر پیش کرتے ہیں، اصل اور فیصلہ کن وزن اسی شہادت کو دیا جائے گا۔
دوسرا سوال
سورۂ صافات میں سیدنا الیاس علیہ السلام کے بارے میں صاف فرمایا گیا ہے: ﴿وَإِنَّ إِلْيَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ﴾ (الصافات 37:123) پھر اصلاحی و غامدی مکتب انھیں اس خاص مفہوم میں رسول کیوں نہیں مانتا جس کے ساتھ اتمامِ حجت اور دنیا میں خدا کی عدالت کا تعلق ہے؟ خصوصاً جبکہ بائبل کے مطابق ان کے زمانے میں ان کے مخاطبین پر سخت عذاب بھی آیا تھا؟
جواب
اس سوال میں اصل بات لفظ رسول اور مرسل کے استعمال کو سمجھنے کی ہے۔
رسول عربی زبان کا عام لفظ ہے۔ اس کے معنی فرستادہ کے ہیں، اور مرسل اس شخص کو کہتے ہیں جسے بھیجا گیا ہو۔ قرآن نے یہ لفظ اپنے عام مفہوم میں بھی استعمال کیا ہے؛ انسانوں کے لیے بھی، فرشتوں کے لیے بھی اور انبیائے بنی اسرائیل کے لیے بھی۔
اس لیے سیدنا الیاس علیہ السلام کے بارے میں:
﴿وَإِنَّ إِلْيَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ﴾
(الصافات 37:123)
اپنے مفہوم میں بالکل واضح ہے۔ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے پیغمبروں میں سے تھے۔ اس میں نہ کوئی اختلاف ہے اور نہ کسی تاویل کی ضرورت۔
البتہ نبی اور رسول کے فرق کی بحث میں جب رسول کا لفظ ایک خاص اصطلاح کے طور پر آتا ہے تو اس سے وہ پیغمبر مراد ہوتا ہے جو اپنی قوم کے لیے خدا کی عدالت بن کر آتا ہے۔ اس کے ذریعے حجت پوری ہوتی ہے، پھر اہل ایمان کو نجات دی جاتی ہے اور جان بوجھ کر انکار کرنے والوں پر دنیا ہی میں خدا کا آخری فیصلہ نافذ ہو جاتا ہے۔
قرآن بعض مقامات پر نبوت اور رسالت کی دونوں حیثیتوں کو الگ الگ نمایاں بھی کرتا ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
﴿إِنَّهُ كَانَ مُخْلَصًا وَكَانَ رَسُولًا نَبِيًّا﴾
“وہ برگزیدہ تھا اور رسول نبی تھا۔”
(مریم 19:51)
اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے متعلق فرمایا:
﴿إِنَّهُ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُولًا نَبِيًّا﴾
“وہ وعدے کا سچا تھا اور رسول نبی تھا۔”
(مریم 19:54)
اسی طرح ایک دوسرے مقام پر دونوں کو الگ الگ ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ﴾
(الحج 22:52)
اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قرآن کی تعبیر میں نبی اور رسول کی نسبتیں ہر جگہ بالکل مترادف نہیں ہیں۔ اس لیے محض کسی نبی کے لیے ارسال یا مرسل ہونے کا لفظ آ جانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہاں رسالت کی یہی خاص اصطلاحی حیثیت مراد ہو۔
سیدنا الیاس علیہ السلام کے بارے میں پیدا ہونے والے اس سوال کا جواب خود سورۂ صافات کے نظم میں بھی موجود ہے۔
اسی سورہ میں سیدنا نوح علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
﴿ثُمَّ أَغْرَقْنَا الْآخَرِينَ﴾
“پھر باقی لوگوں کو ہم نے غرق کر دیا۔”
(الصافات 37:82)
سیدنا لوط علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
﴿ثُمَّ دَمَّرْنَا الْآخَرِينَ﴾
“پھر باقی لوگوں کو ہم نے تباہ کر دیا۔”
(الصافات 37:136)
لیکن سیدنا الیاس علیہ السلام کی قوم کے بارے میں ان کی تکذیب کے بعد فرمایا:
﴿فَكَذَّبُوهُ فَإِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ﴾
“سو انھوں نے اسے جھٹلا دیا، چنانچہ وہ ضرور پیش کیے جائیں گے۔”
(الصافات 37:127)
چنانچہ معاملہ صرف یہ نہیں کہ سیدنا الیاس علیہ السلام کی قوم پر دنیاوی عذاب کا ذکر نہیں ہوا۔ بات اس سے آگے ہے۔ اسی سورہ، اسی سلسلۂ بیان اور اسی اسلوب میں دوسرے رسولوں کی قوموں کا دنیاوی انجام صاف بیان کیا گیا ہے، لیکن الیاس علیہ السلام کے منکرین کے بارے میں ان کی آخرت کی پیشی کا ذکر کیا گیا ہے۔
اس سے بھی زیادہ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ چند آیات بعد سیدنا لوط علیہ السلام کے لیے بعینہٖ وہی تعبیر آئی ہے:
﴿وَإِنَّ إِلْيَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ﴾
(الصافات 37:123)
اور دوسری طرف:
﴿وَإِنَّ لُوطًا لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ﴾
(الصافات 37:133)
یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ تعبیر ایک ہے، مگر دونوں کے واقعات کا انجام ایک نہیں۔
لوط علیہ السلام کی قوم کے بارے میں فوراً دنیاوی تباہی کا فیصلہ بیان ہوا، جبکہ الیاس علیہ السلام کے منکرین کے بارے میں فرمایا گیا کہ وہ خدا کے حضور پیش کیے جائیں گے۔
یہ بات خود واضح کر دیتی ہے کہ محض ﴿مِنَ الْمُرْسَلِينَ﴾ کی تعبیر سے اس خاص اصطلاحی منصب کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا جس کے ساتھ دنیاوی اتمامِ حجت کا قانون متعلق ہے۔
اب بائبل کے حوالے کو بھی دیکھیے۔
یہ کہا گیا ہے کہ بائبل کے مطابق سیدنا الیاس علیہ السلام کی قوم پر عذاب آیا تھا، چنانچہ یہ ان کے اس خاص معنی میں رسول ہونے کا قرینہ ہے۔ ہمارے نزدیک یہ استدلال درست نہیں۔ سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ بائبل جس سزا کا ذکر کرتی ہے، وہ اپنی نوعیت میں تھی کیا۔
۱-سلاطین میں بیان ہوا ہے کہ سیدنا الیاس علیہ السلام نے بادشاہ اخاب سے کہا کہ آنے والے برسوں میں نہ اوس ہوگی اور نہ بارش، الا یہ کہ میرے کہنے سے ہو۔ چنانچہ سخت قحط پڑا۔
(۱-سلاطین 17:1)
پھر تیسرے سال خدا نے سیدنا الیاس علیہ السلام سے کہا کہ اخاب کے سامنے جاؤ، میں زمین پر بارش بھیجوں گا۔
(۱-سلاطین 18:1)
اس کے بعد کوہِ کرمل کا واقعہ پیش آتا ہے۔ سیدنا الیاس علیہ السلام اپنی قوم کے سامنے دوبارہ حق واضح کرتے ہیں۔ لوگ نشانی دیکھ کر سجدے میں گر جاتے ہیں اور اقرار کرتے ہیں کہ خداوند ہی خدا ہے۔
(۱-سلاطین 18:38-39)
اسی موقع پر بعل کے پیشواؤں کو بھی قتل کیا جاتا ہے۔
(۱-سلاطین 18:40)
پھر بارش واپس آ جاتی ہے۔
(۱-سلاطین 18:41-45)
یعنی بائبل کی اپنی سرگزشت یہ ہے:
پہلے قحط آیا، نبی کی دعوت جاری رہی، تیسرے سال مزید دعوت کا اثر قائم ہوا، لوگوں نے خدا کا اقرار کیا، بعل کے پیشواؤں کو سزا دی گئی اور پھر بارش واپس آ گئی۔
یہ صورت اس عذاب سے یکسر مختلف ہے جو رسول کی تکذیب کے بعد قوم پر خدا کا آخری اور فیصلہ کن حکم بن کر آتا ہے۔
بلکہ اس کے بعد بھی اخاب اور ایزبل موجود ہیں۔ ایزبل سیدنا الیاس علیہ السلام کو قتل کرنے کی دھمکی دیتی ہے اور وہ وہاں سے نکل جاتے ہیں۔
(۱-سلاطین 19:1-3)
اس پورے بیان سے واضح ہے کہ قحط قوم کے بارے میں آخری عدالتی فیصلہ نہیں تھا۔ وہ ایک سخت تنبیہ اور خدائی سزا تھی، مگر دعوت کا باب اس کے بعد بھی کھلا رہا۔
یہ فرق ملحوظ رہنا چاہیے کہ ہر خدائی سزا کو اتمامِ حجت کا عذاب نہیں کہا جا سکتا۔ یہ عذاب اُس آخری فیصلے کا نام ہے جس میں رسول کی تکذیب کرنے والی قوم کی مہلت ختم کر دی جاتی ہے، رسول اور اہلِ ایمان کو نجات دی جاتی ہے اور منکرین پر خدا کا فیصلہ نافذ ہو جاتا ہے۔
لہٰذا سورۂ صافات کا نظم اور بائبل میں بیان کردہ سرگزشت، دونوں ایسی کوئی شہادت فراہم نہیں کرتے جس کی بنا پر سیدنا الیاس علیہ السلام کو لازماً اِس خاص مفہوم میں رسول قرار دیا جا سکے۔
محمد حسن الیاس
7 ستمبر 2026